আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عباس (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৪ টি

হাদীস নং: ১৬৯১
حضرت عباس (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس (رض) کی مرویات
عفیف کندی کہتے ہیں کہ میں ایک تاجر آدمی تھا، ایک مرتبہ میں حج کے لئے آیا، میں حضرت عباس (رض) کے پاس جو خود بھی تاجر تھے کچھ مال تجارت خریدنے کے لئے آیا، میں ان کے پاس اس وقت منیٰ میں تھا کہ اچانک قریب کے خیمے سے ایک آدمی نکلا، اس نے سورج کو جب ڈھلتے ہوئے دیکھا تو نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوگیا، پھر ایک عورت اسی خیمے سے نکلی جس سے وہ مرد نکلا تھا، اس عورت نے اس مرد کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنا شروع کردی، پھر ایک لڑکا جو قریب البلوغ تھا وہ بھی اسی خیمے سے نکلا اور اس مرد کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا۔ میں نے عباس (رض) سے پوچھا کہ عباس ! یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا یہ میرے بھتیجے محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہیں، میں نے پوچھا یہ عورت کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی بیوی خدیجہ بنت خویلد ہیں، میں نے پوچھا یہ نوجوان کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ ان کے چچا کے بیٹے علی بن ابی طالب ہیں، میں نے پوچھا یہ کیا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا یہ نماز پڑھ رہے ہیں، ان کا خیال یہ ہے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں لیکن ابھی تک ان کی پیروی صرف ان کی بیوی اور اس نوجوان نے ہی شروع کی ہے اور ان کا خیال یہ بھی ہے کہ عنقریب قیصر و کسری کے خزانوں کو ان کے لئے کھول دیا جائے گا۔ عفیف جنہوں نے بعد میں اسلام قبول کرلیا تھا کہتے ہیں کہ اگر اللہ مجھے اسی دن اسلام قبول کرنے کی توفیق دے دیتا تو میں تیسرا مسلمان ہوتا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي الْأَشْعَثِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِيَاسِ بْنِ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كُنْتُ امْرَأً تَاجِرًا فَقَدِمْتُ الْحَجَّ فَأَتَيْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لِأَبْتَاعَ مِنْهُ بَعْضَ التِّجَارَةِ وَكَانَ امْرَأً تَاجِرًا فَوَاللَّهِ إِنَّنِي لَعِنْدَهُ بِمِنًى إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ خِبَاءٍ قَرِيبٍ مِنْهُ فَنَظَرَ إِلَى الشَّمْسِ فَلَمَّا رَآهَا مَالَتْ يَعْنِي قَامَ يُصَلِّي قَالَ ثُمَّ خَرَجَتْ امْرَأَةٌ مِنْ ذَلِكَ الْخِبَاءِ الَّذِي خَرَجَ مِنْهُ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَامَتْ خَلْفَهُ تُصَلِّي ثُمَّ خَرَجَ غُلَامٌ حِينَ رَاهَقَ الْحُلُمَ مِنْ ذَلِكَ الْخِبَاءِ فَقَامَ مَعَهُ يُصَلِّي قَالَ فَقُلْتُ لِلْعَبَّاسِ مَنْ هَذَا يَا عَبَّاسُ قَالَ هَذَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ابْنُ أَخِي قَالَ فَقُلْتُ مَنْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ قَالَ هَذِهِ امْرَأَتُهُ خَدِيجَةُ ابْنَةُ خُوَيْلِدٍ قَالَ قُلْتُ مَنْ هَذَا الْفَتَى قَالَ هَذَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ابْنُ عَمِّهِ قَالَ فَقُلْتُ فَمَا هَذَا الَّذِي يَصْنَعُ قَالَ يُصَلِّي وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ وَلَمْ يَتْبَعْهُ عَلَى أَمْرِهِ إِلَّا امْرَأَتُهُ وَابْنُ عَمِّهِ هَذَا الْفَتَى وَهُوَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَيُفْتَحُ عَلَيْهِ كُنُوزُ كِسْرَى وَقَيْصَرَ قَالَ فَكَانَ عَفِيفٌ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ يَقُولُ وَأَسْلَمَ بَعْدَ ذَلِكَ فَحَسُنَ إِسْلَامُهُ لَوْ كَانَ اللَّهُ رَزَقَنِي الْإِسْلَامَ يَوْمَئِذٍ فَأَكُونُ ثَالِثًا مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯২
حضرت عباس (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس (رض) کی مرویات
حضرت عباس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کو لوگوں کی طرف سے کچھ باتیں معلوم ہوئیں، آپ ﷺ منبر پر رونق افروز ہوئے اور لوگوں سے مخاطب ہو کر پوچھا میں کون ہوں ؟ لوگوں نے کہا کہ آپ اللہ کے پیغمبر ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا میں محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں، اللہ نے مخلوقات کو پیدا کیا اور مجھے ان میں سب سے بہتر مخلوق میں رکھا، پھر اللہ نے انہیں دو گروہوں میں تقسیم کردیا اور مجھے بہترین گروہ میں رکھا، پھر اللہ نے قبائل کو پیدا کیا اور مجھے بہترین قبیلہ میں رکھا، پھر اللہ نے رہائشیں مقرر کیں اور مجھے سب سے بہترین رہائش میں رکھا، اس لئے میں رہائش کے اعتبار سے بھی تم سب سے بہتر ہوں اور اپنی ذات کے اعتبار سے بھی تم سب سے بہتر ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِي وَدَاعَةَ قَالَ قَالَ الْعَبَّاسُ بَلَغَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضُ مَا يَقُولُ النَّاسُ قَالَ فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ مَنْ أَنَا قَالُوا أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ خَلْقِهِ وَجَعَلَهُمْ فِرْقَتَيْنِ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ فِرْقَةٍ وَخَلَقَ الْقَبَائِلَ فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِ قَبِيلَةٍ وَجَعَلَهُمْ بُيُوتًا فَجَعَلَنِي فِي خَيْرِهِمْ بَيْتًا فَأَنَا خَيْرُكُمْ بَيْتًا وَخَيْرُكُمْ نَفْسًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯৩
حضرت عباس (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس (رض) کی مرویات
ایک مرتبہ حضرت عباس (رض) نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے چچا خواجہ ابو طالب آپ کا بہت دفاع کیا کرتے تھے، آپ کی وجہ سے انہیں کیا فائدہ ہوا ؟ فرمایا وہ جہنم کے اوپر والے حصے میں ہیں، اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ يَحُوطُكَ وَيَغْضَبُ لَكَ قَالَ نَعَمْ هُوَ فِي ضَحْضَاحٍ مِنْ النَّارِ لَوْلَا ذَلِكَ لَكَانَ هُوَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنْ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৬৯৪
حضرت عباس (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عباس (رض) کی مرویات
عبیداللہ بن عباس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عباس (رض) کا ایک پرنالہ تھا جو حضرت عمر (رض) کے راستے میں آتا تھا، ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نے جمعہ کے دن نئے کپڑے پہنے، اسی دن حضرت عباس (رض) کے یہاں دو چوزے ذبح ہوئے تھے، جب حضرت عمر (رض) اس پرنالے کے قریب پہنچے تو اس میں چوزوں کا خون ملا پانی بہنے لگا، وہ پانی حضرت عمر (رض) پر گرا اور اس میں چوزوں کا خون بھی تھا، حضرت عمر (رض) نے اس پرنالے کو وہاں سے ہٹا دینے کا حکم دیا اور گھر واپس جاکر وہ کپڑے اتار کر دوسرے کپڑے پہنے اور آکر لوگوں کو نماز پڑھائی۔ نماز کے بعد ان کے پاس حضرت عباس (رض) آئے اور کہنے لگے کہ بخدا ! اس جگہ اس پرنالے کو نبی ﷺ نے لگایا تھا، حضرت عمر (رض) نے یہ سن کر فرمایا میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ میری کمر پر کھڑے ہو کر اسے وہیں لگا دیجئے جہاں نبی ﷺ نے اسے لگایا تھا، چناچہ حضرت عباس (رض) نے وہ پرنالہ اسی طرح دوبارہ لگا دیا۔
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَانَ لِلْعَبَّاسِ مِيزَابٌ عَلَى طَرِيقِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَلَبِسَ عُمَرُ ثِيَابَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَقَدْ كَانَ ذُبِحَ لِلْعَبَّاسِ فَرْخَانِ فَلَمَّا وَافَى الْمِيزَابَ صُبَّ مَاءٌ بِدَمِ الْفَرْخَيْنِ فَأَصَابَ عُمَرَ وَفِيهِ دَمُ الْفَرْخَيْنِ فَأَمَرَ عُمَرُ بِقَلْعِهِ ثُمَّ رَجَعَ عُمَرُ فَطَرَحَ ثِيَابَهُ وَلَبِسَ ثِيَابًا غَيْرَ ثِيَابِهِ ثُمَّ جَاءَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَأَتَاهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَلْمَوْضِعُ الَّذِي وَضَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ لِلْعَبَّاسِ وَأَنَا أَعْزِمُ عَلَيْكَ لَمَّا صَعِدْتَ عَلَى ظَهْرِي حَتَّى تَضَعَهُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَعَلَ ذَلِكَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক: