আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৯১ টি
হাদীস নং: ৬৩১৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میں قرآن تو پڑھتاہوں لیکن اپنے دل کو اس پر جمتا ہوا نہیں پاتا نبی کریم ﷺ نے فرمایا تیرا دل ایمان سے بھر پور ہے کیونکہ انسان کو قرآن سے پہلے ایمان دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَلَا أَجِدُ قَلْبِي يَعْقِلُ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ قَلْبَكَ حُشِيَ الْإِيمَانَ وَإِنَّ الْإِيمَانَ يُعْطَى الْعَبْدَ قَبْلَ الْقُرْآنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩১৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ جو شخص نبی کریم ﷺ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ اور اس کے فرشتے اس پر ستر مرتبہ رحمت بھیجتے ہیں اب بندے کی مرضی ہے کہ درود کی کثرت کرے یا کمی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُرَيْحٍ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ مَنْ صَلَّى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَمَلَائِكَتُهُ سَبْعِينَ صَلَاةً فَلْيُقِلَّ عَبْدٌ مِنْ ذَلِكَ أَوْ لِيُكْثِرْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩১৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ اس طرح ہمارے پاس تشریف لائے جیسے کوئی رخصت کرنے والا ہوتا ہے اور تین مرتبہ فرمایا میں محمد ہوں نبی امی ہوں اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا مجھے ابتدائی کلمات، اختتامی کلمات اور جامع کلمات بھی دئیے گئے ہیں میں جانتا ہوں کہ جہنم کے نگران فرشتے اور عرش الہٰی کو اٹھانے والے فرشتوں کی تعداد کتنی ہے ؟ مجھ سے تجاوز کیا جا چکا مجھے اور میری امت کو عافیت عطاء فرمادی گئی اس لئے جب تک میں تمہارے درمیان رہوں میری بات سنتے اور مانتے رہو اور جب مجھے لے جایا جائے تو کتاب اللہ کو اپنے اوپر لازم پکڑ لو اس کے حلال کو حلال سمجھو اور اس کے حرام کو حرام سمجھو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
و سَمِعْت عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا كَالْمُوَدِّعِ فَقَالَ أَنَا مُحَمَّدٌ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ قَالَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي أُوتِيتُ فَوَاتِحَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ وَجَوَامِعَهُ وَعَلِمْتُ كَمْ خَزَنَةُ النَّارِ وَحَمَلَةُ الْعَرْشِ وَتُجُوِّزَ بِي وَعُوفِيتُ وَعُوفِيَتْ أُمَّتِي فَاسْمَعُوا وَأَطِيعُوا مَا دُمْتُ فِيكُمْ فَإِذَا ذُهِبَ بِي فَعَلَيْكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ أَحِلُّوا حَلَالَهُ وَحَرِّمُوا حَرَامَهُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَمَرَّةً أُخْرَى قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي يَقُولُ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا كَالْمُوَدِّعِ فَذَكَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩১৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا میرے رب نے مجھ پر شراب جوا جو کی شراب باجے اور گانے والوں کو حرام قرار دیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ الْكَلَاعِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَالَ إِنَّ رَبِّي حَرَّمَ عَلَيَّ الْخَمْرَ وَالْمَيْسِرَ وَالْمِزْرَ وَالْكُوبَةَ وَالْقِنِّينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩২০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہ آدمی کامیاب ہوگیا جس نے ایمان قبول کیا ضرورت اور کفایت کے مطابق اسے روزی نصیب ہوگئی اور اللہ نے اسے اپنی نعمتوں پر قناعت کی دولت عطاء فرما دی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شَرِيكٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ آمَنَ وَرُزِقَ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩২১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمام بنی آدم کے دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان قلب واحد کی طرح ہیں وہ انہیں جیسے چاہے پھیر دیتا ہے اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ اکثریہ دعاء فرماتے تھے کہ اے دلوں کو پھیرنے والے اللہ (ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے) ۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَلْبُ ابْنِ آدَمَ عَلَى إِصْبَعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ الْجَبَّارِ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا شَاءَ أَنْ يُقَلِّبَهُ قَلَّبَهُ فَكَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ يَا مُصَرِّفَ الْقُلُوبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩২২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو وہاں فقراء کی اکثریت دیکھی اور میں نے جہنم میں جھانک کر دیکھا تو وہاں مالداروں اور عورتوں کی اکثریت دیکھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد بْن حَنْبَلٍ وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنِ السَّائِبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْأَغْنِيَاءَ وَالنِّسَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩২৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کے پاس آ کر کہنے لگا یا رسول اللہ مجھے اپنے آپ کو مردانہ صفات سے فارغ کرنے کی اور اپنے غدود کو دبانے کی اجازت دے دیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت کا غدود دبانا (خصی ہونا) روزہ اور قیام ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَنْ أَخْتَصِيَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خِصَاءُ أُمَّتِي الصِّيَامُ وَالْقِيَامُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩২৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوایوب انصاری (رض) کسی مجلس میں بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے کہ کیا تم میں سے کسی سے یہ نہیں ہوسکتا کہ ہر رات تہائی قرآن پڑھ لیا کرے ؟ لوگوں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ ؟ انہوں نے فرمایا سورت اخلاص تہائی قرآن ہے اتنی دیر میں نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے آپ ﷺ نے حضرت ابوایوب (رض) کی بات سن لی تھی اس لئے فرمایا ابوایوب نے سچ کہا .
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ كَانَ فِي مَجْلِسٍ وَهُوَ يَقُولُ أَلَا يَسْتَطِيعُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقُومَ بِثُلُثِ الْقُرْآنِ كُلَّ لَيْلَةٍ قَالُوا وَهَلْ نَسْتَطِيعُ ذَلِكَ قَالَ فَإِنَّ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُلُثُ الْقُرْآنِ قَالَ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْمَعُ أَبَا أَيُّوبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ أَبُو أَيُّوبَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩২৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی اپنے بیٹے کو لے کر نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ میرا یہ بیٹا دن کو قرآن پڑھتا ہے اور رات کو سوتا رہتا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر وہ سارا دن ذکر میں اور رات سلامتی میں گذار لیتا ہے تو تم اس پر کیوں ناراض ہو رہے ہو ؟
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا يَقْرَأُ الْمُصْحَفَ بِالنَّهَارِ وَيَبِيتُ بِاللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَنْقِمُ أَنَّ ابْنَكَ يَظَلُّ ذَاكِرًا وَيَبِيتُ سَالِمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩২৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت میں ایک کمرہ ایسا ہے جس کا ظاہر باطن سے اور باطن ظاہر سے نظر آتا ہے حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کمرہ کس شخص کو ملے گا ؟ فرمایا جو گفتگو میں نرمی کرے کھانا کھلائے اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو اللہ کے سامنے کھڑا ہو کر رازو نیاز کرے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرْفَةً يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا فَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِمَنْ أَلَانَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَبَاتَ لِلَّهِ قَائِمًا وَالنَّاسُ نِيَامٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩২৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ایک آدمی نے حضرت ابن عمرو (رض) سے پوچھا کہ میرا ایک یتیم بھتیجا میری پرورش میں تھا میں نے اسے ایک باندی صدقے میں دی تھی اب وہ مرگیا اور اس کا وارث بھی میں ہی ہوں ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جو میں نے نبی کریم ﷺ سے خود سنی ہے ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نے کسی کو فی سبیل اللہ ایک گھوڑا سواری کے لئے دے دیا تھوڑے ہی عرصے بعد انہوں نے دیکھا کہ وہ آدمی اسے کھڑا فروخت کر رہا ہے حضرت عمر (رض) کا ارادہ ہوا کہ اسے خرید لیں چناچہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مشورہ کیا آپ ﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کردیا اور فرمایا جب تم کوئی چیز صدقہ کردو تو اس صدقے کو برقرار رکھا کرو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا رِشْدِينُ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ تَوْبَةَ بْنَ نَمِرٍ حَدَّثَهُ أَنَّ أَبَا عُفَيْرٍ عَرِيفَ بْنَ سَرِيعٍ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي فَقَالَ يَتِيمٌ كَانَ فِي حَجْرِي تَصَدَّقْتُ عَلَيْهِ بِجَارِيَةٍ ثُمَّ مَاتَ وَأَنَا وَارِثُهُ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو سَأُخْبِرُكَ بِمَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ثُمَّ وَجَدَ صَاحِبَهُ قَدْ أَوْقَفَهُ يَبِيعُهُ فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهُ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَهَاهُ عَنْهُ وَقَالَ إِذَا تَصَدَّقْتَ بِصَدَقَةٍ فَأَمْضِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩২৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! ہمارے گناہوں، ظلم، مذاق، سنجیدگی اور جان بوجھ کر کئے گئے تمام گناہوں کو معاف فرمایہ سب ہماری طرف سے ہیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَظُلْمَنَا وَهَزْلَنَا وَجِدَّنَا وَعَمْدَنَا وَكُلَّ ذَلِكَ عِنْدَنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩২৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ میں قرض کے غلبے، دشمن کے غلبے اور دشمنوں کے ہنسی اڑانے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الْعَدُوِّ وَشَمَاتَةِ الْأَعْدَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৩০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب فجر کی دو سنتیں پڑھ لیتے تو اپنی دائیں کروٹ پر لیٹ جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا رَكَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৩১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سونے کے لئے لیٹتے تو یوں کہتے کہ اے پروردگار آپ کے نام پر میں نے اپنے پہلو کو رکھ دیا پس تو میرے گناہوں کو معاف فرما۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا اضْطَجَعَ لِلنَّوْمِ يَقُولُ بِاسْمِكَ رَبِّ وَضَعْتُ جَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৩২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کا اکرام کرنا چاہئے جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے پڑوسی کی حفاظت کرنی چاہئے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اچھی بات کہنی چاہیے یا پھر خاموش رہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَحْفَظْ جَارَهُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৩৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عطاء بن یسار (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میری ملاقات حضرت ابن عمرو (رض) سے ہوئی میں نے ان سے عرض کیا کہ تورات میں نبی کریم ﷺ کی جو صفات بیان گئی ہیں ان کے متعلق مجھے بتائیے انہوں نے فرمایا اچھا واللہ تورات میں ان کی وہی صفات بیان کی گئی ہیں جو قرآن کریم میں بیان کی گئی ہیں کہ اے نبی ﷺ ہم نے آپ کو گواہ بنا کر خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے " اور امیین کے لئے حفاظت بنا کر مبعوث کیا ہے آپ میرے بندے اور رسول ہیں میں نے آپ کا نام متوکل رکھ دیا ہے آپ تندخو، سخت دل، بازاروں میں شور مچانے والے اور برائی کا بدلہ برائی سے دینے والے نہیں ہیں بلکہ در گذر اور معاف کردینے والے ہیں اللہ انہیں اس وقت تک اپنے پاس نہیں بلائے گا جب تک ان کے ذریعے ٹیڑھی ملت کو سیدھا نہ کردے گا کہ وہ لاالہ الا اللہ کا اقرار کرنے لگیں، پھر اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اندھی آنکھوں کو، بہرے کانوں کو اور پردوں میں لپٹے دلوں کو کھول دے گا۔ عطاء کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں کعب احبار سے ملا اور ان سے بھی یہی سوال پوچھا تو ان دونوں کے جواب میں ایک حرف کا فرق بھی نہ تھا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ وَيُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي فَقُلْتُ أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ فَقَالَ أَجَلْ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِصِفَتِهِ فِي الْقُرْآنِ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا وَحِرْزًا لِلْأُمِّيِّينَ وَأَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ لَسْتَ بِفَظٍّ وَلَا غَلِيظٍ وَلَا سَخَّابٍ بِالْأَسْوَاقِ قَالَ يُونُسُ وَلَا صَخَّابٍ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَةَ بِالسَّيِّئَةِ وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ وَلَنْ يَقْبِضَهُ حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ بِأَنْ يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَيَفْتَحَ بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا وَآذَانًا صُمًّا وَقُلُوبًا غُلْفًا قَالَ عَطَاءٌ لَقِيتُ كَعْبًا فَسَأَلْتُهُ فَمَا اخْتَلَفَا فِي حَرْفٍ إِلَّا أَنَّ كَعْبًا يَقُولُ بِلُغَتِهِ أَعْيُنًا عُمُومَى وَآذَانًا صُمُومَى وَقُلُوبًا غُلُوفَى قَالَ يُونُسُ غُلْفَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৩৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ وضو کررہے تھے نبی کریم ﷺ نے سر اٹھا کر مجھے دیکھا اور فرمایا اے میری امت تم میں چھ چیزیں ہوں گی تمہارے نبی کریم ﷺ کا وصال ایسا لگا جیسے کسی نے میرا دل کھینچ لیا ہو۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ ایک ہوئی تمہارے پاس اتنا مال آجائے گا اگر کسی کو دس ہزار بھی دئیے جائیں تو وہ ناراض ہی رہے گا یہ دوسری ہوئی، وہ فتنہ جو گھر گھر میں داخل ہوجائے گا، یہ تیسری ہوئی بکریوں کی گردن توڑ بیماری کی طرح موت یہ چوتھی ہوئی تمہارے اور رومیوں کے درمیان صلح جو عورت کے زمانہ حمل کے بقدر نو مہینے تک تمہارے ساتھ اکٹھے رہیں گے، پھر وہی عہدشکنی میں پہل کریں گے یہ پانچویں چیز ہوئی اور ایک شہر کی فتح، یہ چھٹی چیز ہوئی میں نے پوچھا یا رسول اللہ کون ساشہر ؟ فرمایا قسطنطنیہ۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ عَنْ أَبِي جَنَابٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَقَالَ سِتٌّ فِيكُمْ أَيَّتُهَا الْأُمَّةُ مَوْتُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَأَنَّمَا انْتَزَعَ قَلْبِي مِنْ مَكَانِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةٌ قَالَ وَيَفِيضُ الْمَالُ فِيكُمْ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطَى عَشَرَةَ آلَافٍ فَيَظَلُّ يَتَسَخَّطُهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْنِ قَالَ وَفِتْنَةٌ تَدْخُلُ بَيْتَ كُلِّ رَجُلٍ مِنْكُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ قَالَ وَمَوْتٌ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعٌ وَهُدْنَةٌ تَكُونُ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ بَنِي الْأَصْفَرِ لَيَجْمَعُونَ لَكُمْ تِسْعَةَ أَشْهُرٍ كَقَدْرِ حَمْلِ الْمَرْأَةِ ثُمَّ يَكُونُونَ أَوْلَى بِالْغَدْرِ مِنْكُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ قَالَ وَفَتْحُ مَدِينَةٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ سِتٌّ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ مَدِينَةٍ قَالَ قَسْطَنْطِيْنِيَّةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৩৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا غازی کو تو اس کا اپنا اجر ہی ملے گا غازی بنانے والے کو اپنا بھی غازی کا بھی اجر ملے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي حَيْوَةُ يَعْنِي ابْنَ شُرَيْحٍ عَنِ ابْنِ شُفَيٍّ الْأَصْبَحِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْغَازِي أَجْرُهُ وَلِلْجَاعِلِ أَجْرُهُ وَأَجْرُ الْغَازِي
তাহকীক: