আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৯১ টি
হাদীস নং: ৬৩৫৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
اور میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اندھیرے میں پیدا کیا پھر اسی دن ان پر نور ڈالا، جس پر وہ نور پڑگیا وہ ہدایت پا گیا اور جسے وہ نور نہ مل سکا وہ گمراہ ہوگیا اسی وجہ سے میں کہتا ہوں کہ اللہ کے علم کے مطابق لکھ کر قلم خشک ہوچکے۔
قَالَ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ خَلْقَهُ فِي ظُلْمَةٍ ثُمَّ أَلْقَى عَلَيْهِمْ مِنْ نُورِهِ يَوْمَئِذٍ فَمَنْ أَصَابَهُ مِنْ نُورِهِ يَوْمَئِذٍ اهْتَدَى وَمَنْ أَخْطَأَهُ ضَلَّ فَلِذَلِكَ أَقُولُ جَفَّ الْقَلَمُ عَلَى عِلْمِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৫৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
اور میں نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے اللہ سے تین دعائیں کیں جن میں سے اللہ نے دو کو قبول کرلیا اور ہمیں امید ہے کہ تیسری بھی ان کے حق میں ہوگی انہوں نے اللہ سے صحیح فیصلہ کرنے کی صلاحیت مانگی، اللہ نے انہیں وہ عطاء کردی انہوں نے اللہ سے ایسی حکومت مانگی جو ان کے بعد کسی کو نہ مل سکے، اللہ نے انہیں وہ بھی عطاء کردی انہوں نے اللہ سے دعاء کی کہ جو شخص اپنے گھر سے مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کے ارادے سے نکلے تو وہ نماز کے بعد وہاں سے ایسے نکلے جیسے اس کی ماں نے اسے آج ہی جنم دیا ہو، ہمیں امید ہے کہ اللہ نے انہیں یہ بھی عطاء فرما دیا ہوگا۔
وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام سَأَلَ اللَّهَ ثَلَاثًا أَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ وَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ تَكُونَ لَهُ الثَّالِثَةُ فَسَأَلَهُ حُكْمًا يُصَادِفُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَسَأَلَهُ أَيُّمَا رَجُلٍ خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ لَا يُرِيدُ إِلَّا الصَّلَاةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ خَرَجَ مِنْ خَطِيئَتِهِ مِثْلَ يَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ فَنَحْنُ نَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَاهُ إِيَّاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৫৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے کسی نے پوچھاقسطنطینہ اور رومیہ میں سے پہلے کون سا شہر فتح ہوگا ؟ حضرت عبداللہ (رض) نے ایک صندوق منگوایا جس کے اردگردحلقے لگے ہوئے تھے اس میں سے ایک کتاب نکالی اور کہنے لگے کہ ہم ایک دفعہ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھ کر لکھ رہے تھے کہ نبی کریم ﷺ سے بھی یہ سوال ہوا کہ قسطنطنیہ اور رومیہ میں سے پہلے کون سا شہر فتح ہوگا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہرقل کا شہر یعنی قسطنطنیہ پہلے فتح ہوگا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنِي أَبُو قَبِيلٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي وَسُئِلَ أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا الْقُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بِصُنْدُوقٍ لَهُ حَلَقٌ قَالَ فَأَخْرَجَ مِنْهُ كِتَابًا قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَكْتُبُ إِذْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْمَدِينَتَيْنِ تُفْتَحُ أَوَّلًا قُسْطَنْطِينِيَّةُ أَوْ رُومِيَّةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدِينَةُ هِرَقْلَ تُفْتَحُ أَوَّلًا يَعْنِي قُسْطَنْطِينِيَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৫৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو مسلمان جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات میں فوت ہوجائے اللہ اسے قبر کی آزمائش سے بچا لیتا ہے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي قَبِيلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوْ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৬০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کسی عورت سے دوسری کو طلاق ہونے کی وجہ سے نکاح کرنا حلال نہیں کسی شخص کے لئے اپنے ساتھی کے بیع پر بیع کرنا حلال نہیں جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے اور ایسے تین آدمیوں کے لئے جو کسی اجنبی علاقے (جنگل) میں ہوں ضروری ہے کہ اپنے اوپر کسی ایک کو امیر مقرر کرلیں اور ایسے تین آدمیوں کے لئے جو کسی جنگل میں ہوں حلال نہیں ہے کہ ان میں سے دو آدمی اپنے تیسرے ساتھی کو چھوڑ کر سرگوشی کرنے لگیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ أَنْ يَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِطَلَاقِ أُخْرَى وَلَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَبِيعَ عَلَى بَيْعِ صَاحِبِهِ حَتَّى يَذَرَهُ وَلَا يَحِلُّ لِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَكُونُونَ بِأَرْضِ فَلَاةٍ إِلَّا أَمَّرُوا عَلَيْهِمْ أَحَدَهُمْ وَلَا يَحِلُّ لِثَلَاثَةِ نَفَرٍ يَكُونُونَ بِأَرْضِ فَلَاةٍ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৬১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک سیدھا مسلمان اپنے حسن اخلاق اور اپنی شرافت و مہربانی کی وجہ سے ان لوگوں کے درجے تک جاپہنچتا ہے جو روزہ دار اور شب زندہ دار ہوتے ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمُسْلِمَ الْمُسَدِّدَ لَيُدْرِكُ دَرَجَةَ الصَّوَّامِ الْقَوَّامِ بِآيَاتِ اللَّهِ بِحُسْنِ خُلُقِهِ وَكَرَمِ ضَرِيبَتِهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمُسْلِمَ الْمُسَدِّدَ فَذَكَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৬২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس موجود تھے آپ ﷺ فرمانے لگے کہ خوشخبری ہے غرباء کے لئے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! غرباء سے کون لوگ مراد ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا برے لوگ کے تم جم غفیر میں تھوڑے سے نیک لوگ جن کی بات ماننے والوں کی تعداد سے زیادہ نہ ماننے والوں کی تعداد ہو۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ سُفْيَانَ بْنَ عَوْفٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدَهُ طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ فَقِيلَ مَنْ الْغُرَبَاءُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أُنَاسٌ صَالِحُونَ فِي أُنَاسِ سُوءٍ كَثِيرٍ مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৬৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
اور ہم ایک دوسرے دن نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس وقت سورج طلوع ہو رہا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کے کچھ لوگ اس طرح آئیں گے کہ ان کا نور سورج کی روشنی کی طرح ہوگا ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہوں گے ؟ فرمایا فقراء مہاجرین جن کے ذریعے ناپسندیدہ امور سے بچا جاتا ہے وہ لوگ اپنی ضروریات اپنے سینے میں ہی لے کر مرجاتے تھے انہیں زمین کے کونے کونے سے جمع کرلیا جائے گا۔
قَالَ وَكُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا آخَرَ حِينَ طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَأْتِي أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ نُورُهُمْ كَضَوْءِ الشَّمْسِ قُلْنَا مَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ وَالَّذِينَ تُتَّقَى بِهِمْ الْمَكَارِهُ يَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ يُحْشَرُونَ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৬৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! مجالس ذکر کی غنیمت کیا ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ذکر کی غنیمت جنت ہے جنت۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا رَاشِدُ بْنُ يَحْيَى الْمَعَافِرِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ قَالَ غَنِيمَةُ مَجَالِسِ الذِّكْرِ الْجَنَّةُ الْجَنَّةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৬৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر چار چیزیں اور خصلتیں تمہارے اندر ہوں تو اگر ساری دنیا بھی چھوٹ جائے تو کوئی حرج نہیں، امانت کی حفاظت، بات میں سچائی، اخلاق کی عمدگی اور کھانے میں پاکیزگی۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرْبَعٌ إِذَا كُنَّ فِيكَ فَلَا عَلَيْكَ مَا فَاتَكَ مِنْ الدُّنْيَا حِفْظُ أَمَانَةٍ وَصِدْقُ حَدِيثٍ وَحُسْنُ خَلِيقَةٍ وَعِفَّةٌ فِي طُهْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৬৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک دن کی پہرہ داری ایک مہینے کے صیام و قیام سے بہتر ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رِبَاطُ يَوْمٍ خَيْرٌ مِنْ صِيَامِ شَهْرٍ وَقِيَامِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৬৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو خاموش رہا وہ نجات پا گیا۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالُوا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْمَعَافِرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَمَتَ نَجَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৬৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا دل برتنوں کے طرح ہوتے ہیں، بعض بعض سے گہرے ہوتے ہیں اس لئے اے لوگوں جب تم اللہ سے سوال کرو تو قبولیت کے یقین کے ساتھ مانگا کرو کیونکہ اللہ کسی ایسے بندے کی دعاء کو قبول نہیں کرتا جو غافل دل سے اسے پکارے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْقُلُوبُ أَوْعِيَةٌ وَبَعْضُهَا أَوْعَى مِنْ بَعْضٍ فَإِذَا سَأَلْتُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَيُّهَا النَّاسُ فَاسْأَلُوهُ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالْإِجَابَةِ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَجِيبُ لِعَبْدٍ دَعَاهُ عَنْ ظَهْرِ قَلْبٍ غَافِلٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৬৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی کا مدینہ منورہ میں انتقال ہوگیا نبی کریم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھا دی اور فرمایا کاش کہ یہ اپنے وطن میں نہ مرتا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ کیوں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی آدمی اپنے وطن کے علاوہ کہیں اور مرے تو اس کے لئے اس کے وطن سے لے کر اس کے نشان قدم کی انتہاء تک جنت میں جگہ عطاء فرمائی جائے گی۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ بِالْمَدِينَةِ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا لَيْتَهُ مَاتَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ النَّاسِ لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا تُوُفِّيَ فِي غَيْرِ مَوْلِدِهِ قِيسَ لَهُ مِنْ مَوْلِدِهِ إِلَى مُنْقَطَعِ أَثَرِهِ فِي الْجَنَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৭০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں ایک عورت نے چوری کی جن لوگوں کے یہاں چوری ہوئی تھی وہ اس عورت کو پکڑ کر نبی کریم ﷺ کے پاس لے آے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ! اس عورت نے ہمارے یہاں چوری کی ہے اس عورت کی قوم کے لوگ کہنے لگے کہ ہم انہیں اس کا فدیہ دینے کے لئے تیار ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کا ہاتھ کاٹ دو وہ لوگ کہنے لگے کہ ہم اس کا فدیہ پچاس دینار دینے کو تیار ہیں نبی کریم ﷺ نے پھر فرمایا کہ اس کا ہاتھ کاٹ دو چناچہ اس کا داہنا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ بعد میں وہ عورت کہنے لگی یا رسول اللہ کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آج تک اپنے گناہوں سے ایسے پاک صاف ہو کہ گویا تمہاری ماں نے تمہیں آج ہی جنم دیا ہو اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے سورت مائدہ کی یہ آیت نازل فرمائی جو اپنے ظلم کے بعد توبہ کرلے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي حُيَيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بِهَا الَّذِينَ سَرَقَتْهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الْمَرْأَةَ سَرَقَتْنَا قَالَ قَوْمُهَا فَنَحْنُ نَفْدِيهَا يَعْنِي أَهْلَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْطَعُوا يَدَهَا فَقَالُوا نَحْنُ نَفْدِيهَا بِخَمْسِ مِائَةِ دِينَارٍ قَالَ اقْطَعُوا يَدَهَا قَالَ فَقُطِعَتْ يَدُهَا الْيُمْنَى فَقَالَتْ الْمَرْأَةُ هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ أَنْتِ الْيَوْمَ مِنْ خَطِيئَتِكِ كَيَوْمِ وَلَدَتْكِ أُمُّكِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৭১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ بکریوں کے ریوڑ میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے لیکن اونٹوں اور گائے کے باڑے میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ حُيَيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي مَرَابِدِ الْغَنَمِ وَلَا يُصَلِّي فِي مَرَابِدِ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৭২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص نشے کی وجہ سے ایک مرتبہ نماز چھوڑ دے تو اس کی مثال ایسے ہے کہ جیسے اس کے پاس دنیا اور اس کی ساری نعمتیں تھیں جو اس سے چھین لی گئیں اور جو شخص نشے کی وجہ چار نمازیں چھوڑ دے تو اللہ پر حق ہے کہ اسے طینۃ الخبال میں سے کچھ پلائے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ طینۃ الخبال کس چیز کا نام ہے ؟ فرمایا اہل جہنم کی پیپ کا۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ سُكْرًا مَرَّةً وَاحِدَةً فَكَأَنَّمَا كَانَتْ لَهُ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا فَسُلِبَهَا وَمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ سُكْرًا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَسْقِيَهُ مِنْ طِينَةِ الْخَبَالِ قِيلَ وَمَا طِينَةُ الْخَبَالِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عُصَارَةُ أَهْلِ جَهَنَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৭৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو اس طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ ﷺ دائیں بائیں جانب سے واپس چلے جاتے تھے میں نے آپ ﷺ کو برہنہ پا اور جوتی پہن کر بھی نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے آپ ﷺ کو کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر بھی پانی پیتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ وَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي حَافِيًا وَرَأَيْتُهُ يَشْرَبُ قَائِمًا وَرَأَيْتُهُ يَشْرَبُ قَاعِدًا وَرَأَيْتُهُ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَرَأَيْتُهُ يَنْصَرِفُ عَنْ يَسَارِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৭৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وعظ صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کی اجازت دی گئی ہو یا ریاکار۔
حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنِ ابْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُرَاءٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬৩৭৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا ہے کہ کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَهَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ الْخُزَاعِيُّ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنْ لَا يُقْتَلَ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ
তাহকীক: