আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৬৪১৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تقدیر پر ایمان لائے بغیر کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتا خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔
حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُؤْمِنُ الْمَرْءُ حَتَّى يُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ قَالَ أَبُو حَازِمٍ لَعَنَ اللَّهُ دِينًا أَنَا أَكْبَرُ مِنْهُ يَعْنِي التَّكْذِيبَ بِالْقَدَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪১৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ عاص بن وائل نے زمانہ جاہلیت میں سو اونٹ قربان کرنے کی منت مانی تھی، اس کے ایک بیٹے ہشام بن عاص نے اپنے حصے کے پچاس اونٹ قربان کردئیے دوسرے بیٹے حضرت عمرو (رض) نے نبی کریم ﷺ سے اس کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تمہارے باپ نے توحید کا اقرار کرلیا ہوتا تو تم اس کی طرف سے جو بھی روزہ اور صدقہ کرتے اسے ان کا نفع ہوتا (لیکن چونکہ اس نے اسلام قبول نہیں کیا اس لئے اسے کیا فائدہ ہوگا)
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ الْعَاصَ بْنَ وَائِلٍ نَذَرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ يَنْحَرَ مِائَةَ بَدَنَةٍ وَأَنَّ هِشَامَ بْنَ الْعَاصِي نَحَرَ حِصَّتَهُ خَمْسِينَ بَدَنَةً وَأَنَّ عَمْرًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَمَّا أَبُوكَ فَلَوْ كَانَ أَقَرَّ بِالتَّوْحِيدِ فَصُمْتَ وَتَصَدَّقْتَ عَنْهُ نَفَعَهُ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪১৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اپنا ہدیہ واپس نہ مانگے سوائے باپ اپنے بیٹے سے اور ہدیہ دے کر واپس لینے والا ایسے ہے جیسے قے کر کے اسے چاٹ لینے والا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ عَامِرٍ الْأَحْوَلِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَرْجِعُ فِي هِبَتِهِ إِلَّا الْوَالِدُ مِنْ وَلَدِهِ وَالْعَائِدُ فِي هِبَتِهِ كَالْعَائِدِ فِي قَيْئِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪১৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنی بیوی کے پچھلے سوراخ میں آتا ہے وہ لواطت صغری " کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هِيَ اللُّوطِيَّةُ الصُّغْرَى يَعْنِي الرَّجُلَ يَأْتِي امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میرا یہ بیٹا ہے میرا پیٹ اس کا برتن تھا میری گود اس کا گہوارہ تھی اور میری چھاتی اس کے لئے سیرابی کا ذریعہ تھی لیکن اب اس کا باپ کہہ رہا ہے کہ وہ اسے مجھ سے چھین لے گا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تک تم کہیں اور شادی نہیں کرتیں اس پر تمہارا حق زیادہ ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً وَزَعَمَ أَبُوهُ أَنَّهُ يَنْزِعُهُ مِنِّي قَالَ أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کھاؤ پیو صدقہ کرو اور پہنو لیکن تکبر نہ کرو اور اسراف بھی نہ کرو اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کی نعمتوں کا اثر اس کے بندے پر ظاہر ہو۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُوا وَاشْرَبُوا وَتَصَدَّقُوا وَالْبَسُوا فِي غَيْرِ مَخِيلَةٍ وَلَا سَرَفٍ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ أَنْ تُرَى نِعْمَتُهُ عَلَى عَبْدِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو عورت مہر، تحفہ یا ہدیہ کے بدلے نکاح کرے تو نکاح سے قبل ہونے کی صورت میں وہ اسی کی ملکیت ہوگا اور نکاح کا بندھن بندھ جانے کے بعد وہ اس کی ملکیت میں ہوگا جسے دیا گیا ہو اور کسی آدمی کا اکرام اس وجہ سے کرنا زیادہ حق بنتا ہے کہ اس کی بیٹی یا بہن کی وجہ سے اس کا اکرام کیا جائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَاءٍ أَوْ عِدَةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ وَأَحَقُّ مَا يُكْرَمُ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ابوروح " جس کا اصل نام زنباع تھا " نے اپنے غلام کو ایک باندی کے ساتھ " پایا اس نے اس غلام کی ناک کاٹ دی اور اسے خصی کردیا وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آیا نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا تیرے ساتھ یہ سلوک کسی نے کیا ؟ اس نے زنباع کا نام لیا نبی کریم ﷺ نے اسے بلوایا اور اس سے پوچھا کہ تم نے یہ حرکت کیوں کی ؟ اس نے ساراواقعہ ذکر کردیا نبی کریم ﷺ نے غلام سے فرمایا جا تو آزاد ہے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ ! میرا آزاد کرنے والا کون ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ ہے اور نبی کریم ﷺ نے مسلمانوں کو بھی اس کی وصیت کردی۔ جب نبی کریم ﷺ کا وصال ہوگیا تو وہ حضرت صدیق اکبر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور نبی کریم ﷺ کی وصیت کا ذکر کیا، انہوں نے فرمایا ہاں ! مجھے یاد ہے ہم تیرا اور تیرے اہل و عیال کا نفقہ جاری کردیتے ہیں چناچہ حضرت صدیق اکبر (رض) نے اس کا نفقہ جاری کردیا پھر جب حضرت صدیق اکبر (رض) کا انتقال ہوا اور حضرت عمر فاروق (رض) خلیفہ مقرر ہوئے تو وہ پھر آیا اور نبی کریم ﷺ کی وصیت کا ذکر کیا حضرت عمر (رض) نے بھی فرمایا ہاں ! یاد ہے تم کہاں جانا چاہتے ہو ؟ اس نے مصر کا نام لیا، حضرت عمر (رض) نے گورنر مصر کے نام اس مضمون کا خط لکھ دیا کہ اسے اتنی زمین دے دی جائے کہ جس سے یہ کھا پی سکے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنِي مَعْمَرٌ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِي أَنَّ زِنْبَاعًا أَبَا رَوْحٍ وَجَدَ غُلَامًا لَهُ مَعَ جَارِيَةٍ لَهُ فَجَدَعَ أَنْفَهُ وَجَبَّهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكَ قَالَ زِنْبَاعٌ فَدَعَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا فَقَالَ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبْدِ اذْهَبْ فَأَنْتَ حُرٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَوْلَى مَنْ أَنَا قَالَ مَوْلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَأَوْصَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ قَالَ فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَقَالَ وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ نُجْرِي عَلَيْكَ النَّفَقَةَ وَعَلَى عِيَالِكَ فَأَجْرَاهَا عَلَيْهِ حَتَّى قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ جَاءَهُ فَقَالَ وَصِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ مِصْرَ فَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى صَاحِبِ مِصْرَ أَنْ يُعْطِيَهُ أَرْضًا يَأْكُلُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر انگلی میں دس اونٹ واجب ہیں ہر دانت میں پانچ اونٹ ہیں اور سب انگلیاں بھی برابر ہیں اور تمام دانت بھی برابر ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ إِصْبَعٍ عَشْرٌ مِنْ الْإِبِلِ وَفِي كُلِّ سِنٍّ خَمْسٌ مِنْ الْإِبِلِ وَالْأَصَابِعُ سَوَاءٌ وَالْأَسْنَانُ سَوَاءٌ قَالَ مُحَمَّدٌ وَسَمِعْتُ مَكْحُولًا يَقُولُ وَلَا يَذْكُرُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَوْرَعَ فِي الْحَدِيثِ مِنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ سے ٹیک لگا کر لوگوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کوئی شخص عصر کی نماز کے بعد رات تک نوافل نہ پڑھے اور نہ فجر کے بعد طلوع آفتاب تک، نیز کوئی عورت تین دن کی مسافت کا محرم کے بغیر سفر نہ کرے اور کسی عورت سے اس کی پھوپھی یاخالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ أَنَّ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَنَدَ إِلَى بَيْتٍ فَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ قَالَ لَا يُصَلِّي أَحَدٌ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى اللَّيْلِ وَلَا بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ مَسِيرَةَ ثَلَاثٍ وَلَا تَتَقَدَّمَنَّ امْرَأَةٌ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے کسی نے " عقیقہ " کے متعلق سوال کیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ عقوق ( نافرمانی) کو پسند نہیں کرتا گویا نبی کریم ﷺ نے لفظی مناسبت کو اچھا نہیں سمجھا صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ سے اپنی اولاد کے حوالے سے سوال کر رہے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنی اولاد کی طرف سے قربانی کرنا چاہے وہ لڑکے کی طرف دو برابر کی بکریاں ذبح کردے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ذبح کرلے۔ پھر کسی نے اونٹ کے پہلے بچے کی قربانی کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ برحق ہے لیکن اگر تم اسے جوان ہونے تک چھوڑ دو کہ وہ دو تین سال کا ہوجائے پھر تم اسے کسی کو فی سبیل اللہ سواری کے لئے دے دو یا بیواؤں کو دے دو تو یہ زیادہ بہتر ہے اس بات سے کہ تم اسے ذبح کر کے اس کا گوشت اس کے بالوں کے ساتھ لگاؤ اپنا برتن الٹ دو اور اپنی اونٹنی کو پاگل کردو پھر کسی نے " عتیرہ " کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا عتیرہ برحق ہے۔ کسی نے عمرو بن شعیب سے عتیرہ کا معنی پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ لوگ ماہ رجب میں بکری ذبح کر کے اسے پکا کر خود بھی کھاتے تھے اور دوسروں کو بھی کھلاتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْعَقِيقَةِ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْعُقُوقَ وَكَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْمَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا نَسْأَلُكَ عَنْ أَحَدِنَا يُولَدُ لَهُ قَالَ مَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَنْسُكَ عَنْ وَلَدِهِ فَلْيَفْعَلْ عَنْ الْغُلَامِ شَاتَانِ مُكَافَأَتَانِ وَعَنْ الْجَارِيَةِ شَاةٌ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ الْفَرَعِ قَالَ وَالْفَرَعُ حَقٌّ وَأَنْ تَتْرُكَهُ حَتَّى يَكُونَ شُغْزُبًّا أَوْ شُغْزُوبًّا ابْنَ مَخَاضٍ أَوْ ابْنَ لَبُونٍ فَتَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ تُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَهُ يَلْصَقُ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ وَتُكْفِئُ إِنَاءَكَ وَتُولِهُ نَاقَتَكَ وَقَالَ وَسُئِلَ عَنْ الْعَتِيرَةِ فَقَالَ الْعَتِيرَةُ حَقٌّ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ لِعَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ مَا الْعَتِيرَةُ قَالَ كَانُوا يَذْبَحُونَ فِي رَجَبٍ شَاةً فَيَطْبُخُونَ وَيَأْكُلُونَ وَيُطْعِمُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے دو آدمیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ چمٹ کر بیت اللہ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ اس طرح چمٹ کر چلنے کا کیا مطلب ؟ وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! ہم نے یہ منت مانی تھی کہ اسی طرح بیت اللہ تک چل کر جائیں گے نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ منت نہیں ہے اور ان دونوں کی اس کیفیت کو ختم کروا دیا سریج اپنی حدیث میں یہ بھی کہتے ہیں کہ نذر اس چیز کی ہوتی ہے جس کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کی جائے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَكَ رَجُلَيْنِ وَهُمَا مُقْتَرِنَانِ يَمْشِيَانِ إِلَى الْبَيْتِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ الْقِرَانِ قَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نَذَرْنَا أَنْ نَمْشِيَ إِلَى الْبَيْتِ مُقْتَرِنَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ هَذَا نَذْرًا فَقَطَعَ قِرَانَهُمَا قَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ إِنَّمَا النَّذْرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وعظ صرف وہی شخص کہہ سکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کی اجازت دی گئی ہو یا ریاکار۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْفَرَجُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُرَاءٍ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّمَا كَانَ يَبْلُغُنَا أَوْ مُتَكَلِّفٌ قَالَ هَكَذَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪২৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ کے متعلق یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ان کی دیت مسلمان کی دیت سے آدھی ہوگی۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ عَقْلَ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ نِصْفُ عَقْلِ الْمُسْلِمِينَ وَهُمْ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৩০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کو عمداً قتل کردے اسے مقتول کے ورثاء کے حوالے کردیا جائے گا اگر وہ چاہیں تو اسے بدلے میں قتل کردیں اور چاہیں تو دیت لے لیں جو تیس حقے، تیس جذعے اور چالیس حاملہ اونٹنیوں پر مشتمل ہوگی، یہ قتل عمد کی دیت ہے اور جس چیز پر فریقین کے درمیان صلح ہوجائے وہ ورثاء مقتول کو ملے گی اور یہ سخت دیت ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ مُوسَى عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَتَلَ مُتَعَمِّدًا دُفِعَ إِلَى أَوْلِيَاءِ الْقَتِيلِ فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوهُ وَإِنْ شَاءُوا أَخَذُوا الدِّيَةَ وَهِيَ ثَلَاثُونَ حِقَّةً وَثَلَاثُونَ جَذَعَةً وَأَرْبَعُونَ خَلِفَةً وَذَلِكَ عَقْلُ الْعَمْدِ وَمَا صَالَحُوا عَلَيْهِ فَهُوَ لَهُمْ وَذَلِكَ تَشْدِيدُ الْعَقْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৩১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قتل شبہ عمد کی دیت بھی قتل عمد کی دیت کی طرح مغلظ ہوگی (جس کی تفصیل گذشتہ حدیث میں گذری) البتہ اس صورت میں قاتل کو قتل نہیں کیا جاسکے گا اور اس کی صورت یہ ہے کہ شیطان لوگوں کے درمیان کود پڑے اور بغیر کسی امتحان کے یا اسلحہ اٹھانے کے اندھا دھند تیر اندازی شروع ہوجائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَعَبْدُ الصَّمَدِ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَقْلُ شِبْهِ الْعَمْدِ مُغَلَّظٌ مِثْلُ عَقْلِ الْعَمْدِ وَلَا يُقْتَلُ صَاحِبُهُ وَذَلِكَ أَنْ يَنْزُوَ الشَّيْطَانُ بَيْنَ النَّاسِ قَالَ أَبُو النَّضْرِ فَيَكُونُ رِمِّيًّا فِي عِمِّيًّا فِي غَيْرِ فِتْنَةٍ وَلَا حَمْلِ سِلَاحٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৩২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ جو شخص خطاء مارا جائے اس کی دیت سو اونٹ ہوگی۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى مَنْ قُتِلَ خَطَأً فَدِيَتُهُ مِائَةٌ مِنْ الْإِبِلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৩৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور پائی نبی کریم ﷺ نے اسے کھالیا پھر رات کے آخری حصے میں آپ ﷺ بےچین ہونے لگے، جس پر نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ گھبرا گئیں نبی کریم ﷺ نے انہیں تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ مجھے اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور ملی تھی جسے میں نے کھالیا تھا اب مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ صدقہ کی کھجور نہ ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ نَائِمًا فَوَجَدَ تَمْرَةً تَحْتَ جَنْبِهِ فَأَخَذَهَا فَأَكَلَهَا ثُمَّ جَعَلَ يَتَضَوَّرُ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ وَفَزِعَ لِذَلِكَ بَعْضُ أَزْوَاجِهِ فَقَالَ إِنِّي وَجَدْتُ تَمْرَةً تَحْتَ جَنْبِي فَأَكَلْتُهَا فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৩৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) جب تک جدا نہ ہوجائیں ان کا اختیار فسخ باقی رہتا ہے الاّ یہ کہ معاملہ اختیار کا ہو اور کسی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے ساتھی سے اس ڈر سے جلدی جدا ہوجائے کہ کہیں یہ اقالہ ہی نہ کرلے (بیع ختم ہی نہ کردے)
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَائِعُ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ حَتَّى يَتَفَرَّقَا إِلَّا أَنْ يَكُونَ سَفْقَةَ خِيَارٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يُفَارِقَهُ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَقِيلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৪৩৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) نے اپنی زمین میں کام کرنے والے کی طرف ایک مرتبہ خط لکھا کہ زائد پانی سے کسی کو مت روکنا کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص زائد پانی یا زائد گھاس کسی کو دینے سے روکتا ہے اللہ قیامت کے دن اس سے اپنا فضل روک لے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو كَتَبَ إِلَى عَامِلٍ لَهُ عَلَى أَرْضٍ لَهُ أَنْ لَا تَمْنَعْ فَضْلَ مَائِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ مَنَعَ فَضْلَ الْمَاءِ لِيَمْنَعَ بِهِ فَضْلَ الْكَلَإِ مَنَعَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَضْلَهُ
tahqiq

তাহকীক: