আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৫২১৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تک پھل خوب پک نہ جائے اس وقت تک اس کی خریدو فروخت نہ کیا کرو۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبَايَعُوا الثَّمَرَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২১৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی غلام کو اپنے حصے کے بقدر آزاد کردیتا ہے تو اسے اس کا بقیہ حصے آزاد کرنے کا بھی مکلف بنایا جائے گا اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو جس سے اسے آزاد کیا جاسکتا ہے توجتنا اس نے آزاد کیا ہے اتنا ہی رہے گا۔
قَالَ أَبِي وَأَخْبَرَنَا يَعْنِي يَزِيدَ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ فِي إِنْسَانٍ أَوْ مَمْلُوكٍ كُلِّفَ عِتْقَ بَقِيَّتِهِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ يُعْتِقُهُ بِهِ فَقَدْ جَازَ مَا عَتَقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২১৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کا تلبیہ یہ تھا میں حاضر ہوں اے اللہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں حکومت بھی آپ ہی کی ہے آپ کا کوئی شریک نہیں، ابن عمر (رض) اس میں یہ اضافہ فرماتے تھے کہ میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں میں تیری خدمت میں آگیا ہوں ہر قسم کی خیر آپ کے ہاتھ میں ہے میں حاضر ہوں تمام رغبتیں اور عمل آپ ہی کے لئے ہیں میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنْ الَّذِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي بِهِ يَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَذَكَرَ نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ يَزِيدُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ مِنْ عِنْدِهِ لَبَّيْكَ وَالرَّغْبَاءُ إِلَيْكَ وَالْعَمَلُ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২১৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پانچ قسم کے جانوروں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ لَا جُنَاحَ فِي قَتْلِ مَنْ قَتَلَ مِنْهُنَّ الْغُرَابُ وَالْفَأْرَةُ وَالْحِدَأَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْعَقْرَبُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২২০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ایک مرتبہ منبر پر جلوہ افروز دیکھا نبی کریم ﷺ کو دیکھتے ہی میں تیزی سے مسجد میں داخل ہوا اور ایک جگہ جا کر بیٹھ گیا لیکن ابھی سننے کا موقعہ نہ ملا تھا کہ نبی کریم ﷺ منبر سے نیچے اتر آئے میں نے لوگوں سے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے کیا فرمایا ؟ لوگوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے دباء اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ فَأَسْرَعْتُ لِأَسْمَعَ كَلَامَهُ فَتَفَرَّقَ النَّاسُ قَبْلَ أَنْ أَبْلُغَ وَقَالَ مَرَّةً قَبْلَ أَنْ أَنْتَهِيَ إِلَيْهِمْ فَسَأَلْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّهُ نَهَى عَنْ الْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২২১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ ہم لوگ مکہ مکرمہ سے آرہے تھے ان کے ساتھ حفص بن عاصم اور مساحق بن عمرو بھی تھے ہم لوگ چلتے رہے یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا ان میں سے ایک نے کہا " نماز " حضرت ابن عمر (رض) نے اس سے کوئی بات نہیں کی (پھر دوسرے نے یاددہانی کرائی لیکن انہوں نے اسے بھی کوئی جواب نہ دیا پھر میں نے ان سے کہا " نماز " تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہے کہ جب انہیں سفر کی جلدی ہوتی تھی تو وہ ان دونوں نمازوں کو جمع کرلیتے تھے میرا ارادہ ہے کہ میں بھی انہیں جمع کرلوں گا چناچہ ہم نے کئی میل کا سفر طے کرلیا پھر اتر کر انہوں نے نماز پڑھی ایک دوسرے موقع پر نافع نے ربع میل کا ذکر کیا تھا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ ابْنِ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ وَنَحْنُ نَسِيرُ مَعَهُ وَمَعَهُ حَفْصُ بْنُ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ وَمُسَاحِقُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خِدَاشٍ فَغَابَتْ لَنَا الشَّمْسُ فَقَالَ أَحَدُهُمَا الصَّلَاةَ فَلَمْ يُكَلِّمْهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ الْآخَرُ الصَّلَاةَ فَلَمْ يُكَلِّمْهُ فَقَالَ نَافِعٌ فَقُلْتُ لَهُ الصَّلَاةَ فَقَالَ إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَجِلَ بِهِ السَّيْرُ جَمَعَ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ فَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَجْمَعَ بَيْنَهُمَا قَالَ فَسِرْنَا أَمْيَالًا ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى قَالَ يَحْيَى فَحَدَّثَنِي نَافِعٌ هَذَا الْحَدِيثَ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ سِرْنَا إِلَى قَرِيبٍ مِنْ رُبُعِ اللَّيْلِ ثُمَّ نَزَلَ فَصَلَّى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২২২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ پہلے حضرت زید بن حارثہ (رض) کو زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے تاآنکہ قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوگئی کہ " انہیں ان کے باپ کی طرف نسبت کر کے پکارا کرو کیونکہ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي سَالِمٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ الْكَلْبِيِّ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ مَا كُنَّا نَدْعُوهُ إِلَّا زَيْدَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَتَّى نَزَلَ الْقُرْآنُ ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২২৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جمعہ کے بعد اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২২৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق (رض) نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم جو عمل کرتے ہیں کیا وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے یا ہمارا عمل پہلے ہوتا ہے ؟ فرمایا نہیں بلکہ وہ پہلے سے لکھا جا چکا ہے لہٰذا اے ابن خطاب ! عمل کرتے رہو کیونکہ جو شخص جس مقصد کے لئے پیدا کیا گیا ہے اسے اس کے اسباب مہیا کر دئیے جاتے ہیں اور وہ عمل اس کے لئے آسان کردیا جاتا ہے چناچہ اگر وہ اہل سعادت میں سے ہو تو وہ سعادت والے اعمال کرتا ہے اور اہل شقاوت میں سے ہو تو بدبختی والے اعمال کرتا ہے۔ فائدہ۔ اس حدیث کا تعلق مسئلہ تقدیر سے ہے اس کی مکمل وضاحت کے لئے ہماری کتاب " الطریق الاسلم الی شرح مسندالامام اعظم " کا مطالعہ کیجئے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عُمَرَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا نَعْمَلُ فِيهِ أَمْرٌ مُبْتَدَعٌ أَوْ مُبْتَدَأٌ أَوْ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ قَالَ أَمْرٌ قَدْ فُرِغَ مِنْهُ فَاعْمَلْ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ فَإِنَّ كُلًّا مُيَسَّرٌ فَأَمَّا مَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ السَّعَادَةِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلسَّعَادَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّقَاءِ فَإِنَّهُ يَعْمَلُ لِلشَّقَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২২৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) مروی سے ہے کہ ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২২৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے جب " صبح " ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو کسی نے حضرت ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ دو دو کا کیا مطلب ہے ؟ انہوں نے فرمایا یہ کہ ہر دو رکعتوں پر سلام پھیر دو ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ حُرَيْثٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا رَأَيْتَ أَنَّ الصُّبْحَ يُدْرِكُكَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ قَالَ فَقِيلَ لِابْنِ عُمَرَ مَا مَثْنَى مَثْنَى قَالَ تُسَلِّمُ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২২৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بعض اوقات مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے انگوٹھا بند کرلیا اور بعض اوقات اتنا اتنا اور اتنا ہوتا ہے یعنی پورے ٣٠ کا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ وَطَبَّقَ شُعْبَةُ يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَكَسَرَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ قَالَ عُقْبَةُ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَالشَّهْرُ ثَلَاثُونَ وَطَبَّقَ كَفَّيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২২৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا شب قدر کو آخری عشرے میں تلاش کیا کرو اگر اس سے عاجز آجاؤ یا کمزور ہوجاؤ تو آخری سات راتوں پر مغلوب نہ ہونا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ حُرَيْثٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ عَجَزَ فَلَا يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২২৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ثابت بنانی (رح) کہتے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ کیا مٹکے کی نبیذ سے ممانعت کی گئی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ان کا یہی کہنا ہے میں نے پوچھا کن کا کہنا ہے ؟ نبی کریم ﷺ کا انہوں نے فرمایا ان کا یہی کہنا ہے میں نے دوبارہ یہی سوال پوچھا اور انہوں نے یہی جواب دیا بس اللہ نے مجھے اس دن ان سے بچا لیا کیونکہ جب ان سے کوئی شخص یہ پوچھتا کہ واقعی آپ نے یہ بات نبی کریم ﷺ سے سنی ہے تو وہ غصے میں آجاتے تھے اور اس شخص کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ثَابِتٍ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ أَهَلْ نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ زَعَمُوا ذَلِكَ فَقُلْتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى فَقَالَ قَدْ زَعَمُوا ذَلِكَ فَقُلْتُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ فَقَالَ قَدْ زَعَمُوا ذَلِكَ فَصَرَفَهُ اللَّهُ عَنِّي وَكَانَ إِذَا قِيلَ لِأَحَدٍ أَنْتَ سَمِعْتَهُ غَضِبَ وَهَمَّ يُخَاصِمُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ایسے درخت کو فروخت کرے جس میں کھجوروں کی پیوندکاری کی گئی ہو تو اس کا پھل بائع (بچنے والا) کی ملیکت میں ہوگا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) خریدتے وقت اس کی بھی شرط لگادے (کہ میں یہ درخت پھل سمیت خرید رہا ہوں )
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ يَعْنِي السَّخْتِيَانِيَّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِرَبِّهَا الْأَوَّلِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کر کے آئے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَلْيَغْتَسِلْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بیوی کو " ایام " کی حالت میں طلاق دے دی حضرت عمر فاروق (رض) نے نبی کریم ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا اسے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کرلے، جب وہ " پاک " ہوجائے تو ان ایام طہارت میں اسے طلاق دے دے۔ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے پوچھا کیا اس طلاق کو شمار کیا تھا انہوں نے فرمایا تو اور کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ قَالَ طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا ثُمَّ إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ أَحَسِبَ تِلْكَ التَّطْلِيقَةَ قَالَ فَمَهْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
انس بن سیرین (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے ایک مرتبہ پوچھا کہ کیا میں فجر کی سنتوں میں کون سی سورت پڑھا کروں انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے میں نے عرض کیا کہ میں آپ سے فجر کی سنتوں کے بارے میں پوچھ رہا ہوں انہوں نے فرمایا تم بڑی موٹی عقل کے آدمی ہو دیکھ نہیں رہے کہ میں ابھی بات کا آغاز کر رہا ہوں نبی کریم ﷺ رات کی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے اور جب طلوع صبح صادق کا اندیشہ ہوتا تو ایک رکعت ملا کر وتر پڑھ لیتے پھر سر رکھ کر لیٹ جاتے پھر اٹھ کر فجر کی سنتیں اس وقت پڑھتے جب اذان کی آواز کانوں میں آرہی ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ مَا أَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَيُوتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ قَالَ أَنَسٌ قُلْتُ فَإِنَّمَا أَسْأَلُكَ مَا أَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الصُّبْحِ فَقَالَ بَهْ بَهْ إِنَّكَ لَضَخْمٌ إِنَّمَا أُحَدِّثُ أَوْ قَالَ إِنَّمَا أَقْتَصُّ لَكَ الْحَدِيثَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِاللَّيْلِ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ثُمَّ يَقُومُ كَأَنَّ الْأَذَانَ أَوْ الْإِقَامَةَ فِي أُذُنَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی ایسے درخت کو فروخت کرے جس میں کھجوروں کی پیوند کاری کی گئی ہو تو اس کا پھل بائع (بچنے والا) کی ملیکت میں ہوگا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) خریدتے وقت اس کی بھی شرط لگادے (کہ میں یہ درخت پھل سمیت خرید رہا ہوں) اور جو شخص کسی مالدار غلام کو بیچے تو اس کا مالک اس کے پہلے آقا کا ہوگا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) اس کی شرط لگادے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ عَبْدَ رَبِّهِ بْنَ سَعِيدٍ يُحَدِّثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْأَوَّلِ وَأَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ مَمْلُوكًا وَلَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِرَبِّهِ الْأَوَّلِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ قَالَ شُعْبَةُ فَحَدَّثْتُهُ بِحَدِيثِ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّهُ حَدَّثَ بِالنَّخْلِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَمْلُوكِ عَنْ عُمَرَ قَالَ عَبْدُ رَبِّهِ لَا أَعْلَمُهُمَا جَمِيعًا إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ مَرَّةً أُخْرَى فَحَدَّثَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَشُكَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৩৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل مدینہ کے لئے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل یمن کے لئے یلملم اور اہل نجد کے لئے قرن اور اہل عراق کے لئے ذات عرق کو میقات فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ صَدَقَةَ بْنَ يَسَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ وَقَّتَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنًا وَلِأَهْلِ الْعِرَاقِ ذَاتَ عِرْقٍ وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ
tahqiq

তাহকীক: