আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৫২৭৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص تکبر کی وجہ سے اپنے کپڑے گھسیٹتا ہوا چلتا ہے (کپڑے زمین پر گھستے جاتے ہیں) اللہ قیامت کے دن اس پر نظررحم نہ فرمائے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَبَلَةَ بْنِ سُحَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ جَرَّ ثَوْبًا مِنْ ثِيَابِهِ مَخِيلَةً فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৭৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بعض اوقات مہینہ اتنا، اتنا اور اتنا ہوتا ہے تیسری مرتبہ آپ ﷺ نے انگوٹھا بند کرلیا یعنی ٢٩ کا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ جَبَلَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ هَكَذَا وَطَبَّقَ أَصَابِعَهُ مَرَّتَيْنِ وَكَسَرَ فِي الثَّالِثَةِ الْإِبْهَامَ يَعْنِي قَوْلَهُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৭৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے وتر کے متعلق پوچھا اس وقت میں اور وہ آدمی چل رہے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور وتر ایک رکعت پر۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي بِشْرٍ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَقِيقٍ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوَتْرِ قَالَ فَمَشَيْتُ أَنَا وَذَاكَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوَتْرُ رَكْعَةٌ قَالَ شُعْبَةُ لَمْ يَقُلْ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৭৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حکم کہتے ہیں کہ مزدلفہ میں ہمیں حضرت سعید بن جبیر (رح) نے مغرب کی نماز تین رکعتوں میں اقامت کی طرح پڑھائی پھر سلام پھیر کر عشاء کی دو رکعتیں حالت سفر کی وجہ سے پڑھائی اور پھر فرمایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے بھی ہمارے ساتھ اس جگہ اس طرح کیا تھا اور فرمایا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے بھی ہمارے ساتھ اس جگہ اسی طرح کیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ أَنَّهُ شَهِدَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَقَامَ بِجَمْعٍ قَالَ وَأَحْسِبُهُ وَأَذَّنَ فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثَلَاثًا ثُمَّ سَلَّمَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ صَنَعَ بِنَا ابْنُ عُمَرَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ هَذَا وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ صَنَعَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَكَانِ مِثْلَ هَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) بحوالہ حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے ایک مرتبہ بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ میں نے مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کرنے کی منت مانی تھی نبی کریم ﷺ نے اس منت کو پورا کرنے کا حکم دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ كَانَ قَدْ جَعَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا يَعْتَكِفُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَعْتَكِفَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص پیوند کاری کئے ہوئے کھجوروں کے درخت بیچتا ہے تو اس کا پھل بھی بائع (بچنے والا) کا ہوگا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگادے اور جو شخص کسی مالدار غلام کو بیچے تو اس کا سارا مال بائع (بچنے والا) کا ہوگا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط نہ لگادے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ وَمَنْ بَاعَ عَبْدًا لَهُ مَالٌ فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ محرم پانچ قسم کے جانوروں کو مار سکتا ہے بچھو چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے کو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطُّفَاوِيُّ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ الْمُحْرِمُ خَمْسًا الْحُدَيَّا وَالْغُرَابَ وَالْفَأْرَةَ وَالْعَقْرَبَ وَالْكَلْبَ الْعَقُورَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل مدینہ کے ذوالحلیفہ، اہل شام کے لئے جحفہ اور اہل نجد کے لئے قرن کو میقات فرمایا ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اہل یمن کے لئے یلملم کو میقات مقرر فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مُهَلُّ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ وَمُهَلُّ أَهْلِ الشَّأْمِ مِنْ الْجُحْفَةِ وَمُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ قَرْنٌ فَقَالَ النَّاسُ مُهَلُّ أَهْلِ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کا ہاتھ ایک ڈھال " جس کی قیمت تین درہم تھی " چوری کرنے کی وجہ سے کاٹ دیا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ ثَلَاثَةُ دَرَاهِمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ایوب بن سلیمان کہتے ہیں کہ ہم لوگ مکہ مکرمہ میں عطاء خراسانی (رح) کے پاس مسجد کی ایک دیوار کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ہم ان سے کچھ پوچھتے تھے اور نہ ہی وہ ہم سے کچھ بیان کرتے تھے پھر ہم حضرت ابن عمر (رض) کے پاس بھی اسی طرح بیٹھے رہے کہ ہم ان سے کچھ پوچھتے تھے اور نہ ہی وہ ہم سے کچھ بیان کرتے تھے بالآخر حضرت ابن عمر (رض) کہنے لگے کیا بات ہے تم لوگ کچھ بولتے کیوں نہیں ؟ اور اللہ کا ذکر کیوں نہیں کرتے ؟ اللہ اکبر، الحمدللہ اور سبحان اللہ وبحمدہ کہو ایک کے بدلے میں دس اور دس کے بدلے میں سونیکیاں عطاء ہوں گی اور جو جتنا اس تعداد میں اضافہ کرتاجائے گا اللہ اس کی نیکیوں میں اتناہی اضافہ کرتاجائے گا اور جو شخص سکوت اختیار کرلے اللہ اس کی بخشش فرمائے گا کیا میں تمہیں پانچ باتیں نہ بتاؤں جو میں نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہیں ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں فرمایا جس شخص کی سفارش اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں میں سے کسی ایک میں حائل ہوگئی تو گویا اس نے اللہ کے معاملہ اللہ کے ساتھ ضد کی جو شخص کسی ناحق مقدمے میں کسی کی اعانت کرے وہ اللہ ناراضگی کے سائے تلے رہے گا جب تک کہ اسے چھوڑ نہ دے جو شخص کسی مومن مرد و عورت کی پیٹھ پیچھے اس کی برائی کرتا ہے اللہ اسے اہل جہنم کی پیپ کے مقام پر روک لے گا جو شخص مقروض ہو کر مرے تو اس کی نیکیاں اس سے لے کر قرض خواہ کودے دی جائیں گی کیونکہ قیامت میں کوئی درہم و دینار نہ ہوگا اور فجر کی دو سنتوں کا خوب اہتمام کیا کرو کیونکہ یہ دو رکعتیں بڑے فضائل کی حامل ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَتَشٍ أَخْبَرَنِي النُّعْمَانُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ سَلْمَانَ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ صَنْعَاءَ قَالَ كُنَّا بِمَكَّةَ فَجَلَسْنَا إِلَى عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ إِلَى جَنْبِ جِدَارِ الْمَسْجِدِ فَلَمْ نَسْأَلْهُ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا قَالَ ثُمَّ جَلَسْنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ مِثْلَ مَجْلِسِكُمْ هَذَا فَلَمْ نَسْأَلْهُ وَلَمْ يُحَدِّثْنَا قَالَ فَقَالَ مَا بَالُكُمْ لَا تَتَكَلَّمُونَ وَلَا تَذْكُرُونَ اللَّهَ قُولُوا اللَّهُ أَكْبَرُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ بِوَاحِدَةٍ عَشْرًا وَبِعَشْرٍ مِائَةً مَنْ زَادَ زَادَهُ اللَّهُ وَمَنْ سَكَتَ غَفَرَ لَهُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَمْسٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا بَلَى قَالَ مَنْ حَالَتْ شَفَاعَتُهُ دُونَ حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ فَهُوَ مُضَادُّ اللَّهِ فِي أَمْرِهِ وَمَنْ أَعَانَ عَلَى خُصُومَةٍ بِغَيْرِ حَقٍّ فَهُوَ مُسْتَظِلٌّ فِي سَخَطِ اللَّهِ حَتَّى يَتْرُكَ وَمَنْ قَفَا مُؤْمِنًا أَوْ مُؤْمِنَةً حَبَسَهُ اللَّهُ فِي رَدْغَةِ الْخَبَالِ عُصَارَةِ أَهْلِ النَّارِ وَمَنْ مَاتَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ أُخِذَ لِصَاحِبِهِ مِنْ حَسَنَاتِهِ لَا دِينَارَ ثَمَّ وَلَا دِرْهَمَ وَرَكْعَتَا الْفَجْرِ حَافِظُوا عَلَيْهِمَا فَإِنَّهُمَا مِنْ الْفَضَائِلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) سے ملاقات کے ارادے سے نکلے راستے میں بنو تمیم کے ایک آدمی " عطارد " کے پاس سے ان کا گذر ہوا جو ایک ریشمی جوڑا فروخت کر رہا تھا وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آ کر کہنے لگے یا رسول اللہ ! میں نے عطارد کو ایک ریشمی جوڑا فروخت کرتے ہوئے دیکھا ہے اگر آپ اسے خرید لیتے تو وفود کے سامنے پہن لیا کرتے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَتَشٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ خَرَجَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى عَلَى عُطَارِدٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ وَهُوَ يُقِيمُ حُلَّةً مِنْ حَرِيرٍ يَبِيعُهَا فَأَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ عُطَارِدًا يَبِيعُ حُلَّتَهُ فَاشْتَرِيهَا تَلْبَسْهَا إِذَا أَتَاكَ وُفُودُ النَّاسِ فَقَالَ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ابوجعفر محمد بن علی (رح) کہتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر (رض) جب کوئی بات نبی کریم ﷺ سے سن لیتے یا کسی موقع پر موجود ہوتے تو اس میں (بیان کرتے ہوئے کمی بیشی بالکل نہیں کرتے تھے کہ ایک مرتبہ عبید بن عمیر (رض) کہہ رہے تھے حضرت ابن عمر (رض) بھی وہاں تشریف فرما تھے عبید بن عمیر کہنے لگے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا منافق کی مثال اس بکری کی سی ہے جو ریوڑوں کے درمیان ہو اس ریوڑ کے پاس جائے تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں اور اس ریوڑ کے پاس جائے تو وہاں کی بکریاں اسے سینگ مار مار کر بھگا دیں حضرت عمر (رض) کہنے لگے کہ یہ حدیث اس طرح نہیں ہے اس پر عبید بن عمر کو ناگواری ہوئی اس مجلس میں عبداللہ بن صفوان بھی تھے وہ کہنے لگے کہ اے ابو عبدالرحمن آپ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں نبی کریم ﷺ نے کس طرح فرمایا تھا حضرت ابن عمر (رض) نے مذکورہ حدیث دوبارہ سنا دی اور اس میں " ربیضین " کے بجائے " غنمین " کا لفظ استعمال کیا تو عبداللہ نے کہا کہ اللہ آپ پر رحم فرمائے اس دونوں کا مطلب تو ایک ہی ہے حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اسی طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ يَقُولُ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِذَا سَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا أَوْ شَهِدَ مَعَهُ مَشْهَدًا لَمْ يُقَصِّرْ دُونَهُ أَوْ يَعْدُوهُ قَالَ فَبَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ يَقُصُّ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ إِذْ قَالَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ إِنْ أَقْبَلَتْ إِلَى هَذِهِ الْغَنَمِ نَطَحَتْهَا وَإِنْ أَقْبَلَتْ إِلَى هَذِهِ نَطَحَتْهَا فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَيْسَ هَكَذَا فَغَضِبَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ وَفِي الْمَجْلِسِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَفْوَانَ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَيْفَ قَالَ رَحِمَكَ اللَّهُ فَقَالَ قَالَ مَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الشَّاةِ بَيْنَ الرَّبِيضَيْنِ إِنْ أَقْبَلَتْ إِلَى ذَا الرَّبِيضِ نَطَحَتْهَا وَإِنْ أَقْبَلَتْ إِلَى ذَا الرَّبِيضِ نَطَحَتْهَا فَقَالَ لَهُ رَحِمَكَ اللَّهُ هُمَا وَاحِدٌ قَالَ كَذَا سَمِعْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سماک حنفی (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) کو یہ کہتے ہوئے کہ نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی ہے لیکن ابھی تم ایک ایسے شخص کے پاس جاؤ گے اور ان کی باتیں سنو گے جو اس کی نفی کریں گے مراد حضرت ابن عباس (رض) تھے جو قریب ہی بیٹھے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْبَيْتِ وَسَيَأْتِي مَنْ يَنْهَاكُمْ عَنْهُ فَتَسْمَعُونَ مِنْهُ قَالَ يَعْنِي ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ جَالِسًا قَرِيبًا مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৮৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے " قزع " سے منع فرمایا ہے " قزع " کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوا لئے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں (جیسا کہ آج کل فیشن ہے)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْقَزَعِ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ وَهُوَ الرُّقْعَةُ فِي الرَّأْسِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৯০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مغرب کی نماز دن کا وتر ہیں سو تم رات کا وتر بھی ادا کیا کرو اور رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور وتر کی رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَارُونُ الْأَهْوَازِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلَاةُ الْمَغْرِبِ وِتْرُ صَلَاةِ النَّهَارِ فَأَوْتِرُوا صَلَاةَ اللَّيْلِ وَصَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوَتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৯১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے " قزع " سے منع فرمایا ہے " قزع " کا مطلب یہ ہے کہ بچے کے بال کٹواتے وقت کچھ بال کٹوالیے جائیں اور کچھ چھوڑ دئیے جائیں (جیسا کہ آج کل فیشن ہے)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْقَزَعِ فِي الرَّأْسِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৯২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
زید بن اسلم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ عبداللہ بن مطیع کے یہاں گیا، اس نے حضرت ابن عمر (رض) کو خوش آمدید کہا اور لوگوں کو حکم دیا کہ انہیں تکیہ پیش کرو، حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ میں آپ کو ایک حدیث سنانے آیا ہوں جو میں نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہے میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص صحیح حکمران وقت سے ہاتھ کھینچتا ہے قیامت کے دن اس کی کوئی حجت قبول نہ ہوگی اور جو شخص " جماعت " کو چھوڑ کر مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ فَقَالَ مَرْحَبًا بِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ضَعُوا لَهُ وِسَادَةً فَقَالَ إِنَّمَا جِئْتُكَ لِأُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ نَزَعَ يَدًا مَنْ طَاعَةِ اللَّهِ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا حُجَّةَ لَهُ وَمَنْ مَاتَ وَهُوَ مَفَارِقٌ لِلْجَمَاعَةِ فَإِنَّهُ يَمُوتُ مِيتَةً جَاهِلِيَّةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৯৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
ثمامہ بن شراجیل (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے ان سے مسافر کی نماز کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ اس کی دو دو رکعتیں ہیں سوائے مغرب کے کہ اس کی تین ہی رکعتیں ہیں میں نے پوچھا اگر ہم " ذی المجاز " میں ہوں تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے پوچھا " ذوالمجاز " کس چیز کا نام ہے ؟ میں نے کہا کہ ایک جگہ کا نام ہے جہاں ہم لوگ اکٹھے ہوتے ہیں خریدو فروخت کرتے ہیں اور بیس پچیس دن وہاں گذارتے ہیں حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اے شخص میں آذر بائجان میں تھا وہاں چار یا دو ماہ رہا (یہ یاد نہیں) میں نے صحابہ (رض) کو وہاں دو دو رکعتیں ہی پڑھتے ہوئے دیکھا پھر میں نے اپنی آنکھوں سے نبی کریم ﷺ کو دوران سفر دو دو رکعتیں پڑھتے ہوئے دیکھا ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی کہ " تمہارے لئے پیغمبر اللہ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔ "
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ بْنُ شَرَاحِيلَ قَالَ خَرَجْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقُلْنَا مَا صَلَاةُ الْمُسَافِرِ فَقَالَ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثًا قُلْتُ أَرَأَيْتَ إِنْ كُنَّا بِذِي الْمَجَازِ قَالَ وَمَا ذُو الْمَجَازِ قُلْتُ مَكَانًا نَجْتَمِعُ فِيهِ وَنَبِيعُ فِيهِ وَنَمْكُثُ عِشْرِينَ لَيْلَةً أَوْ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً قَالَ يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ كُنْتُ بِأَذْرَبِيجَانَ لَا أَدْرِي قَالَ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ أَوْ شَهْرَيْنِ فَرَأَيْتُهُمْ يُصَلُّونَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ وَرَأَيْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُصْبَ عَيْنِي يُصَلِّيهِمَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ نَزَعَ هَذِهِ الْآيَةَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ حَتَّى فَرَغَ مِنْ الْآيَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৯৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے ایک مرتبہ خواب میں خانہ کعبہ کے قریب مقام ابراہیم کے پاس گندمی رنگ اور سیدھے بالوں والے ایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنا ہاتھ دو آدمیوں پر رکھا ہوا تھا اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ پتہ چلا کہ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں پھر ان کے پیچھے میں نے سرخ رنگ کے گھنگھریالے بالوں والے دائیں آنکھ سے کانے اور میری دید کے مطابق ابن قطن سے انتہائی مشابہہ شخص کو دیکھا میں نے پوچھا یہ کون ہے۔ ؟ تو پتہ چلا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ سَمِعْتُ سالِمًا يَقُولُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُهُ عِنْدَ الْكَعْبَةِ مِمَّا يَلِي الْمَقَامَ رَجُلٌ آدَمُ سَبْطُ الرَّأْسِ وَاضِعًا يَدَهُ عَلَى رَجُلَيْنِ يَسْكُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ لَا أَدْرِي أَيَّ ذَلِكَ قَالَ ثُمَّ رَأَيْتُ وَرَاءَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ جَعْدَ الرَّأْسِ أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَى أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ مِنْهُ ابْنُ قَطَنٍ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫২৯৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایک مرتبہ خواب میں میرے پاس دودھ کا ایک پیالہ لایا گیا میں نے اسے اتنا پیا کہ میرے ناخنوں سے دودھ نکلنے لگا پھر میں نے اپنا پس خوردہ حضرت عمر (رض) کودے دیا کسی نے پوچھا یا رسول اللہ آپ نے اس کی کیا تعبیر لی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا علم۔
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي سَمِعْتُ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أُتِيتُ وَأَنَا نَائِمٌ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ فَشَرِبْتُ مِنْهُ حَتَّى جَعَلَ اللَّبَنُ يَخْرُجُ مِنْ أَظْفَارِي ثُمَّ نَاوَلْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا أَوَّلْتَهُ قَالَ الْعِلْمُ
tahqiq

তাহকীক: