আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৯১ টি
হাদীস নং: ৫৬৯৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) نے جناب رسول اللہ ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ! اگر میں رات کو ناپاک ہوجاؤں اور غسل کرنے سے پہلے سونا چاہوں تو کیا کروں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا شرمگاہ دھو کر نماز والا وضو کر کے سو جاؤ۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ مِنْ اللَّيْلِ فَأَمَرَهُ أَنْ يَغْسِلَ ذَكَرَهُ وَيَتَوَضَّأَ وَيَرْقُدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৯৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈابلند کیا جائے گا جس سے وہ پہچانا جائے گا۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْرَفُ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৯৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قبیلہ اسلم، اللہ اسے سلامت رکھے، قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش کرے اور عصیہ " نے اللہ اور اس کے رسول اللہ کی نافرمانی کی۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَعُصَيَّةُ الَّذِينَ عَصَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৬৯৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے یہ بات ذکر کی کہ لوگ مجھے بیع میں دھوکہ دے دیتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم یوں کہہ لیا کرو کہ اس بیع میں کوئی دھوکہ نہیں ہے چناچہ وہ آدمی یہ کہنے لگا تھا۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ فَقَالَ إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لَا خِلَابَةَ فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُولُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سونے کی انگوٹھی بنوائی لوگوں نے بھی سونے کی انگوٹھیاں بنوالیں ایک دن نبی کریم ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا میں یہ انگوٹھی پہنتا تھا پھر نبی کریم ﷺ نے اسے پھینک دیا اور لوگوں نے بھی اپنی انگوٹھیاں پھینک دیں۔
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ اتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَاتَّخَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي اتَّخَذْتُ خَاتَمًا مِنْ ذَهَبٍ فَنَبَذْتُهُ وَقَالَ إِنِّي لَسْتُ أَلْبَسُهُ أَبَدًا فَنَبَذَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جس نے نماز میں اپنا ہاتھ گرا رکھا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس طرح مت بیٹھو یہ عذاب یافتہ لوگوں کے بیٹھنے کا طریقہ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا سَاقِطًا يَدَهُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ لَا تَجْلِسْ هَكَذَا إِنَّمَا هَذِهِ جِلْسَةُ الَّذِينَ يُعَذَّبُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے جو شخص " چاول ناپنے والے " کی طرح بننے کی استطاعت رکھتا ہو وہ ویسا بن جائے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! چاول ناپنے والے سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تین آدمی سفر پر روانہ ہوئے، راستے میں آسمان پر ابر چھا گیا ( اور بارش ہوگئی) یہ لوگ (بارش سے بچنے کے لئے) ایک غار میں داخل ہوگئے اسی اثنا میں پہاڑ کے اوپر ایک چٹان نیچے گری اور غار کا دہانہ بند ہوگیا انہوں نے اس چٹان کو ہٹانے کی بہت کوشش کی لیکن وہ اسے ہٹا نہ سکے، تھک ہار کر ان میں سے ایک نے دوسروں سے کہا کہ اب تو تم لوگ ایک بہت بڑی مصیبت میں پھنس گئے ہو۔ اس سے نجات کی صورت یہی ہے کہ ہر شخص اپنے سب سے بہترین عمل کے وسیلے سے دعاء کرے ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس مصیبت سے نجات عطاء فرمادے۔ چناچہ ان میں سے ایک بولا کہ اے اللہ ! آپ جانتے ہیں کہ میرے والدین بہت زیادہ بوڑھے ہوچکے تھے میری عادت تھی کہ میں دودھ دوہ کر سب سے پہلے انہیں پلاتا تھا ایک دن میں جب اپنے گھر آیا تو وہ دونوں سوچکے تھے میں نے دودھ کا برتن ہاتھ میں پکڑے پکڑے ساری رات کھڑے ہو کر گذاردی، میں نے ان سے کسی کو دودھ دینا یا انہیں جگانا گوارا نہ کیا میرے بچے آس پاس ایڑیاں رگڑ رہے تھے اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام صرف تیرے خوف سے کیا تھا تو ہم پر " کشادگی " فرما، اس پر وہ چٹان ذرا سی سرک گئی۔ دوسرا بولا کہ اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میری ایک چچازاد بہن تھی پوری مخلوق میں مجھے اس سے زیادہ کسی سے محبت نہ تھی، میں نے اس سے اپنے آپ کو " حوالے " کرنے کے لئے کہا تو وہ کہنے لگی بخدا ! سو دینار کے بغیر نہیں، میں نے سو دینار جمع کئے اور اس کے حوالے کردیئے، جب میں اس کے پاس جا کر اس طرح بیٹھا جیسے مرد بیٹھتا ہے تو وہ کہنے لگی کہ اللہ سے ڈر اور مہر کو ناحق نہ توڑ، میں یہ سنتے ہی اس وقت کھڑا ہوگیا، اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل صرف تیرے خوف کی وجہ سے کیا تھا تو ہم پر کشادگی فرما، اس پر وہ چٹان تھوڑی سی مزید سرک گئی اور آسمان نظر آنے لگا۔ تیسرابولا اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے چاولوں کے ایک فرق (وزن) کے عوض ایک مزدور سے مزدوری کروائی تھی، جب شام ہوئی تو میں نے اسے اس کا حق دینا چاہا لیکن اس نے وہ لینے سے انکار کردیا اور مجھے چھوڑ کر چلا گیا، میں نے اس کی مزدوری کو الگ کرکے رکھ لیا، اسے بڑھاتارہا اور اس کی دیکھ بھال کرتا رہا، یہاں تک کہ میں نے اس سے ایک گائے اور اس کا چرواہاخرید لیا، کچھ عرصے بعد وہ مزدور مجھے ملا اور کہنے لگا کہ اللہ سے ڈر اور میری مزدوری مجھے دے دے اور مجھ پر ظلم نہ کر، میں نے اس سے کہا کہ وہ گائے اور اس کا چرواہا اپنے ساتھ لے جا، وہ کہنے لگا کہ اللہ سے ڈر اور میرے ساتھ مذاق نہ کر، میں نے اس سے کہا کہ میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کررہا، چناچہ وہ گیا اور اپنے ساتھ اسے ہانکتا ہوا لے کر چل پڑا، اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ کام صرف تیری رضاء حاصل کرنے کے لئے اور تیرے خوف کی وجہ سے کیا ہے تو ہم پر کشادگی فرما، اس پر وہ چٹان لڑھک کر دوسری طرف چلی گئی اور وہ اس غار سے نکل کر باہر چلنے لگے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ الْعُمَرِيُّ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ مِثْلَ صَاحِبِ فَرَقِ الْأَرُزِّ فَلْيَكُنْ مِثْلَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا صَاحِبُ فَرَقِ الْأَرُزِّ قَالَ خَرَجَ ثَلَاثَةٌ فَغَيَّمَتْ عَلَيْهِمْ السَّمَاءُ فَدَخَلُوا غَارًا فَجَاءَتْ صَخْرَةٌ مِنْ أَعْلَى الْجَبَلِ حَتَّى طَبَّقَتْ الْبَابَ عَلَيْهِمْ فَعَالَجُوهَا فَلَمْ يَسْتَطِيعُوهَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ لَقَدْ وَقَعْتُمْ فِي أَمْرٍ عَظِيمٍ فَلْيَدْعُ كُلُّ رَجُلٍ بِأَحْسَنِ مَا عَمِلَ لَعَلَّ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يُنْجِيَنَا مِنْ هَذَا فَقَالَ أَحَدُهُمْ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَكُنْتُ أَحْلُبُ حِلَابَهُمَا فَأَجِيئُهُمَا وَقَدْ نَامَا فَكُنْتُ أَبِيتُ قَائِمًا وَحِلَابُهُمَا عَلَى يَدِي أَكْرَهُ أَنْ أَبْدَأَ بِأَحَدٍ قَبْلَهُمَا أَوْ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا وَصِبْيَتِي يَتَضَاغَوْنَ حَوْلِي فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُهُ مِنْ خَشْيَتِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ فَتَحَرَّكَتْ الصَّخْرَةُ قَالَ وَقَالَ الثَّانِي اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ كَانَتْ لِي ابْنَةُ عَمٍّ لَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِمَّا خَلَقْتَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهَا فَسُمْتُهَا نَفْسَهَا فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ دُونَ مِائَةِ دِينَارٍ فَجَمَعْتُهَا وَدَفَعْتُهَا إِلَيْهَا حَتَّى إِذَا جَلَسْتُ مِنْهَا مَجْلِسَ الرَّجُلِ فَقَالَتْ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفُضَّ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ فَقُمْتُ عَنْهَا فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّمَا فَعَلْتُهُ مِنْ خَشْيَتِكَ فَافْرُجْ عَنَّا قَالَ فَزَالَتْ الصَّخْرَةُ حَتَّى بَدَتْ السَّمَاءُ وَقَالَ الثَّالِثُ اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقٍ مِنْ أَرُزٍّ فَلَمَّا أَمْسَى عَرَضْتُ عَلَيْهِ حَقَّهُ فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهُ وَذَهَبَ وَتَرَكَنِي فَتَحَرَّجْتُ مِنْهُ وَثَمَّرْتُهُ لَهُ وَأَصْلَحْتُهُ حَتَّى اشْتَرَيْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا فَلَقِيَنِي بَعْدَ حِينٍ فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَأَعْطِنِي أَجْرِي وَلَا تَظْلِمْنِي فَقُلْتُ انْطَلِقْ إِلَى ذَلِكَ الْبَقَرِ وَرَاعِيهَا فَخُذْهَا فَقَالَ اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَسْخَرْ بِي فَقُلْتُ إِنِّي لَسْتُ أَسْخَرُ بِكَ فَانْطَلَقَ فَاسْتَاقَ ذَلِكَ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي إِنَّمَا فَعَلْتُهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِكَ خَشْيَةً مِنْكَ فَافْرُجْ عَنَّا فَتَدَحْرَجَتْ الصَّخْرَةُ فَخَرَجُوا يَمْشُونَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ حَدَّثَنَا نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ رَهْطٍ يَتَمَاشَوْنَ أَخَذَهُمْ الْمَطَرُ فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ فَبَيْنَمَا هُمْ فِيهِ حَطَّتْ صَخْرَةٌ مِنْ الْجَبَلِ فَأَطْبَقَتْ عَلَيْهِمْ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَ مَعْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ کتوں کو مارنے کے لئے چند لوگوں کو بھیجا جن میں میں بھی شامل تھا ہم لوگ کتے مارنے لگے حتی کہ ایک عورت دیہات سے آئی ہوئی تھی ہم نے اس کا کتا بھی ماردیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ سَمِعْتُ نَافِعًا يَقُولُ قَالَ ابْنُ عُمَرَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَتْلِ الْكِلَابِ فَكُنْتُ فِيمَنْ بَعَثَ فَقَتَلْنَا الْكِلَابَ حَتَّى وَجَدْنَا امْرَأَةً قَدِمَتْ مِنْ الْبَادِيَةِ فَقَتَلْنَا كَلْبًا لَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے خواب میں کالی کلوٹی بکھرے بالوں والی ایک عورت کو مدینہ منورہ سے نکلتے ہوئے دیکھا جو میعہ یعنی جحفہ میں جا کر کھڑی ہوگئی، نبی کریم ﷺ نے اس کی تعبیریہ لی کہ مدینہ منورہ کی وبائیں اور آفات جحفہ منتقل ہوگئی ہیں۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ رُؤْيَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَبَاءِ الْمَدِينَةِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنْ الْمَدِينَةِ حَتَّى أَقَامَتْ بِمَهْيَعَةَ وَهِيَ الْجُحْفَةُ فَأَوَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ نُقِلَ إِلَى الْجُحْفَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پروردگار عالم کا یہ ارشادنقل فرمایا ہے میرا جو بندہ بھی صرف میری رضاء حاصل کرنے کے لئے میرے راستے میں جہاد کے لئے نکلتا ہے میں اس کے لئے اس بات کی ضمانت دیتا ہوں کہ یا تو اسے اجر وثواب اور مال غنیمت کے ساتھ واپس لوٹاؤں گا، یا پھر اس کی روح قبض کرکے اس کی بخشش کردوں گا، اس پر رحم فرماؤں گا اور اسے جنت میں داخل کردوں گا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ يُونُسَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ أَيُّمَا عَبْدٍ مِنْ عِبَادِي خَرَجَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِي ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِي ضَمِنْتُ لَهُ أَنْ أُرْجِعَهُ بِمَا أَصَابَ مِنْ أَجْرٍ وَغَنِيمَةٍ وَإِنْ قَبَضْتُهُ أَنْ أَغْفِرَ لَهُ وَأَرْحَمَهُ وَأُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے دس رکعتیں محفوظ کی ہیں ظہر کی نماز سے قبل دو رکعتیں اور اس کے بعد دو رکعتیں نیز مغرب کے بعد دو رکعتیں اور عشاء کے بعد بھی دو رکعتیں اور دو رکعتیں نماز فجر سے پہلے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ حَفِظْتُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ صَلَوَاتٍ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس سوتے وقت بھی مسواک ہوتی تھی اور جب آپ ﷺ بیدار ہوتے تو سب سے پہلے مسواک کرتے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ مِهْرَانَ مَوْلًى لِقُرَيْشٍ سَمِعْتُ جَدِّي يُحَدِّثُ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَنَامُ إِلَّا وَالسِّوَاكُ عِنْدَهُ فَإِذَا اسْتَيْقَظَ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے جو نماز عصر سے پہلے رکعتیں پڑھ لے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ مِهْرَانَ أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً صَلَّى قَبْلَ الْعَصْرِ أَرْبَعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭০৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سعید بن عمرو (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے پاس پہنچا تو وہ ایک حدیث بیان کرچکے تھے، میں نے لوگوں سے وہ حدیث پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قبیلہ غفار اللہ اس کی بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم اللہ اسے سلامت رکھے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ انْتَهَيْتُ إِلَى ابْنِ عُمَرَ وَقَدْ حَدَّثَ الْحَدِيثَ فَقُلْتُ مَا حَدَّثَ فَقَالُوا قَالَ حَدَّثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عبدالواحدبنانی رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ تھا ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہنے لگا اے ابوعبدالرحمن ! میں یہ باغات خرید رہا ہوں، ان میں انگور بھی ہوں گے، ہم صرف انگوروں کو ہی نہیں بیچ سکتے جب تک اسے نچوڑنہ لیں ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا گویا تم مجھ سے شراب کی قیمت کے بارے پوچھ رہے ہو، میں تمہارے سامنے ایک حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے نبی کریم ﷺ سے سنی ہے، ہم لوگ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک آپ ﷺ نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا پھر اسے جھکا کر زمین کو کریدنے لگے اور فرمایا بنی اسرائیل کے لئے ہلاکت ہے، حضرت عمر (رض) کہنے لگے اے اللہ کے نبی ! ہم تو بنی اسرائیل کے متعلق آپ کی یہ بات سن کر گھبرائے گئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہیں اس کا نقصان نہیں ہوگا، اصل بات یہ ہے کہ جب بنی اسرائیل پر چربی کو حرام قرار دیا گیا تو انہوں نے اتفاق رائے سے اسے بیچ کر اس کی قیمت کھانا شروع کردی، اسی طرح شراب کی قیمت بھی تم پر حرام ہے۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْبُنَانِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فَجَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنِّي أَشْتَرِي هَذِهِ الْحِيطَانَ تَكُونُ فِيهَا الْأَعْنَابُ فَلَا نَسْتَطِيعُ أَنْ نَبِيعَهَا كُلَّهَا عِنَبًا حَتَّى نَعْصِرَهُ قَالَ فَعَنْ ثَمَنِ الْخَمْرِ تَسْأَلُنِي سَأُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّا جُلُوسًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ أَكَبَّ وَنَكَتَ فِي الْأَرْضِ وَقَالَ الْوَيْلُ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ عُمَرُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَقَدْ أَفْزَعَنَا قَوْلُكَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ لَيْسَ عَلَيْكُمْ مِنْ ذَلِكَ بَأْسٌ إِنَّهُمْ لَمَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الشُّحُومُ فَتَوَاطَئُوهُ فَيَبِيعُونَهُ فَيَأْكُلُونَ ثَمَنَهُ وَكَذَلِكَ ثَمَنُ الْخَمْرِ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے بستر پر جا کر لیٹتے تو یوں کہتے اس اللہ کا شکر جس نے میری کفایت کی، مجھے ٹھکانہ دیا، مجھے کھلایاپلایا، مجھ پر مہربانی اور احسان فرمایا : مجھے دیا اور خوب دیا ہر حال میں اللہ ہی کا شکر ہے، اے اللہ ! اے ہر چیز کے رب ! ہر چیز کے مالک اور معبود ہر چیز تیری ہی ملکیت میں ہے، میں جہنم سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ يَعْنِي الْمُعَلِّمَ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا تَبَوَّأَ مَضْجَعَهُ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَفَانِي وَآوَانِي وَأَطْعَمَنِي وَسَقَانِي وَالَّذِي مَنَّ عَلَيَّ وَأَفْضَلَ وَالَّذِي أَعْطَانِي فَأَجْزَلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ اللَّهُمَّ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِكَ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَهَ كُلِّ شَيْءٍ وَلَكَ كُلُّ شَيْءٍ أَعُوذُ بِكَ مِنْ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ تبوک کے سال قوم ثمود کے تباہ شدہ کھنڈرات اور گھروں کے قریب کسی جگہ پر صحابہ (رض) کے ساتھ پڑاؤ ڈالا لوگوں نے ان کنوؤں سے پانی پیا جس سے قوم ثمود پانی پیتی تھی اور اس سے آٹا بھی گوندھا اور گوشت ڈال کر ہنڈیا بھی چڑھادیں نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ ﷺ کے حکم پر لوگوں نے ہنڈیاں الٹا دیں اور گندھا ہوا آٹا اونٹوں کو کھلادیا اور نبی کریم ﷺ وہاں سے کوچ کر گئے اور اس کنوئیں پر جا کر پڑاؤ کیا جہاں سے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی پانی پیتی تھی اور نبی کریم ﷺ نے عذاب یافتہ قوم کے کھنڈرات میں جانے سے منع کردیا اور فرمایا کہ مجھے اندیشہ ہے کہیں تم پر بھی وہی عذاب نہ آجائے جو ان پر آیا تھا، اس لئے تم وہاں نہ جاؤ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا صَخْرٌ يَعْنِي ابْنَ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاسِ عَامَ تَبُوكَ نَزَلَ بِهِمْ الْحِجْرَ عِنْدَ بُيُوتِ ثَمُودَ فَاسْتَسْقَى النَّاسُ مِنْ الْآبَارِ الَّتِي كَانَ يَشْرَبُ مِنْهَا ثَمُودُ فَعَجَنُوا مِنْهَا وَنَصَبُوا الْقُدُورَ بِاللَّحْمِ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَرَاقُوا الْقُدُورَ وَعَلَفُوا الْعَجِينَ الْإِبِلَ ثُمَّ ارْتَحَلَ بِهِمْ حَتَّى نَزَلَ بِهِمْ عَلَى الْبِئْرِ الَّتِي كَانَتْ تَشْرَبُ مِنْهَا النَّاقَةُ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَدْخُلُوا عَلَى الْقَوْمِ الَّذِينَ عُذِّبُوا قَالَ إِنِّي أَخْشَى أَنْ يُصِيبَكُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
یوسف بن مہران (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) کے پاس کوفہ کا ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا وہ مختار ثقفی کے متعلق بیان کرنے لگا حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اگر ایسی ہی بات ہے جو تم کہہ رہے ہو تو میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت سے پہلے تیس دجال و کذاب لوگ آئیں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ فَجَعَلَ يُحَدِّثُهُ عَنْ الْمُخْتَارِ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ إِنْ كَانَ كَمَا تَقُولُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ ثَلَاثِينَ كَذَّابًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے کسی شخص سے پوچھا کہ تم نہ یہ کام کیا ہے ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! انہیں، اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے یہ کام نہیں کیا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ کام تو تم نے کیا ہے لیکن اخلاص کے ساتھ " لاالہ الا اللہ " کہنے کی برکت سے تمہاری بخشش ہوگئی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ لَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا فَعَلْتُ قَالَ بَلَى قَدْ فَعَلْتَ وَلَكِنْ غُفِرَ لَكَ بِالْإِخْلَاصِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭১৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! ہمارے شام اور یمن میں برکتیں عطاء فرما، ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمارے نجد کے لئے بھی دعاء فرمائیے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وہاں تو زلزلے اور فتنے ہوں گے، یا یہ کہ وہاں سے تو شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ أَبُو بَكْرٍ السَّمَّانُ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا قَالُوا وَفِي نَجْدِنَا قَالَ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا قَالُوا وَفِي نَجْدِنَا قَالَ هُنَالِكَ الزَّلَازِلُ وَالْفِتَنُ مِنْهَا أَوْ قَالَ بِهَا يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ
তাহকীক: