আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৫৭৩৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعت پر مشتمل ہوتی ہے اور جب " صبح " ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لو اور اپنی آخری نماز وتر کو بناؤ۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ وَاجْعَلْ آخِرَ صَلَاتِكَ وِتْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৩৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৩৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تمہیں بخار محسوس ہو تو اسے ٹھنڈے پانی سے بجھاؤ۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا جِسْرٌ حَدَّثَنَا سَلِيطٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحْسَسْتُمْ بِالْحُمَّى فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ الْبَارِدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৩৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عثمان بن عبداللہ بن موہب (رح) کہتے ہیں کہ مصر سے ایک آدمی حضرت ابن عمر (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابن عمر ! اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے جواب دیں گے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اس نے حضرت عثمان (رض) کے حوالے سے مختلف سوال پوچھے۔ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اب آؤ میں تمہیں ان تمام چیزوں کی حقیقت سے آگاہ کروں جن کے متعلق تم نے مجھ سے پوچھا ہے، جہاں تک غزوہ احد کے موقع پر بھاگنے کی بات ہے تو میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ نے ان سے درگذر کی اور انہیں معاف فرما دیا ہے غزوہ بدر میں شریک نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی (حضرت رقیہ (رض) جو کہ حضرت عثمان (رض) کے نکاح میں تھیں اس وقت بیمار تھیں نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا تھا کہ (تم یہیں رہ کر اس کی تیمارداری کرو) تمہیں غزوہ بدر کے شرکاء کے برابر اجر بھی ملے گا اور مال غنیمت کا حصہ بھی، رہی بیعت رضوان سے غیر حاضری تو اگر بطن مکہ میں عثمان سے زیادہ کوئی معزز ہوتا تو نبی کریم ﷺ اسی کو بھیجتے، نبی کریم ﷺ نے خود حضرت عثمان کو مکہ مکرمہ میں بھیجا تھا اور بیعت رضوان ان کے جانے کے بعد ہوئی تھی اور نبی کریم ﷺ نے اپنے ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر فرمایا تھا یہ عثمان کا ہاتھ ہے اس کے بعد حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا ان باتوں کو اپنے ساتھ لے کرچلاجا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ عُمَرَ فَقَالَ يَا ابْنَ عُمَرَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ شَيْءٍ تُحَدِّثُنِي بِهِ قَالَ نَعَمْ فَذَكَرَ عُثْمَانَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ أَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَدْرٍ فَإِنَّهُ كَانَتْ تَحْتَهُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَتْ مَرِيضَةً فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لَكَ أَجْرَ رَجُلٍ شَهِدَ بَدْرًا وَسَهْمَهُ وَأَمَّا تَغَيُّبُهُ عَنْ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ فَإِنَّهُ لَوْ كَانَ أَحَدٌ أَعَزَّ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ عُثْمَانَ لَبَعَثَهُ فَبَعَثَ عُثْمَانَ وَكَانَتْ بَيْعَةُ الرِّضْوَانِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ عُثْمَانُ إِلَى مَكَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ الْيُمْنَى هَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْأُخْرَى عَلَيْهَا فَقَالَ هَذِهِ لِعُثْمَانَ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ اذْهَبْ بِهَذِهِ الْآنَ مَعَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৪০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت جابر (رض) اور ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے نقیر، مزفت اور دباء سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ النَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالدُّبَّاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৪১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
کثیربن جمہان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) کو صفا مروہ کے درمیان عام رفتار سے چلتے ہوئے دیکھا تو ان سے پوچھا کہ آپ عام رفتار سے چل رہے ہیں ؟ فرمایا اگر میں عام رفتار سے چلوں تو میں نے نبی کریم ﷺ کو بھی اس طرح چلتے ہوئے دیکھا ہے اور اگر تیزی سے چلوں تو میں نے نبی کریم ﷺ کو اس طرح بھی دیکھا ہے اور میں بہت بوڑھا ہوچکا ہوں۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوْ قَالَ لَهُ غَيْرِي مَا لِي أَرَاكَ تَمْشِي وَالنَّاسُ يَسْعَوْنَ فَقَالَ إِنْ أَمْشِ فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي وَإِنْ أَسْعَى فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৪২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر لوگوں کو تنہا سفر کرنے کا نقصان معلوم ہوجائے تو رات کے وقت کوئی بھی تنہا سفر نہ کرے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الْوَحْدَةِ مَا أَعْلَمُ لَمْ يَسِرْ رَاكِبٌ بِلَيْلٍ وَحْدَهُ أَبَدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৪৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৪৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سعیدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حج سے واپسی کے بعد حضرت ابن عمر (رض) کے ساتھ آ رہا تھا، ہمارا گذر ایک یمانی قافلہ پر ہوا ان کے خیمے یا کجاوے چمڑے کے تھے اور ان کے اونٹوں کی لگا میں پھندے کی طرح محسوس ہوتی تھیں، حضرت ابن عمر (رض) اس قافلہ کو دیکھ کر فرمانے لگے کہ جو شخص اس سال حج کے لئے آنے والے قافلوں میں سے کسی ایسے قافلے کو دیکھنا چاہے جو حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام (رض) کے سب سے زیادہ مشابہہ ہو، وہ اس قافلے کو دیکھ لے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَدَرْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ يَوْمَ الصَّدَرِ فَمَرَّتْ بِنَا رُفْقَةٌ يَمَانِيَةٌ وَرِحَالُهُمْ الْأُدُمُ وَخُطُمُ إِبِلِهِمْ الْخُزُمُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى أَشْبَهِ رُفْقَةٍ وَرَدَتْ الْحَجَّ الْعَامَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ إِذْ قَدِمُوا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذِهِ الرُّفْقَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৪৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو حجر اسود اور رکن یمانی کے علاوہ بیت اللہ کے کسی حصے کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ وَإِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ وَقَالَ هَاشِمٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ مِنْ الْبَيْتِ إِلَّا الرُّكْنَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৪৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ نکلا تاکہ حجاج کرام سے ملاقات کریں اور انہیں گناہوں کی گندگی میں ملوث ہونے سے پہلے سلام کرلیں۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ نَتَلَقَّى الْحَاجَّ فَنُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ قَبْلَ أَنْ يَتَدَنَّسُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৪৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ بیت اللہ شریف میں حضرت اسامہ، بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی (رض) کے ساتھ داخل ہوئے اور اندر سے دروازہ بند کر لیاجب دروازہ کھلا تو سب سے پہلے داخل ہونے والا میں تھا، میں حضرت بلال (رض) سے ملا اور ان سے پوچھا کیا نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ کے اندر نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں ! دائیں ہاتھ کے دو ستونوں کے درمیان۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ وَهَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ فَأَغْلَقُوا عَلَيْهِمْ فَلَمَّا فَتَحُوا كُنْتُ أَوَّلَ مَنْ وَلَجَ فَلَقِيتُ بِلَالًا فَسَأَلْتُهُ هَلْ صَلَّى فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ الْيَمَانِيَيْنِ قَالَ هَاشِمٌ صَلَّى بَيْنَ الْعَمُودَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৪৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بر سر منبرارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے آئے تو اسے چاہئے کہ غسل کرکے آئے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي لَيْثٌ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ وَيُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ مَنْ جَاءَ مِنْكُمْ الْجُمُعَةَ فَلْيَغْتَسِلْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৪৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو اپنے بال جمائے ہوئے یہ تلبیہ پڑھتے ہوئے سنا ہے میں حاضر ہوں اے اللہ ! میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں آپ کا کوئی شریک نہیں میں حاضر ہوں تمام تعریفیں اور تمام نعمتیں آپ کے لئے ہیں حکومت بھی آپ ہی کی ہے آپ کا کوئی شریک نہیں۔ نبی کریم ﷺ ان کلمات پر کچھ اضافہ نہیں فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ مُلَبِّدًا يَقُولُ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَا يَزِيدُ عَلَى هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৫০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب اہل جنت، جنت میں اور جہنمی جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو لاکر جنت اور جہنم کے درمیان کھڑا کیا جائے گا اور اسے ذبح کردیا جائے گا، پھر ایک منادی پکار کر کہے گا اے جنت ! تم ہمیشہ جنت میں رہوگے، یہاں تمہیں موت نہ آئے گی اور اے جہنم ! تم ہمیشہ جہنم میں رہوگے، یہاں تمہیں موت نہ آئے گی، یہ اعلان سن کر اہل جنت کی خوشی اور مسرت دو چند ہوجائے گی اور اہل جہنم کے غموں میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ وَأَهْلُ النَّارِ إِلَى النَّارِ جِيءَ بِالْمَوْتِ حَتَّى يُجْعَلَ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ثُمَّ يُذْبَحُ ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا مَوْتَ يَا أَهْلَ النَّارِ لَا مَوْتَ فَيَزْدَادُ أَهْلُ الْجَنَّةِ فَرَحًا إِلَى فَرَحِهِمْ وَيَزْدَادُ أَهْلُ النَّارِ حُزْنًا إِلَى حُزْنِهِمْ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَارَ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৫১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تین آدمی جمع ہوں تو تیسرے کو چھوڑ کردو آدمی سرگوشی نہ کیا کریں اور کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اجْتَمَعَ ثَلَاثَةٌ فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ وَلَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৫২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو برسر منبر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سانپ کو مار دیا کرو خاص طور پر دو دھاری اور دم کٹے سانپوں کو، کیونکہ یہ دونوں انسان کی بینائی زائل ہونے اور حمل ساقط ہوجانے کا سبب بنتے ہیں۔
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ أَخْبَرَنِي أَبِي عَنِ الزُّهْرِيِّ فَذَكَرَ حَدِيثًا وَقَالَ سَالِمٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ اقْتُلُوا الْحَيَّاتِ وَاقْتُلُوا ذَا الطُّفْيَتَيْنِ وَالْأَبْتَرَ فَإِنَّهُمَا يَلْتَمِسَانِ الْبَصَرَ وَيُسْقِطَانِ الْحَبَلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৫৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے باز پرس ہوگی چناچہ حکمران اپنی رعایا کے ذمہ دار ہیں اور ان سے ان کی رعایا کے حوالے سے باز پرس ہوگی مرد اپنے اہل خانہ کا ذمہ دار ہے اور اس کے متعلق باز پرس ہوگی عورت اپنے خاوند کے گھر کی ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی باز پرس ہوگی غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کے متعلق باز پرس ہوگی میں نے یہ باتیں نبی کریم ﷺ سے سنی ہیں اور میرا خیال ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بہ بھی فرمایا تھا مرد اپنے باپ کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق باز پرس ہوگی، الغرض تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک کی باز پرس ہوگی۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّكُمْ رَاعٍ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ الْإِمَامُ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ فِي أَهْلِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَا وَالْخَادِمُ فِي مَالِ سَيِّدِهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ قَالَ سَمِعْتُ هَؤُلَاءِ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَحْسَبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالرَّجُلُ فِي مَالِ أَبِيهِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَكُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৫৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص کی مینڈھیاں ہوں اسے حج کا احرام ختم کرنے کے لئے حلق کرانا چاہئے اور بالوں کو کسی چیز سے جمانے کی مشابہت اختیار نہ کرو، حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنے بال جمائے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ مَنْ ضَفَرَ فَلْيَحْلِقْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالتَّلْبِيدِ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُلَبِّدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৭৫৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں ایک مرتبہ عشاء کی نماز پڑھائی جب سلام پھیر چکے تو کھڑے ہوگئے اور فرمایا کہ آج کی رات کو یاد رکھنا کیونکہ اس کے پورے سو سال بعد روئے زمین پر جو آج موجود ہیں ان میں سے کوئی بھی باقی نہ بچے گا حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی اس بات میں بہت سے لوگوں کو التباس ہوگیا ہے اور وہ " سو سال " سے متعلق مختلف قسم کی باتیں کرنے لگے ہیں دراصل نبی کریم ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ روئے زمین پر آج جو لوگ موجود ہیں اور مراد یہ تھی کہ یہ نسل ختم ہوجائے گی (یہ مطلب نہیں تھا کہ آج سے سو سال بعد قیامت آجائے گی)
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا قَامَ قَالَ أَرَأَيْتَكُمْ لَيْلَتَكُمْ هَذِهِ فَإِنَّ رَأْسَ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَوَهَلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ إِلَى مَا يُحَدِّثُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ فَإِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبْقَى مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ يُرِيدُ بِذَلِكَ أَنَّهُ يَنْخَرِمُ ذَلِكَ الْقَرْنُ
tahqiq

তাহকীক: