আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৫৯১ টি
হাদীস নং: ৫৭৭৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں کی مثال ان سو اونٹوں کی سی ہے جن میں سے ایک بھی سواری کے قابل نہ ہو۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا النَّاسُ كَالْإِبِلِ الْمِائَةِ لَا تَكَادُ تَجِدُ فِيهَا رَاحِلَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلال کو پتہ نہیں چلتا کہ رات کتنی بچی ہے ؟ اس لئے جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بِلَالًا لَا يَدْرِي مَا اللَّيْلُ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يُنَادِيَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا بلال رات ہی کو اذان دے دیتے ہیں اس لئے جب تک ابن ام مکتوم اذان نہ دے دیں تم کھاتے پیتے رہو راوی کہتے ہیں کہ دراصل حضرت ابن ام مکتوم (رض) نابینا آدمی تھے، دیکھ نہیں سکتے تھے اس لئے وہ اس وقت تک اذان نہیں دیتے تھے جب تک لوگ نہ کہنے لگتے کہ اذان دیجئے آپ نے تو صبح کردی۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِلَالًا يُنَادِي بِلَيْلٍ فَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى تَسْمَعُوا تَأْذِينَ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ وَكَانَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ رَجُلًا أَعْمَى لَا يُبْصِرُ لَا يُؤَذِّنُ حَتَّى يَقُولَ النَّاسُ أَذِّنْ قَدْ أَصْبَحْتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৭৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ مسلمان کی طرح ہوتا ہے بتاؤ وہ کون سادرخت ہے ؟ لوگوں کے ذہن میں جنگل کے مختلف درختوں کی طرف گئے میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہوسکتا ہے تھوڑی دیر بعد نبی کریم ﷺ نے خود ہی فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے میں نے حضرت عمر (رض) سے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا اس موقع پر تمہارا بولنا میرے نزدیک فلاں فلاں چیز سے بھی زیادہ پسندیدہ تھا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَحُجَيْنٌ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ شَجَرَةٍ لَا تَطْرَحُ وَرَقَهَا قَالَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَدْوِ وَوَقَعَ فِي قَلْبِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَاسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ النَّخْلَةُ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ فَقَالَ يَا بُنَيَّ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَتَكَلَّمَ فَوَاللَّهِ لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَ ذَلِكَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي كَذَا وَكَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر دھوکے باز کے لئے ایک جھنڈابلند کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کا دھوکہ ہے۔
حَدَّثَنَا حُجَيْنٌ وَمُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِلْغَادِرِ لِوَاءً يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُقَالُ أَلَا هَذِهِ غَدْرَةُ فُلَانٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بنونضیر کے درخت کٹوا کر انہیں آگ لگا دی اور اس موقع پر اللہ نے ہی آیت نازل فرمائی " تم نے کھجور کا جو درخت بھی کاٹایا اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا تو وہ اللہ کے حکم سے تھا اور تاکہ اللہ فاسقوں کو رسوا کردے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَّعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کسی غزوہ میں ایک مقتول کو دیکھا تو اس نے نکیر فرماتے ہوئے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے روک دیا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأَةً وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو واپس جا کر اپنے گھر میں دو رکعتیں پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ نبی کریم ﷺ بھی اسی طرح کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اس بات سے منع فرماتے تھے کہ تین آدمی ہوں اور تیسرے کو چھوڑ کردو آدمی سرگوشی کرنے لگیں۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى إِذَا كَانَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ أَنْ يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ فرماتے تھے جب تک پھل پک نہ جائے اس کی خریدو فروخت مت کیا کرو یہ ممانعت بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) دونوں کو فرمائی ہے، نیز نبی کریم ﷺ نے بیع مزابنہ سے بھی فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کا پھل " اگر وہ کھجور ہو تو " کٹی ہوئی کھجور کے بدلے ناپ کر، انگور ہو تو کشمش کے بدلے ناپ کر، کھیتی ہو تو معین ناپ کر بیچے، ان تمام چیزوں سے نبی کریم ﷺ نے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَا تَتَبَايَعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا نَهَى الْبَائِعَ وَالْمُشْتَرِيَ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَةَ حَائِطِهِ إِنْ كَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ كَيْلًا وَإِنْ كَانَتْ كَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ كَيْلًا وَإِنْ كَانَتْ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِكَيْلٍ مَعْلُومٍ نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا مرنے کے بعد تم میں سے ہر شخص کے سامنے صبح شام اس کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے اگر وہ اہل جنت میں سے ہو تو اہل جنت کا ٹھکانہ اور اگر وہ اہل جہنم میں سے ہو تو اہل جہنم کا ٹھکانہ پیش کیا جاتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دوبارہ زندہ کردے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَلَا إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور اپنے بھائی کے پیغام نکاح پر اپنا پیغام نکاح نہ بھیجے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَبِيعُ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ وَلَا يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ بَعْضٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) نے اپنی بیوی کو " ایام " کی حالت میں ایک طلاق دے دی، حضرت عمر فاروق (رض) نے نبی کریم ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ وہ رجوع کرلیں اور دوبارہ " ایام " آنے تک انتظار کریں اور ان سے " پاکیزگی " حاصل ہونے تک رکے رہیں پھر اپنی بیوی کے " قریب " جانے سے پہلے اسے طلاق دے دیں یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق اللہ نے مردوں کو اپنی بیویوں کو طلاق دینے کی رخصت دی ہے۔ حضرت ابن عمر (رض) کا یہ معمول تھا کہ جب ان سے اس شخص کے متعلق پوچھا جاتاجو " ایام " کی حالت میں بیوی کو طلاق دے دے تو وہ فرماتے کہ میں نے تو اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی تھیں نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ اپنی بیوی سے رجوع کرلیں اور دوسرے ایام اور ان کے بعدطہر ہونے تک انتظار کریں پھر اس کے قریب جانے سے پہلے اسے طلاق دے دیں جب کہ تم تو اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے آئے ہو تم نے اللہ کے اس حکم کی نافرمانی کی جو اس نے تمہیں اپنی بیوی کو طلاق دینے سے متعلق بتایا ہے اور تمہاری بیوی تم پر حرام ہوچکی یہاں تک کہ کہ وہ تمہارے علاوہ کسی اور شخص سے شادی نہ کرلے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا وَيُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضَتِهَا فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنْ يُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ لِأَحَدِهِمْ أَمَّا أَنْتَ طَلَّقْتَ امْرَأَتَكَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَا فَإِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْكَ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ وَعَصَيْتَ اللَّهَ تَعَالَى فِيمَا أَمَرَكَ مِنْ طَلَاقِ امْرَأَتِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৮৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں نہ بیٹھے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمَنَّ أَحَدُكُمْ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৯০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
بشر بن حرب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ اے ابوعبدالرحمن ! مسافر کی نماز کس طرح ہوتی ہے ؟ انہوں نے فرمایا اگر تم نبی کریم ﷺ کی سنت پر عمل کرو تو میں تمہیں بتادوں، نہ کروں تو نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کیا کہ اے ابوعبدالرحمن ! بہترین طریقہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی سنت ہی تو ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ جب اس شہر سے نکلتے تھے تو واپس آنے تک دو رکعتوں سے زیادہ نہ پڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ كَيْفَ صَلَاةُ الْمُسَافِرِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ أَمَّا أَنْتُمْ فَتَتَّبِعُونَ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُكُمْ وَأَمَّا أَنْتُمْ لَا تَتَّبِعُونَ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَمْ أُخْبِرْكُمْ قَالَ قُلْنَا فَخَيْرُ السُّنَنِ سُنَّةُ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ هَذِهِ الْمَدِينَةِ لَمْ يَزِدْ عَلَى رَكْعَتَيْنِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৯১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ ہمارے شہر مدینہ میں ہمارے شام اور ہمارے یمن میں برکتیں فرما اور ہمارے صاع اور ہمارے مد میں برکت عطاء فرما۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ أَخْبَرَنَا بِشْرٌ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي مَدِينَتِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي شَامِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي يَمَنِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৯২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کی نماز عصر فوت ہوجائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہوگیا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৯৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا گذشتہ امتوں کی عمروں کے مقابلے میں تمہاری عمریں ایسی ہیں جیسے عصر اور مغرب کا درمیانی وقت ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا إِنَّ مَثَلَ آجَالِكُمْ فِي آجَالِ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مُغَيْرِبَانِ الشَّمْسِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৯৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ عمرہ کے ارادے سے روانہ ہوئے لیکن قریش کے کفار نبی کریم ﷺ اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہوگئے نبی کریم ﷺ نے مجبور ہو کر حدیبیہ ہی میں ہدی کا جانور ذبح کر کے حلق کروا لیا اور ان سے اس شرط پر مصالحت کرلی کہ آئندہ سال آ کر عمرہ کریں گے اور اپنے ساتھ ہتھیار لے کر نہیں آئیں گے البتہ تلوار کی اجازت ہوگی اور مکہ مکرمہ میں ان کا قیام قریش کی مرضی کے مطابق ہوگا، چناچہ نبی کریم ﷺ آئندہ سال عمرہ کے لئے تشریف لائے اور شرائط صلح کے مطابق مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تین دن رکنے کے بعد قریش نے نبی کریم ﷺ سے واپسی کے لئے کہا تو نبی کریم ﷺ مکہ مکرمہ سے نکل آئے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مُعْتَمِرًا فَحَالَ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ فَنَحَرَ هَدْيَهُ وَحَلَقَ رَأْسَهُ بِالْحُدَيْبِيَةِ فَصَالَحَهُمْ عَلَى أَنْ يَعْتَمِرُوا الْعَامَ الْمُقْبِلَ وَلَا يَحْمِلَ السِّلَاحَ عَلَيْهِمْ وَقَالَ سُرَيْجٌ وَلَا يَحْمِلَ سِلَاحًا إِلَّا سُيُوفًا وَلَا يُقِيمَ بِهَا إِلَّا مَا أَحَبُّوا فَاعْتَمَرَ مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فَدَخَلَهَا كَمَا كَانَ صَالَحَهُمْ فَلَمَّا أَنْ أَقَامَ ثَلَاثًا أَمَرُوهُ أَنْ يَخْرُجَ فَخَرَجَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৭৯৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے سرکے بالوں کو جمایا اور ہدی کا جانور ساتھ لے گئے جب مکہ مکرمہ پہنچے تو ازواج مطہرات کو احرام کھولنے کا حکم دیا، ازواج مطہرات نے پوچھا کہ آپ کیوں حلال نہیں ہوتے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنی ہدی کے جانور کے گلے میں قلادہ باندھ رکھا ہے اور اپنے سر کے بال جما رکھے ہیں، اس لئے میں اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتا جب تک اپنے حج سے فارغ ہو کر حلق نہ کرا لوں۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبَّدَ رَأْسَهُ وَأَهْدَى فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَمَرَ نِسَاءَهُ أَنْ يَحْلِلْنَ قُلْنَ مَا لَكَ أَنْتَ لَا تَحِلُّ قَالَ إِنِّي قَلَّدْتُ هَدْيِي وَلَبَّدْتُ رَأْسِي فَلَا أَحِلُّ حَتَّى أَحِلَّ مِنْ حَجَّتِي وَأَحْلِقَ رَأْسِي
তাহকীক: