আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৫৮৯৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ماہ رمضان کے عشرہ اخیرہ کا اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يَقُولُ قَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ وہ ایک مرتبہ میدان عرفات میں وقوف کئے ہوئے تھے انہوں نے سورج کو دیکھا جو غروب کے لئے ڈھال کی طرح لٹک آیا تھا وہ اسے دیکھ کر رونے لگے اور خوب روئے ایک آدمی نے پوچھا کہ اے ابو عبدالرحمن آپ کے ساتھ مجھے کئی مرتبہ وقوف کا موقع ملا ہے لیکن کبھی آپ نے ایسا نہیں کیا ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے نبی کریم ﷺ کی یاد آگئی وہ بھی اسی جگہ پر وقوف کئے ہوئے تھے انہوں نے فرمایا تھا لوگو ! دنیا کی جتنی زندگی گذر چکی ہے اس کے بقیہ حصے کی نسبت صرف اتنی ہی ہے جتنی اس دن کے بقیہ حصے کی گذرے ہوئے دن کے ساتھ ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنِي كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ وَاقِفًا بِعَرَفَاتٍ فَنَظَرَ إِلَى الشَّمْسِ حِينَ تَدَلَّتْ مِثْلَ التُّرْسِ لِلْغُرُوبِ فَبَكَى وَاشْتَدَّ بُكَاؤُهُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ عِنْدَهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ وَقَفْتَ مَعِي مِرَارًا لِمَ تَصْنَعُ هَذَا فَقَالَ ذَكَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ بِمَكَانِي هَذَا فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ دُنْيَاكُمْ فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
یوحنس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عمر (رض) کی ایک باندی ان کے پاس آگئی اور کہنے لگی اے ابوعبدالرحمن آپ کو سلام ہو حضرت ابن عمر (رض) نے پوچھا کیا مطلب ؟ اس نے کہا کہ میں کسی سرسبز و شاداب علاقے میں جانا چاہتی ہوں حضرت ابن عمر (رض) نے اس سے فرمایا بیٹھ جاؤ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مدینہ منورہ کی تکالیف اور سختیوں پر صبر کرے میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں گا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ أَنَسٍ عَنْ قَطَنِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ يُحَنَّسَ أَنَّ مَوْلَاةً لِابْنِ عُمَرَ أَتَتْهُ فَقَالَتْ عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ وَمَا شَأْنُكِ قَالَتْ أَرَدْتُ الْخُرُوجَ إِلَى الرِّيفِ فَقَالَ لَهَا اقْعُدِي فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَصْبِرُ عَلَى لَأْوَائِهَا وَشِدَّتِهَا أَحَدٌ إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے ہاتھ اتنے بلند کرتے کہ وہ کندھوں کے برابر آجاتے پھر تکبیر کہتے جب رکوع میں جاتے تو پھر اپنے ہاتھ اتنے بلند کرتے کہ وہ کندھوں کے برابر آجائے پھر تکبیر کہتے اور رکوع میں چلے جاتے جب اپنی پشت کو بلند کرنا چاہتے تو پھر اپنے ہاتھ اتنے بلند کرتے کہ وہ کندھوں کے برابرآجاتے اور سمع اللہ لمن حمدہ کہتے اور سجدے میں چلے جاتے لیکن سجدے میں رفع یدین نہیں کرتے تھے البتہ ہر رکعت میں اور رکوع سے پہلے ہر تکبیر میں رفع یدین کرتے تھے یہاں تک کہ نماز مکمل ہوجاتی تھی۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى إِذَا كَانَتَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ كَبَّرَ ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ كَبَّرَ وَهُمَا كَذَلِكَ رَكَعَ ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْفَعَ صُلْبَهُ رَفَعَهُمَا حَتَّى يَكُونَا حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ثُمَّ يَسْجُدُ وَلَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي السُّجُودِ وَيَرْفَعُهُمَا فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَتَكْبِيرَةٍ كَبَّرَهَا قَبْلَ الرُّكُوعِ حَتَّى تَنْقَضِيَ صَلَاتُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے ؟ فرمایا تم دو دو رکعت کرکے نماز پڑھا کرو اور جب صبح ہوجانے کا اندیشہ ہو تو ان دو کے ساتھ بطور وتر کے ایک رکعت اور ملا لو۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خَشِيتَ الصُّبْحَ فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کی نماز عصر فوت ہوجائے گویا اس کے اہل خانہ اور مال تباہ و برباد ہوگیا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَاتَهُ الْعَصْرُ فَكَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا تو فرشتے کہنے لگے اے پروردگار کیا آپ زمین میں اس شخص کو اپنا نائب بنا رہے ہیں جو اس میں فساد پھیلائے گا اور خونریزی کرے گا جب کہ ہم آپ کی تحمید کے ساتھ آپ کی تسبیح اور تقدیس بیان کرتے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا تم دو فرشتوں کو لے آؤ تاکہ زمین پر اتاراجائے اور ہم دیکھیں کہ وہ کیا کام کرتے ہیں ؟ فرشتوں نے ہاروت اور ماروت کو پیش کیا اور ان دونوں کو زمین پرا تار دیا گیا۔ اس کے بعد زہرہ " نامی سیارے کو ایک انتہائی خوبصورت عورت کی شکل میں ان کے پاس بھیجا گیا وہ ان دونوں کے پاس آئی وہ دونوں اس سے اپنے آپ کو ان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنے لگے اس نے کہا بخدا ! ایسا اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک تم یہ شرکیہ جملہ نہ کہو، ہاروت اور ماروت بولے بخدا ہم اللہ کے ساتھ کبھی شرک نہ کریں گے۔ یہ سن کر وہ واپس چلی گئی اور کچھ دیر بعد ایک بچے کو اٹھائے ہوئے واپس آگئی انہوں نے پھر اس سے وہی تقاضا کیا اس نے کہا کہ جب تک اس بچے کو قتل نہیں کرتے اس وقت تک یہ نہیں ہوسکتا وہ دونوں کہنے لگے کہ ہم تو اسے کسی صورت میں قتل نہیں کریں گے۔ وہ پھر واپس چلی گئی اور تھوڑی دیر بعد ہی شراب کا ایک پیالہ اٹھائے چلی آئی انہوں نے حسب سابق اس سے وہی تقاضا کیا لیکن اس نے کہا کہ جب تک یہ شراب نہ پیو گے اس وقت ایسا نہیں ہوسکتا ان دونوں نے شراب پی لی اور نشے میں آ کر اس سے بدکاری بھی کی اور بچے کو بھی قتل کردیا اور جب انہیں افاقہ ہوا تو وہ کہنے لگی کہ تم نے جن دو کاموں کو کرنے سے انکار کیا تھا نشے میں مد ہوش ہونے کے بعد تم نے اس میں سے ایک کام کو بھی نہ چھوڑا پھر انہیں دنیا کی سزا اور آخرت کے عذاب میں اختیار دیا گیا تو انہوں نے دنیا کی سزا کو اختیار کرلیا۔ فائدہ۔ علامہ ابن جوزی (رح) نے اس حدیث کو موضوعات میں شمار کیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ سَمِعَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ آدَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَهْبَطَهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى الْأَرْضِ قَالَتْ الْمَلَائِكَةُ أَيْ رَبِّ أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ قَالَ إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ قَالُوا رَبَّنَا نَحْنُ أَطْوَعُ لَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِلْمَلَائِكَةِ هَلُمُّوا مَلَكَيْنِ مِنْ الْمَلَائِكَةِ حَتَّى يُهْبَطَ بِهِمَا إِلَى الْأَرْضِ فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلَانِ قَالُوا رَبَّنَا هَارُوتُ وَمَارُوتُ فَأُهْبِطَا إِلَى الْأَرْضِ وَمُثِّلَتْ لَهُمَا الزُّهَرَةُ امْرَأَةً مِنْ أَحْسَنِ الْبَشَرِ فَجَاءَتْهُمَا فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَكَلَّمَا بِهَذِهِ الْكَلِمَةِ مِنْ الْإِشْرَاكِ فَقَالَا وَاللَّهِ لَا نُشْرِكُ بِاللَّهِ أَبَدًا فَذَهَبَتْ عَنْهُمَا ثُمَّ رَجَعَتْ بِصَبِيٍّ تَحْمِلُهُ فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَقْتُلَا هَذَا الصَّبِيَّ فَقَالَا وَاللَّهِ لَا نَقْتُلُهُ أَبَدًا فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ بِقَدَحِ خَمْرٍ تَحْمِلُهُ فَسَأَلَاهَا نَفْسَهَا قَالَتْ لَا وَاللَّهِ حَتَّى تَشْرَبَا هَذَا الْخَمْرَ فَشَرِبَا فَسَكِرَا فَوَقَعَا عَلَيْهَا وَقَتَلَا الصَّبِيَّ فَلَمَّا أَفَاقَا قَالَتْ الْمَرْأَةُ وَاللَّهِ مَا تَرَكْتُمَا شَيْئًا مِمَّا أَبَيْتُمَاهُ عَلَيَّ إِلَّا قَدْ فَعَلْتُمَا حِينَ سَكِرْتُمَا فَخُيِّرَا بَيْنَ عَذَابِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَاخْتَارَا عَذَابَ الدُّنْيَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور ہر نشہ آور چیز شراب ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُطَّلِبِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تین آدمی جنت میں داخل ہوں گے اور نہ ہی قیامت کے دن اللہ ان پر نظر کرم فرمائے گا، والدین کا نافرمان، مردوں کی مشابہت اختیار کرنے والی عورت اور دیوث (وہ بےغیرت جو اپنے گھر میں گندگی کو برقرار رکھتا ہے) اور تین آدمیوں پر اللہ قیامت کے دن نظر رحم نہ فرمائے گا والدین کا نافرمان، عادی شرابی، دے کر احسان جتانے والا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَشْهَدُ لَقَدْ سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ لَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْعَاقُّ وَالِدَيْهِ وَالْمَرْأَةُ الْمُتَرَجِّلَةُ الْمُتَشَبِّهَةُ بِالرِّجَالِ وَالدَّيُّوثُ وَثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْعَاقُّ وَالِدَيْهِ وَالْمُدْمِنُ الْخَمْرَ وَالْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہارے آگے ایک ایسا حوض ہے جو " جرباء " اور اذرح " کے درمیانی فاصلے جتنا بڑا ہے اس کے کٹورے آسمان کے ستاروں کے برابر ہوں گے جو شخص وہاں پہنچ کر ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَمَامَكُمْ حَوْضًا كَمَا بَيْنَ جَرْبَاءَ وَأَذْرُحَ فِيهِ أَبَارِيقُ كَنُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ وَرَدَهُ فَشَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا میت کو اس کے اہل محلہ کے رونے دھونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بخار جہنم کی تپش کا اثر ہوتا ہے اس لئے اسے پانی سے بجھایا کرو۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ أَوْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْحُمَّى شَيْءٌ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص بائیں ہاتھ سے نہ کھائے پیے کیونکہ بائیں ہاتھ سے شیطان کھاتا پیتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ سَمِعْتُ سَالِمًا يَقُولُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَشْرَبَنَّ بِهَا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حجۃ الوداع سے پہلے اس کا تذکرہ کرتے تھے ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ یہ نبی کریم ﷺ کی طرف سے الوداعی ملاقات ہے اس حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے دوران خطبہ " دجال " کا بھی خاصا تفصیلی ذکر کیا اور فرمایا کہ اللہ نے جس نبی کو بھی دنیا میں مبعوث فرمایا اس نے اپنی امت کو فتنہ دجال سے ضرور ڈرایا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو ڈرایا تھا اور ان کے بعد بھی تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) ڈراتے رہے اگر تم پر کوئی بات مخفی رہ جائے تو تم پر یہ بات مخفی نہیں رہنی چاہئے کہ تمہارا رب کانا نہیں ہے یہ جملہ آپ ﷺ نے دو مرتبہ دہرایا۔
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَخِيهِ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي أَبَا عُمَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ كُنَّا نُحَدَّثُ بِحَجَّةِ الْوَدَاعِ وَلَا نَدْرِي أَنَّهُ الْوَدَاعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كَانَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَأَطْنَبَ فِي ذِكْرِهِ ثُمَّ قَالَ مَا بَعَثَ اللَّهُ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا قَدْ أَنْذَرَهُ أُمَّتَهُ لَقَدْ أَنْذَرَهُ نُوحٌ أُمَّتَهُ وَالنَّبِيُّونَ مِنْ بَعْدِهِ أَلَا مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَا يَخْفَيَنَّ عَلَيْكُمْ أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ أَلَا مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مِنْ شَأْنِهِ فَلَا يَخْفَيَنَّ عَلَيْكُمْ أَنَّ رَبَّكُمْ لَيْسَ بِأَعْوَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯১০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہودی تم سے قتال کریں گے اور تم ان پر غالب آجاؤ گے حتیٰ کہ اگر کوئی یہودی کسی پتھرکے نیچے چھپا ہوگا تو وہ پتھر مسلمانوں سے پکار پکار کر کہے گا کہ یہ میرے نیچے یہودی چھپا ہوا ہے آ کر اسے قتل کرو۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تُقَاتِلُكُمْ يَهُودُ فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯১১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کو جمعہ کے دن اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے اونگھ آجائے تو اسے اپنی جگہ بدل لینی چاہئے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فِي مَجْلِسِهِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْهُ إِلَى غَيْرِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯১২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو تین دن سے زیادہ اپنی قربانی کا گوشت اپنے پاس رکھنے سے لوگوں کو منع کرتے ہوئے سنا ہے (بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا تھا)
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى النَّاسَ أَنْ يَأْكُلُوا لُحُومَ نُسُكِهِمْ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯১৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
محمد بن ابراہیم کہتے ہیں کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور سلیمان بن یسار دونوں نے ان سے حضرت ابن عمر (رض) کی یہ حدیث ذکر کی ہے گو کہ اس مجلس میں ان دونوں کے ساتھ میں بھی موجود تھا لیکن میں چھوٹا بچہ تھا اس لئے اسے یاد نہ رکھ سکا کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر (رض) سے وتروں کے متعلق دریافت کیا ؟ اور پوری حدیث ذکر کی حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے رات کی آخری نماز وتر کو بنانے کا حکم دیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ كِلَاهُمَا حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ وَلَقَدْ كُنْتُ مَعَهُمَا فِي الْمَجْلِسِ وَلَكِنِّي كُنْتُ صَغِيرًا فَلَمْ أَحْفَظْ الْحَدِيثَ قَالَا سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ الْوِتْرُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ تُجْعَلَ آخِرَ صَلَاةِ اللَّيْلِ الْوَتْرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯১৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) سے جب وتر کے متعلق سوال کیا جاتا تو وہ فرماتے کہ میں تو اگر سونے سے پہلے وتر پڑھنا چاہوں پھر رات کی نماز کا ارادہ بھی بن جائے تو میں وتر کی پڑھی گئی رکعت کے ساتھ ایک رکعت اور ملا لیتاہوں پھر دو دو رکعتیں پڑھتا رہتا ہوں جب نماز مکمل کر لیتاہوں تو دو رکعتوں کے ساتھ ایک رکعت کو ملا کرو تر پڑھ لیتا ہوں کیونکہ نبی کریم ﷺ نے رات کی آخری نماز وتر کو بنانے کا حکم دیا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنْ الْوَتْرِ قَالَ أَمَّا أَنَا فَلَوْ أَوْتَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ بِاللَّيْلِ شَفَعْتُ بِوَاحِدَةٍ مَا مَضَى مِنْ وِتْرِي ثُمَّ صَلَّيْتُ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا قَضَيْتُ صَلَاتِي أَوْتَرْتُ بِوَاحِدَةٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُجْعَلَ آخِرَ صَلَاةِ اللَّيْلِ الْوَتْرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯১৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جب لوگ سواروں سے کوئی سامان خریدتے تھے تو نبی کریم ﷺ ان کے پاس کچھ لوگوں کو بھیجتے تھے جو انہیں اس بات سے منع کرتے تھے کہ اسی جگہ کھڑے کھڑے اسے کسی اور کے ہاتھ فروخت کردیں جب تک کہ اسے اپنے خیمے میں نہ جائیں۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْعَثُ عَلَيْهِمْ إِذَا ابْتَاعُوا مِنْ الرُّكْبَانِ الْأَطْعِمَةَ مَنْ يَمْنَعُهُمْ أَنْ يَتَبَايَعُوهَا حَتَّى يُؤْوُوا إِلَى رِحَالِهِمْ
tahqiq

তাহকীক: