আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৫৯৩৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
امام شعبی (رح) کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے پاس ڈیڑھ دو سال کے قریب آتا جاتا رہا ہوں لیکن اس دوران میں نے ان سے اس کے علاوہ کوئی حدیث نہیں سنی حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھے کہ گوہ لائی گئی لوگ اسے کھانے لگے نبی کریم ﷺ کی کسی زوجہ محترمہ نے پکار کر کہا کہ یہ گوہ کا گوشت ہے (یہ سنتے ہی صحابہ (رض) رک گئے) نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسے کھالو یہ حلال ہے اور اسے کھانے میں کوئی حرج نہیں البتہ یہ میرے کھانے کی چیز نہیں ہے اور خود نبی کریم ﷺ رک گئے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ تَوْبَةَ قَالَ قَالَ الشَّعْبِيُّ لَقَدْ صَحِبْتُ ابْنَ عُمَرَ سَنَةً وَنِصْفًا فَلَمْ أَسْمَعْهُ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِضَبٍّ فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَأْكُلُونَ فَنَادَتْ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ إِنَّهُ ضَبٌّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُوا فَإِنَّهُ حَلَالٌ أَوْ كُلُوا فَلَا بَأْسَ قَالَ فَكَفَّ قَالَ فَقَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِحَرَامٍ وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ طَعَامِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৩৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مذکر و مؤنث اور آزاد و غلام سب مسلمانوں پر صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو مقرر فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ عَلَى كُلِّ حُرٍّ أَوْ عَبْدٍ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى مِنْ الْمُسْلِمِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৩৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اچھا خواب اجزاء نبوت میں سے سترواں جزو ہے اس لئے جو شخص خواب دیکھے اسے اس پر اللہ کا شکر کرنا اور اسے بیان کردینا چاہئے اور اگر کوئی برا خواب دیکھے تو اللہ سے اس خواب کے شر سے پناہ مانگے اور اسے کسی سے بیان نہ کرے اس طرح وہ خواب اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ النُّبُوَّةِ فَمَنْ رَأَى خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ عَلَيْهِ وَلْيَذْكُرْهُ وَمَنْ رَأَى غَيْرَ ذَلِكَ فَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ رُؤْيَاهُ وَلَا يَذْكُرْهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৩৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا میں نے خواب میں کالی کلوٹی بکھرے بالوں والی ایک عورت کو مدینہ منورہ سے نکلتے ہوئے دیکھا جو مہیعہ یعنی جحفہ میں جا کر کھڑی ہوگئی میں نے اس کی تعبیریہ لی کہ مدینہ منورہ کی وبائیں اور آفات جحفہ منتقل ہوگئی ہیں۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الشَّعْرِ تَفِلَةً أُخْرِجَتْ مِنْ الْمَدِينَةِ فَأُسْكِنَتْ مَهْيَعَةَ فَأَوَّلْتُهَا فِي الْمَنَامِ وَبَاءَ الْمَدِينَةِ يَنْقُلُهُ اللَّهُ تَعَالَى إِلَى مَهْيَعَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৪০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مشکیزے (یا دور حاضر میں نل کے) سے منہ لگا کر پانی مت پیا کرو بلکہ ہتھیلیوں میں لے کر پیا کرو۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ رَجُلٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَشْرَبُوا الْكَرْعَ وَلَكِنْ لِيَشْرَبْ أَحَدُكُمْ فِي كَفَّيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৪১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور ہر نشہ آور چیز شراب ہے۔ گذشتہ حدیث مذکورہ سندہی سے دوبارہ یہاں نقل کی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৪২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ازار کے متعلق جو کچھ ارشاد فرمایا ہے قمیض (شلوار) کے بارے بھی وہی حکم ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَعَتَّابٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا أَبُو الصَّبَّاحِ الْأَيْلِيُّ سَمِعْتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي سُمَيَّةَ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْإِزَارِ فَهُوَ فِي الْقَمِيصِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৪৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سالم (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) سفر میں رات کی نماز اور وتر اپنے اونٹ پر سوار ہو کر پڑھ لیتے تھے اور اس کی پرواہ نہیں کرتے تھے کہ اس کا رخ کسی بھی سمت میں ہو اور اسے نبی کریم ﷺ کے حوالے سے ذکر کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُصَلِّي فِي السَّفَرِ صَلَاتَهُ بِاللَّيْلِ وَيُوتِرُ رَاكِبًا عَلَى بَعِيرِهِ لَا يُبَالِي حَيْثُ وَجَّهَ بَعِيرُهُ وَيَذْكُرُ ذَلِكَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مُوسَى وَرَأَيْتُ سَالِمًا يَفْعَلُ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৪৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) دس ذی الحجہ کو جمرہ عقبہ کی رمی سوار ہو کر اور باقی ایام میں پیدل کیا کرتے تھے اور بتاتے تھے کہ نبی کریم ﷺ بھی اسی طرح کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ الْعُمَرِيَّ عَنْ نَافِعٍ قَالَ كَانَ ابْنُ عُمَرَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ عَلَى دَابَّتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ وَكَانَ لَا يَأْتِي سَائِرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا مَاشِيًا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا وَزَعَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَأْتِيهَا إِلَّا مَاشِيًا ذَاهِبًا وَرَاجِعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৪৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اور خلفاء ثلاثہ محصب نامی جگہ میں پڑاؤ کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ نَزَلُوا الْمُحَصَّبَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৪৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی سواری پر وتر پڑھ لیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ مَيْمُونٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ مُوسَى عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُوتِرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৪৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
سعید مقبری (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا کہ حضرت ابن عمر (رض) کسی شخص کے ساتھ کوئی بات کر رہے تھے ایک آدمی ان کے بیچ میں جا کر بیٹھ گیا انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سینے پر مار کر فرمایا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جب دو آدمی آپس میں خفیہ بات کر رہے ہوں تو ان کی اجازت کے بغیر ان کے پاس جا کر مت بیٹھو۔
حَدَّثَنَا نُوحٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ قَالَ رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يُنَاجِي رَجُلًا فَدَخَلَ رَجُلٌ بَيْنَهُمَا فَضَرَبَ صَدْرَهُ وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَنَاجَى اثْنَانِ فَلَا يَدْخُلْ بَيْنَهُمَا الثَّالِثُ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ مَوْلَى بَنِي تَيْمٍ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৪৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دیکھا نبی کریم ﷺ مسواک فرما رہے ہیں اس کے بعد آپ ﷺ نے وہ مسواک حاضرین میں سب سے بڑی عمر کے آدمی کو دے دی اور فرمایا کہ مجھے جبرائیل (علیہ السلام) نے حکم دیا ہے کہ میں یہ مسواک کسی بڑے آدمی کو دوں۔
حَدَّثَنَا يَعْمَرُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ قَالَ قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنِي نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْتَنُّ فَأَعْطَى أَكْبَرَ الْقَوْمِ وَقَالَ إِنَّ جِبْرِيلَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي أَنْ أُكَبِّرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৪৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نافع (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابن عمر (رض) فتنہ کے ایام میں عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ روانہ ہوگئے اور فرمایا اگر میرے سامنے بھی کوئی رکاوٹ پیش آگئی تو میں وہی کروں گا جو نبی کریم ﷺ نے کیا تھا پھر انہوں نے عمرہ کی نیت کرلی کیونکہ نبی کریم ﷺ نے بھی حدیبیہ کے سال عمرے کا احرام باندھا تھا۔
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ مُعْتَمِرًا فِي الْفِتْنَةِ فَقَالَ إِنْ صُدِدْتُ عَنْ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ مِنْ أَجْلِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৫০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پانچ قسم کے جانور ہیں جنہیں حالت میں احرام میں بھی مارنے سے کوئی گناہ نہیں ہوتا بچھو، چوہے، چیل، کوے اور باؤلے کتے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ قَالَ و حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ مَنْ قَتَلَهُنَّ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ الْعَقْرَبُ وَالْفَأْرَةُ وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ وَالْغُرَابُ وَالْحِدَأَةُ حَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَمْسٌ مِنْ الدَّوَابِّ فَذَكَرَ مِثْلَهُ قَالَ أَبِي وَقَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ أَيْضًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৫১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک مرتبہ بیت اللہ میں داخل ہوئے اس وقت نبی کریم ﷺ کے ساتھ اسامہ بن زید (رض) عثمان بن طلحہ (رض) اور حضرت بلال (رض) تھے نبی کریم ﷺ کے حکم پر حضرت بلال (رض) نے دروازہ بند کردیا پھر نبی کریم ﷺ باہر تشریف لائے تو حضرت بلال (رض) سے میں نے پوچھا کہ نبی کریم ﷺ نے اندر کیا کیا ؟ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے دو ستون دائیں ہاتھ، ایک ستون بائیں ہاتھ اور تین ستون پیچھے چھوڑ کر نماز پڑھی اس وقت نبی کریم ﷺ اور خانہ کعبہ کی دیوار کے درمیان تین گز کا فاصلہ تھا سالم کہتے ہیں کہ اس زمانے میں بیت اللہ چھ ستونوں پر قائم تھا۔
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْكَعْبَةَ هُوَ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ وَبِلَالٌ وَعُثْمَانُ بْنُ طَلْحَةَ الْحَجَبِيُّ وَأَغْلَقَهَا عَلَيْهِ فَمَكَثَ فِيهَا قَالَ عَبْدُ اللَّهِ سَأَلْتُ بِلَالًا حِينَ خَرَجَ مَاذَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَعَلَ عَمُودًا عَنْ يَسَارِهِ وَعَمُودَيْنِ عَنْ يَمِينِهِ وَثَلَاثَةَ أَعْمِدَةٍ وَرَاءَهُ وَكَانَ الْبَيْتُ يَوْمَئِذٍ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ثُمَّ صَلَّى وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِدَارِ ثَلَاثَةُ أَذْرُعٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৫২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ذوالحلیفہ کی وادی بطحاء میں اپنی اونٹنی کو بٹھایا اور وہاں نماز پڑھی۔
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَاخَ بِالْبَطْحَاءِ الَّتِي بِذِي الْحُلَيْفَةِ فَصَلَّى بِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৫৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عمران انصاری (رح) کہتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ کے راستے میں ایک درخت کے سائے تلے پڑاؤ کئے ہوئے تھا کہ حضرت ابن عمر (رض) میرے پاس تشریف لے آئے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ اس درخت کے نیچے پڑاؤ کرنے پر تمہیں کس چیز نے مجبور کیا ؟ میں نے عرض کیا کہ میں اس کا سایہ حاصل کرنا چاہتا تھا انہوں نے پوچھا اس کے علاوہ کوئی اور مقصد ؟ میں نے عرض کیا کہ اس کے علاوہ کوئی مقصد نہیں انہوں نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم منٰی دو پتھریلے علاقوں کے درمیان ہو یہ کہہ کر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کر کے پھونک ماری تو وہاں سرر نامی ایک وادی آئے گی وہاں ایک درخت ہے جس کے نیچے ستر انبیاء کرام (رض) نے استراحت فرمائی ہے۔
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ الدِّيْلِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِمْرَانَ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ عَدَلَ إِلَيَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَنَا نَازِلٌ تَحْتَ سَرْحَةٍ بِطَرِيقِ مَكَّةَ فَقَالَ مَا أَنْزَلَكَ تَحْتَ هَذِهِ السَّرْحَةِ قُلْتُ أَرَدْتُ ظِلَّهَا قَالَ هَلْ غَيْرَ ذَلِكَ قُلْتُ لَا مَا أَنْزَلَنِي إِلَّا ذَلِكَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كُنْتَ بَيْنَ الْأَخْشَبَيْنِ مِنْ مِنًى وَنَفَحَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَإِنَّ هُنَالِكَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ السُّرَرُ بِهِ سَرْحَةٌ سُرَّ تَحْتَهَا سَبْعُونَ نَبِيًّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৫৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ حلق کرانے والوں کو معاف فرما دے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! قصر کرانے والوں کے لئے بھی تو دعاء فرمایئے نبی کریم ﷺ نے تیسری مرتبہ قصر کرانے والوں کے لئے فرمایا کہ اے اللہ ! قصر کرانے والوں کو بھی معاف فرمادے۔
قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ قَالَ و حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ ارْحَمْ الْمُحَلِّقِينَ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُحَلِّقِينَ قَالُوا وَالْمُقَصِّرِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَالْمُقَصِّرِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯৫৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
زیادہ بن جبیر کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ سوال پوچھا جبکہ وہ منٰی میں چل رہے تھے کہ میں نے یہ منت مان رکھی ہے کہ میں ہر منگل یا بدھ کو روزہ رکھا کروں گا اب بدھ کے دن عید الاضحی آگئی ہے، اب آپ کی کیا رائے ہے ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا کہ اللہ نے منت پوری کرنے کا حکم دیا ہے اور نبی کریم ﷺ نے ہمیں یوم النحر (دس ذی الحجہ) کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے وہ آدمی یہ سمجھا کہ شاید حضرت ابن عمر (رض) نے اس کی بات سنی نہیں ہے لہٰذا اس نے اپنا سوال پھر دہرادیا حضرت ابن عمر (رض) نے بھی حسب سابق جواب دیا اور اس پر کوئی اضافہ نہیں کیا یہاں تک کہ پہاڑ کے قریب پہنچ کر اس سے ٹیک لگا لی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عُمَرَ وَهُوَ يَمْشِي بِمِنًى فَقَالَ نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ يَوْمِ ثُلَاثَاءَ أَوْ أَرْبِعَاءَ فَوَافَقْتُ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَمَا تَرَى قَالَ أَمَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِوَفَاءِ النَّذْرِ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ نُهِينَا أَنْ نَصُومَ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ فَظَنَّ الرَّجُلُ أَنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ فَقَالَ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَصُومَ كُلَّ يَوْمِ ثُلَاثَاءَ أَوْ أَرْبِعَاءَ فَوَافَقْتُ هَذَا الْيَوْمَ يَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ أَمَرَ اللَّهُ بِوَفَاءِ النَّذْرِ وَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ نُهِينَا أَنْ نَصُومَ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَ فَمَا زَادَهُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى أَسْنَدَ فِي الْجَبَلِ
tahqiq

তাহকীক: