আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৫৯১ টি

হাদীস নং: ৬১৭৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
امام شعبی (رح) کہتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر (رض) کے پاس دو سال کے قریب آتا جاتا رہا ہوں لیکن اس دوران میں نے ان سے اس کے علاوہ کوئی اور حدیث نہیں سنی پھر انہوں نے گوہ والی حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ جَالَسْتُ ابْنَ عُمَرَ سَنَتَيْنِ مَا سَمِعْتُهُ رَوَى شَيْئًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثَ الضَّبِّ أَوْ الْأَضُبِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৭৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے گھڑ دوڑ کا مقابلہ منعقد کروایا اور ایک جگہ مقرر کر کے شرط لگائی۔
حَدَّثَنَا عُقْبَةُ أَبُو مَسْعُودٍ الْمُجَدَّرُ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّقَ بَيْنَ الْخَيْلِ وَفَضَّلَ الْقُرَّحَ فِي الْغَايَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৭৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا ہے کہ صدقہ فطر عیدگاہ کی طرف نکلنے سے پہلے ادا کردیا جائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ أَمَرَ بِإِخْرَاجِ الزَّكَاةِ زَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৭৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ مسلمان کی طرح ہوتا ہے بتاؤ وہ کون سادرخت ہے ؟ لوگوں کے ذہن میں جنگل کے مختلف درختوں کی طرف گئے میرے دل میں خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہوسکتا ہے تھوڑی دیر بعد نبی کریم ﷺ نے خود ہی فرمایا وہ کھجور کا درخت ہے میں نے حضرت عمر (رض) سے اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا اس موقع پر تمہارا بولنا میرے نزدیک فلاں فلاں چیز سے بھی زیادہ پسندیدہ تھا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ وَهُوَ أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ قَالَ فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي وَكُنْتُ مِنْ أَحْدَثِ النَّاسِ وَوَقَعَ فِي صَدْرِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِيَ النَّخْلَةُ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي فَقَالَ لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৮০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اہل خیبر کے ساتھ یہ معاملہ طے فرمایا کہ پھل کھیتی کی جو پیداوار ہوگی اس کا نصف تم ہمیں دوگے نبی کریم ﷺ اپنے ازواج مطہرات کو اس میں سے ہر سال سو وسق دیا کرتے تھے جن میں سے اسی وسق کھجوریں اور بیس وسق جو ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَاطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ خَيْبَرَ عَلَى الشَّطْرِ وَكَانَ يُعْطِي نِسَاءَهُ مِنْهَا مِائَةَ وَسْقٍ ثَمَانِينَ تَمْرًا وَعِشْرِينَ شَعِيرًا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذِهِ الْأَحَادِيثَ إِلَى آخِرِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৮১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے کہتے ہیں کہ میری جو بیوی تھی وہ حضرت عمر (رض) کو ناپسند تھی انہوں نے مجھ سے کہا کہ اسے طلاق دے دو میں نے اسے طلاق دینے میں لیت ولعل کی تو حضرت عمر (رض) نبی کریم ﷺ کے پاس آگئے نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اپنے والد کی اطاعت کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي الْخَيَّاطَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ تَحْتِي امْرَأَةٌ كَانَ عُمَرُ يَكْرَهُهَا فَقَالَ لِي أَبِي طَلِّقْهَا قُلْتُ لَا فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَدَعَانِي فَقَالَ عَبْدَ اللَّهِ طَلِّقْ امْرَأَتَكَ قَالَ فَطَلَّقْتُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৮২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ہمیں مختصر نماز پڑھانے کا حکم دیتے تھے اور خود بھی نبی کریم ﷺ ہماری امامت کرتے ہوئے سورت صفات (کی چند آیات) پر اکتفاء فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُنَا بِالتَّخْفِيفِ وَإِنْ كَانَ لَيَؤُمُّنَا بِالصَّافَّاتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৮৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں ہم لوگ اندازے سے غلے کی خریدو فروخت کرلیتے تھے تو نبی کریم ﷺ نے ہمیں اس طرح بیع کرنے سے روک دیا جب تک کہ اسے اپنے خیمے میں نہ لے جائیں۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كُنَّا إِذَا اشْتَرَيْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا جُزَافًا مُنِعْنَا أَنْ نَبِيعَهُ حَتَّى نُؤْوِيَهُ إِلَى رِحَالِنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৮৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نماز ایک ہی اقامت سے پڑھی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُزْدَلِفَةِ الْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ بِإِقَامَةٍ جَمَعَ بَيْنَهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৮৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ شب قدر کے متعلق نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اسے تلاش کرنا چاہتا ہے وہ اسے ستائیسویں رات کو تلاش کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ وَسَمِعْتُهُ سَمَاعًا قَالَ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ قَالَ مَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي لَيْلَةِ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ قَالَ شُعْبَةُ وَذَكَرَ لِي رَجُلٌ ثِقَةٌ عَنْ سُفْيَانَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِنَّمَا قَالَ مَنْ كَانَ مُتَحَرِّيَهَا فَلْيَتَحَرَّهَا فِي السَّبْعِ الْبَوَاقِي قَالَ شُعْبَةُ فَلَا أَدْرِي قَالَ ذَا أَوْ ذَا شُعْبَةُ شَكَّ الرَّجُلُ الثِّقَةُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৮৬
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عکرمہ بن خالدرحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مکہ مکرمہ کے کچھ لوگوں کے ساتھ مدینہ منورہ آیا ہم لوگ مدینہ منورہ سے عمرے کا احرام باندھنا چاہتے تھے وہاں میری ملاقات حضرت ابن عمر (رض) سے ہوگئی میں نے ان سے عرض کیا کہ ہم کچھ اہل مکہ ہیں مدینہ منورہ حاضر ہوئے ہیں اس سے پہلے ہم نے حج بالکل نہیں کیا کیا ہم مدینہ سے عمرے کا احرام باندھ سکتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہاں اس میں کون سی ممانعت ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے اپنے سارے عمرے حج سے پہلے ہی کئے تھے اور ہم نے بھی عمرے کئے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدِ بْنِ الْعَاصِ الْمَخْزُومِيُّ قَالَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ نُرِيدُ الْعُمْرَةَ مِنْهَا فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ إِنَّا قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَلَمْ نَحُجَّ قَطُّ أَفَنَعْتَمِرُ مِنْهَا قَالَ نَعَمْ وَمَا يَمْنَعُكُمْ مِنْ ذَلِكَ فَقَدْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَهُ كُلَّهَا قَبْلَ حَجَّتِهِ فَاعْتَمَرْنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৮৭
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
عطاء بن سائب (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے محارب بن دثار نے کہا کہ آپ نے سعید بن جبیر (رح) کو حضرت ابن عباس (رض) کے حوالے سے کوثر کے متعلق کیا فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ میں نے کہا کہ میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے مراد خیر کثیر ہے محارب نے کہا سبحان اللہ حضرت ابن عباس (رض) علیہ کا قول اتنا کم وزن نہیں ہوسکتا میں نے حضرت ابن عمر (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب سورت کوثر نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوثر جنت کی ایک نہر کا نام ہے جس کا پانی موتیوں اور یاقوت کی کنکریوں پر بہتا ہے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے محارب نے یہ سن کر کہا کہ پھر تو حضرت ابن عباس (رض) نے صحیح فرمایا کیونکہ واللہ وہ خیر کثیر ہی تو ہے۔ آخر مسند عبداللہ بن عمر (رض)
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ عَطَاءٍ يَعْنِي ابْنَ السَّائِبِ عَنِ ابْنِ جُبَيْرٍ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ هُوَ الْخَيْرُ الْكَثِيرُ وَقَالَ عَطَاءٌ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَوْثَرُ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ حَافَّتَاهُ مِنْ ذَهَبٍ وَالْمَاءُ يَجْرِي عَلَى اللُّؤْلُؤِ وَمَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ آخِرُ مُسْنَدِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৮৮
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ میرے والد نے قریش کی ایک خاتون سے میری شادی کردی میں جب اس کے پاس گیا تو عبادات میں مثلاً نماز، روزے کی طاقت اور شوق کی وجہ سے میں نے اس کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں کی، اگلے دن میرے والد حضرت عمرو بن عاص (رض) اپنی بہو کے پاس آئے اور اس سے پوچھنے لگے کہ تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا ؟ اس نے جواب دیا بہترین شوہر جس نے میرے سائے کی بھی جستجو نہ کی اور میرا بستر بھی نہ پہنچانا یہ سن کر وہ میرے پاس آئے اور مجھے خوب ملامت کی اور زبان سے کاٹ کھانے کی باتیں کرتے ہوئے کہنے لگے کہ میں نے تیرا نکاح قریش کی ایک اچھے حسب نسب والی خاتون سے کیا اور تو نے اس لاپروائی کی اور یہ کیا اور یہ کیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میری شکایت کی نبی کریم ﷺ نے مجھے بلوایا میں حاضر خدمت ہوا نبی کریم ﷺ نے مجھ سے پوچھا کیا تم دن میں روزہ رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا تم رات میں قیام کرتے ہو ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں نبی کریم ﷺ نے فرمایا لیکن میں تو روزہ بھی رکھتا ہوں اور ناغہ بھی کرتا ہوں رات کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں اور عورتوں کے پاس بھی جاتا ہوں جو شخص میری سنت سے اعراض کرے اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ہر مہینے میں صرف ایک قرآن پڑھا کرو میں نے عرض کیا کہ میں اپنے اندراس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر تین راتوں میں مکمل کرلیا کرو۔ اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر مہینے میں تین روزے رکھا کرو میں نے عرض کیا میں اپنے اندراس سے زیادہ طاقت محسوس کرتا ہوں نبی کریم ﷺ مجھے مسلسل کچھ چھوٹ دیتے رہے یہاں تک کہ آخر میں فرمایا پھر ایک دن روزہ رکھ لیا کرو اور ایک دن ناغہ کرلیا کرو۔ یہ بہترین روزہ ہے اور یہ میرے بھائی حضرت داؤدعلیہ السلام کا طریقہ رہا ہے پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر عابد میں ایک تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی کا ایک انقطاع ہوتا ہے یا سنت کی طرف یا بدعت کی طرف جس کا انقطاع سنت کی طرف تو وہ ہدایت پا جاتا ہے اور جس کا انقطاع کسی اور چیز کی طرف ہو تو وہ ہلاک ہوجاتا ہے۔ مجاہدرحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ جب حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بوڑھے اور کمزور ہوگئے تب بھی اسی طرح یہ روزے رکھتے رہے اور بعض اوقات کئی کئی روزے اکٹھے کرلیتے تاکہ ایک سے دوسرے کو تقویت رہے پھر اتنے دنوں کے شمار کے مطابق ناغہ کرلیتے اسی طرح قرآن کریم کی تلاوت میں بھی بعض اوقات کمی بیشی کرلیتے البتہ سات یا تین کا عددضرور پورا کرتے تھے اور بعد میں کہا کرتے تھے کہ اگر میں نبی کریم ﷺ کی رخصت کو قبول کرلیتا تو اس سے اعراض کرنے سے زیادہ مجھے پسند ہوتا لیکن اب مجھے یہ گوار انہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ سے جس حال میں جدائی ہوئی ہو اس کی خلاف ورزی کروں۔
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُغِيرَةَ الضَّبِّيِّ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ زَوَّجَنِي أَبِي امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيَّ جَعَلْتُ لَا أَنْحَاشُ لَهَا مِمَّا بِي مِنْ الْقُوَّةِ عَلَى الْعِبَادَةِ مِنْ الصَّوْمِ وَالصَّلَاةِ فَجَاءَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِلَى كَنَّتِهِ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهَا فَقَالَ لَهَا كَيْفَ وَجَدْتِ بَعْلَكِ قَالَتْ خَيْرَ الرِّجَالِ أَوْ كَخَيْرِ الْبُعُولَةِ مِنْ رَجُلٍ لَمْ يُفَتِّشْ لَنَا كَنَفًا وَلَمْ يَعْرِفْ لَنَا فِرَاشًا فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَعَذَمَنِي وَعَضَّنِي بِلِسَانِهِ فَقَالَ أَنْكَحْتُكَ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ ذَاتَ حَسَبٍ فَعَضَلْتَهَا وَفَعَلْتَ وَفَعَلْتَ ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَكَانِي فَأَرْسَلَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فَقَالَ لِي أَتَصُومُ النَّهَارَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَمَسُّ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي قَالَ اقْرَإِ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ عَشَرَةِ أَيَّامٍ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُنِي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ أَحَدُهُمَا إِمَّا حُصَيْنٌ وَإِمَّا مُغِيرَةُ قَالَ فَاقْرَأْهُ فِي كُلِّ ثَلَاثٍ قَالَ ثُمَّ قَالَ صُمْ فِي كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ قُلْتُ إِنِّي أَقْوَى مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَلَمْ يَزَلْ يَرْفَعُنِي حَتَّى قَالَ صُمْ يَوْمًا وَأَفْطِرْ يَوْمًا فَإِنَّهُ أَفْضَلُ الصِّيَامِ وَهُوَ صِيَامُ أَخِي دَاوُدَ قَالَ حُصَيْنٌ فِي حَدِيثِهِ ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ لِكُلِّ عَابِدٍ شِرَّةً وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةً فَإِمَّا إِلَى سُنَّةٍ وَإِمَّا إِلَى بِدْعَةٍ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّةٍ فَقَدْ اهْتَدَى وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ هَلَكَ قَالَ مُجَاهِدٌ فَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو حَيْثُ ضَعُفَ وَكَبِرَ يَصُومُ الْأَيَّامَ كَذَلِكَ يَصِلُ بَعْضَهَا إِلَى بَعْضٍ لِيَتَقَوَّى بِذَلِكَ ثُمَّ يُفْطِرُ بِعَدِّ تِلْكَ الْأَيَّامِ قَالَ وَكَانَ يَقْرَأُ فِي كُلِّ حِزْبِهِ كَذَلِكَ يَزِيدُ أَحْيَانًا وَيَنْقُصُ أَحْيَانًا غَيْرَ أَنَّهُ يُوفِي الْعَدَدَ إِمَّا فِي سَبْعٍ وَإِمَّا فِي ثَلَاثٍ قَالَ ثُمَّ كَانَ يَقُولُ بَعْدَ ذَلِكَ لَأَنْ أَكُونَ قَبِلْتُ رُخْصَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عُدِلَ بِهِ أَوْ عَدَلَ لَكِنِّي فَارَقْتُهُ عَلَى أَمْرٍ أَكْرَهُ أَنْ أُخَالِفَهُ إِلَى غَيْرِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৮৯
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص میری طرف نسبت کر کے کوئی ایسی بات کہے جو میں نے نہ کہی ہو اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْوَلِيدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَالَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৯০
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
نیز نبی کریم ﷺ نے شراب جوئے شطرنج اور چینا کی شراب کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔
وَنَهَى عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَالْكُوبَةِ وَالْغُبَيْرَاءِ قَالَ وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৯১
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا روئے زمین پر جو آدمی بھی یہ کہہ لے لاالہ الا اللہ اللہ اکبر، سبحان اللہ الحمدللہ لاحول ولاقوۃ الاباللہ، یہ جملے اس کے سارے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ قَالَ حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ عَنْ أَبِي بَلْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عَلَى الْأَرْضِ رَجُلٌ يَقُولُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ إِلَّا كُفِّرَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ وَلَوْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ زَبَدِ الْبَحْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৯২
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ " ام مہزول " نامی ایک عورت تھی جو بدکاری کرتی تھی اور بدکاری کرنے والے سے اپنے نفقہ کی شرط کروا لیتی تھی ایک مسلمان نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اس کے قریب ہونے کی اجازت لینے کے لئے آیا یا یہ کہ اس نے اس کا تذکرہ نبی کریم ﷺ کے سامنے کیا نبی کریم ﷺ نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی کہ زانیہ عورت سے وہی نکاح کرتا ہے جو خود زانی ہو یا مشرک ہو۔
حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا الْحَضْرَمِيُّ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ مَهْزُولٍ وَكَانَتْ تُسَافِحُ وَتَشْتَرِطُ لَهُ أَنْ تُنْفِقَ عَلَيْهِ قَالَ فَاسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذَكَرَ لَهُ أَمْرَهَا قَالَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৯৩
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو خاموش رہا وہ نجات پا گیا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَمَتَ نَجَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৯৪
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سے جس آدمی کو بھی جسمانی طور پر کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ اس کے محافظ فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میرا بندہ خیر کے جتنے بھی کام کرتا ہے وہ ہر دن رات لکھتے رہو تا وقتیکہ وہ میری حفاظت میں رہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ الْقَاسِمِ يَعْنِي ابْنَ مُخَيْمِرَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ يُصَابُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ إِلَّا أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يَحْفَظُونَهُ فَقَالَ اكْتُبُوا لِعَبْدِي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مَا كَانَ يَعْمَلُ مِنْ خَيْرٍ مَا كَانَ فِي وِثَاقِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬১৯৫
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی مرویات
حضرت ابن عمرو (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دور باسعادت میں سورج گرہن ہوا نبی کریم ﷺ نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو ہم بھی ان کے ساتھ کھڑے ہوگئے نبی کریم ﷺ نے اتنا طویل قیام کیا کہ ہمیں خیال ہونے لگا کہ شاید نبی کریم ﷺ رکوع نہیں کریں گے پھر رکوع کیا تو رکوع سے سر اٹھاتے ہوئے محسوس نہ ہوئے پھر رکوع سے سر اٹھایا تو سجدے میں جاتے ہوئے نہ لگے سجدے میں چلے گئے تو ایسا لگا کہ سجدے سے سر نہیں اٹھائیں گے پھر بیٹھے تو یوں محسوس ہوا کہ اب سجدہ نہیں کریں گے پھر دوسرا سجدہ کیا تو اس سے سر اٹھاتے ہوئے محسوس نہ ہوئے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا۔ اس دوران آپ ﷺ زمین پر پھونکتے جاتے تھے اور دوسری رکعت کے سجدے میں یہ کہتے جاتے تھے کہ پروردگار تو میری موجودگی میں انہیں عذاب دے گا ؟ پروردگار ہماری طلب بخشش کے باوجود تو ہمیں عذاب دے گا ؟ اس کے بعد جب آپ ﷺ نے سر اٹھایا تو سورج گرہن ختم ہوچکا تھا نبی کریم ﷺ نے اپنی نماز مکمل فرمائی اور اللہ کی حمد وثناء کرنے کے بعد فرمایا۔ لوگو ! سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں اگر ان میں سے کسی ایک کو گہن لگ جائے تو مسجدوں کی طرف ڈورو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا اور اسے میرے اتناقریب کردیا گیا کہ اگر میں اس کی کسی ٹہنی کو پکڑنا چاہتا تو پکڑ لیتا اسی طرح جہنم کو بھی میرے سامنے پیش کیا گیا اور اسے میرے اتنا قریب کردیا گیا کہ میں اسے بجھانے لگا اس خوف سے کہ کہیں وہ تم پر نہ آپڑے اور میں نے جہنم میں قبیلہ حمیر کی ایک عورت کو دیکھاجو سیاہ رنگت اور لمبے قد کی تھی اسے اس کی ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا جارہا تھا جسے اس نے باندھ رکھا تھا نہ خودا سے کھلایا پلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی وہ عورت جب بھی آگے بڑھتی تو جہنم میں وہی بلی اسے ڈستی اور اگر پیچھے ہٹتی تو اسے پیچھے سے ڈستی نیز میں نے وہاں بنو دعدع کے ایک آدمی کو بھی دیکھا اور میں نے لاٹھی والے کو بھی دیکھاجو جہنم میں اپنی لاٹھی سے ٹیک لگائے ہوئے تھا یہ شخص اپنی لاٹھی کے ذریعے حاجیوں کی چیزیں چرایا کرتا تھا اور جب حاجیوں کو پتہ چلتا تو کہہ دیتا کہ میں نے اسے چرایا تھوڑی ہے یہ چیز تو میری لاٹھی کے ساتھ چپک کر آگئی تھی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَيْسَ بِرَاكِعٍ ثُمَّ رَكَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ رَفَعَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ جَلَسَ فَلَمْ يَكَدْ يَسْجُدُ ثُمَّ سَجَدَ فَلَمْ يَكَدْ يَرْفَعُ رَأْسَهُ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ كَمَا فَعَلَ فِي الْأُولَى وَجَعَلَ يَنْفُخُ فِي الْأَرْضِ وَيَبْكِي وَهُوَ سَاجِدٌ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَجَعَلَ يَقُولُ رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ رَبِّ لِمَ تُعَذِّبُنَا وَنَحْنُ نَسْتَغْفِرُكَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ وَقَضَى صَلَاتَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَإِذَا كَسَفَ أَحَدُهُمَا فَافْزَعُوا إِلَى الْمَسَاجِدِ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ أَشَاءُ لَتَعَاطَيْتُ بَعْضَ أَغْصَانِهَا وَعُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ حَتَّى إِنِّي لَأُطْفِئُهَا خَشْيَةَ أَنْ تَغْشَاكُمْ وَرَأَيْتُ فِيهَا امْرَأَةً مِنْ حِمْيَرَ سَوْدَاءَ طُوَالَةً تُعَذَّبُ بِهِرَّةٍ لَهَا تَرْبِطُهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا وَلَا تَدَعُهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ كُلَّمَا أَقْبَلَتْ نَهَشَتْهَا وَكُلَّمَا أَدْبَرَتْ نَهَشَتْهَا وَرَأَيْتُ فِيهَا أَخَا بَنِي دَعْدَعٍ وَرَأَيْتُ صَاحِبَ الْمِحْجَنِ مُتَّكِئًا فِي النَّارِ عَلَى مِحْجَنِهِ كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ فَإِذَا عَلِمُوا بِهِ قَالَ لَسْتُ أَنَا أَسْرِقُكُمْ إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي
tahqiq

তাহকীক: