আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৪৫ টি
হাদীস নং: ৭৬৮২
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کا دن عید کا دن ہوتا ہے اس لئے عید کے دن روزہ نہ رکھا کرو الاّ یہ کہ اس کے ساتھ جمعرات یا ہفتہ کا روزہ بھی رکھو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مُعَاوِيَةَ يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ لُدَيْنٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يَوْمُ عِيدٍ فَلَا تَجْعَلُوا يَوْمَ عِيدِكُمْ يَوْمَ صِيَامِكُمْ إِلَّا أَنْ تَصُومُوا قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৮৩
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے کسی نے پوچھا فرض نمازوں کے بعد کون سی نماز سب سے زیادہ افضل ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رات کے درمیانی حصے میں پڑھی جانے والی نماز پوچھا گیا کہ ماہ رمضان کے روزوں کے بعد کس دن کا روزہ سب سے زیادہ افضل ہے ؟ فرمایا اللہ کا مہینہ جسے تم محرم کہتے ہو (اس کے روزے افضل ہیں)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّلَاةِ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ قَالَ الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ قِيلَ أَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ قَالَ شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৮৪
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) اور ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی مسلمان کو جو پریشانی اور تکلیف دکھ اور غم مشکل اور ایذا پہنچتی ہے حتی کہ جو کانٹا بھی چبھتا ہے اللہ اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ فرما دیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ مِنْ وَصَبٍ وَلَا نَصَبٍ وَلَا هَمٍّ وَلَا حَزَنٍ وَلَا أَذًى وَلَا غَمٍّ حَتَّى الشَّوْكَةُ يُشَاكُهَا إِلَّا كَفَّرَ اللَّهُ مِنْ خَطَايَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৮৫
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے اس لئے تمہیں غور کرلینا چاہئے کہ تم کسے اپنا دوست بنا رہے ہو ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمُؤَمَّلٌ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ مُؤَمَّلٌ الْخُرَاسَانِيُّ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِطُ وَقَالَ مُؤَمَّلٌ مَنْ يُخَالِلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৮৬
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہوتا ہے ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان تو مفلس وہ ہوتا ہے جس کے پاس کوئی روپیہ پیسہ اور ساز و سامان نہ ہو نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت کا مفلس وہ آدمی ہوگا جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا لیکن کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا اسے بٹھا لیا جائے گا اور ہر ایک کو اس کی نیکیاں دے کر ان کا بدلہ دلوایا جائے گا اگر اس کے گناہوں کا فیصلہ مکمل ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو حقداروں کے گناہ لے کر اس پر لاد دئیے جائیں گے پھر اسے جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ زُهَيْرٍ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ تَدْرُونَ مَنْ الْمُفْلِسُ قَالُوا الْمُفْلِسُ فِينَا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهُ وَلَا مَتَاعَ قَالَ إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصِيَامٍ وَصَلَاةٍ وَزَكَاةٍ وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ عِرْضَ هَذَا وَقَذَفَ هَذَا وَأَكَلَ مَالَ هَذَا فَيُقْعَدُ فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ وَهَذَا مِنْ حَسَنَاتِهِ فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ مَا عَلَيْهِ مِنْ الْخَطَايَا أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৮৭
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان فتنوں کے آنے سے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح ہوں گے اعمال صالحہ کی طرف سبقت کرلو اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مومن اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا اور اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے سے ساز و سامان کے عوض فروخت کردیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنْ الدُّنْيَا قَلِيلٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৮৮
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
عکرمہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوہریرہ (رض) کے گھر ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے میدان عرفات میں عرفہ کے دن روزہ رکھنے کا مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے میدان عرفات میں یوم عرفہ کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا حَوْشَبُ بْنُ عَقِيلٍ حَدَّثَنِي مَهْدِيٌّ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ قَالَ أَبِي وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ مَهْدِيٍّ الْعَبْديِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৮৯
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو کوئی شخص گوشت کو ذخیرہ نہ کرتا اور کھانا خراب نہ ہوتا اور اگر حضرت حواء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو الْهَجَرِيِّ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزْ اللَّحْمُ وَلَمْ يَخْبُثْ الطَّعَامُ وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯০
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے اپنے محبوب ابوالقاسم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سِمَاكٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ظَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ حِبِّي أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فَسَادَ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯১
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سورت نجم کی تلاوت فرمائی آیت سجدہ پر پہنچ کر آپ ﷺ نے بھی کیا۔ سوائے دو آدمیوں کے جو شہرت حاصل کرنا چاہتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ النَّجْمَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ مَعَهُ إِلَّا رَجُلَيْنِ أَرَادَا الشُّهْرَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯২
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو عورت خوشبو لگائے وہ نماز عشاء میں شریک نہ ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَلْقَمَةَ يَعْنِي الْفَرْوِيَّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَصَابَتْ بَخُورًا فَلَا تَشْهَدَنَّ عِشَاءَ الْآخِرَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯৩
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حسن ظن بھی حسن عبادت کا ایک حصہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ شُتَيْرِ بْنِ نَهَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ مِنْ حُسْنِ الْعِبَادَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯৪
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ثمامہ بن اثال نے اسلام قبول کرلیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا انہیں فلاں آدمی کے باغ میں لے جاؤ اور انہیں غسل کرنے کا حکم دو ۔ فائدہ ان کا مکمل واقعہ حدیث نمبر ٧٣٥٥ میں مفصل گذر چکا ہے وہاں ملاحظہ کیجئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ أُثَالٍ أَوْ أُثَالَةَ أَسْلَمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبُوا بِهِ إِلَى حَائِطِ بَنِي فُلَانٍ فَمُرُوهُ أَنْ يَغْتَسِلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯৫
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) پر سونے کی ٹڈیاں برسائیں حضرت ایوب (علیہ السلام) انہیں اپنے کپڑے میں سمیٹنے لگے اتنی دیر میں آواز آئی کہ اے ایوب ! کیا ہم نے تمہیں جتنا دے رکھا ہے وہ تمہارے لئے کافی نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ پروردگار آپ کے فضل یا رحمت سے کون مستغنی رہ سکتا ہے ؟
حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ يَعْنِي ابْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُرْسِلَ عَلَى أَيُّوبَ جَرَادٌ مِنْ ذَهَبٍ فَجَعَلَ يَلْتَقِطُ فَقَالَ أَلَمْ أُغْنِكَ يَا أَيُّوبُ قَالَ يَا رَبِّ وَمَنْ يَشْبَعُ مِنْ رَحْمَتِكَ أَوْ قَالَ مِنْ فَضْلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯৬
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک درخت کی وجہ سے راستے میں گذرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی ایک آدمی نے اسے کاٹ کر راستے سے ہٹا کر ایک طرف کردیا اور اس کی برکت سے اسے جنت میں داخلہ نصیب ہوگیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَتْ شَجَرَةٌ تُؤْذِي أَهْلَ الطَّرِيقِ فَقَطَعَهَا رَجُلٌ فَنَحَّاهَا عَنْ الطَّرِيقِ فَأُدْخِلَ بِهَا الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯৭
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پہلے زمانے میں ایک آدمی تھا جس نے توحید کے علاوہ کوئی نیک عمل کبھی نہیں کیا تھا جب اس کی موت کا وقت قریب آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو بلا کر یہ وصیت کی کہ جب میں مرجاؤں تو مجھے آگ میں جلانا یہاں تک وہ کوئلہ بن جائے پھر اسے خوب باریک کر کے پیسنا اور سمندری ہواؤں میں مجھے بکھیر دینا اس کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں نے ایسا ہی کیا اسی لمحے وہ بندہ اللہ کے قبضہ میں تھا اللہ نے اس سے پوچھا کہ اے ابن آدم تجھے اس حرکت پر کس چیز نے بر انگیختہ کیا ؟ اس نے عرض کیا کہ پروردگار تیرے خوف نے اللہ نے اس پر اس کی بخشش فرما دی۔ حالانکہ اس نے توحید کے علاوہ کوئی نیک عمل کبھی نہیں کیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ سِيرِينَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ فَلَمَّا احْتُضِرَ قَالَ لِأَهْلِهِ انْظُرُوا إِذَا أَنَا مِتُّ أَنْ يُحْرِقُوهُ حَتَّى يَدَعُوهُ حُمَمًا ثُمَّ اطْحَنُوهُ ثُمَّ اذْرُوهُ فِي يَوْمِ رِيحٍ فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا ذَلِكَ بِهِ فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا ابْنَ آدَمَ مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ قَالَ أَيْ رَبِّ مِنْ مَخَافَتِكَ قَالَ فَغُفِرَ لَهُ بِهَا وَلَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯৮
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جو پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا لیٹنے کا یہ طریقہ ایسا ہے جو اللہ کو پسند نہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا مُضْطَجِعًا عَلَى بَطْنِهِ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ لَا يُحِبُّهَا اللَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৬৯৯
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا عاص بن وائل کے دونوں بیٹے ہشام اور عمرو مومن ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ عَمْرٌو وَهِشَامٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭০০
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگوں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ جب ہم آپ کی زیارت کرتے ہیں تو ہمارے دل نرم ہوجاتے ہیں اور ہم اہل آخرت میں سے ہوجاتے ہیں اور جب آپ سے جدا ہوتے ہیں تو ہمیں دنیا اچھی لگتی ہے اور ہم اپنی عورتوں اور بچوں کو سونگھتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم ہر وقت اسی کیفیت پر رہنے لگو جو تمہیں میرے پاس حاصل ہوتی ہے تو فرشتے اپنے ہاتھوں سے تمہارے ساتھ مصافحہ کرنے لگیں اور تمہارے گھروں میں تمہاری زیارت کو آنے لگیں اور اگر تم گناہ نہ کرو گے تو اللہ ایک ایسی قوم کو لے کر آئے گا جو گناہ کرے گی تاکہ اللہ انہیں معاف فرمائے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہمیں جنت کے بارے میں کچھ بتائیے کہ اس کی تعمیر کیسی ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک اینٹ سونے کی ایک اینٹ چاندی کی اس کا گارا خالص مشک ہے اس کی کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور اس کی مٹی زعفران ہے جو شخص اس میں داخل ہوگا وہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہے گا کبھی تنگ نہ ہوگا ہمیشہ رہے گا اسے کبھی موت نہ آئے گی اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی ختم نہ ہوگی۔ تین آدمی ایسے ہیں جن کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی عادل حکمران روزہ دار تاآنکہ روزہ کھول لے اور مظلوم کی بد دعا وہ بادلوں پر سوار ہو کر جاتی ہے اور اس کے لئے آسمانوں کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں مجھے اپنی عزت کی قسم میں تیری مدد ضرور کروں گا خواہ کچھ دیر بعد ہی کروں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سَعْدٌ الطَّائِيُّ قَالَ أَبُو النَّضْرِ سَعْدٌ أَبُو مُجَاهِدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُدِلَّةِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا إِذَا رَأَيْنَاكَ رَقَّتْ قُلُوبُنَا وَكُنَّا مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ وَإِذَا فَارَقْنَاكَ أَعْجَبَتْنَا الدُّنْيَا وَشَمَمْنَا النِّسَاءَ وَالْأَوْلَادَ قَالَ لَوْ تَكُونُونَ أَوْ قَالَ لَوْ أَنَّكُمْ تَكُونُونَ عَلَى كُلِّ حَالٍ عَلَى الْحَالِ الَّتِي أَنْتُمْ عَلَيْهَا عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ بِأَكُفِّهِمْ وَلَزَارَتْكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ وَلَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ كَيْ يَغْفِرَ لَهُمْ قَالَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ حَدِّثْنَا عَنْ الْجَنَّةِ مَا بِنَاؤُهَا قَالَ لَبِنَةُ ذَهَبٍ وَلَبِنَةُ فِضَّةٍ وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ وَتُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ مَنْ يَدْخُلُهَا يَنْعَمُ وَلَا يَبْأَسُ وَيَخْلُدُ وَلَا يَمُوتُ لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ ثَلَاثَةٌ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُمْ الْإِمَامُ الْعَادِلُ وَالصَّائِمُ حَتَّى يُفْطِرَ وَدَعْوَةُ الْمَظْلُومِ تُحْمَلُ عَلَى الْغَمَامِ وَتُفْتَحُ لَهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَيَقُولُ الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ وَعِزَّتِي لَأَنْصُرَنَّكَ وَلَوْ بَعْدَ حِينٍ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ قُلْتُ لِزُهَيْرٍ أَهُوَ أَبُو الْمُجَاهِدِ قَالَ نَعَمْ قَدْ حَدَّثَنِي أَبُو الْمُدِلَّةِ مَوْلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭০১
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں رات کو آپ کے پاس آیا تھا اور تو کسی چیز نے مجھے آپ کے گھر میں داخل ہونے سے نہ رو کا البتہ گھر میں ایک آدمی کی تصویر تھی۔ دراصل گھر میں ایک پردہ تھا جس پر انسانی تصویر بنی ہوئی تھی اب آپ حکم دیجئے کہ اس تصویر کا سر کاٹ دیا جائے تاکہ وہ درخت کی طرح ہوجائے اور پردے کو کاٹنے کا حکم دیجئے جس کے دو تکیے بنا لئے جائیں جو پڑے رہیں اور انہیں روندا جائے اور گھر سے کتے کو نکالنے کا حکم دے دیجئے نبی ﷺ نے ایسا ہی کیا پتہ چلا کہ ایک کتے کا پلہ تھا جو حضرات حسنین (رض) کی چارپائی کے نیچے گھسا ہوا تھا۔ اور فرمایا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ إِنِّي كُنْتُ أَتَيْتُكَ اللَّيْلَةَ فَلَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَدْخُلَ عَلَيْكَ الْبَيْتَ الَّذِي أَنْتَ فِيهِ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ فِي الْبَيْتِ تِمْثَالُ رَجُلٍ وَكَانَ فِي الْبَيْتِ قِرَامُ سِتْرٍ فِيهِ تَمَاثِيلُ فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ يُقْطَعْ فَيُصَيَّرَ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ وَمُرْ بِالسِّتْرِ يُقْطَعْ فَيُجْعَلَ مِنْهُ وِسَادَتَانِ تُوطَآَنِ وَمُرْ بِالْكَلْبِ فَيُخْرَجَ فَفَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِذَا الْكَلْبُ جَرْوٌ كَانَ لِلْحَسَنِ وَالْحُسَيْنِ عَلَيْهِمَا السَّلَام تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمَا قَالَ وَمَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَوْ رَأَيْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ
তাহকীক: