আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯৪৫ টি

হাদীস নং: ৬৯৬২
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز فجر کی دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھاتے تو یہ دعا فرماتے کہ اے اللہ ! ولید بن ولید۔ سلمہ بن ہشام۔ عیاش بن ابی ربیعہ۔ اور مکہ مکرمہ کے دیگر کمزوروں کو قریش کے ظلم وستم سے نجات عطا فرما۔ اے اللہ ! قبیلہ مضر کی سخت پکڑ فرما اور ان پر حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے جیسی قحط سالی مسلط فرما۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ لَمَّا رَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ مِنْ الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ اللَّهُمَّ أَنْجِ الْوَلِيدَ بْنَ الْوَلِيدِ وَسَلَمَةَ بْنَ هِشَامٍ وَعَيَّاشَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ بِمَكَّةَ اللَّهُمَّ اشْدُدْ وَطْأَتَكَ عَلَى مُضَرَ وَاجْعَلْهَا عَلَيْهِمْ سِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৬৩
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں (١) ختنہ کرنا (٢) زیر ناف بال صاف کرنا (٣) مونچھیں تراشنا (٤) ناخن کاٹنا (٥) بغل کے بال نوچنا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً رِوَايَةً خَمْسٌ مِنْ الْفِطْرَةِ الْخِتَانُ وَالِاسْتِحْدَادُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৬৪
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) اور ابوسلمہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بچہ بستر والے کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَحَدِهِمَا أَوْ كِلَيْهِمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৬৫
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک تم ایسی قوم سے قتال نہ کرلو جن کے چہرے چپٹی کمانوں کی طرح ہوں گے اور ان کی جوتیاں بالوں سے بنی ہوں گی۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ نِعَالُهُمْ الشَّعْرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৬৬
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ بنوفزارہ کا ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا اے اللہ کے نبی ! میری بیوی نے ایک سیاہ رنگت والا لڑکا جنم دیا ہے دراصل وہ نبی کریم ﷺ کے سامنے اس بچے کا نسب خود سے ثابت نہ کرنے کی درخواست پیش کرنا چاہ رہا تھا نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے کہا جی ہاں ! نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ ان کی رنگت کیا ہے ؟ اس نے کہا سرخ نبی کریم ﷺ نے پوچھا کیا ان میں کوئی خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! اس میں خاکستری رنگ کا اونٹ بھی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا سرخ اونٹوں میں خاکستری رنگ کا اونٹ کیسے آگیا ؟ اس نے کہا کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو نبی کریم ﷺ نے فرمایا پھر اس بچے کے متعلق بھی یہی سمجھ لو کہ شاید کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ وَلَدًا أَسْوَدَ قَالَ هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَمَا أَلْوَانُهَا قَالَ حُمْرٌ قَالَ هَلْ فِيهَا أَوْرَقُ قَالَ إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا قَالَ أَنَّى أَتَاهُ ذَلِكَ قَالَ عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ قَالَ وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৬৭
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کے تین بچے فوت ہوگئے ہوں ایسا نہیں ہوسکتا کہ وہ اس کے باوجود جہنم میں داخل ہوجائے الاّ یہ کہ قسم پوری کرنے کے لئے جہنم میں جانا پڑے (ہمشہ جہنم میں نہیں رہے گا)
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَمُوتُ لِمُسْلِمٍ ثَلَاثَةٌ مِنْ الْوَلَدِ فَيَلِجَ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৬৮
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
امام زہری (رح) سے مرسلاً مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے لئے زمین کو مسجد اور پاکیزگی بخش قرار دے دیا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا قَالَ سُفْيَانُ أُرَاهُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৬৯
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح مروی ہے کہ جنازے لے جانے میں جلدی سے کام لیا کرو کیونکہ اگر میت نیک ہو تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر میت گناہ گار ہو تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً أَسْرِعُوا بِجَنَائِزِكُمْ فَإِنْ كَانَ صَالِحًا قَدَّمْتُمُوهُ إِلَيْهِ وَإِنْ كَانَ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً خَيْرٌ تُقَدِّمُوهَا إِلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭০
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں ضرور خرچ کرو گے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا هَلَكَ كِسْرَى فَلَا كِسْرَى بَعْدَهُ وَإِذَا هَلَكَ قَيْصَرُ فَلَا قَيْصَرَ بَعْدَهُ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭১
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب تم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) منصف حکمران کے طور پر نزول فرمائیں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ کو موقوف کردیں گے اور مال پانی کی طرح بہائیں گے یہاں تک کہ اسے قبول کرنے والا کوئی نہ رہے گا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُوشِكُ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمْ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا يَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيَفِيضُ الْمَالُ حَتَّى لَا يَقْبَلَهُ أَحَدٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭২
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں کوئی نماز پڑھائی ہمارا گمان یہ ہے کہ وہ فجر کی نماز تھی نماز سے فارغ ہونے کے بعد نبی کریم ﷺ نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے قرأت کی ہے ؟ ایک آدمی نے کہا کہ میں نے قرأت کی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا تب ہی تو میں کہوں کہ میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیوں کیا جا رہا تھا ؟ امام زہری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد لوگ جہری نمازوں میں نبی کریم ﷺ کے پیچھے قرأت کرنے سے رک گئے راوی حدیث سفیان کہتے ہیں کہ یہ آخری جملہ مجھ پر مخفی رہا (میں سن نہیں سکا)
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعَ ابْنَ أُكَيْمَةَ يُحَدِّثُ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً يَظُنُّ أَنَّهَا الصُّبْحُ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ هَلْ قَرَأَ مِنْكُمْ أَحَدٌ قَالَ رَجُلٌ أَنَا قَالَ أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ قَالَ مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَانْتَهَى النَّاسُ عَنْ الْقِرَاءَةِ فِيمَا يَجْهَرُ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سُفْيَانُ خَفِيَتْ عَلَيَّ هَذِهِ الْكَلِمَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৩
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جنازے کو لے جانے میں جلدی سے کام کرو کیونکہ اگر نیک ہو تو تم اسے خیر کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر میت گناہ گار ہو تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَرَّبْتُمُوهَا إِلَى الْخَيْرِ وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ ذَلِكَ شَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ قَالَ أَبِي وَوَافَقَ سُفْيَانَ مَعْمَرٌ وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنِ ابْنِ أَبِي حَفْصَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৪
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے ایسا ضرور ہوگا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ حَنْظَلَةَ الْأَسْلَمِيِّ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَيُهِلَّنَّ ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا أَوْ لَيَثْنِيَنَّهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৫
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہود و نصاریٰ اپنے بالوں کو مہندی وغیرہ سے نہیں رنگتے سو تم ان کی مخالفت کرو۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى لَا يَصْبُغُونَ فَخَالِفُوهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৬
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
عبد الرحمن اعرج (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ابوہریرہ (رض) علیہ نبی کریم ﷺ کے حوالے سے بکثرت حدیثیں بیان کرتے ہیں (اللہ کے یہاں سب کے جمع ہونے کا وعدہ ہے میں تو ایک مسکین آدمی تھا) اور اپنے پیٹ بھرنے کے لئے گذارے کے بقد ر کھانا حاصل کرنے کے لئے نبی کریم ﷺ کے ساتھ چمٹا رہتا تھا (مجھے وہاں سے اتنا کھانا مل جاتا تھا کہ پیٹ بھر جائے پھر سارا دن بارگاہ نبوت میں ہی رہتا) جب کہ مہاجرین بازاروں اور منڈیوں میں تجارت میں مشغول رہتے اور انصاری صحابہ اپنے اموال و باغات کی خبرگیری میں مصروف رہتے تھے۔ میں ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کی مجلس میں حاضر ہوا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کون ہے جو میری گفتگو ختم ہونے تک اپنی چادر (میرے بیٹھنے کے لئے) بچھادے پھر اسے جسم سے چمٹا لے ؟ پھر وہ مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات ہرگز نہ بھولے گا۔ چناچہ میں نے اپنے جسم پر جو چادر اوڑھ رکھی تھی وہ بچھا دی جب نبی کریم ﷺ نے اپنی گفتگو مکمل فرمائی تو میں نے اسے اپنے جسم پر لپیٹ لیا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس دن کے بعد میں نے نبی کریم ﷺ سے جو بات بھی سنی اسے کبھی نہیں بھولا۔ اعرج (رح) کہتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے تھے لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بڑی کثرت سے حدیثیں بیان کرتے ہیں اگر کتاب اللہ میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں کبھی ایک حدیث بھی بیان نہ کرتا۔ پھر وہ ان دو آیتوں کی تلاوت فرماتے جو لوگ ہماری نازل کردہ واضح دلیلوں اور ہدایت کی باتوں کو چھپاتے ہیں گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ إِنَّكُمْ تَزْعُمُونَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ الْحَدِيثَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهُ الْمَوْعِدُ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مِسْكِينًا أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مِلْءِ بَطْنِي وَكَانَ الْمُهَاجِرُونَ يَشْغَلُهُمْ الصَّفْقُ بِالْأَسْوَاقِ وَكَانَتْ الْأَنْصَارُ يَشْغَلُهُمْ الْقِيَامُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ فَحَضَرْتُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسًا فَقَالَ مَنْ يَبْسُطْ رِدَاءَهُ حَتَّى أَقْضِيَ مَقَالَتِي ثُمَّ يَقْبِضْهُ إِلَيْهِ فَلَنْ يَنْسَى شَيْئًا سَمِعَهُ مِنِّي وَبَسَطْتُ بُرْدَةً عَلَيَّ حَتَّى قَضَى حَدِيثَهُ ثُمَّ قَبَضْتُهَا إِلَيَّ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا نَسِيتُ شَيْئًا بَعْدَ أَنْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاللَّهِ لَوْلَا آيَتَانِ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا حَدَّثْتُ حَدِيثًا ثُمَّ يَتْلُو هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنْزَلْنَا مِنْ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى فَذَكَرَ الْحَدِيثَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّكُمْ تَقُولُونَ إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُكْثِرُ فَذَكَرَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৭
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں اپنا شہتیر گاڑنے کی اجازت مانگے تو اسے منع نہ کرے حضرت ابوہریرہ (رض) نے جب یہ حدیث لوگوں کے سامنے بیان کی تو لوگ سر اٹھا اٹھا کر انہیں دیکھنے لگے (جیسے انہیں اس پر تعجب ہوا ہو) حضرت ابوہریرہ (رض) یہ دیکھ کر فرمانے لگے کیا بات ہے کہ میں تمہیں اعراض کرتا ہوا دیکھ رہاہوں واللہ میں اسے تمہارے کندھوں کے درمیان مار کر (نافذ کر کے) رہوں گا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَقُرِئَ عَلَيْهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً فِي جِدَارِهِ فَلَا يَمْنَعْهُ فَلَمَّا حَدَّثَهُمْ أَبُو هُرَيْرَةَ طَأْطَئُوا رُءُوسَهُمْ فَقَالَ مَا لِي أَرَاكُمْ مُعْرِضِينَ وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৮
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ بدترین کھانا اس ولیمے کا کھانا ہوتا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو چھوڑ دیا جائے اور جو شخص دعوت ملنے کے باوجود نہ آئے تو اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سُفْيَانُ سَأَلْتُهُ عَنْهُ كَيْفَ الطَّعَامُ أَيْ طَعَامُ الْأَغْنِيَاءِ قَالَ أَخْبَرَنِي الْأَعْرَجُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ شَرُّ الطَّعَامِ الْوَلِيمَةُ يُدْعَى إِلَيْهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৭৯
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ایمان کی حالت میں اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے۔ اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے میرے والد فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان سے یہ حدیث چار مرتبہ سنی ہے اور اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جو شخص ایمان اور ثواب کی نیت سے شب قدر میں قیام کرلے اس کے گذشتہ سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ قَالَ أَبِي سَمِعْتُهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ مِنْ سُفْيَانَ وَقَالَ مَرَّةً مَنْ صَامَ رَمَضَانَ وَقَالَ مَرَّةً مَنْ قَامَ وَمَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮০
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو قیام رمضان کی ترغیب دیتے ہوئے سنا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَغِّبُ فِي قِيَامِ يَعْنِي رَمَضَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৬৯৮১
حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوہریرہ (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایتہ مروی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھونہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رِوَايَةً إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَلَا يَغْمِسْ يَدَهُ فِي إِنَائِهِ حَتَّى يَغْسِلَهَا ثَلَاثًا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي أَيْنَ بَاتَتْ يَدُهُ
tahqiq

তাহকীক: