আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৭৯৫ টি

হাদীস নং: ৭৯৮৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس قافلے کے ساتھ فرشتے نہیں رہتے جس میں کتا یا گھنٹیاں ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَصْحَبُ الْمَلَائِكَةُ رُفْقَةً فِيهَا جَرَسٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৮৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا عاص بن وائل کے دونوں بیٹے (ہشام اور عمرو) مومن ہیں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنَا الْعَاصِ مُؤْمِنَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৮৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کسی کو مارے تو چہرے پر مارنے سے اجتناب کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا قَاتَلَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيَجْتَنِبْ الْوَجْهَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৯০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم لوگ گذشتہ امتوں والے اعمال میں بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر مبتلا ہوجاؤگے حتٰی کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی داخل ہوجاؤگے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ اہل کتاب ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تو اور کون ؟
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ وَبَاعًا فَبَاعًا حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَدَخَلْتُمُوهُ قَالُوا وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَهْلُ الْكِتَابِ قَالَ فَمَنْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৯১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اللہ نے ہفتہ کے دن مٹی کو پیدا فرمایا اتوار کے دن پہاڑوں کو پیر کے دن درختوں کو منگل کے دن ناپسندیدہ امور اور بدھ کے دن نور کو پیدا کیا اور جمعرات کے دن اس میں جانداروں کو بسایا جمعہ کے دن نماز عصر کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق فرمائی یہ آخری تخلیق تھی جو جمعہ کی آخری ساعتوں میں عصر اور رات کے درمیان وجود میں آئی۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ مَوْلًى لِأُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي فَقَالَ خَلَقَ اللَّهُ التُّرْبَةَ يَوْمَ السَّبْتِ وَخَلَقَ الْجِبَالَ فِيهَا يَوْمَ الْأَحَدِ وَخَلَقَ الشَّجَرَ فِيهَا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَخَلَقَ الْمَكْرُوهَ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ وَخَلَقَ النُّورَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ وَبَثَّ فِيهَا الدَّوَابَّ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَخَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام بَعْدَ الْعَصْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ آخِرَ الْخَلْقِ فِي آخِرِ سَاعَةٍ مِنْ سَاعَاتِ الْجُمُعَةِ فِيمَا بَيْنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৯২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک انصاری کے گھر تشریف لے جاتے تھے ان کے پیچھے بھی ایک گھر تھا ان لوگوں پر یہ بات گراں گذری اور وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! آپ فلاں کے گھر تو تشریف لاتے ہیں ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے گھر میں کتا ہے وہ کہنے لگے کہ ان لوگوں کے گھر میں بھی تو بلی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلی (ایسا) درندہ ہے (جو رحمت کے فرشتوں کو آنے سے نہیں روکتا)
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عِيسَى يَعْنِي بْنَ الْمُسَيَّبِ حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي دَارَ قَوْمٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَدُونَهُمْ دَارٌ قَالَ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ تَأْتِي دَارَ فُلَانٍ وَلَا تَأْتِي دَارَنَا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ فِي دَارِكُمْ كَلْبًا قَالُوا فَإِنَّ فِي دَارِهِمْ سِنَّوْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ السِّنَّوْرَ سَبُعٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৯৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے تین مرتبہ فرمایا کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی ایک دیہاتی کہنے لگا کہ پھر اونٹوں کا کیا معاملہ ہے جو صحراء میں ہر نوں کی طرح چوکڑیاں بھرتے ہیں اچانک ان میں ایک خارشی اونٹ شامل ہوجاتا ہے اور سب کو خارش زدہ کردیتا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے کچھ دیر خاموش رہ کر اس سے پوچھا کہ اس پہلے اونٹ کو خارش کہاں سے لگی ؟ کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی صفر کا مہینہ منحوس نہیں ہوتا اور کھوپڑی سے کیڑا نکلنے کی کوئی حقیقت نہیں ہے اللہ نے ہر انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی موت مصیبت اور رزق سب لکھ دیا ہے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُعْدِي شَيْءٌ شَيْئًا لَا يُعْدِي شَيْءٌ شَيْئًا ثَلَاثًا قَالَ فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النُّقْبَةَ تَكُونُ بِمِشْفَرِ الْبَعِيرِ أَوْ بِعَجْبِهِ فَتَشْمَلُ الْإِبِلَ جَرَبًا قَالَ فَسَكَتَ سَاعَةً فَقَالَ مَا أَعْدَى الْأَوَّلَ لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ خَلَقَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ فَكَتَبَ حَيَاتَهَا وَمَوْتَهَا وَمُصِيبَاتِهَا وَرِزْقَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৯৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت ﷺ میں یہ سوال پیش کیا کہ لوگوں میں عمدہ رفاقت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہے ؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون ؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون ؟ فرمایا تمہاری والدہ اس نے پوچھا اس کے بعد کون۔ فرمایا تمہارے والد۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شُبْرُمَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَقُّ مِنِّي بِحُسْنِ الصُّحْبَةِ قَالَ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ ثُمَّ أُمُّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أَبَاكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৯৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن کافر کی ایک ڈاڑھ احد پہاڑ کے برابر ہوگی اور اس کی کھال کی چوڑائی ستر گز ہوگی اور اس کی ران ورقان پہاڑ کے برابر ہوگی اور جہنم میں اس کے بیٹھنے کی جگہ میرے اور رہذہ کے درمیانی فاصلے جتنی ہوگی۔
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضِرْسُ الْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلُ أُحُدٍ وَعَرْضُ جِلْدِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا وَفَخِذُهُ مِثْلُ وَرِقَانَ وَمَقْعَدُهُ مِنْ النَّارِ مِثْلُ مَا بَيْنِي وَبَيْنَ الرَّبَذَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৯৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ایک مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی ان میں سے ایک دوسرے کی نسبت زیادہ معزز تھا لیکن اس نے چھینکے کے بعد الحمد اللہ نہیں کہا لہٰذا نبی کریم ﷺ نے اسے جواب نہیں دیا اور دوسرے نے الحمد اللہ کہا لہذا نبی کریم ﷺ نے اسے جواب دے دیا وہ آدمی کہنے لگا کہ مجھے چھینک آئی تو آپ نے جواب نہیں دیا اور اسے چھینک آئی تو أپ نے اسے جواب دے دیا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس نے اللہ کو یاد کیا تھا چناچہ میں نے بھی اسے یاد رکھا اور تم نے اسے بھلا دیا لہذا میں نے بھی تمہیں بھلا دیا۔
حَدَّثَنَا رِبْعِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدُهُمَا أَشْرَفُ مِنْ الْآخَرِ فَعَطَسَ الشَّرِيفُ فَلَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَطَسَ الْآخَرُ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ الشَّرِيفُ عَطَسْتُ عِنْدَكَ فَلَمْ تُشَمِّتْنِي وَعَطَسَ هَذَا عِنْدَكَ فَشَمَّتَّهُ قَالَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا ذَكَرَ اللَّهَ فَذَكَرْتُهُ وَإِنَّكَ نَسِيتَ اللَّهَ فَنَسِيتُكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৯৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) نے ایک مرتبہ مروان بن حکم کو حدیث سناتے ہوئے فرمایا کہ میں نے ابوالقاسم جو کہ صادق و مصدوق تھے ﷺ سے یہ حدیث سنی ہے کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگی۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ ظَالِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا الْقَاسِمِ الصَّادِقَ الْمَصْدُوقَ يَقُولُ هَلَاكُ أُمَّتِي عَلَى رُءُوسِ غِلْمَةٍ أُمَرَاءَ سُفَهَاءَ مِنْ قُرَيْشٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৯৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگو ! اللہ پاکیزہ ہے اور پاکیزہ چیزوں ہی کو قبول کرتا ہے اور اس نے عام مسلمانوں کو بھی وہی حکم دیا ہے جو پیغمبروں کو دیا ہے چناچہ ارشاد ہے اے رسولو ! پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو میں تمہارے اعمال کو جانتا ہوں اور فرمایا اے ایمان والو ! ہماری دی ہوئی پاکیزہ چیزیں کھایا کرو۔ پھر نبی کریم ﷺ نے ایک ایسے آدمی کا ذکر کیا جو طویل سفر کر کے آیا ہو اس کے بال بکھرے ہوئے ہوں گرد و غبار سے وہ اٹا ہوا ہو اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا اٹھا کر یا رب یا رب کر رہا ہو جبکہ اس کا کھانا بھی حرام کا ہو پینا بھی حرام کا ہو لباس بھی حرام کا ہو اور اس کی غذا بھی حرام کی ہو تو اس کی دعا کہاں سے قبول ہو ؟
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إِلَّا طَيِّبًا وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ وَقَالَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ ثُمَّ يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لِذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৯৯৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اکیلے نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت ستائیس درجے زیادہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَفْضُلُ صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ عَلَى الْوَحْدَةِ سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو مسلمان مسجد کو اپنا وطن بنائے اور اس کا مقصد صرف ذکر کرنا اور نماز پڑھنا ہی ہو تو اللہ تعالیٰ اس سے ایسے خوش ہوتے ہیں جیسے کسی مسافر کے اپنے گھر پہنچنے پر اس کے اہل خانہ خوش ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ وَابْنُ أَبِي بُكَيْرٍ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُوَطِّنُ قَالَ ابْنُ أَبِي بَكْرٍ لَا يُوَطِّنُ رَجُلٌ مُسْلِمٌ الْمَسَاجِدَ لِلصَّلَاةِ وَالذِّكْرِ إِلَّا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ حَتَّى يَخْرُجَ كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ بِغَائِبِهِمْ إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک آدمی سے بیعت لی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمت اسی کے پاسبان پامال کریں گے اور جب لوگ بیت اللہ کی حرمت کو پامال کردیں پھر عرب کی ہلاکت کے متعلق سوال نہ کرنا بلکہ حبشی آئیں گے اور اسے اس طرح ویران کردیں گے کہ دوبارہ کبھی آباد نہ ہوسکے گا اور یہی لوگ اس کا خزانہ نکالنے والے ہوں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَإِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ أَبَا قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَأْتِي الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا وَهُمْ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کا حلیہ بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے کہ آپ ﷺ کے ہاتھ بھرے ہوئے۔ آنکھوں کی پلکیں لمبی اور گھنی اور دونوں کندھوں کے درمیان فاصلہ تھا آپ ﷺ پوری طرح متوجہ ہوتے اور پوری طرح رخ پھیرتے میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہ فحش گو یا بتکلف بےحیاء نہ بنتے تھے اور نہ ہی بازاروں میں شور مچاتے پھرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ يَنْعَتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ شَبْحَ الذِّرَاعَيْنِ أَهْدَبَ أَشْفَارِ الْعَيْنَيْنِ بَعِيدَ مَا بَيْنَ الْمَنْكِبَيْنِ يُقْبِلُ جَمِيعًا وَيُدْبِرُ جَمِيعًا بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب عبد مملوک سے نماز کا حساب ہوگا اور اس میں کچھ کمی واقع ہوگی تو اس سے پوچھا جائے گا کہ تو نے اس میں کوتاہی کیوں کی ؟ وہ عرض کرے گا کہ پروردگار تو نے مجھ پر ایک مالک مسلط کر رکھا تھا جس نے مجھے نماز سے روکے رکھا اللہ فرمائے گا کہ میں نے تجھے اس کے مال میں سے اپنے لئے کچھ چوری کرتے ہوئے دیکھا تھا تو کیا اپنے لئے اس کا عمل نہیں چوری کرسکتا تھا ؟ اس طرح اس پر حجت تمام ہوجائے گی۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ ثَنَا الْمُبَارَكُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ ذَكَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْعَبْدَ الْمَمْلُوكَ لَيُحَاسَبُ بِصَلَاتِهِ فَإِنْ نَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا قِيلَ لَهُ نَقَصْتَ مِنْهَا فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلَّطْتَ عَلَيَّ مَلِيكًا شَغَلَنِي عَنْ صَلَاتِي فَيَقُولُ قَدْ رَأَيْتُكَ تَسْرِقُ مِنْ مَالِهِ لِنَفْسِكَ فَهَلَّا سَرَقْتَ لِنَفْسِكَ مِنْ عَمَلِكَ أَوْ عَمَلِهِ قَالَ فَيَتَّخِذُ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحُجَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انسان کے ہر جوڑ پر صبح کے وقت صدقہ واجب ہوتا ہے مسلمانوں کو یہ بات بڑی مشکل معلوم ہوئی نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہارا اللہ کے بندوں کو سلام کرنا بھی صدقہ ہے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹانا بھی صدقہ ہے امر باالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا بھی صدقہ ہے اس کے علاوہ بھی کچھ چیزیں بیان فرمائیں جو مجھے یاد نہیں رہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ بْنُ فُضَالَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ سُلَامَى مِنْ ابْنِ آدَمَ صَدَقَةٌ حِينَ يُصْبِحُ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ سَلَامَكَ عَلَى عِبَادِ اللَّهِ صَدَقَةٌ وَإِمَاطَتَكَ الْأَذَى عَنْ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ وَإِنَّ أَمْرَكَ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ وَنَهْيَكَ عَنْ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ وَحَدَّثَ أَشْيَاءَ مِنْ نَحْوِ هَذَا لَمْ أَحْفَظْهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنیا میں تو وہی شخص ریشم پہنتا ہے جسے آخرت میں اسے پہننے کی امید نہ ہو اور دنیا میں وہی شخص ریشم پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا يَرْجُو أَنْ يَلْبَسَهُ فِي الْآخِرَةِ إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ قَالَ الْحَسَنُ فَمَا بَالُ أَقْوَامٍ يَبْلُغُهُمْ هَذَا عَنْ نَبِيِّهِمْ فَيَجْعَلُونَ حَرِيرًا فِي ثِيَابِهِمْ وَفِي بُيُوتِهِمْحَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَيْنُ تَزْنِي وَالْقَلْبُ يَزْنِي فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا الْقَلْبِ التَّمَنِّي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ مَا هُنَالِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮০০৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ آنکھ بھی زنا کرتی ہے اور دل بھی آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے دل کا زنا تمنا اور خواہش کرنا ہے جبکہ شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَيْنُ تَزْنِي وَالْقَلْبُ يَزْنِي فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا الْقَلْبِ التَّمَنِّي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ مَا هُنَالِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ
tahqiq

তাহকীক: