আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৭৯৫ টি

হাদীস নং: ১০২৪৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایسا ضرور ہوگا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مقام فج الروحاء سے حج یا عمرہ یا دونوں کا احرام باندھیں گے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيُهِلَّنَّ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ بِفَجِّ الرَّوْحَاءِ بِالْحَجِّ أَوْ الْعُمْرَةِ أَوْ لَيُثَنِّيَهُمَا جَمِيعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৪৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھا کرو البتہ اس شخص کو اجازت ہے جس کا معمول پہلے سے روزہ رکھنے کا ہو کہ اسے روزہ رکھ لینا چاہئے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ وَحُسَيْنُ بْنُ ذَكْوَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقَدَّمُوا قَبْلَ رَمَضَانَ بِصَوْمِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ إِلَّا رَجُلًا كَانَ يَصُومُ صِيَامًا فَيَصِلُهُ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৪৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
ابوعثمان (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوہریرہ (رض) سفر میں تھے لوگوں نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا تو حضرت ابوہریرہ (رض) کو کھانا کھانے کے لئے بلا بھیجا وہ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے قاصد سے کہلا بھیجا کہ میں روزے سے ہوں چناچہ لوگوں نے کھانا کھانا شروع کردیا جب وہ کھانے سے فارغ ہونے کے قریب ہوئے تو حضرت ابوہریرہ (رض) بھی آگئے اور کھانا شروع کردیا لوگ قاصد کی طرف دیکھنے لگے اس نے کہا مجھے کیوں گھورتے ہو انہوں نے خود ہی مجھ سے کہا تھا کہ میں روزے سے ہوں حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا یہ سچ کہہ رہا ہے میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ماہ رمضان کے مکمل روزے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیناپورے سال روزہ رکھنے کے برابر ہے چناچہ میں ہر مہینے تین روزے رکھتا ہوں میں جب روزہ کھولتاہوں (نہیں رکھتا) تو اللہ کی تخفیف کے سائے تلے اور رکھتا ہوں تو اللہ کی تضعیف (ہر عمل کا بدلہ دگنا کرنے) کے سائے تلے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ فِي سَفَرٍ فَلَمَّا نَزَلُوا أَرْسَلُوا إِلَيْهِ وَهُوَ يُصَلِّي فَقَالَ إِنِّي صَائِمٌ فَلَمَّا وَضَعُوا الطَّعَامَ وَكَادَ أَنْ يَفْرَغُوا جَاءَ فَقَالُوا هَلُمَّ فَكُلْ فَأَكَلَ فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَى الرَّسُولِ فَقَالَ مَا تَنْظُرُونَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَ إِنِّي صَائِمٌ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ صَدَقَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَوْمُ شَهْرِ الصَّبْرِ وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ صَوْمُ الدَّهْرِ كُلِّهِ فَقَدْ صُمْتُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ أَوَّلِ الشَّهْرِ فَأَنَا مُفْطِرٌ فِي تَخْفِيفِ اللَّهِ صَائِمٌ فِي تَضْعِيفِ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৫০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن حذافہ (رض) کو منیٰ میں گھوم پھر کر یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ ان ایام میں روزہ نہ رکھوایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا صَالِحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ يَطُوفُ فِي مِنًى أَنْ لَا تَصُومُوا هَذِهِ الْأَيَّامَ فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৫১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص روزہ رکھے اور بھولے سے کچھ کھا پی لے تو اسے اپنا روزہ پھر بھی پورا کرنا چاہئے کیونکہ اسے اللہ نے کھلایا پلایا ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عَوْفٌ وَهِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ أَوْ شَرِبَ نَاسِيًا وَهُوَ صَائِمٌ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا أَطْعَمَهُ اللَّهُ وَسَقَاهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৫২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا امام ضامن ہوتا ہے اور مؤذن امانت دار اے اللہ اماموں کی رہنمائی فرما اور موذنین کی مغفرت فرما۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ وَالْإِمَامُ ضَامِنٌ اللَّهُمَّ أَرْشِدْ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৫৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے دباء اور مزفت میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ فِي الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৫৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یوں دعاء فرمایا کرتے تھے اے اللہ میرے اگلے پچھلے پوشیدہ اور ظاہر سب گناہوں اور حد سے تجاوز کرنے کو معاف فرما اور ان گناہوں کو بھی معاف فرما جنہیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے پیچھے کرنے والا ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِنْ دُعَائِهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَإِسْرَافِي وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৫৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے کیونکہ اگر وہ نیکو کار ہے تو ہوسکتا ہے کہ اس کی نیکیوں میں اور اضافہ ہوجائے اور اگر وہ گناہگار ہے تو ہوسکتا ہے کہ توبہ کرلے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ إِمَّا مُسِيءٌ فَيَسْتَغْفِرُ أَوْ مُحْسِنٌ فَيَزْدَادُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৫৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے پاس سو رحمتیں ہیں جن میں سے اللہ نے تمام زمین والوں پر صرف ایک رحمت نازل فرمائی ہے اور باقی ننانوے رحمتیں اللہ نے اپنے اولیاء کے لئے رکھ چھوڑی ہیں پھر اللہ اس ایک رحمت کو بھی لے کر ان ننانوے رحمتوں کے ساتھ ملا دے گا اور قیامت کے دن اپنے اولیاء پر پوری سور حمتیں فرمائے گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ الْحَسَنِ قَالَ بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِائَةُ رَحْمَةٍ وَإِنَّهُ قَسَمَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ فَوَسِعَتْهُمْ إِلَى آجَالِهِمْ وَذَخَرَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ رَحْمَةً لِأَوْلِيَائِهِ وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَابِضٌ تِلْكَ الرَّحْمَةَ الَّتِي قَسَمَهَا بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ إِلَى التِّسْعَةِ وَالتِّسْعِينَ فَيُكَمِّلُهَا مِائَةَ رَحْمَةٍ لِأَوْلِيَائِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ مُحَمَّدٌ فِي حَدِيثِهِ وَحَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ وَخِلَاسٌ كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৫৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ اقرع بن حابس نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ حضرات حسن (رض) کو چوم رہے ہیں وہ کہنے لگے کہ میرے تو دس بیٹے ہیں لیکن میں نے ان میں سے کسی کو کبھی نہیں چوما ؟ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو کسی پر رحم نہیں کرتا اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَبِّلُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ إِنَّ لِي عَشَرَةً مِنْ الْوَلَدِ مَا قَبَّلْتُ مِنْهُمْ أَحَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৫৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو جبرائیل (علیہ السلام) سے کہتا ہے کہ میں فلاں بندے سے محبت کرتا ہوں تم بھی اس سے محبت کرو اور جبرائیل آسمان والوں سے کہتے ہیں کہ تمہارا پروردگار فلاں شخص سے محبت کرتا ہے اس لئے تم بھی اس سے محبت کرو چناچہ سارے آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اس کے بعد زمین والوں میں اس کی مقبولیت ڈال دی جاتی ہے
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ ثُمَّ يُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَبَّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي أَهْلِ الْأَرْضِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৫৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حضرت جبرائیل (علیہ السلام) مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت اتنے تسلسل کے ساتھ کرتے رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ عنقریب وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ دَاوُدَ بْنَ فَرَاهِيجَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৬০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی مسلمان سے دنیا کی پریشانیوں میں سے کسی ایک پریشانی کو دور کرتا ہے تو اللہ قیامت کے دن اس کی ایک پریشانی کو دور فرمائے گا جو شخص کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ آخرت میں اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا اور بندہ جب تک اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ نَفَّسَ عَنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ عَنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৬১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلاسکتا صحابہ کرام (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ آپ کو بھی نہیں فرمایا مجھے بھی نہیں الاّ یہ کہ میرا رب مجھے اپنی مغفرت اور رحمت سے ڈھانپ لے لہذا تم راہ راست پر رہو۔ لیکن صراط مستقیم کے قریب رہو صبح وشام نکلو رات کا کچھ وقت عبادت کے لئے رکھو اور میانہ روی اختیار کرو منزل مقصد تک پہنچ جاؤگے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُنْجِي أَحَدَكُمْ عَمَلُهُ قَالُوا وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَاغْدُوا وَرُوحُوا وَشَيْءٌ مِنْ الدُّلْجَةِ وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৬২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا اے اہل ایمان ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت پہنچائی پھر اللہ نے انہیں ان کی کہی ہوئی بات سے بری کردیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑے شرم وحیاء اور پردے والے تھے اسی وجہ سے ان کے جسم پر کسی آدمی کی نظر نہیں پڑتی تھی، بنی اسرائیل کے کچھ لوگوں نے انہیں اذیت دی اور وہ کہنے لگے کہ یہ جو اتنا پردہ کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے جسم میں کوئی عیب ہے برص کا یا غدود پھولے ہونے کا (یا کوئی بیماری) اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی کہی ہوئی باتوں سے بری کردیں چناچہ ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غسل کرنے کے لئے گئے تو اپنے کپڑے حسب معمول اتار کر پتھر پر رکھ دئیے وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پیچھے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ وہ بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے پاس پہنچ کر رک گیا انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو برہنہ دیکھا تو جسمانی طور پر وہ انتہائی حسین اور ان کے لگائے ہوئے عیب سے بری تھے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے اپنے کپڑے لے کر اسے مارنا شروع کردیا حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ واللہ ! اس پتھر پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی مار کی وجہ سے چار پانچ نشان پڑگئے تھے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخِلَاسٌ وَمُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مُوسَى كَانَ رَجُلًا حَيِيًّا سِتِّيرًا لَا يَكَادُ يُرِي مِنْ جِلْدِهِ شَيْئًا اسْتِحْيَاءً مِنْهُ قَالَ فَآذَاهُ مَنْ آذَاهُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالُوا مَا يَتَسَتَّرُ هَذَا التَّسَتُّرَ إِلَّا مِنْ عَيْبٍ بِجِلْدِهِ إِمَّا بَرَصًا وَإِمَّا أُدْرَةً وَقَالَ رَوْحٌ مَرَّةً أُدْرَةً وَإِمَّا آفَةً وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرَادَ أَنْ يُبَرِّئَهُ مِمَّا قَالُوا وَإِنَّ مُوسَى خَلَا يَوْمًا فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ ثُمَّ اغْتَسَلَ فَلَمَّا فَرَغَ أَقْبَلَ إِلَى ثَوْبِهِ لِيَأْخُذَهُ وَإِنَّ الْحَجَرَ عَدَا بِثَوْبِهِ فَأَخَذَ مُوسَى عَصَاهُ وَطَلَبَ الْحَجَرَ وَجَعَلَ يَقُولُ ثَوْبِي حَجَرُ ثَوْبِي حَجَرُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَرَأَوْهُ عُرْيَانًا كَأَحْسَنِ الرِّجَالِ خَلْقًا وَأَبْرَأَهُ مِمَّا كَانُوا يَقُولُونَ لَهُ وَقَامَ الْحَجَرُ فَأَخَذَ ثَوْبَهُ وَطَفِقَ بِالْحَجَرِ ضَرْبًا بِعَصَاهُ قَالَ فَوَاللَّهِ إِنَّ فِي الْحَجَرِ لَنَدَبًا مِنْ أَثَرِ ضَرْبِهِ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৬৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے تھے اللہ کی قسم ہے میں بھوک کی وجہ سے اپنے پیٹ کو زمین پر سہارا دے لیتا تھا اور بھوک کے غلبے کی وجہ سے پیٹ پر پتھرباندھ لیتا تھا ایک روز میں مسلمانوں کے راستہ میں جا کر بیٹھ گیا اسی راستہ سے لوگ جایا کرتے تھے تھوڑی دیر میں ادھر سے ابوبکر (رض) گزرے میں نے ان سے قرآن کی ایک آیت دریافت کی اور صرف اس لئے دریافت کی تھی کہ مجھے باتیں کرتے ہوئے اپنے ساتھ لے جائیں گے لیکن حضرت ابوبکر (رض) چلے گئے کھانا نہ کھلایا پھر حضرت عمر (رض) گزرے میں نے ان سے بھی قرآن کی ایک آیت دریافت کی اور صرف اس لئے دریافت کی کہ مجھے باتیں کرتے ہوئے اپنے ساتھ لے جائیں گے لیکن وہ بھی گزر گئے اور کھانا نہ کھلایا۔ اخیر میں حضور گرامی ﷺ نکلے اور مجھے دیکھ کر مسکرائے میرے دل کی بات اور چہرہ کی علامات پہچان گئے پھر فرمایا ابوہریرہ (رض) میں نے عرض کیا جی حضور فرمایا (گھرآکر) ملنا یہ فرما کر تشریف لے گئے اور میں پیچھے پیچھے چل دیاحضور ﷺ اندر داخل ہوئے مجھے اجازت دی اور میں بھی اندر پہنچ گیا وہاں حضور ﷺ کو ایک پیالہ دودھ رکھا ہوا ملا فرمایا یہ کہاں سے آیا ؟ عرض کیا گیا فلاں شخص نے حضور ﷺ کو تحفہ میں بھیجا تھا فرمایا ابوہریرہ ! میں نے عرض کیا جی حضور ﷺ فرمایا اہل صفہ کو جا کر بلا لاؤ اہل صفہ درحقیقت اسلام کے مہمان تھے ان کا گھربار اور مال نہ تھا حضور ﷺ کے پاس جب صدقہ کا مال آتا تھا تو حضور ﷺ اس میں سے خود کچھ نہ کھاتے تھے بلکہ ان کو بھیج دیتے تھے۔ اور تحفہ آتا تو خود بھی اس میں سے کچھ لیتے تھے اور ان کے پاس بھی بھیج دیتے تھے ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں مجھے حضور ﷺ کے اس ار شاد پر ذراسی گھبراہٹ ہوئی اور میں نے کہا کہ اہل صفہ کے مقابلہ میں اس دودھ کی مقدار ہی کیا ہے ؟ بہتر تو یہ تھا کہ میں اس میں سے پی لیتا تاکہ قوت حاصل ہوجاتی اب اہل صفہ آئیں گے تو حضور ﷺ مجھ کو حکم دیں گے اور میں حسب الحکم ان کو دوں گا اور ممکن نہیں ہے کہ میرے حصہ میں اس دودھ کی کچھ مقدار پہنچے لیکن چونکہ خداو رسول کی تعمیل حکم سے کوئی چارہ نہ تھا اس لئے میں جا کر اہل صفہ کو بلا لایا سب لوگ آگئے باریاب ہونے کی اجازت چاہی اجازت دے دی گئی سب لوگ گھر میں اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے حضور ﷺ نے فرمایا ابوہریرہ (رض) پیالہ لے کر ان کو دے دو میں پیالہ لے کر ایک آدمی کو دینے لگا وہ جب سیر ہو کر پی لیتا تو مجھے واپس دے دیتا اور میں دوسرے کو دے دیتا وہ بھی سیر ہو کر مجھے واپس دے دیتا تھا اسی طرح سب سیر ہوگئے اور رسول اللہ ﷺ تک پیالہ پہنچنے کی نوبت پہنچی حضور ﷺ نے پیالہ لے کر میرے ہاتھ پر رکھ دیا اور میری طرف دیکھ کر مسکرائے پھر فرمایا ابوہریرہ (رض) میں نے عرض کیا جی حضور ﷺ فرمایا میں اور تم بس دو آدمی رہ گئے ہیں میں نے جواب دیا حضور نے سچ فرمایا فرمایا بیٹھ کر پی لو میں نے بیٹھ کر پیا فرمایا اور پیو میں نے اور پیا اس طرح برابر حضور ﷺ مجھ سے فرماتے جاتے تھے کہ پیو اور میں برابر پیتا رہا یہاں تک کہ میں نے عرض کیا قسم ہے اس اللہ کی جس نے حضور ﷺ کو نبی برحق بنا کر بھیجا ہے اب گنجائش نہیں ہے فرمایا تو اب مجھے دکھاؤ میں نے حضور ﷺ کو پیالہ دے دیا آپ ﷺ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور بسم اللہ کہہ کر بقیہ دودھ پی لیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُولُ وَاللَّهِ إِنْ كُنْتُ لَأَعْتَمِدُ بِكَبِدِي عَلَى الْأَرْضِ مِنْ الْجُوعِ وَإِنْ كُنْتُ لَأَشُدُّ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِي مِنْ الْجُوعِ وَلَقَدْ قَعَدْتُ يَوْمًا عَلَى طَرِيقِهِمْ الَّذِي يَخْرُجُونَ مِنْهُ فَمَرَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي فَلَمْ يَفْعَلْ فَمَرَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَسَأَلْتُهُ عَنْ آيَةٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ مَا سَأَلْتُهُ إِلَّا لِيَسْتَتْبِعَنِي فَلَمْ يَفْعَلْ فَمَرَّ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَفَ مَا فِي وَجْهِي وَمَا فِي نَفْسِي فَقَالَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ الْحَقْ وَاسْتَأْذَنْتُ فَأَذِنَ لِي فَوَجَدْتُ لَبَنًا فِي قَدَحٍ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا اللَّبَنُ فَقَالُوا أَهْدَاهُ لَنَا فُلَانٌ أَوْ آلُ فُلَانٍ قَالَ أَبَا هُرَيْرَةَ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ انْطَلِقْ إِلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ فَادْعُهُمْ لِي قَالَ وَأَهْلُ الصُّفَّةِ أَضْيَافُ الْإِسْلَامِ لَمْ يَأْوُوا إِلَى أَهْلٍ وَلَا مَالٍ إِذَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدِيَّةٌ أَصَابَ مِنْهَا وَبَعَثَ إِلَيْهِمْ مِنْهَا قَالَ وَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ وَكُنْتُ أَرْجُو أَنْ أُصِيبَ مِنْ اللَّبَنِ شَرْبَةً أَتَقَوَّى بِهَا بَقِيَّةَ يَوْمِي وَلَيْلَتِي فَقُلْتُ أَنَا الرَّسُولُ فَإِذَا جَاءَ الْقَوْمُ كُنْتُ أَنَا الَّذِي أُعْطِيهِمْ فَقُلْتُ مَا يَبْقَى لِي مِنْ هَذَا اللَّبَنِ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ طَاعَةِ اللَّهِ وَطَاعَةِ رَسُولِهِ بُدٌّ فَانْطَلَقْتُ فَدَعَوْتُهُمْ فَأَقْبَلُوا فَاسْتَأْذَنُوا فَأَذِنَ لَهُمْ فَأَخَذُوا مَجَالِسَهُمْ مِنْ الْبَيْتِ ثُمَّ قَالَ أَبَا هِرٍّ خُذْ فَأَعْطِهِمْ فَأَخَذْتُ الْقَدَحَ فَجَعَلْتُ أُعْطِيهِمْ فَيَأْخُذُ الرَّجُلُ الْقَدَحَ فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى ثُمَّ يَرُدُّ الْقَدَحَ فَأُعْطِيهِ الْآخَرَ فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى ثُمَّ يَرُدُّ الْقَدَحَ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى آخِرِهِمْ وَدَفَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ الْقَدَحَ فَوَضَعَهُ فِي يَدِهِ وَبَقِيَ فِيهِ فَضْلَةٌ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَنَظَرَ إِلَيَّ وَتَبَسَّمَ فَقَالَ أَبَا هِرٍّ قُلْتُ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ بَقِيتُ أَنَا وَأَنْتَ فَقُلْتُ صَدَقْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَاقْعُدْ فَاشْرَبْ قَالَ فَقَعَدْتُ فَشَرِبْتُ ثُمَّ قَالَ لِيَ اشْرَبْ فَشَرِبْتُ فَمَا زَالَ يَقُولُ لِيَ اشْرَبْ فَأَشْرَبُ حَتَّى قُلْتُ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَجِدُ لَهَا فِيَّ مَسْلَكًا قَالَ نَاوِلْنِي الْقَدَحَ فَرَدَدْتُ إِلَيْهِ الْقَدَحَ فَشَرِبَ مِنْ الْفَضْلَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৬৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب کچھ لوگ کسی جگہ اکٹھے ہوں اور اللہ کا ذکر کئے بغیر ہی جدا ہوجائیں تو یہ ایسے ہی ہے جیسے مردار گدھے کی لاش سے جدا ہوئے اور وہ مجلس ان کے لئے قیامت کے دن باعث حسرت ہوگی۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا جَلَسَ قَوْمٌ مَجْلِسًا فَتَفَرَّقُوا عَنْ غَيْرِ ذِكْرٍ إِلَّا تَفَرَّقُوا عَنْ مِثْلِ جِيفَةِ حِمَارٍ وَكَانَ ذَلِكَ الْمَجْلِسُ عَلَيْهِمْ حَسْرَةً يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৬৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ مکمل دعاء یہ ہے کہ آدمی یوں کہے اے اللہ آپ میرے رب اور میں آپ کا عبد ہوں میں نے اپنی جان پر ظلم کیا مجھے اپنے گناہوں کا اعتراف ہے پروردگار ! تو میرے گناہوں کو معاف فرما تو ہی میرا رب ہے اور تیرے علاوہ کوئی بھی گناہوں کو معاف نہیں کرسکتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے
حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ عَاصِمِ بْنِ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ إِنَّ أَوْفَقَ الدُّعَاءِ أَنْ يَقُولَ الرَّجُلُ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي يَا رَبِّ فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي إِنَّكَ أَنْتَ رَبِّي إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذَّنْبَ إِلَّا أَنْتَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حُسَيْنٍ الْمَكِّيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১০২৬৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص دن میں سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہہ لے اس کے سارے گناہ مٹادئیے جائیں گے خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ مَوْلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ
tahqiq

তাহকীক: