আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৭৯৫ টি
হাদীস নং: ১০৩৪৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ضجنان اور عسفان کے درمیان پڑاؤ ڈالا مشرکین نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان لوگوں کو اپنی نماز عصر اپنے آباؤ اجداد اور اپنی بیویوں سے بھی زیادہ محبوب ہے اس لئے تم اس وقت اکٹھے ہو کر حملہ کردینا تاکہ وہ ایک دفعہ ہی میں شکست خوردہ ہوجائیں ادھر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) حضور اقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نبی کریم ﷺ سے اپنے صحابہ (رض) کو دو گروہوں میں کھڑا کرنے کے لئے کہا تاکہ ایک گروہ کو آپ ﷺ نماز پڑھا دیں اور دوسرا ان کے پیچھے دشمن کے سامنے ڈٹا رہے اور وہ اپنا حفاظتی سامان اور اسلحہ اپنے ساتھ رکھے پھر دوسرا گروہ آکر نبی کریم ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ لے اور پہلا گر وہ اپنا حفاظتی سامان اور اسلحہ اپنے ساتھ رکھے اس طرح ان کی نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک ایک رکعت ہوجائے گی اور نبی کریم ﷺ کی دونوں رکعتیں مکمل ہوجائیں گی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْهُنَائِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ بَيْنَ ضَجَنَانِ وَعُسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ إِنَّ لِهَؤُلَاءِ صَلَاةً هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَبْنَائِهِمْ وَهِيَ الْعَصْرُ فَأَجْمِعُوا أَمْرَكُمْ فَمِيلُوا عَلَيْهِمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً وَإِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَقْسِمَ أَصْحَابَهُ شَطْرَيْنِ فَيُصَلِّيَ بِبَعْضِهِمْ وَتَقُومَ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى وَرَاءَهُمْ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ثُمَّ تَأْتِي الْأُخْرَى فَيُصَلُّونَ مَعَهُ وَيَأْخُذُ هَؤُلَاءِ حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ لِتَكُونَ لَهُمْ رَكْعَةً رَكْعَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৪৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
قلوص کہتے ہیں کہ شہاب بن مدلج ایک دیہات میں پہنچے وہاں پڑاؤ کیا اس دوران ان کے بیٹے نے کسی کو گالی دے دی وہ کہنے لگا کہ اے اس شخص کے بیٹے جو ہجرت کے بعد عرب بنا پھر شہاب مدینہ منورہ پہنچے وہاں ان کی ملاقات حضرت ابوہریرہ (رض) سے ہوئی انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں میں دو آدمی سب سے افضل ہیں ایک تو وہ آدمی جو راہ اللہ میں جہاد کرے یہاں تک کہ ایسی جگہ جا اترے جس سے دشمن کو خطرہ ہو اور دوسرا وہ آدمی جو کسی دیہات کے کنارے میں رہتا ہو پانچ نمازیں پڑھتا اپنے مال کا حق ادا کرتا ہو اور موت تک اپنے رب کی عبادت کرتا رہے۔ یہ سن کر شہاب اپنے دونوں گھٹنوں کے بل جھکے اور کہنے لگے کہ اے ابوہریرہ (رض) کیا آپ نے یہ حدیث خود نبی کریم ﷺ سے سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں ! اس پر شہاب اپنے گاؤں واپس آکر وہیں مقیم ہوگئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَسَّانَ يَعْنِي الْعَنْبَرِيَّ عَنِ الْقَلُوصِ أَنَّ شِهَابَ بْنَ مُدْلِجٍ نَزَلَ الْبَادِيَةَ فَسَابَّ ابْنُهُ رَجُلًا فَقَالَ يَا ابْنَ الَّذِي تَعَرَّبَ بِهَذِهِ الْهِجْرَةِ فَأَتَى شِهَابٌ الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَسَمِعَهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ النَّاسِ رَجُلَانِ رَجُلٌ غَزَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّى يَهْبِطَ مَوْضِعًا يَسُوءُ الْعَدُوَّ وَرَجُلٌ بِنَاحِيَةِ الْبَادِيَةِ يُقِيمُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَيُؤَدِّي حَقَّ مَالِهِ وَيَعْبُدُ رَبَّهُ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْيَقِينُ فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ قَالَ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ لَهُ قَالَ نَعَمْ فَأَتَى بَادِيَتَهُ فَأَقَامَ بِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৪৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں، حضرت عبداللہ بن عمر (رض) اور سمرہ بن جندب (رض) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے روانہ ہوئے صحابہ کرام (رض) نے ہمیں بتایا کہ وہ مسجد تقویٰ (مسجدقباء) کی طرف گئے ہیں ہم وہاں روانہ ہوگئے راستے میں ہمارا سامنا نبی کریم ﷺ سے ہوگیا آپ ﷺ کے ہاتھ حضرت ابوبکر صدیق و عمر (رض) کے کندھوں پر تھے ہم نبی کریم ﷺ کے قریب ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا ابوبکر ! یہ کون لوگ ہیں انہوں نے بتایا کہ عبداللہ بن عمر ابوہریرہ اور سمرہ ہیں (رض) ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّرَاعِ عَنْ أَبِي أُمَيْنٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَسَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لَنَا انْطَلِقُوا إِلَى مَسْجِدِ التَّقْوَى فَانْطَلَقْنَا نَحْوَهُ فَاسْتَقْبَلْنَاهُ يَدَاهُ عَلَى كَاهِلِ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا فَثُرْنَا فِي وَجْهِهِ فَقَالَ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا أَبَا بَكْرٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ وَسَمُرَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ دعاء مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ میں عذاب جہنم عذاب قبر، زندگی اور موت کی آزمائش اور مسیح دجال کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَفِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَفِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ وَشَرِّ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان زور زور سے ہوا خارج کرتے ہوئے بھاگ جاتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے جب اذان ختم ہوجاتی ہے تو پھر واپس آجاتا ہے پھر جب اقامت شروع ہوتی ہے تو دوبارہ بھاگ جاتا ہے اور اقامت مکمل ہونے پر پھر واپس آجاتا ہے اور انسان کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں بات یاد کرو فلاں بات یاد کرو اور وہ باتیں یاد کراتا ہے جو اسے پہلے یاد نہ تھیں حتی کہ انسان کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتی پڑھی ہیں جب کسی کے ساتھ ایسا ہو تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الْأَذَانَ فَإِذَا قُضِيَ الْأَذَانُ أَقْبَلَ فَإِذَا ثُوِّبَ بِهَا أَدْبَرَ فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ يَخْطِرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ أَوْ قَالَ نَفْسِهِ يَقُولُ اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ لَا يَدْرِي كَمْ صَلَّى فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کنجوس اور خرچ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن کے جسم پر چھاتی سے لے کر ہنسلی کی ہڈی تک لوہے کے دو جبے ہوں خرچ کرنے والا جب بھی کچھ خرچ کرتا ہے تو اسی کے بقدر اس جبے میں کشادگی ہوتی جاتی ہے اور وہ اس کے لئے کھلتا جاتا ہے اور کنجوس آدمی کی جکڑ بندی ہی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنی دو انگلیوں سے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھا ہے کاش ! تم بھی نبی کریم ﷺ کا جبہ دیکھ سکتے جسے وہ کشادہ کر رہے تھے لیکن وہ ہو نہیں رہا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلَ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدْ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى ثَدْيَيْهِمَا وَتَرَاقِيهِمَا فَجَعَلَ الْمُتَصَدِّقُ كُلَّمَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ انْبَسَطَتْ عَنْهُ حَتَّى تَغْشَى أَنَامِلَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ وَجَعَلَ الْبَخِيلُ كُلَّمَا هَمَّ بِصَدَقَةٍ قَلَصَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ وَأَخَذَتْ بِمَكَانِهَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ قَالَ فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِإِصْبَعَيْهِ فِي جُبَّتِهِ فَلَوْ رَأَيْتَهُ يُوَسِّعُهَا وَلَا تُوَسَّعُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی قبولیت میں کوئی شک و شبہ نہیں مظلوم کی دعاء مسافر کی دعا اور باب کی دعا اپنے بیٹے کی متعلق دعاء۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ مُسْتَجَابَاتٌ لَا شَكَّ فِيهِنَّ دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ عَلَى وَلَدِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ان فتنوں کے آنے سے پہلے جو تاریک رات کے حصوں کی طرح ہوں گے اعمال صالحہ کی طرف سبقت کرلو اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مومن اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مومن اور صبح کو کافر ہوگا اور اپنے دین کو دنیا کے تھوڑے سے سازوسامان کے عوض فروخت کردیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ فِتَنًا كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ يُصْبِحُ الرَّجُلُ مُؤْمِنًا وَيُمْسِي كَافِرًا وَيُمْسِي مُؤْمِنًا وَيُصْبِحُ كَافِرًا يَبِيعُ دِينَهُ بِعَرَضٍ مِنْ الدُّنْيَا قَلِيلٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر پیدا ہونے والے بچے کو شیطان کچوکے لگاتا ہے جس کی وجہ سے ہر پیدا ہونے والا بچہ روتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ایسا نہیں ہوا شیطان انہیں کچوکے لگانے کے لئے گیا تو تھا لیکن وہ کسی اور درمیان میں حائل چیز ہی کو لگا آیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ بَنِي آدَمَ يَطْعُنُ الشَّيْطَانُ بِإِصْبَعِهِ فِي جَنْبِهِ حِينَ يُولَدُ إِلَّا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ذَهَبَ يَطْعُنُ فَطَعَنَ فِي الْحِجَابِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دشمن سے سامنا ہونے کی تمنا نہ کرو اور جب سامنا ہوجائے تو ثابت قدمی کا مظاہرہ کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَمَنَّوْا لِقَاءَ الْعَدُوِّ فَإِذَا لَقِيتُمُوهُ فَاصْبِرُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان کی مثال کھیتی کی طرح ہے کہ کھیت پر بھی ہمیشہ ہوائیں چل کر اسے ہلاتی رہتی ہیں اور مسلمان پر بھی ہمیشہ مصیبتیں آتی ہیں اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی طرح ہے جو خود حرکت نہیں کرتا بلکہ اسے جڑ سے اکھیڑ دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَسُرَيْجٌ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ خَامَةِ الزَّرْعِ مِنْ حَيْثُ انْتَهَى الرِّيحُ كَفَتْهَا فَإِذَا سَكَنَتْ اعْتَدَلَتْ وَكَذَلِكَ مَثَلُ الْمُؤْمِنِ يَتَكَفَّأُ بِالْبَلَاءِ وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ صَمَّاءُ مُعْتَدِلَةٌ يَقْصِمُهَا اللَّهُ إِذَا شَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کوئی دوسرے شخص دوسرے کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے بلکہ کشادگی پیدا کرلیا کرو اللہ تمہارے لئے کشادگی فرمائے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُقِيمُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَجْلِسِهِ ثُمَّ يَجْلِسُ فِيهِ وَلَكِنْ افْسَحُوا يَفْسَحْ اللَّهُ لَكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৫৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حکمران ڈھال ہوتا ہے اس کے پیچھے لڑا جاتا ہے اور اس کے ذریعے تقویٰ اختیار کیا جاتا ہے اگر وہ تقویٰ اور انصاف پر مبنی حکم دیتا ہے تو اس پر اسے ثواب ملے گا اور اگر اس کے علاوہ کوئی غلط حکم دیتا ہے تو اس پر اس کا وبال ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ مِنْ وَرَائِهِ وَيُتَّقَى بِهِ فَإِنْ أَمَرَ بِتَقْوَى وَعَدَلَ فَإِنَّ لَهُ بِذَلِكَ أَجْرًا وَإِنْ أَمَرَ بِغَيْرِ ذَلِكَ فَإِنَّ عَلَيْهِ فِيهِ وِزْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
نعیم بن عبداللہ ایک مرتبہ مسجد کی چھت پر چڑھ کر حضرت ابوہریرہ (رض) کے پاس پہنچے جو کہ وضو کررہے تھے انہوں نے اپنے بازوؤں کو کہنیوں سے بھی اوپر تک دھویا ہوا تھا پھر وہ میری طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن میری امت کے لوگ وضو کے نشانات سے روشن اور چمکدار پیشانی والے ہوں گے اس لئے تم میں سے جو شخص اپنی چمک بڑھا سکتا ہو اسے ایسا کرلینا چاہئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ رَقِيَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى ظَهْرِ الْمَسْجِدِ فَوَجَدَهُ يَتَوَضَّأُ فَرَفَعَ فِي عَضُدَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ هِيَ الْغُرُّ الْمُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَهُ فَلْيَفْعَلْ لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مِنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں مخلوق میں سب سے بہتر آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ صحابہ (رض) نے عرض کیا کیوں نہیں یارسول اللہ ﷺ ! فرمایا وہ آدمی جو اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے اللہ کے راستہ میں نکل پڑا ہو اور جہاں ضرورت ہو وہ اس پر سوار ہوجائے کیا میں تمہیں اس کے بعد والے درجے پر فائز آدمی کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ صحابہ کرام (رض) نے کہا کیوں نہیں فرمایا وہ آدمی جو اپنی بکریوں کے ریوڑ میں ہو نماز قائم کرتا اور زکوٰۃ ادا کرتا ہو اللہ کی عبادت کرتا ہو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مَعْمَرٍ وَهُوَ أَبُو طُوَالَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ رَجُلٌ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ مَنْزِلَةً بَعْدَهُ رَجُلٌ مُعْتَزِلٌ فِي غَنَمٍ أَوْ غُنَيْمَةٍ يُقِيمُ الصَّلَاةَ وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ وَيَعْبُدُ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم ﷺ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے میری خاطر آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ میرے جلال کی قسم ! آج میں انہیں اپنے سائے میں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کہیں سایہ نہیں۔ جگہ عطاء کروں گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَعْمَرٍ أَبُو طُوَالَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگ اپنے آباؤ اجداد پر فخر کرنے سے باز آجائیں ورنہ اللہ کی نگاہوں میں وہ اس بکری سے بھی زیادہ حقیر ہوں گے جس کے جسم سے بدبو آنا شروع ہوگئی ہو اللہ تبارک وتعالیٰ نے تم سے جاہلیت کا تعصب اور اپنے آباؤ اجداد پر فخر کرنا دور کردیا ہے اب یا تو کوئی شخص متقی مسلمان ہوگا یا بدبخت گناہگار ہوگا سب لوگ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور آدم (علیہ السلام) کی پیدائش مٹی سے ہوئی تھی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَدَعَنَّ رِجَالٌ فَخْرَهُمْ بِأَقْوَامٍ إِنَّمَا هُمْ فَحْمٌ مِنْ فَحْمِ جَهَنَّمَ أَوْ لَيَكُونُنَّ أَهْوَنَ عَلَى اللَّهِ مِنْ الْجِعْلَانِ الَّتِي تَدْفَعُ بِأَنْفِهَا النَّتِنَ وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَذْهَبَ عَنْكُمْ عُبِّيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ وَفَخْرَهَا بِالْآبَاءِ مُؤْمِنٌ تَقِيٌّ وَفَاجِرٌ شَقِيٌّ النَّاسُ بَنُو آدَمَ وَآدَمُ مِنْ تُرَابٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتا ہوں اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جو تم میں سے کسی کو جنگل میں اپنا گمشدہ سامان (یا سواری) ملنے سے ہوتی ہے اگر وہ ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتا ہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتاہوں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي وَاللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ بِالْفَلَاةِ وَمَنْ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَإِذَا أَقْبَلَ يَمْشِي أَقْبَلْتُ أُهَرْوِلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ مہینہ تم پر سایہ فگن ہوا ہے پیغمبر اللہ قسم کھاتے ہیں کہ مسلمانوں پر ماہ رمضان سے بہتر کوئی مہینہ سایہ فگن نہیں ہوتا اور منافقین پر رمضان سے زیادہ سخت کوئی مہینہ نہیں آتا اللہ تعالیٰ اس کے آنے سے پہلے اس کا اجر اور نوافل لکھنا شروع کردیتا ہے اور منافقین کا گناہوں پر اصرار اور بدبختی بھی پہلے سے لکھنا شروع کردیتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اس مہینے میں عبادت کے لئے طاقت مہیا کرتے ہیں اور منافقین لوگوں کی غفلتوں اور عیوب کو تلاش کرتے ہیں گویا یہ مہینہ مسلمان کے لئے غنیمت ہے جس پر گناہ گار لوگ رشک کرتے ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ أَخْبَرَنِي أَبِي أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ هَذَا بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مَرَّ بِالْمُسْلِمِينَ شَهْرٌ قَطُّ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْهُ وَمَا مَرَّ بِالْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ قَطُّ أَشَرُّ لَهُمْ مِنْهُ بِمَحْلُوفِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَيَكْتُبُ أَجْرَهُ وَنَوَافِلَهُ وَيَكْتُبُ إِصْرَهُ وَشَقَاءَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُدْخِلَهُ وَذَاكَ لِأَنَّ الْمُؤْمِنَ يُعِدُّ فِيهِ الْقُوَّةَ مِنْ النَّفَقَةِ لِلْعِبَادَةِ وَيُعِدُّ فِيهِ الْمُنَافِقُ ابْتِغَاءَ غَفَلَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَعَوْرَاتِهِمْ فَهُوَ غُنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ يَغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ فَذَكَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৩৬৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا سب سے افضل صدقہ وہ ہے جو کچھ نہ کچھ مالداری چھوڑ دے (سارا مال خرچ نہ کرے) اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے اور تم صدقہ کرنے میں ان لوگوں سے ابتداء کیا کرو جو تمہاری ذمہ داری میں ہوں کسی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے ذمہ داری والے افراد کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا تمہاری بیوی کہتی ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ مجھے طلاق دے دو خادم کہتا ہے کہ مجھے کھانا کھلاؤ ورنہ کسی اور کے ہاتھ فروخت کردو اولاد کہتی ہے کہ آپ مجھے کس کے سہارے چھوڑے جاتے ہیں ؟
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ زَيْدٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الصَّدَقَةِ مَا كَانَ عَنْ ظَهْرِ غِنًى وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ قَالَ سُئِلَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا مَنْ تَعُولُ قَالَ امْرَأَتُكَ تَقُولُ أَطْعِمْنِي أَوْ أَنْفِقْ عَلَيَّ شَكَّ أَبُو عَامِرٍ أَوْ طَلِّقْنِي وَخَادِمُكَ يَقُولُ أَطْعِمْنِي وَاسْتَعْمِلْنِي وَابْنَتُكَ تَقُولُ إِلَى مَنْ تَذَرُنِي
তাহকীক: