আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৭৯৫ টি
হাদীস নং: ১০৪৮৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرا یہ منبر جنت کے دروازوں میں سے کسی دروازے پر ہوگا اور میرے حجرے اور میرے منبر کے درمیان کا حصہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْبَرِي هَذَا عَلَى تُرْعَةٍ مِنْ تُرَعِ الْجَنَّةِ وَمَا بَيْنَ حُجْرَتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৮৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ارشادباری تعالیٰ ہے میں اپنے بندے کے اپنے متعلق گمان کے مطابق معاملہ کرتا ہوں بندہ جب بھی مجھے یاد کرتا ہے میں اس کے پاس موجود ہوتاہوں اللہ کو اپنے بندے کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی جو تم میں سے کسی کو جنگل میں اپنا گمشدہ سامان (یا سواری) ملنے سے ہوتی ہے اور جو شخص ایک ایک بالشت کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں ایک گز کے برابر اس کے قریب ہوجاتاہوں اگر وہ ایک گز کے برابر میرے قریب آتا ہے تو میں پورے ہاتھ کے برابر اس کے قریب ہوجاتاہوں اور اگر میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ حِينَ يَذْكُرُنِي وَاللَّهُ أَفْرَحُ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ أَحَدِكُمْ يَجِدُ ضَالَّتَهُ بِالْفَلَاةِ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ أُرَاهُ ضَالَّتَهُ وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا فَإِذَا أَقْبَلَ إِلَيَّ يَمْشِي أَقْبَلْتُ إِلَيْهِ أُهَرْوِلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৮৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے میری خاطر آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ میرے جلال کی قسم ! آج میں انہیں اپنے سائے میں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کہیں سایہ نہیں۔ جگہ عطاء کروں گا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ عَنْ أَبِي الْحُبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৯০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں، ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৯১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ جس غزوے میں بھی شریک ہوا نبی کریم ﷺ نے مجھے اس میں سے مال غنیمت کا حصہ ضرور عطاء فرمایا سوائے خیبر کے کہ وہ خاص طور پر اہل حدیبیہ کے لئے تھا یاد رہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) اور ابوموسیٰ اشعری عزوہ حدیبیہ اور خیبر کے درمیان آئے تھے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَا شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَغْنَمًا قَطُّ إِلَّا قَسَمَ لِي إِلَّا خَيْبَرَ فَإِنَّهَا كَانَتْ لِأَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ خَاصَّةً وَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَأَبُو مُوسَى جَاءَا بَيْنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَخَيْبَرَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৯২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حضرت آدم (علیہ السلام) کا قد لمبائی میں ساٹھ اور چوڑائی میں سات گز تھا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ طُولُ آدَمَ سِتِّينَ ذِرَاعًا فِي سَبْعَةِ أَذْرُعٍ عَرْضًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৯৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کے لوگ برہنہ ہو کر غسل کیا کرتے تھے اور ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو دیکھا کرتے تھے جبکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) شرم و حیاء کی وجہ سے تنہا غسل کیا کرتے تھے بنی اسرائیل کے لوگ ان پر جسمانی کمزوری کا الزام لگانے لگے ایک مرتبہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غسل کرنے کے لئے گئے تو اپنے کپڑے حسب معمول اتار کر پتھر پر رکھ دئیے وہ پتھر ان کے کپڑے لے کر بھاگ گیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس کے پیچھے پیچھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے کہتے ہوئے دوڑے یہاں تک کہ وہ پتھر بنی اسرائیل کی ایک مجلس کے عین بیچ میں پہنچ کر رک گیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے اپنے کپڑے لے لئے اور لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھا تو وہ سب سے زیادہ حسین اور معتدل جسامت والے تھے وہ لوگ یہ دیکھ کر کہنے لگے کہ بنی اسرائیل کے تہمت لگانے والوں پر اللہ کی مار ہو یہ وہی برأت تھی جو اللہ نے فرمائی تھی۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَعَبْدُ الْوَهَّابِ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً وَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ الْحَيَاءُ وَالْخَفَرُ فَكَانَ يَسْتَتِرُ إِذَا اغْتَسَلَ فَطَعَنُوا فِيهِ يُعَيِّرُوهُ قَالَ فَبَيْنَمَا نَبِيُّ اللَّهِ يَغْتَسِلُ يَوْمًا إِذْ وَضَعَ ثِيَابَهُ عَلَى صَخْرَةٍ فَانْطَلَقَتْ الصَّخْرَةُ فَاتَّبَعَهَا نَبِيُّ اللَّهِ ضَرْبًا بِالْعَصَا ثَوْبِي يَا حَجَرُ ثَوْبِي يَا حَجَرُ حَتَّى انْتَهَتْ بِهِ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَتَوَسَّطَتْهُمْ فَقَامَتْ فَأَخَذَ نَبِيُّ اللَّهِ ثِيَابَهُ فَنَظَرُوا إِلَى أَحْسَنِ النَّاسِ خَلْقًا وَأَعْدَلِهِمْ صُورَةً فَقَالَ الْمَلَأُ قَاتَلَ اللَّهُ أَفَّاكِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَكَانَتْ بَرَاءَتُهُ الَّتِي بَرَّأَهُ اللَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৯৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ فرض نمازوں کے بعد سب سے زیادہ افضل نماز رات کے درمیانی حصے میں پڑھی جانے والی نماز ہے اور ماہ رمضان کے روزوں کے بعد سب سے زیادہ افضل روزہ اللہ کے اس مہینے کا ہے جسے تم محرم کہتے ہو۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ أَفْضَلُ صَلَاةٍ بَعْدَ الْمَفْرُوضَةِ صَلَاةُ اللَّيْلِ وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الَّذِي تَدْعُونَهُ الْمُحَرَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৯৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ بنوہذیل کی دو عورتوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا ان میں سے ایک نے دوسری کو جو امید سے تھی پتھر دے مارا اور اس عورت کو قتل کردیا اس کے پیٹ کا بچہ بھی مرا ہوا پیدا ہوگیا نبی کریم ﷺ نے اس مسئلے میں قاتلہ کے خاندان والوں پر مقتولہ کی دیت اور اس کے بچے کے حوالے سے ایک غرہ یعنی غلام یا باندی کا فیصلہ فرمایا اس فیصلے پر ایک شخص نے اعتراض کرتے ہوئے (مسجع کلام میں) کہا کہ اس بچے کی دیت کا فیصلہ کیسے عقل میں آسکتا ہے جس نے کچھ کھایا پیا اور نہ بولا چلایا اس قسم کی چیزوں کو تو چھوڑ دیا جاتا ہے بقول حضرت ابوہریرہ (رض) کے نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ شخص کاہنوں کا بھائی ہے۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَأَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ اقْتَتَلَتْ امْرَأَتَانِ مِنْ هُذَيْلٍ فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِحَجَرٍ فَقَتَلَتْهَا وَمَا فِي بَطْنِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ دِيَةَ جَنِينِهَا غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ وَلِيدَةٌ وَقَضَى بِدِيَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى قَاتِلَتِهَا فَقَالَ حَمَلُ بْنُ نَابِغَةَ الْهُذَلِيُّ كَيْفَ أَغْرَمُ مَنْ لَا شَرِبَ وَلَا أَكَلَ وَلَا نَطَقَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هُوَ مِنْ إِخْوَانِ الْكُهَّانِ مِنْ أَجْلِ سَجْعِهِ الَّذِي سَجَعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৯৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن حذافہ (رض) کو منیٰ میں گھوم پھر کر یہ اعلان کرنے کے لئے بھیجا کہ ان ایام میں روزہ نہ رکھو ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا صَالِحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ يَطُوفُ فِي مِنًى أَنْ لَا تَصُومُوا هَذِهِ الْأَيَّامَ فَإِنَّهَا أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ وَذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৯৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ اہل مدینہ میں سے کسی کے باغ میں چلا جارہا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابوہریرہ ! مال و دولت کی ریل پیل والے لوگ ہلاک ہوگئے سوائے ان لوگوں کے جو اپنے ہاتھوں سے بھر بھر کر دائیں بائیں اور آگے تقسیم کریں لیکن ایسے لوگ بہت تھوڑے ہیں پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ ! کیا میں تمہیں جنت کا ایک خزانہ نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیوں نہیں فرمایا یوں کہا کرو لاحول ولاقوۃ الاباللہ و لا ملجا من اللہ الا الیہ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا ابوہریرہ (رض) کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر لوگوں کا کیا حق ہے ؟ اور لوگوں پر اللہ کا کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں کسی کو اس کے ساتھ شریک نہ ٹھہرائیں اور جب وہ یہ کرلیں تو اللہ پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں عذاب نہ دے۔ میں نے عرض کیا کہ کیا میں لوگوں کو اس سے مطلع نہ کردوں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا انہیں عمل کرنے دو ۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ الْحُرِّ النَّخَعِيُّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ كُمَيْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلَكَ الْأَكْثَرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَقَلِيلٌ مَا هُمْ فَمَشَيْتُ مَعَهُ ثُمَّ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ حَقُّهُ أَنْ يَعْبُدُوهُ لَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ثُمَّ قَالَ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ حَقَّهُمْ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ قُلْتُ أَفَلَا أُخْبِرُهُمْ قَالَ دَعْهُمْ فَلْيَعْمَلُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৯৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے ایک آدمی کو سورت اخلاص کی تلاوت کرتے ہوئے سنا تو فرمایا واجب ہوگئی لوگوں نے پوچھا یارسول اللہ ! کیا چیز واجب ہوگئی فرمایا اس کے لئے جنت واجب ہوگئی حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے سوچا اس کے پاس جا کر اسے یہ خوشخبری دے دوں اور اپنا ناشتہ قربان کردوں لیکن پھر مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ میرا ناشتہ فوت نہ ہوجائے چناچہ بعد میں اس آدمی کے پاس پہنچا تو وہ جا چکا تھا۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ ابْنَ حُنَيْنٍ أَخْبَرَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ حَتَّى خَتَمَهَا فَقَالَ وَجَبَتْ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَبَتْ قَالَ الْجَنَّةُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَأَرَدْتُ أَنْ آتِيَهُ فَأُبَشِّرَهُ فَآثَرْتُ الْغَدَاءَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفَرِقْتُ أَنْ يَفُوتَنِي الْغَدَاءُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الرَّجُلِ فَوَجَدْتُهُ قَدْ ذَهَبَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৪৯৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر انسان کا بدکاری میں حصہ ہے چناچہ آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھنا ہے ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا پکڑنا ہے پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اوان کا زنا چل کر جانا ہے منہ بھی زنا کرتا ہے اور اس کا زنا بوسہ دینا ہے دل خواہش اور تمنا کرتا ہے اور شرمگاہ اس کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ لَهُ حَظُّهُ مِنْ الزِّنَا فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا الْيَدَيْنِ الْبَطْشُ وَزِنَا الرِّجْلَيْنِ الْمَشْيُ وَزِنَا الْفَمِ الْقُبَلُ وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ وَحَلَّقَ عَشْرَةً ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ فِيهَا يَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَحْمُهُ وَدَمُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫০০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اونٹ پر سواری کرنے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریش کی ہیں جو بچپن میں اپنی اولاد پر شفیق اور اپنے شوہر کی ذات میں سب سے بڑی محافظ ہوتی ہیں۔ پھر حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا نبی کریم ﷺ جانتے تھے کہ حضرت مریم (علیہا السلام) نے کبھی اونٹ پر سواری نہیں کی۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْأَفُهُ بِزَوْجٍ عَلَى قِلَّةِ ذَاتِ يَدِهِ ثُمَّ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَقَدْ عَلِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنَةَ عِمْرَانَ لَمْ تَرْكَبْ الْإِبِلَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫০১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) کسی بھی معاملے میں اس وقت تک جدا نہ ہوں جب تک باہمی رضامندی نہ ہو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَيُّوبَ مِنْ وَلَدِ جَرِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُذْكَرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَفَرَّقُ الْمُتَبَايِعَانِ عَنْ بَيْعٍ إِلَّا عَنْ تَرَاضٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫০২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک بچہ لے کر حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ﷺ اس (کی زندگی) کے لئے دعاء فرما دیجئے کہ میں اس سے پہلے اپنے تین بچے دفنا چکی ہوں، نبی کریم ﷺ اس پوچھا زمانہ اسلام میں ؟ اس نے کہا جی ہاں نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس مسلمان کے تین نابالغ بچے زمانہ اسلام میں فوت ہوں، اس نے جہنم کی آگ سے اپنے آپ کو خوب بچا لیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ مِنْ وَلَدِ جَرِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يُذْكَرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَلَدٍ لَهَا مَرِيضٍ يَدْعُو لَهُ بِالشِّفَاءِ وَالْعَافِيَةِ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ مَاتَ لِي ثَلَاثَةٌ قَالَ فِي الْإِسْلَامِ قَالَتْ فِي الْإِسْلَامِ لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ يَحْتَسِبُهُمْ إِلَّا احْتَظَرَ بِحَظِيرٍ مِنْ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫০৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹنے کے لئے آتے تو یوں فرماتے کہ اسے ساتوں آسمانوں۔ زمین اور ہر چیز کے رب دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے اللہ تورات انجیل اور قرآن نازل کرنے والے میں ہر شریر کے شر سے جس کی پیشانی آپ کے قبضے میں ہے آپ کی پناہ میں آتا ہوں آپ اول ہیں آپ سے پہلے کچھ نہیں آپ آخر ہیں آپ کے بعد کچھ نہیں آپ ظاہر ہیں آپ سے اوپر کچھ نہیں آپ باطن ہیں آپ سے پیچھے کچھ نہیں میرے قرضوں کو ادا فرمائیے اور مجھے فقروفاقہ سے بےنیاز فرما دیجئے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْأَرَضِينَ وَرَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ ذِي شَرٍّ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ فَلَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ وَأَغْنِنِي مِنْ الْفَقْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫০৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا منافق کی تین نشانیاں ہیں خواہ وہ نماز روزہ کرتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو جب بات کرے تو جھوٹ بولے جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ عَنِ الْحَسَنِ صَحَّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهُ مُسْلِمٌ مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫০৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اہل عرب کے لئے ہلاکت ہے اس شر سے جو قریب آ لگا ہے علم کم ہوجائے گا اور ہرج کی کثرت ہوجائے گی میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہرج سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قتل۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيْلٌ لِلْعَرَبِ مِنْ شَرٍّ قَدْ اقْتَرَبَ يَنْقُصُ الْعِلْمُ وَيَكْثُرُ الْهَرْجُ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْقَتْلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৫০৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
ایک مرتبہ مروان نے کہا کہ اے ابوہریرہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے خود نبی کریم ﷺ سے سنی ہو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ انسان یہ تمنا کرے گا کاش وہ ثریا ستارے کی بلندی سے گر جاتا لیکن کاروبار حکومت میں سے کوئی ذمہ داری اس کے حوالے نہ کی جاتی۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَهَاشِمٌ قَالَا حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ شَرِيكٍ الْعَامِرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مَرْوَانَ يَقُولُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِّثْنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيُوشِكَنَّ رَجُلٌ يَتَمَنَّى أَنَّهُ خَرَّ مِنْ عِنْدِ الثُّرَيَّا وَأَنَّهُ لَمْ يَنَلْ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ شَيْئًا
তাহকীক: