আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৭৯৫ টি

হাদীস নং: ৮২৪৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے کہا کہ میں آج کی رات صدقہ دوں گا چناچہ وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور انجانے میں ایک بدکار عورت کے ہاتھ میں دے آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک بدکار عورت کو خیرات ملی دوسری رات کو پھر وہ صدقہ کا مال لے کر نکلا اور ایک چور کے ہاتھ میں رکھ آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک چور کو خیرات کا مال ملا تیسری رات کو وہ صدقہ کا مال لے کر پھر نکلا اور انجانے میں ایک دولت مند کو دے آیا صبح کو لوگوں نے تذکرہ کیا کہ آج رات ایک دولت مند کو صدقہ ملا وہ شخص کہنے لگا کہ چور کو زانیہ کو اور دولت مند شخص کو میں نے صدقہ کا مال دے دیا پھر اس نے خواب میں دیکھا کہ اس سے کہا گیا کہ تیرا صدقہ قبول ہوگیا تو نے جو چور کو صدقہ دیا تو اس کی وجہ سے شایدوہ چوری سے دست کش ہوجائے اور زانیہ کو جو تو نے صدقہ دیا تو ممکن ہے اس کی وجہ سے وہ زنا کاری چھوڑ دے باقی دولت مند بھی ممکن ہے کہ اس سے نصیحت حاصل کرے۔
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ لَأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِمَالِي فَخَرَجَ بِهِ فَوَضَعَهُ فِي يَدِ زَانِيَةٍ فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى فُلَانَةَ الزَّانِيَةِ ثُمَّ خَرَجَ بِمَالٍ فَقَالَ أَيْضًا فَوَضَعَهُ فِي يَدِ سَارِقٍ فَأَصْبَحَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَتَحَدَّثُونَ تُصُدِّقَ عَلَى فُلَانٍ السَّارِقِ وَخَرَجَ بِمَالٍ أَيْضًا فَوَضَعَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ غَنِيٍّ قَالَ لَوْ شِئْتُ لَقُلْتُ لَا يَدْرِي حَيْثُ وَضَعَهُ وَرَجَعَ الرَّجُلُ إِلَى نَفْسِهِ فَأُرِيَ فِي الْمَنَامِ أَنَّ صَدَقَتَكَ قَدْ قُبِلَتْ أَمَّا الزَّانِيَةُ فَلَعَلَّهَا تَعِفُّ عَنْ زِنَاهَا وَأَمَّا السَّارِقُ فَلَعَلَّهُ أَنْ يُغْنِيَهُ عَنْ السَّرِقَةِ وَأَمَّا الْغَنِيُّ فَلَعَلَّهُ يَعْتَبِرُ فِي مَالِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ہماری اس مسجد میں خیر سیکھنے سکھانے کے لئے داخل ہو وہ مجاہد فی سبیل اللہ کی طرح ہے اور جو کسی دوسرے مقصد کے لئے آئے وہ اس شخص کی طرح ہے جو کسی ایسی چیز کو دیکھنے لگے جسے دیکھنے کا اسے کوئی حق نہیں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو صَخْرٍ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ دَخَلَ مَسْجِدَنَا هَذَا لِيَتَعَلَّمَ خَيْرًا أَوْ لِيُعَلِّمَهُ كَانَ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَنْ دَخَلَهُ لِغَيْرِ ذَلِكَ كَانَ كَالنَّاظِرِ إِلَى مَا لَيْسَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے زیادہ حسین کسی کو نہیں دیکھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا سورج آپ کی پیشانی پر چمک رہا ہے اور میں نے نبی کریم ﷺ سے زیادہ کسی کو تیز رفتار نہیں دیکھا ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا زمین ان کے لئے لپیٹ دی گئی ہے ہم اپنے آپ کو بڑی مشقت میں ڈال کر نبی کریم ﷺ کے ساتھ چل پاتے لیکن نبی کریم ﷺ پر مشقت کا کوئی اثر نظر نہ آتا تھا۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ سُلَيْمُ بْنُ جُبَيْرٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي جَبْهَتِهِ وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مِشْيَتِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا مزدور کو اس کی مزدوری دے دیا کرو کیونکہ اللہ کا مزدور رسوا نہیں ہوتا۔
وَعَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطُوا الْعَامِلَ مِنْ عَمَلِهِ فَإِنَّ عَامِلَ اللَّهِ لَا يَخِيبُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حضرت لوط (علیہ السلام) پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں وہ کسی مضبوط ستون کا سہارا ڈھونڈ رہے تھے۔
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَرْحَمُ اللَّهُ لُوطًا فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ يَأْوِي إِلَى رُكْنٍ شَدِيدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ کے پاس دو حاملہ اونٹنیاں لے کر لوٹے ؟ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں (ہر شخص چاہتا ہے) نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو آدمی قرآن کریم کی دو آیتیں لے کر اپنے گھر لوٹتا ہے اس کے لئے وہ دو آیتیں دو حاملہ اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيَفْرَحُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَنْقَلِبَ إِلَى أَهْلِهِ بِخَلِفَتَيْنِ قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَآيَتَيْنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فَيَخْرُجُ بِهِمَا إِلَى أَهْلِهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ خَلِفَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے اور موت آنے سے قبل اس کی دعاء نہ کرے الاّ یہ کہ اسے اپنے اعمال پر بہت زیادہ ہی بھروسہ ہو کیونکہ تم میں سے کوئی بھی جب مرجاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہوجاتے ہیں جبکہ مومن اپنی زندگی میں خیر ہی کا اضافہ کرتا ہے۔
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ وَلَا يَدْعُو بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَدْ وَثِقَ بِعَمَلِهِ فَإِنَّهُ إِنْ مَاتَ أَحَدُكُمْ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ وَإِنَّهُ لَا يَزِيدُ الْمُؤْمِنَ عُمْرُهُ إِلَّا خَيْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر شخص پر ہر دن میں جس میں سورج طلوع ہو صدقہ کرنا لازم قرار دیا گیا ہے اس کی صورت یہ ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے کسی آدمی کی مدد کرکے اسے سواری پر بٹھا دینا اور اس کا سامان اسے پکڑا دینا صدقہ ہے راستے سے تکلیف دہ چیز کا ہٹانا بھی صدقہ ہے اچھی بات کہنا بھی صدقہ ہے اور نماز کے لئے اٹھنے والا ہر قدم بھی صدقہ ہے۔
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كُلُّ نَفْسٍ كُتِبَ عَلَيْهَا الصَّدَقَةُ كُلَّ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ فَمِنْ ذَلِكَ أَنْ يَعْدِلَ بَيْنَ الِاثْنَيْنِ صَدَقَةٌ وَأَنْ يُعِينَ الرَّجُلَ عَلَى دَابَّتِهِ فَيَحْمِلَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَيَرْفَعَ مَتَاعَهُ عَلَيْهَا صَدَقَةٌ وَيُمِيطُ الْأَذَى عَنْ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَمْشِي إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اس امت میں یا کسی یہودی اور عیسائی کو میرا کلمہ پہنچے اور وہ اسے سنے اور اس وحی پر ایمان لائے بغیر مرجائے جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے تو وہ جہنمی ہے۔
وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَسْمَعُ بِي أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ يَهُودِيٌّ أَوْ نَصْرَانِيٌّ ثُمَّ يَمُوتُ وَلَا يُؤْمِنُ بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ إِلَّا كَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میرا بندہ میری ہی تکذیب کرتا ہے۔ حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے اور مجھے ہی برابھلا کہتا ہے حالانکہ یہ اس کا حق نہیں تکذیب تو اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے ہمیں جس طرح پیدا کیا ہے دوبارہ اس طرح کبھی پیدا نہیں کرے گا حالانکہ میرے لئے دوسری مرتبہ پیدا کرنا پہلی مرتبہ سے زیادہ مشکل نہیں ہے (دونوں برابر ہیں) اور برا بھلا کہنا اس طرح کہ وہ کہتا ہے اللہ نے اولاد بنا رکھی ہے حالانکہ میں تو وہ صمد (بےنیاز) ہوں جس نے کسی کو جنا اور نہ اسے کسی نے جنم دیا۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ كَذَّبَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ لِيُكَذِّبَنِي وَشَتَمَنِي عَبْدِي وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَتْمِي فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ فَيَقُولُ لَنْ يُعِيدَنِي كَالَّذِي بَدَأَنِي وَلَيْسَ آخِرُ الْخَلْقِ أَهْوَنُ عَلَيَّ أَنْ أُعِيدَهُ مِنْ أَوَّلِهِ فَقَدْ كَذَّبَنِي إِنْ قَالَهَا وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَيَقُولُ اتَّخَذَ اللَّهُ وَلَدًا أَنَا اللَّهُ أَحَدٌ الصَّمَدُ لَمْ أَلِدْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سرمہ لگائے تو طاق عدد میں سلائی اپنی آنکھوں میں پھیرے اور جب پتھروں سے استنجاء کرے تب بھی طاق عدد میں پتھر استعمال کرے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اكْتَحَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا وَإِذَا اسْتَجْمَرَ فَلْيَسْتَجْمِرْ وِتْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سرمہ لگائے تو طاق عدد میں سلائی اپنی آنکھوں میں پھیرے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اكْتَحَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَكْتَحِلْ وِتْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تین آدمی اکٹھے ہوں تو ایک کو چھوڑ کر صرف دو آدمی سرگوشی نہ کریں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ ثَلَاثَةٌ جَمِيعًا فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ الثَّالِثِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
اور گذشتہ سند ہی سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار آدمی بلاحساب کتاب جنت میں داخل ہوں گے حضرت عکاشہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اللہ سے دعاء کردیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل فرمادے نبی کریم ﷺ نے دعاء کردی کہ اے اللہ اسے بھی ان میں شامل فرما پھر دوسرے نے کھڑے ہو کر بھی یہی عرض کیا لیکن نبی کریم ﷺ نے فرمایا عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔
وَبِإِسْنَادِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ فَقَالَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ثُمَّ قَالَ آخَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ قَدْ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا قبیلہ ازد کے لوگ کتنی بہترین قوم ہیں ان کے منہ پاکیزہ ایمان عمدہ اور دل صاف ستھرے ہوتے ہیں۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَ الْقَوْمُ الْأَزْدُ طَيِّبَةٌ أَفْوَاهُهُمْ بَرَّةٌ أَيْمَانُهُمْ نَقِيَّةٌ قُلُوبُهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ملک الموت کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جب ان کی روح قبض کرنے کے لئے پہنچے اور ان سے کہا کہ اپنے رب کی پکار پر لبیک کہئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایک طمانچہ مار کر ان کی آنکھ پھوڑ دی وہ پروردگار کے پاس واپس جا کر کہنے لگے کہ آپ نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیج دیا جو مرنا نہیں چاہتا اللہ نے ان کی آنکھ واپس لوٹا دی اور فرمایا ان کے پاس واپس جا کر ان سے کہو کہ ایک بیل کی پشت پر ہاتھ رکھ دیں ان کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آگئے ہر بال کے بدلے ان کی عمر میں ایک سال کا اضافہ ہوجائے گا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوچھا کہ اے پروردگار پھر کیا ہوگا فرمایا پھر موت آئے گی انہوں نے کہا تو پھر ابھی سہی
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَبِي لَمْ يَرْفَعْهُ قَالَ جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَي فَقَالَ أَجِبْ رَبَّكَ فَلَطَمَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَهَا فَرَجَعَ الْمَلَكُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ إِنَّكَ بَعَثْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَكَ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي قَالَ فَرَدَّ اللَّهُ إِلَيْهِ عَيْنَهُ وَقَالَ ارْجِعْ إِلَى عَبْدِي فَقُلْ لَهُ الْحَيَاةَ تُرِيدُ فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَمَا دَارَتْ يَدُكَ مِنْ شَعَرَةٍ فَإِنَّكَ تَعِيشُ لَهَا سَنَةً قَالَ ثُمَّ مَاذَا قَالَ ثُمَّ الْمَوْتُ قَالَ فَالْآنَ يَا رَبِّ مِنْ قَرِيبٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے نبی کہ کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مسلمانوں پر گرانی کی نیت سے ذخیرہ اندوزی کرتا ہے وہ گناہگار ہے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ احْتَكَرَ حُكْرَةً يُرِيدُ أَنْ يُغْلِيَ بِهَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ فَهُوَ خَاطِئٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مسجد سے جتنے فاصلے سے آتا ہے اس کا اجر اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مِهْرَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَبْعَدُ فَالْأَبْعَدُ أَفْضَلُ أَجْرًا عَنْ الْمَسْجِدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان ایک آدمی سے بیعت لی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمت اسی کے پاسبان پامال کریں گے اور جب لوگ بیت اللہ کی حرمت کو پامال کردیں۔ پھر عرب کی ہلاکت کے متعلق سوال نہیں کیا جائے گا بلکہ حبشی آئیں گے اور اسے اس طرح ویران کردیں گے کہ دوبارہ وہ کبھی آباد نہ ہوسکے گا اور یہی لوگ اس کا خزانہ نکالنے والے ہوں گے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَمْعَانَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ أَبَا قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُبَايَعُ لِرَجُلٍ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَلَنْ يَسْتَحِلَّ هَذَا الْبَيْتَ إِلَّا أَهْلُهُ فَإِذَا اسْتَحَلُّوهُ فَلَا تَسْأَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَأْتِي الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُونَهُ خَرَابًا لَا يَعْمُرُ بَعْدَهُ أَبَدًا وَهُمْ الَّذِينَ يَسْتَخْرِجُونَ كَنْزَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ شراب کی حرمت تین مختلف درجوں میں ہوئی ہے نبی کریم ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ شراب بھی پیتے تھے اور جوئے کا پیسہ بھی کھاتے تھے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے ان چیزوں کے متعلق سوال کیا تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ لوگ شراب اور جوئے کے متعلق پوچھتے ہیں آپ فرما دیجئے کہ ان دونوں میں گناہ بہت زیادہ ہے اور لوگوں کے کچھ منافع بھی ہیں لوگ کہنے لگے کہ اس آیت میں شراب حرام تو نہیں قرار دی گئی اس میں تو اللہ نے صرف یہ فرمایا ہے کہ ان میں گناہ بہت زیادہ ہے چناچہ شراب پیتے رہے۔ حتیٰ کہ ایک دن مہاجرین میں سے ایک صحابی نے مغرب کی نماز میں لوگوں کی امامت کی تو (نشے کی وجہ سے) انہیں قرأت میں اشتباہ ہوگیا اس پر اللہ نے پہلے سے زیادہ سخت آیت نازل فرمائی کہ اے اہل ایمان نشے کی حالت میں نماز کے قریب بھی نہ جایا کرو تاآنکہ تمہیں یہ سمجھ آنے لگے کہ تم کیا کہہ رہے ہو لوگ پھر بھی شراب پیتے رہے البتہ نماز کے لئے اس وقت آتے جب اپنے ہوش و حواس میں ہوتے اس کے بعد تیسرے درجے میں اس سے بھی زیادہ سخت آیت نازل ہوئی کہ اے اہل ایمان شراب جوا بت اور پانسے کے تیر گندی چیزیں اور شیطانی کام ہیں ان سے بچو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ اس آیت کے نازل ہونے پر لوگ کہنے لگے کہ پروردگار اب ہم باز آگئے پھر کچھ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کچھ لوگ جو اللہ کے راستہ میں شہید ہوئے یا طبعی طور پر فوت ہوگئے اور وہ شراب بھی پیتے تھے اور جوئے کا پیسہ بھی کھاتے تھے (ان کا کیا بنے گا) جبکہ اللہ نے ان چیزوں کو گندگی اور شیطانی کام قرار دے دیا ہے ؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے ان کے لئے ان چیزوں میں کوئی حرج نہیں جو وہ پہلے کھاچکے بشرطیکہ اب متقی اور ایمان والے رہیں اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر ان کی موجودگی میں شراب حرام ہوتی تو وہ بھی تمہاری طرح اسے چھوڑ ہی دیتے (اس لئے گھبرانے کی کوئی بات نہیں)
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ يَعْنِي ابْنَ النُّعْمَانِ وَحَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ أَبِي وَهْبٍ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ حُرِّمَتْ الْخَمْرُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهُمْ يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَيَأْكُلُونَ الْمَيْسِرَ فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُونَكَ عَنْ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَفْعِهِمَا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَ النَّاسُ مَا حَرَّمَ عَلَيْنَا إِنَّمَا قَالَ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَكَانُوا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمٌ مِنْ الْأَيَّامِ صَلَّى رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ أَمَّ أَصْحَابَهُ فِي الْمَغْرِبِ خَلَطَ فِي قِرَاءَتِهِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ فِيهَا آيَةً أَغْلَظَ مِنْهَا يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَكَانَ النَّاسُ يَشْرَبُونَ حَتَّى يَأْتِيَ أَحَدُهُمْ الصَّلَاةَ وَهُوَ مُفِيقٌ ثُمَّ أُنْزِلَتْ آيَةٌ أَغْلَظُ مِنْ ذَلِكَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ فَقَالُوا انْتَهَيْنَا رَبَّنَا فَقَالَ النَّاسُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَاسٌ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ مَاتُوا عَلَى فُرُشِهِمْ كَانُوا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَيَأْكُلُونَ الْمَيْسِرَ وَقَدْ جَعَلَهُ اللَّهُ رِجْسًا وَمِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِذَا مَا اتَّقَوْا وَآمَنُوا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ لَتَرَكُوهَا كَمَا تَرَكْتُمْ
tahqiq

তাহকীক: