আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৭৯৫ টি
হাদীস নং: ৮৪৬৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ مجھ سے میرے خلیل و صادق پیغمبر اللہ ﷺ نے بیان فرمایا کہ اس امت میں ایک لشکر سندھ اور ہند کی طرف بھی جائے گا اگر میں نے وہ زمانہ پایا اور شہید ہوگیا تو بہت اچھا اور اگر میں زندہ واپس آگیا تو میں ابوہریرۃ المحرر ہوں گا جو جہنم کی آگ سے آزاد ہوچکا ہوگا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي خَلِيلِي الصَّادِقُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يَكُونُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ بَعْثٌ إِلَى السِّنْدِ وَالْهِنْدِ فَإِنْ أَنَا أَدْرَكْتُهُ فَاسْتُشْهِدْتُ فَذَلِكَ وَإِنْ أَنَا فَذَكَرَ كَلِمَةً رَجَعْتُ وَأَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ الْمُحَرَّرُ قَدْ أَعْتَقَنِي مِنْ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৬৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دو آدمیوں کے درمیان خریدو فروخت ہو رہی ہوگی کہ قیامت قائم ہوجائے گی ابھی کپڑا ان دونوں کے درمیان ہی ہوگا انہوں نے اسے لپیٹا ہوگا اور نہ ہی خریدو فروخت مکمل ہوگی اسی طرح ایک آدمی نے اپنے جانور کا دودھ دوہا ہوگا لیکن ابھی پہننے کی نوبت نہ آئی ہوگی کہ قیامت قائم ہوجائے گی ایک آدمی نے لقمہ اٹھا کر اپنے منہ کے قریب کیا ہوگا ابھی کھانے نہیں پایا ہوگا کہ قیامت قائم ہوجائے اور ایک آدمی اپنے حوض کی لپائی کر رہا ہوگا اسے سیراب نہ کرسکے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ قَالَ أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَثَوْبُهُمَا بَيْنَهُمَا لَا يَطْوِيَانِهِ وَلَا يَتَبَايَعَانِهِ وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ حَلَبَ لِقْحَتَهُ لَا يَطْعَمُهُ وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَقَدْ رَفَعَ لُقْمَتَهُ إِلَى فِيهِ وَلَا يَطْعَمُهَا وَلَتَقُومَنَّ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ يَلِيطُ حَوْضَهُ لَا يَسْقِي مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৬৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تمہیں اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ کس عجیب طریقے سے قریش کی دشنام طرازیوں کو مجھ سے دور کردیا جاتا ہے ؟ وہ کس مذمم پر لعنت اور سب و شتم کرتے ہیں جبکہ میرا نام تو محمد ہے (مذمم نہیں)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ قَالَ أَنْبَأَنَا وَرْقَاءُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يُصْرَفُ عَنِّي شَتْمُ قُرَيْشٍ يَشْتِمُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ وَيَلْعَنُونَ مُذَمَّمًا وَأَنَا مُحَمَّدٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن قبیلہ اسلم غفار اور مزینہ و جہنیہ کا کچھ حصہ اللہ کے نزدیک بنو اسد بنو طئی اور بنو غطفان سے بہتر ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ قَالَ أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَسْلَمُ وَغِفَارٌ وَجُهَيْنَةُ وَمَنْ كَانَ مِنْ مُزَيْنَةَ أَوْ مُزَيْنَةُ وَمَنْ كَانَ مِنْ جُهَيْنَةَ خَيْرٌ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَسَدٍ وطَيِّئٍ وَغَطَفَانَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص جنت میں داخل ہوجائے گا وہ ناز و نعم میں رہے گا پریشان نہ ہوگا اس کے کپڑے پرانے نہ ہوں گے اور اس کی جوانی فنا نہ ہوگی اور جنت میں ایسی چیزیں ہوں گی جنہیں کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی انسان کے دل پر ان کا خیال بھی گذرا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَنْعَمُ لَا يَيْئَسُ وَلَا تَبْلَى ثِيَابُهُ وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آسمان پر سے ایک بادل گذرا نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیا چیز ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا یہ عنان ہے جو زمین کی تراوٹ کو ان لوگوں کے پاس ہانک کرلے جا رہا ہے جو اللہ کا شکر ادا نہیں کرتے اور اسے کبھی نہیں پکارتے کیا تم جانتے ہو کہ یہ تمہارے اوپر کیا چیز ہے ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا اس کا نام رقیع ہے یہ ایک لپٹی ہوئی موج ہے اور محفوظ چھت ہے کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں فرمایا پانچ سو سال فاصلہ ہے۔ پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا دوسرا آسمان ہے کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے اور اس کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں ؟ فرمایا پانچ سو سال کا فاصلہ ہے یہاں تک کہ ساتوں آسمان گنوانے کے بعد فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اوپر کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا اس کے اوپر عرش ہے کیا تم جانتے ہو کہ اس کے اور ساتویں آسمان کے درمیان کتن ا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا پانچ سو سال کا فاصلہ ہے کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے نیچے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا زمین ہے کیا تم جانتے ہو کہ اس کے نیچے کیا ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا دوسری زمین ہے کیا تم جانتے ہو کہ ان دونوں کے درمیان کتنا فاصلہ ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا سات سو سال کا فاصلہ ہے یہاں تک کہ ساتوں زمینیں گنوا دیں پھر فرمایا واللہ اگر تم میں سے کوئی شخص رسی سے لٹک کر ساتویں زمین تک اترنا چاہے تو اتر سکتا ہے پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی وہی اول و آخر اور ظاہر و باطن ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ مَرَّتْ سَحَابَةٌ فَقَالَ أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ الْعَنَانُ وَرَوَايَا الْأَرْضِ يَسُوقُهُ اللَّهُ إِلَى مَنْ لَا يَشْكُرُهُ مِنْ عِبَادِهِ وَلَا يَدْعُونَهُ أَتَدْرُونَ مَا هَذِهِ فَوْقَكُمْ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ الرَّقِيعُ مَوْجٌ مَكْفُوفٌ وَسَقْفٌ مَحْفُوظٌ أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الَّتِي فَوْقَهَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ سَمَاءٌ أُخْرَى أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ثُمَّ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا فَوْقَ ذَلِكَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ الْعَرْشُ قَالَ أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ ثُمَّ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا هَذَا تَحْتَكُمْ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَرْضٌ أَتَدْرُونَ مَا تَحْتَهَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ أَرْضٌ أُخْرَى أَتَدْرُونَ كَمْ بَيْنَهَا وَبَيْنَهَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ حَتَّى عَدَّ سَبْعَ أَرَضِينَ ثُمَّ قَالَ وَايْمُ اللَّهِ لَوْ دَلَّيْتُمْ أَحَدَكُمْ بِحَبْلٍ إِلَى الْأَرْضِ السُّفْلَى السَّابِعَةِ لَهَبَطَ ثُمَّ قَرَأَ هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ کی نگاہوں میں طاقتور مسلمان کمزور مسلمان کی نسبت زیادہ بہتر افضل اور محبوب ہے اور ہر ایک ہی بھلائی میں ہے ایسی چیزوں کی حرص کرو جن کا تمہیں فائدہ ہو اور تم اس سے عاجز نہ آجاؤ اگر کوئی معاملہ تم پر غالب آنے لگے تو یوں کہہ لو کہ اللہ نے اسی طرح مقرر فرمایا تھا اور اللہ جو چاہتا ہے کر گذرتا ہے اور اگر مگر سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ اگر مگر شیطان کا دروازہ کھولتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَارِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُبَارَكٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ رَبِيعَةَ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَبِيعَةَ فَلَمْ أُنْكِرْ قَالَ الْمُؤْمِنُ الْقَوِيُّ خَيْرٌ أَوْ أَفْضَلُ وَأَحَبُّ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ الْمُؤْمِنِ الضَّعِيفِ وَكُلٌّ خَيْرٌ احْرِصْ عَلَى مَا يَنْفَعُكَ وَلَا تَعْجِزْ فَإِنْ غَلَبَكَ أَمْرٌ فَقُلْ قَدَّرَ اللَّهُ وَمَا شَاءَ صَنَعَ وَإِيَّاكَ وَاللَّوَّ فَإِنَّ اللَّوَّ يُفْتَحُ مِنْ الشَّيْطَانِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ دعاء میں اس طرح ہاتھ پھیلاتے تھے کہ میں آپ ﷺ کی مبارک بغل کی سفیدی دیکھ لیتا تھا راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق یہ نماز استسقاء کا موقع تھا۔
حَدَّثَنَا عَارِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ قَالَ وَحَدَّثَنِي أَبِي عَنْ بَرَكَةَ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ حَتَّى أَرَى بَيَاضَ إِبْطَيْهِ قَالَ أَبِي وَهُوَ أَبُو الْمُعْتَمِرِ لَا أَظُنُّهُ إِلَّا فِي الِاسْتِسْقَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ قریش کے سرداروں سے ابوجہل کہنے لگا کیا محمد ﷺ تمہاری موجودگی میں اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں اس پر وہ کہنے لگا کہ لات اور عزی کی قسم اگر میں نے انہیں ایسا کرتے ہوئے دیکھا تو ان کی گردن کو اپنے پاؤں تلے روند دوں گا اور ان کا چہرہ مٹی میں ملا دوں گا یہ کہہ کر نبی کریم ﷺ کی طرف آیا آپ ﷺ اس وقت نماز پڑھ رہے تھے وہ نبی کریم ﷺ کی گردن پر اپنا ناپاک پاؤں رکھنے کے لئے آگے بڑھا لیکن پھر اچانک ہی الٹے پاؤں واپس بھاگ پڑا اور اپنے ہاتھوں سے کسی چیز سے بچنے لگا۔ سرداران قریش نے اس سے پوچھا کیا ہوا ؟ وہ کہنے لگا کہ میرے اور ان کے درمیان آگ کی ایک خندق حائل ہوگئی اور مختلف ہاتھ میری طرف بڑھنے لگے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک عضو اچک کرلے جاتے اور اسی موقع پر سورت علق کی یہ آخری آیات نازل ہوئی ان الانسان لیطغی الی آخرہ۔
حَدَّثَنَا عَارِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ قَالَ أَبِي حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَالَ فَقِيلَ نَعَمْ فَقَالَ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى يَمِينًا يَحْلِفُ بِهَا لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ لَأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ أَوْ لَأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ قَالَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي زَعَمَ لَيَطَأُ عَلَى رَقَبَتِهِ قَالَ فَمَا فَجَأَهُمْ مِنْهُ إِلَّا وَهُوَ يَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ قَالَ قَالُوا لَهُ مَا لَكَ قَالَ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَؤُلَاءِ أَجْنِحَةٌ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ دَنَا مِنِّي لَخَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا قَالَ فَأُنْزِلَ لَا أَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ شَيْءٍ بَلَغَهُ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنَّ رَآهُ اسْتَغْنَى أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ قَالَ يَدْعُو قَوْمَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ قَالَ يَعْنِي الْمَلَائِكَةَ كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ارشاد فرمائیں گے میری خاطر آپس میں ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ کہاں ہیں ؟ میرے جلال کی قسم آج میں انہیں اپنے سائے میں جبکہ میرے سائے کے علاوہ کہیں کوئی سایہ نہیں جگہ عطاء کروں گا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَيْنَ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِي الْيَوْمَ أُظِلُّهُمْ فِي ظِلِّي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک سر زمین عرب دریاؤں اور نہروں سے لبریز نہ ہوجائے اور جب تک ایک سوار عراق اور مکہ کے درمیان سفر کرے اور اس سفر میں سوائے راہ بھٹکنے کے کوئی اور اندیشہ نہ ہو اور جب تک کہ ہرج کی کثرت نہ ہوجائے صحابہ (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہرج سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا قتل۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعُودَ أَرْضُ الْعَرَبِ مُرُوجًا وَأَنْهَارًا وَحَتَّى يَسِيرَ الرَّاكِبُ بَيْنَ الْعِرَاقِ وَمَكَّةَ لَا يَخَافُ إِلَّا ضَلَالَ الطَّرِيقِ وَحَتَّى يَكْثُرَ الْهَرْجُ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الْقَتْلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ہر نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ اللہ اکبر۔ ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ۔ ٣٣ مرتبہ الحمد اللہ پڑھ لیا کرے اور ننانوے تک پہنچ کر سو کی تکمیل کے لئے اور آخر میں یہ کہہ لیا کرو۔ لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ہو علی کل شیء قدیر۔ تو اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ زَكَرِيَّا عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَبَّحَ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَحَمِدَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبَّرَ اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَتِلْكَ تِسْعٌ وَتِسْعُونَ ثُمَّ قَالَ تَمَامُ الْمِائَةِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ غُفِرَ لَهُ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص صبح و شام سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہہ لے قیامت کے دن کوئی شخص اس سے افضل عمل والا نہیں آئے گا الاّ یہ کہ کسی اور نے بھی یہ کلمات اتنی ہی مرتبہ یا اس سے زیادہ مرتبہ کہے ہوں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
کاتبین سے اس مقام پر غلطی ہوئی ہے اور انہوں نے ایک حدیث کی سند اور دوسرے کا متن خلط ملط کردیا ہے ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ حدثنا " لکھا ہوا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص دیہات میں رہتا ہو وہ اپنے ساتھ زیادتی کرتا ہے جو شخص شکار کے پیچھے پڑتا ہے وہ غافل ہوجاتا ہے جو بادشاہوں کے دروازے پر آتا ہے وہ فتنے میں مبتلا ہوتا ہے اور جو شخص بادشاہ کا جتنا قرب حاصل کرتا جاتا ہے اللہ سے اتنا ہی دور ہوتا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحَكَمِ النَّخَعِيِّ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَا جَفَا وَمَنْ اتَّبَعَ الصَّيْدَ غَفَلَ وَمَنْ أَتَى أَبْوَابَ السُّلْطَانِ افْتُتِنَ وَمَا ازْدَادَ عَبْدٌ مِنْ السُّلْطَانِ قُرْبًا إِلَّا ازْدَادَ مِنْ اللَّهِ بُعْدًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر کسی شخص کو یہ معلوم ہوجائے کہ اپنے نمازی بھائی کے آگے سے گذرنے کی کیا سزا ہے تو اس یک نظروں میں وہاں سے گذرنے کی نسبت سو سال تک کھڑا رہنا زیادہ بہتر ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي أَبَا أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيَّ قَالَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمِّي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُكُمْ مَا لَهُ فِي أَنْ يَمْشِيَ بَيْنَ يَدَيْ أَخِيهِ مُعْتَرِضًا وَهُوَ يُنَاجِي رَبَّهُ كَانَ أَنْ يَقِفَ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ مِائَةَ عَامٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَخْطُوَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص سرمہ لگائے وہ طاق عدد کا خیال رکھے جو خیال رکھ لے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے اور جو شخص پتھروں سے استنجاء کرے وہ طاق عدد کا خیال رکھے جو خیال رکھ لے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کو پھینک دے اور جو زبان سے چبا لیا ہو اسے نگل لے جو خیال رکھ لے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے جو شخص بیت الخلاء آئے تو ستر کا خیال رکھے اگر اسے ٹیلے کے علاوہ کچھ نہ ملے تو اس کی طرف پشت کرلے کیونکہ شیطان بنی آدم کی شرمگاہوں سے کھلیتا ہے جو ایسا کرلے تو بہت اچھا ورنہ کوئی حرج بھی نہیں ہے
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ قَالَ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ ثَوْرٍ عَنِ الْحُصَيْنِ كَذَا قَالَ عَنْ أَبِي سَعْدِ الْخَيْرِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عُمَرَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ اكْتَحَلَ فَلْيُوتِرْ وَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ وَمَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ وَمَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ أَكَلَ فَمَا تَخَلَّلَ فَلْيَلْفِظْ وَمَنْ لَاكَ بِلِسَانِهِ فَلْيَبْتَلِعْ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ وَمَنْ أَتَى الْغَائِطَ فَلْيَسْتَتِرْ فَإِنْ لَمْ يَجِدْ إِلَّا أَنْ يَجْمَعَ كَثِيبًا فَلْيَسْتَدْبِرْهُ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَلْعَبُ بِمَقَاعِدِ بَنِي آدَمَ مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ہم نے ایک دھماکے کی آواز سنی نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ کیسی آواز ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ ہی زیادہ جانتے ہیں فرمایا یہ ایک پتھر کی آواز ہے جیسے ستر سال پہلے جہنم میں لڑھکایا گیا تھا وہ پتھر اب اس کی تہہ میں پہنچا ہے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَسَمِعْنَا وَجْبَةً فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَدْرُونَ مَا هَذَا قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ هَذَا حَجَرٌ أُرْسِلَ فِي جَهَنَّمَ مُنْذُ سَبْعِينَ خَرِيفًا فَالْآنَ انْتَهَى إِلَى قَعْرِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
ابوحازم کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت ابوہریرہ (رض) کے پیچھے کھڑا تھا وہ وضو فرما رہے تھے اور اپنے ہاتھ بغل تک دھو رہے تھے میں نے پوچھا ابوہریرہ ! یہ کیسا وضو ہے ؟ انہوں نے مجھے دیکھ کر فرمایا اے بنی فروخ تم یہاں اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم یہاں موجود ہو تو میں اس طرح کبھی وضو نہ کرتا (بہرحال اب تمہیں پتہ چل ہی گیا ہے تو سنو کہ) میں نے اپنے خلیل ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان کے اعضاء کی چمک وہاں تک پہنچتی ہے جہاں تک وضو کا پانی پہنچتا ہے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابْنَ خَلِيفَةَ عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ عَنْ أَبِي حَازِمٍ قَالَ كُنْتُ خَلْفَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وَهُوَ يُمِرُّ الْوَضُوءَ إِلَى إِبْطِهِ فَقُلْتُ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ مَا هَذَا الْوُضُوءُ قَالَ يَا بَنِي فَرُّوخَ أَنْتُمْ هَاهُنَا لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكُمْ هَاهُنَا مَا تَوَضَّأْتُ هَذَا الْوُضُوءَ إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلِي يَقُولُ تَبْلُغُ الْحِلْيَةُ مِنْ الْمُؤْمِنِ إِلَى حَيْثُ يَبْلُغُ الْوُضُوءُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ میرے والد صاحب کا انتقال ہوگیا ہے انہوں نے مال تو چھوڑا ہے لیکن کوئی وصیت نہیں کی کیا میرا ان کی طرف سے صدقہ کرنا صحیح ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہاں صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي الْعَلَاءُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَبِي مَاتَ وَتَرَكَ مَالًا وَلَمْ يُوصِ فَهَلْ يُكَفِّرُ عَنْهُ أَنْ أَتَصَدَّقَ عَنْهُ فَقَالَ نَعَمْ
তাহকীক: