আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৭৯৫ টি
হাদীস নং: ৮৫০৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نماز فجر پڑھ کر واپس ہوئے تو مسجد میں موجود خواتین کے قریب سے گذرتے ہوئے وہاں رک گئے اور فرمایا اے گروہ خواتین بڑے بڑے عقلمندوں کے دلوں پر قبضہ کرنے والی ناقص العقل والدین کوئی مخلوق میں نے تم سے بڑھ کر نہیں دیکھی اور میں نے دیکھا ہے کہ قیامت کے دن اہل جہنم میں تمہاری اکثریت ہوگی اس لئے حسب استطاعت اللہ سے قرب حاصل کرنے کے لئے صدقہ خیرات کیا کرو۔ ان خواتین میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی اہلیہ بھی تھیں انہوں نے گھر آکر حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کو نبی کریم ﷺ کا ارشاد سنایا اور اپنا زیور لے کر چلنے لگیں حضرت ابن مسعود (رض) نے پوچھا یہ کہاں لے جارہی ہو ؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کے ذریعے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا قرب حاصل کرنا چاہتی ہوں تاکہ اللہ مجھے جہنمیوں میں سے نہ کردے انہوں نے فرمایا بھئی یہ میرے پاس لاؤ اور مجھ پر اور میرے بچے پر اسے صدقہ کردو کہ ہم تو اس کے مستحق بھی ہیں ان کی اہلیہ نے کہا واللہ ایسا نہیں ہوسکتا میں اسے لے کر نبی کریم ﷺ ہی کے پاس جاؤں گی۔ چناچہ وہ چلی گئیں اور کاشانہ نبوت میں داخل ہونے کے لئے اجازت چاہی لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ زینب اجازت چاہتی ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے پوچھا کون سی زینب ؟ (کیونکہ یہ کئی عورتوں کا نام تھا) لوگوں نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کی اہلیہ فرمایا انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو چناچہ وہ اندر داخل ہوگئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ ﷺ میں نے آپ سے ایک حدیث سنی تھی میں اپنے شوہر ابن مسعود (رض) کے پاس واپس پہنچی تو انہیں بھی وہ حدیث سنائی اور اپنا زیور لے کر آنے لگی کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا قرب حاصل کروں اور امید یہ تھی کہ اللہ مجھے اہل جہنم میں شمار نہیں فرمائے گا تو مجھ سے ابن مسعود (رض) کہنے لگے یہ مجھ پر اور میرے بچے پر صدقہ کردو کیونکہ ہم اس کے مستحق ہیں میں نے ان سے کہا کہ پہلے میں نبی کریم ﷺ سے اجازت لوں گی نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم یہ ان پر صدقہ کردو کیونکہ وہ واقعی اس کے مستحق ہیں۔ پھر وہ کہنے لگیں یا رسول اللہ ﷺ یہ تو بتائیے کہ جب آپ ہمارے پاس آکر کھڑے ہوئے تھے تو میں نے ایک بات اور بھی سنی تھی کہ میں نے بڑے بڑے عقلمندوں کے دلوں پر قبضہ کرنے والی ناقص العقل والدین کوئی مخلوق تم سے بڑھ کر نہیں دیکھی تو یارسول اللہ ﷺ ہمارے دین اور عقل میں نقصان سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا تمہیں اپنے دین کا نقصان یاد نہیں ہے کہ وہ ایام جو تمہیں پیش آتے ہیں اور جب تک اللہ کی مرضی ہوتی ہے تم رکی رہتی ہو نماز روزہ نہیں کرسکتی ہو یہ تو دین کا نقصان ہے اور جہاں تک عقل کے ناقص ہونے کی بات ہے تو وہ تمہاری گواہی ہے کہ عورت کی گواہی مرد کی گواہی سے نصف ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ الصُّبْحِ يَوْمًا فَأَتَى النِّسَاءَ فِي الْمَسْجِدِ فَوَقَفَ عَلَيْهِنَّ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ مَا رَأَيْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُولٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِقُلُوبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْكُنَّ فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَتَقَرَّبْنَ إِلَى اللَّهِ مَا اسْتَطَعْتُنَّ وَكَانَ فِي النِّسَاءِ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَتَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا سَمِعَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَتْ حُلِيًّا لَهَا فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَأَيْنَ تَذْهَبِينَ بِهَذَا الْحُلِيِّ فَقَالَتْ أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ وَيْلَكِ هَلُمِّي فَتَصَدَّقِي بِهِ عَلَيَّ وَعَلَى وَلَدِي فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ فَقَالَتْ لَا وَاللَّهِ حَتَّى أَذْهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَتْ تَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَيُّ الزَّيَانِبِ هِيَ فَقَالُوا امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ ائْذَنُوا لَهَا فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُ مِنْكَ مَقَالَةً فَرَجَعْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَحَدَّثْتُهُ وَأَخَذْتُ حُلِيًّا أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكَ رَجَاءَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي اللَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَ لِي ابْنُ مَسْعُودٍ تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيَّ وَعَلَى وَلَدِي فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ فَقُلْتُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيْهِ وَعَلَى بَنِيهِ فَإِنَّهُمْ لَهُ مَوْضِعٌ ثُمَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَا سَمِعْتُ مِنْكَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَيْنَا مَا رَأَيْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عُقُولٍ قَطُّ وَلَا دِينٍ أَذْهَبَ بِقُلُوبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْكُنَّ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعُقُولِنَا فَقَالَ أَمَّا مَا ذَكَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ دِينِكُنَّ فَالْحَيْضَةُ الَّتِي تُصِيبُكُنَّ تَمْكُثُ إِحْدَاكُنَّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَمْكُثَ لَا تُصَلِّي وَلَا تَصُومُ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِكُنَّ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ عُقُولِكُنَّ فَشَهَادَتُكُنَّ إِنَّمَا شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ نِصْفُ شَهَادَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫০৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اللہ زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا پھر فرمائے گا کہ میں ہوں بادشاہ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ ؟
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫০৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اہل جہنم کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلاجائے گا جو ان کی کھوپڑی میں سوراخ کرتا ہوا پیٹ تک پہنچے گا اور اس میں موجود ساری آنتوں کو باہر نکال دے گا یہاں تک کہ پیروں کے راستے باہر نکل آئے گا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي السَّمْحِ عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْحَمِيمَ لَيُصَبُّ عَلَى رُءُوسِهِمْ فَيَنْفُذُ الْجُمْجُمَةَ حَتَّى يَخْلُصَ إِلَى جَوْفِهِ فَيَسْلُتَ مَا فِي جَوْفِهِ حَتَّى يَمْرُقَ مِنْ قَدَمَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اس حال میں مرجائے کہ جہاد کیا ہو اور نہ ہی اس کے دل میں جہاد کا خیال آیا ہو وہ نفاق کے ایک شعبے پر مرا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ وُهَيْبٍ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَغْزُ وَلَمْ يُحَدِّثْ نَفْسَهُ بِغَزْوٍ مَاتَ عَلَى شُعْبَةِ نِفَاقٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے گھوڑے کو اللہ کے راستہ میں روکے رکھے اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے کو سچا سمجھتے ہوئے تو اس کا کھانے سے سیراب ہونا پینے سے سیراب ہونا پیشاب اور لید قیامت کے دن اس شخص کے ترازو میں نیکیاں بن جائیں گی۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ سَمِعْتُ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ احْتَبَسَ فَرَسًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِيمَانًا بِاللَّهِ وَتَصْدِيقًا لِمَوْعُودِهِ كَانَ شِبَعُهُ وَرِيُّهُ وَبَوْلُهُ وَرَوْثُهُ حَسَنَاتٍ فِي مِيزَانِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی جس دن زمین اپنی ساری خبریں بیان کردے گی اور فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ زمین کی خبروں سے کیا مراد ہے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں فرمایا زمین کی خبروں سے مراد یہ ہے کہ زمین ہر مرد و عورت کے متعلق ان تمام اعمال کی گواہی دے گی جو انہوں نے اس کی پشت پر رہ کر کئے ہوں گے اور وہ کہے گی کہ تو نے فلاں دن فلاں عمل کیا تھا یہ مراد ہے زمین کی خبروں سے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي أَيُّوبَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا قَالَ أَتَدْرُونَ مَا أَخْبَارُهَا قَالُوا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ أَخْبَارَهَا أَنْ تَشْهَدَ عَلَى كُلِّ عَبْدٍ وَأَمَةٍ بِمَا عَمِلَ عَلَى ظَهْرِهَا أَنْ تَقُولَ عَمِلْتَ عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا قَالَ فَهُوَ أَخْبَارُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنا سلسلہ نسب اتنا تو سیکھ لو کہ جس سے صلہ رحمی کرسکو کیونکہ صلہ رحمی سے اس شخص کے ساتھ محبت بڑھتی ہے مال میں اضافہ ہوتا ہے اور مصائب ٹل جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عِيسَى الثَّقَفِيِّ عَنْ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَعَلَّمُوا مِنْ أَنْسَابِكُمْ مَا تَصِلُونَ بِهِ أَرْحَامَكُمْ فَإِنَّ صِلَةَ الرَّحِمِ مَحَبَّةٌ فِي الْأَهْلِ مَثْرَاةٌ فِي الْمَالِ مَنْسَأَةٌ فِي أَثَرِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اچھی بات بھی صدقہ ہے اور جو قدم نماز کی طرف اٹھاؤ وہ بھی صدقہ ہے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ عَنِ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ وَكُلُّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا إِلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ مہینہ تم پر سایہ فگن ہوا پیغمبر اللہ قسم کھاتے ہیں کہ مسلمانوں پر ماہ رمضان سے بہتر کوئی مہینہ سایہ فگن نہیں ہوتا اور منافقین پر رمضان سے زیادہ سخت کوئی مہینہ نہیں آتا اللہ تعالیٰ اس کے آنے سے پہلے اس کا اجر اور نوافل لکھنا شروع کردیتا ہے اور منافقین کا گناہوں پر اصرار اور بدبختی بھی پہلے سے لکھنا شروع کردیتا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان اس مہینے میں عبادت کے لئے طاقت مہیا کرتے ہیں اور منافقین لوگوں کی غفلتوں اور عیوب کو تلاش کرتے ہیں گویا یہ مہنیہ مسلمان کے لئے غنیمت ہے جس پر گناہ گار لوگ رشک کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ تَمِيمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَظَلَّكُمْ شَهْرُكُمْ هَذَا لَمَحْلُوفُ رَسُولِ اللَّهِ مَا مَرَّ بِالْمُؤْمِنِينَ شَهْرٌ خَيْرٌ لَهُمْ مِنْهُ وَلَا بِالْمُنَافِقِينَ شَهْرٌ شَرٌّ لَهُمْ مِنْهُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَكْتُبُ أَجْرَهُ وَنَوَافِلَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُدْخِلَهُ وَيَكْتُبُ إِصْرَهُ وَشَقَاءَهُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُدْخِلَهُ وَذَلِكَ أَنَّ الْمُؤْمِنَ يُعِدُّ فِيهِ الْقُوَّةَ لِلْعِبَادَةِ مِنْ النَّفَقَةِ وَيُعِدُّ الْمُنَافِقُ اتِّبَاعَ غَفْلَةِ النَّاسِ وَاتِّبَاعَ عَوْرَاتِهِمْ فَهُوَ غُنْمٌ لِلْمُؤْمِنِ يَغْتَنِمُهُ الْفَاجِرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حج یا عمرے کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے کہ راستے میں ٹڈی دل کا ایک غول نظر آیا ہم انہیں اپنے کوڑوں اور لاٹھیوں سے مارنے لگے اور وہ ایک ایک کرکے ہمارے سامنے گرنے لگے ہم نے سوچا کہ ہم تو محرم ہیں ان کا کیا کریں ؟ پھر ہم نے نبی کریم ﷺ سے دریافت کیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا (سمندر کے شکار میں) کوئی حرج نہیں۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَبِي الْمُهَزِّمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ فَاسْتَقْبَلَنَا رِجْلٌ مِنْ جَرَادٍ فَجَعَلْنَا نَضْرِبُهُنَّ بِسِيَاطِنَا وَعِصِيِّنَا فَنَقْتُلُهُنَّ فَسُقِطَ فِي أَيْدِينَا فَقُلْنَا مَا نَصْنَعُ وَنَحْنُ مُحْرِمُونَ فَسَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا بَأْسَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اذان اور صف اول میں نماز کا کیا ثواب ہے اور پھر انہیں یہ چیزیں قرعہ اندازی کے بغیر حاصل نہ ہو سکیں تو وہ ان دونوں کا ثواب حاصل کرنے کے لئے قرعہ اندازی کرنے لگیں اور اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ جلدی نماز میں آنے کا کتنا ثواب ہے تو وہ اس کی طرف سبقت کرنے لگیں اور اگر انہیں یہ معلوم ہوجائے کہ نماز عشاء اور نماز فجر کا کتنا ثواب ہے تو وہ ان دونوں نمازوں میں ضرور شرکت کریں خواہ انہیں گھسٹ گھسٹ کر ہی آنا پڑے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الْأَوَّلِ ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي التَّهْجِيرِ لَاسْتَبَقُوا إِلَيْهِ وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص دن میں تین مرتبہ یہ کلمات کہہ لے لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ لہ الملک ولہ الحمد و ہو علی کل شیء قدیر۔ تو یہ دس غلاموں کو آزاد کرنے کے برابر ہوگا اور اس کے لئے سو نیکیاں لکھی جائیں گی سو گناہ مٹا دئیے جائیں گے اور شام تک وہ شیطان سے اس کی حفاظت کا سبب ہوں گے اور کوئی شخص اس سے افضل عمل نہیں پیش کرسکے گا سوائے اس شخص کے جو اس سے زیادہ عمل کرے۔ اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص دن میں سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ کہہ لے اس کے سارے گناہ مٹا دئیے جائیں گے خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ مِائَةَ مَرَّةٍ كَانَتْ لَهُ عَدْلَ عَشَرَةِ رِقَابٍ وَكُتِبَتْ لَهُ مِائَةُ حَسَنَةٍ وَمُحِيَتْ عَنْهُ مِائَةُ سَيِّئَةٍ وَكَانَتْ لَهُ حِرْزًا مِنْ الشَّيْطَانِ يَوْمَهُ ذَلِكَ حَتَّى يُمْسِيَ وَلَمْ يَأْتِ أَحَدٌ أَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا امْرُؤٌ عَمِلَ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ وَمَنْ قَالَ فِي يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ حُطَّتْ خَطَايَاهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک آدمی راستے میں چلا جا رہا تھا کہ اسے پیاس نے شدت سے ستایا اسے قریب ہی ایک کنواں مل گیا اس نے کنوئیں میں اتر کر اپنی پیاس بجھائی اور باہر نکل آیا اچانک اس کی نظر ایک کتے پر پڑی جو پیاس کے مارے کیچڑ چاٹ رہا تھا اس نے اپنے دل میں سوچا کہ اس کتے کو بھی اسی طرح پیاس لگ رہی ہوگی جیسے مجھے لگ رہی تھی چناچہ وہ دوبارہ کنوئیں میں اترا اپنے موزے کو پانی سے بھرا اور اسے منہ سے پکڑ لیا اور باہر نکل کر کتے کو وہ پانی پلا دیا اللہ نے اس کے اس عمل کی قدر دانی فرمائی اور اسے بخش دیا صحابہ (رض) نے یہ سن کر پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کیا جانوروں میں بھی ہمارے لئے اجر رکھا گیا ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر تر جگر رکھنے والی چیز میں اجر رکھا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يَمْشِي وَهُوَ بِطَرِيقٍ إِذْ اشْتَدَّ عَلَيْهِ الْعَطَشُ فَوَجَدَ بِئْرًا فَنَزَلَ فِيهَا فَشَرِبَ ثُمَّ خَرَجَ فَإِذَا كَلْبٌ يَلْهَثُ يَأْكُلُ الثَّرَى مِنْ الْعَطَشِ فَقَالَ لَقَدْ بَلَغَ هَذَا الْكَلْبَ مِنْ الْعَطَشِ مِثْلُ الَّذِي بَلَغَنِي فَنَزَلَ الْبِئْرَ فَمَلَأَ خُفَّهُ مَاءً ثُمَّ أَمْسَكَهُ بِفِيهِ حَتَّى رَقِيَ بِهِ فَسَقَى الْكَلْبَ فَشَكَرَ اللَّهُ لَهُ فَغَفَرَ لَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنَّ لَنَا فِي الْبَهَائِمِ لَأَجْرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ رَطْبَةٍ أَجْرٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھوں کو پھیلا کر رفع یدین فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مدینہ منورہ کے سوراخوں پر فرشتوں کا پہرہ ہے اس لئے یہاں دجال یا طاعون داخل نہیں ہوسکتا۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَخْبَرَنِي مَالِكٌ عَنْ نُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم میرا قبلہ یہاں سمجھتے ہو ؟ واللہ مجھ پر تمہارا خشوع مخفی ہوتا ہے اور نہ رکوع میں تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَلْ تَرَوْنَ قِبْلَتِي هَاهُنَا فَوَاللَّهِ مَا يَخْفَى عَلَيَّ خُشُوعُكُمْ وَلَا رُكُوعُكُمْ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ قبرستان تشریف لے گئے وہاں پہنچ کر قبرستان والوں کو سلام کرتے ہوئے فرمایا اے جماعت مومنین کے مکینو ! تم پر سلام ہو انشاء اللہ ہم بھی تم سے آکر ملنے والے ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنِ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْمَقَابِرِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَكُمْ لَاحِقُونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے یہاں ایک مہمان آیا جو کہ کافر تھا نبی کریم ﷺ کے حکم پر اس کے لئے ایک بکری کا دودھ دوہا گیا اس نے وہ سارادودھ پی لیا نبی کریم ﷺ نے دوسری بکری کو دوہنے کا حکم دیا وہ اس کا بھی دودھ پی گیا اس طرح کرتے کرتے وہ سات بکریوں کا دودھ پی گیا اگلے دن اس نے اسلام قبول کرلیا نبی کریم ﷺ کے حکم پر اس کے لئے بکری کا دودھ دوہا گیا اس نے پی لیا دوسری بکری کو دوہنے کا حکم دیا تو وہ اسے پورا نہ کرسکا۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان ایک آنت میں پیتا ہے اور کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَافَهُ ضَيْفٌ وَهُوَ كَافِرٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ الْكَافِرُ حِلَابَهَا ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ ثُمَّ أُخْرَى فَشَرِبَهُ حَتَّى شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاهٍ ثُمَّ إِنَّهُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَاةٍ فَشَرِبَ حِلَابَهَا ثُمَّ أَمَرَ بِأُخْرَى فَلَمْ يَسْتَتِمَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ قبیلہ اسلم کے ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ آج رات جب میں سو رہا تھا تو مجھے ایک بچھو نے ڈس لیا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم نے شام کو یہ جملے کہے ہوتے اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ما خلق تو وہ تمہیں کبھی نقصان نہ پہنچاتا
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ قَالَ لَمَّا نِمْتُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ لَدَغَتْنِي عَقْرَبٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا لَوْ قُلْتَ حِينَ أَمْسَيْتَ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ لَمْ يَضُرَّكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اپنے یا کسی دوسرے کے یتیم بچے کی پرورش کرنے والا، میں اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے بشرطیکہ وہ اللہ سے ڈرتا ہو امام مالک (رح) نے شہادت والی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا۔
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ أَنْبَأَنَا مَالِكٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْغَيْثِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ أَنَا وَهُوَ كَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ إِذَا اتَّقَى اللَّهَ وَأَشَارَ مَالِكٌ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى
তাহকীক: