আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৭৯৫ টি

হাদীস নং: ৮৮৬৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ تم میں سب سے بہتر کون ہے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا جی یا رسول اللہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سب سے بہتر لوگ وہ ہیں جن کی عمر طویل ہو اور اخلاق بہترین ہوں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا وَأَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৬৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے آنے والے تاجروں سے باہر باہر ہی مل کر خریداری کرنے سے منع فرمایا ہے جو شخص اس طرح کوئی چیز خریدے تو بیچنے والے کو بازار اور منڈی میں پہنچنے کے بعد اختیار ہوگا (کہ وہ اس بیع کو قائم رکھے یا فسخ کردے)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُتَلَقَّى الْجَلَبُ فَإِنْ ابْتَاعَ مُبْتَاعٌ فَصَاحِبُ السِّلْعَةِ بِالْخِيَارِ إِذَا وَرَدَتْ السُّوقَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৬৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں نے ابوالقاسم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کچھ لوگ مدینہ منورہ سے بےرغبتی کے ساتھ نکل جائیں گے حالانکہ اگر انہیں پتہ ہوتا تو مدینہ ہی ان کے لئے زیادہ بہتر تھا۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ اللُّؤْلُؤِيُّ وَأَبُو كَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ قَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَخْرُجَنَّ رِجَالٌ مِنْ الْمَدِينَةِ رَغْبَةً عَنْهَا وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی نیند سے بیدار ہو تو اپنا ہاتھ کسی برتن میں اس وقت تک نہ ڈالے جب تک اسے تین مرتبہ دھو نہ لے کیونکہ اسے خبر نہیں کہ رات بھر اس کا ہاتھ کہاں رہا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ أَخْبَرَنِي جَابِرٌ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ مَنَامِهِ فَلْيُفْرِغْ عَلَى يَدَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَبْلَ أَنْ يُدْخِلَهُمَا فِي الْإِنَاءِ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِيمَ بَاتَتْ يَدُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جمعہ کے دن ایک ساعت ایسی بھی آتی ہے کہ بندہ مسلم اللہ سے جو دعاء کرتا ہے اللہ اسے وہ چیز ضرور عطاء فرما دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ وَقَدْ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ إِلَّا اسْتُجِيبَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ میں جب بھی دوپہر کے وقت نکلا تو نبی کریم ﷺ کو نماز ہی پڑھتے ہوئے پایا (ایک دن میں حاضر ہوا تو) نبی کریم ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر فارسی میں پوچھا کہ تمہارے پیٹ میں درد ہو رہا ہے ؟ میں نے کہا کہ نہیں فرمایا کھڑے ہو کر نماز پڑھو کیونکہ نماز میں شفاء ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا ذَوَّادُ بْنُ عُلْبَةَ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهَجِّرُ قَالَ فَصَلَّيْتُ ثُمَّ جِئْتُ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ اشِكَمَتْ دَرْدْ قَالَ قُلْتُ لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ صَلِّ فَإِنَّ فِي الصَّلَاةِ شِفَاءً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حضرت ابرہیم (علیہ السلام) نے کبھی ایسی بات نہیں کہی جو حقیقت میں تو سچی اور بظاہر جھوٹ معلوم ہوتی ہو ہاں اس طرح کی تین باتیں کہی تھیں۔ پہلی دونوں باتیں تو یہ ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میں بیمار ہوں اور یہ فرمایا تھا کہ یہ فعل (بت شکنی) بڑے بت کا ہے اور تیسری بات کی یہ صورت ہوئی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت سارہ علیہا السلام کا ایک گاؤں سے گذر ہوا وہاں ایک ظالم بادشاہ موجود تھا بادشاہ سے کسی نے کہا کہ یہاں ایک شخص آیا ہے جس کے ساتھ ایک نہایت حسین عورت ہے بادشاہ نے ایک آدمی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بھیج کر دریافت کرایا کہ یہ عورت کون ہے ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میری بہن ہے پھر حضرت سارہ علیہا السلام کے پاس آکر فرمایا کہ روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی اور ایمان دار نہیں ہے اور اس ظالم نے مجھ سے تمہارے متعلق دریافت کیا تھا میں نے اس سے کہہ دیا کہ تم میری بہن ہو لہٰذا تم میری تکذیب نہ کرنا۔ اس کے بعد بادشاہ نے حضرت سارہ علیہا السلام کو بلوایا سارہ چلی گئیں بادشاہ غلط ارادے سے ان کی طرف بڑھا حضرت سارہ علیہا السلام وضو کر کے نماز پڑھنے لگیں اور کہنے لگیں کہ اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے شوہر کے علاوہ سب سے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ فرما اس پر وہ زمین میں دھنس گیا حضرت سارہ علیہا السلام نے دعاء کی کہ اے اللہ اگر یہ اس طرح مرگیا تو لوگ کہیں گے کہ سارہ نے اسے قتل کیا ہے چناچہ اللہ نے اسے چھوڑ دیا دوبارہ اس نے دست درازی کرنا چاہی لیکن پھر اسی طرح ہوا وہ زمین میں دھنسا اور رہا ہوا۔ تیسری یا چوتھی مرتبہ بادشاہ اپنے دربان سے کہنے لگا کہ تو میرے پاس آدمی کو نہیں لایا ہے بلکہ شیطان کو لایا ہے اسے ابراہیم کے پاس واپس بھیج دو یہ کہہ کر حضرت سارہ علیہا السلام کو خدمت کے لئے ہاجرہ علیہا السلام عطا فرمائی حضرت سارہ (علیہا السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس واپس آگئیں اور کہا اللہ تعالیٰ نے کافر کی دست درازی سے مجھے محفوظ رکھا اور اس نے مجھے خدمت کے لئے ہاجرہ دی ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَفْصٍ قَالَ حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذِبَاتٍ قَوْلُهُ حِينَ دُعِيَ إِلَى آلِهَتِهِمْ إِنِّي سَقِيمٌ وَقَوْلُهُ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا وَقَوْلُهُ لِسَارَةَ إِنَّهَا أُخْتِي قَالَ وَدَخَلَ إِبْرَاهِيمُ قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنْ الْمُلُوكِ أَوْ جَبَّارٌ مِنْ الْجَبَابِرَةِ فَقِيلَ دَخَلَ إِبْرَاهِيمُ اللَّيْلَةَ بِامْرَأَةٍ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ قَالَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ الْمَلِكُ أَوْ الْجَبَّارُ مَنْ هَذِهِ مَعَكَ قَالَ أُخْتِي قَالَ أَرْسِلْ بِهَا قَالَ فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ وَقَالَ لَهَا لَا تُكَذِّبِي قَوْلِي فَإِنِّي قَدْ أَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي إِنْ عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ قَالَ فَلَمَّا دَخَلَتْ إِلَيْهِ قَامَ إِلَيْهَا قَالَ فَأَقْبَلَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ قَالَ فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهَا قَالَتْ اللَّهُمَّ إِنَّهُ إِنْ يَمُتْ يُقَلْ هِيَ قَتَلَتْهُ قَالَ فَأُرْسِلَ ثُمَّ قَامَ إِلَيْهَا فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ قَالَ فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ قَالَ أَبُو الزِّنَادِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهَا قَالَتْ اللَّهُمَّ إِنَّهُ إِنْ يَمُتْ يُقَلْ هِيَ قَتَلَتْهُ قَالَ فَأُرْسِلَ فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ مَا أَرْسَلْتُمْ إِلَيَّ إِلَّا شَيْطَانًا ارْجِعُوهَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَأَعْطُوهَا هَاجَرَ قَالَ فَرَجَعَتْ فَقَالَتْ لِإِبْرَاهِيمَ أَشَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ رَدَّ كَيْدَ الْكَافِرِ وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے یہ ارشاد نبوی ﷺ منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں بیمار ہوا لیکن ابن آدم نے میری عیادت نہیں کی مجھے پیاس لگی لیکن ابن آدم نے پانی نہیں پلایا میں نے عرض کیا پروردگار ! کیا آپ بھی بیمار ہوتے ہیں ؟ جواب ملا کہ زمین پر میرا کوئی بندہ بیمار ہوتا ہے اور اس کی بیمار پرسی نہیں کی جاتی اگر بندہ اس کی عیادت کے لئے جاتا ہے تو اسے وہی ثواب ملتا جو میری عیادت کرنے پر ملتا اور زمین پر میرا کوئی بندہ پیاسا ہوتا ہے لیکن اسے پانی نہیں پلایا جاتا۔ اگر کوئی اسے پانی پلاتا تو اسے وہی ثواب ملتا جو مجھے پانی پلانے پر ہوتا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّهُ قَالَ مَرِضْتُ فَلَمْ يَعُدْنِي ابْنُ آدَمَ وَظَمِئْتُ فَلَمْ يَسْقِنِي ابْنُ آدَمَ فَقُلْتُ أَتَمْرَضُ يَا رَبِّ قَالَ يَمْرَضُ الْعَبْدُ مِنْ عِبَادِي مِمَّنْ فِي الْأَرْضِ فَلَا يُعَادُ فَلَوْ عَادَهُ كَانَ مَا يَعُودُهُ لِي وَيَظْمَأُ فِي الْأَرْضِ فَلَا يُسْقَى فَلَوْ سُقِيَ كَانَ مَا سَقَاهُ لِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جنت میں ایک درخت ایسا ہے کوئی بہترین سوار اس کے سائے میں سو سال تک چل سکتا ہے اور اس کے پتوں نے جنت کو ڈھانپ رکھا ہے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي يُونُسَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَشَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ الْجَوَادُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ وَإِنَّ وَرَقَهَا لَيُخَمِّرُ الْجَنَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جو شخص سرحدوں کی حفاظت کرتا ہوا فوت ہوجائے وہ قبر کے عذاب سے محفوظ رہے گا اور بڑی گھبراہٹ کے دن مامون رہے گا صبح و شام اسے جنت سے رزق پہنچایا جائے گا اور قیامت تک اس کے لئے سرحدی محافظ کا ثواب لکھا جاتا رہے گا۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ وَرْدَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ مَاتَ مُرَابِطًا وُقِيَ فِتْنَةَ الْقَبْرِ وَأُومِنَ مِنْ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ وَغُدِيَ عَلَيْهِ وَرِيحَ بِرِزْقِهِ مِنْ الْجَنَّةِ وَكُتِبَ لَهُ أَجْرُ الْمُرَابِطِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ بندہ جب حلال مال میں سے کوئی چیز صدقہ کرتا ہے تو اللہ اسے قبول فرمالیتا ہے اور اسے اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے اور جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی بکری کے بچے کی پرورش اور نشو و نما کرتا ہے اسی طرح اللہ اس کی نشو و نما کرتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن وہاں سے احد پہاڑ کے برابر ادا کردیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ صِبْرَةَ وَعَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ أَنَّهُمَا سَمِعَا الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ الصَّدَقَةَ وَلَا يَقْبَلُ مِنْهَا إِلَّا الطَّيِّبَ يَقْبَلُهَا بِيَمِينِهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَيُرَبِّيهَا لِعَبْدِهِ الْمُسْلِمِ اللُّقْمَةَ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى يُوَافَى بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلَ أُحُدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک آدمی نے مسلمانوں کے راستے سے ایک کانٹے دار ٹہنی کو ہٹایا اس کی برکت سے وہ جنت میں داخل ہوگیا۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ يَعْنِي إِسْمَاعِيلَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلَ عَبْدٌ الْجَنَّةَ بِغُصْنِ شَوْكٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ فَأَمَاطَهُ عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب اپنے بستر پر لیٹنے کے لئے آتے تو یوں فرماتے کہ اسے ساتوں آسمانوں، زمین اور ہر چیز کے رب ! دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے اللہ تورات انجیل اور قرآن نازل کرنے والے میں ہر شریر کے شر سے جس کی پیشانی آپ کے قبضے میں ہے آپ کی پناہ میں آتا ہوں آپ اول ہیں آپ سے پہلے کچھ نہیں آپ آخر ہیں آپ کے بعد کچھ نہیں آپ ظاہر ہیں آپ سے اوپر کچھ نہیں آپ باطن ہیں آپ سے پیچھے کچھ نہیں میرے قرضوں کو ادا فرمائیے اور مجھے فقروفاقہ سے بےنیاز فرما دیجئے۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَدْعُو عِنْدَ النَّوْمِ اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ رَبَّنَا وَرَبَّ كُلِّ شَيْءٍ مُنْزِلَ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ وَالْقُرْآنِ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوَى لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ شَيْءٍ أَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِيَتِهِ أَنْتَ الْأَوَّلُ لَيْسَ قَبْلَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْآخِرُ لَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الظَّاهِرُ لَيْسَ فَوْقَكَ شَيْءٌ وَأَنْتَ الْبَاطِنُ لَيْسَ دُونَكَ شَيْءٌ اقْضِ عَنَّا الدَّيْنَ وَأَغْنِنَا مِنْ الْفَقْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے اللہ قیامت کے دن اس کے عیوب پر پردہ ڈالے گا۔
حَدَّثَنَا خَلَفٌ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ آل مصطفیٰ ﷺ پر دو دو مہینے ایسے گذر جاتے تھے کہ ان کے گھروں میں آگ تک نہیں جلتی تھی نہ روٹی کے لئے اور نہ کھانا پکانے کے لئے، لوگوں نے ان سے پوچھا اے ابوہریرہ ! پھر وہ کس چیز کے سہارے زندگی گذارا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا دو کالی چیزوں یعنی کھجور اور پانی پر اور کچھ انصاری اللہ انہیں جزائے خیر عطاء فرمائے ان کے پڑوسی تھے ان کے پاس کچھ بکریاں تھیں جن کا وہ تھوڑا سا دودھ بھجوا دیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا خَلَفٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ كَانَ يَمُرُّ بِآلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هِلَالٌ ثُمَّ هِلَالٌ لَا يُوقَدُ فِي شَيْءٍ مِنْ بُيُوتِهِمْ النَّارُ لَا لِخُبْزٍ وَلَا لِطَبِيخٍ فَقَالُوا بِأَيِّ شَيْءٍ كَانُوا يَعِيشُونَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ بِالْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ وَكَانَ لَهُمْ جِيرَانٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَجَزَاهُمْ اللَّهُ خَيْرًا لَهُمْ مَنَائِحُ يُرْسِلُونَ إِلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْ لَبَنٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ آپس میں ہدایا کا تبادلہ کیا کرو کیونکہ ہدیہ سینے کے کینے دور کردیتا ہے۔
حَدَّثَنَا خَلَفٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَهَادَوْا فَإِنَّ الْهَدِيَّةَ تُذْهِبُ وَغَرَ الصَّدْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جس شخص کو اللہ نے ساٹھ ستر سال تک زندگی عطاء فرمائی ہو عمر کے حوالے سے اللہ اس کا عذر پورا کردیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا خَلَفٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ عَمَّرَ سِتِّينَ سَنَةً أَوْ سَبْعِينَ سَنَةً فَقَدْ عُذِرَ إِلَيْهِ فِي الْعُمُرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ سفر میں تھے ہم مٹی اوڑھتے اور جھاڑتے چند ایسے اونٹوں کے پاس سے گذرے جن کے تھن بندھے ہوئے تھے اور وہ درختوں میں چر رہے تھے لوگ ان کا دودھ دوہنے کے لئے تیزی سے آگے بڑھے نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ ہوسکتا ہے ایک مسلمان گھرانے کی روزی صرف اسی میں ہو کیا تم اس بات کو پسند کرو گے کہ وہ تمہارے توشہ دان کے پاس آئیں اور اس میں موجود سب کچھ لے جائیں ؟ پھر فرمایا اگر تم کچھ کرنا ہی چاہتے ہو تو صرف پی لیا کرو لیکن اپنے ساتھ مت لے جایا کرو۔
حَدَّثَنَا خَلَفٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنِ الطُّهَوِيِّ عَنْ ذُهَيْلٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْمَلْنَا وَأَنْفَضْنَا فَآتَيْنَا عَلَى إِبِلٍ مَصْرُورَةٍ بِلِحَاءِ الشَّجَرِ فَابْتَدَرَهَا الْقَوْمُ لِيَحْلِبُوهَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذِهِ عَسَى أَنْ يَكُونَ فِيهَا قُوتُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ أَتُحِبُّونَ لَوْ أَنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى مَا فِي أَزْوَادِكُمْ فَأَخَذُوهُ ثُمَّ قَالَ إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاشْرَبُوا وَلَا تَحْمِلُوا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ فجر کی دو سنتیں نہ چھوڑا کرو اگرچہ تمہیں گھوڑے روندنے ہی کیوں نہ لگیں۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ سِيلَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَدَعُوا رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ وَإِنْ طَرَدَتْكُمْ الْخَيْلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے بندہ اگر مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں اگر وہ مجھے کسی مجلس میں بیٹھ کر یاد کرتا ہے تو میں اس سے بہتر محفل میں اسے یاد کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنِ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَحْكِي عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ مَنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَكَرْتُهُ فِي نَفْسِي وَمَنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ مِنْ النَّاسِ ذَكَرْتُهُ فِي مَلَإٍ أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَطْيَبَ
tahqiq

তাহকীক: