আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২৭৯৫ টি

হাদীস নং: ৯১২৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کنواری لڑکی سے نکاح کی اجازت لی جائے اور شوہردیدہ عورت سے مشورہ کیا جائے کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ (کنواری لڑکی شرماتی ہے) تو اس سے اجازت کیسے حاصل کی جائے ؟ نبی کریم ﷺ اس کی خاموشی ہی اس کی رضا مندی کی علامت ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّيِّبُ تُسْتَأْمَرُ فِي نَفْسِهَا وَالْبِكْرُ تُسْتَأْذَنُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ إِذْنُهَا قَالَ أَنْ تَسْكُتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১২৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے سامنے جنت اور جن ہم میں سب سے پہلے داخل ہونے والے تین تین گروہ پیش کئے گئے چناچہ جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والے تین گروہوں میں " شہید " وہ عبد مملوک جو اپنے رب کی عبادت بھی خوب کرے اور اپنے آقا کا بھی خیرخواہ رہے اور وہ عفیف آدمی جو زیادہ عیال دار ہونے کے باوجود اپنی عزت نفس کی حفاظت کرے " شامل تھے اور جو تین گروہ سب سے پہلے جہنم میں داخل ہوں گے ان میں حکمران جو زبردستی قوم پر مسلط ہوجائے شامل ہے نیز وہ مالدار آدمی جو مال کا حق ادانہ کرے اور وہ فقیر جو فخر کرتا پھرے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَامِرٍ الْعُقَيْلِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَأَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَالشَّهِيدُ وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ وَعَفِيفٌ مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ وَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ فَأَمِيرٌ مُسَلَّطٌ وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ لَا يُعْطِي حَقَّ مَالِهِ وَفَقِيرٌ فَخُورٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১২৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص شکاری کتے اور کھیت یا ریوڑ کی حفاظت کے علاوہ شوقیہ طور پر کتے پالے اس کے ثواب میں سے روزانہ ایک قیراط کے برابر کمی ہوتی رہے گی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَمْسَكَ كَلْبًا فَإِنَّهُ يُنْقِصُ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطًا إِلَّا كَلْبَ حَرْثٍ أَوْ مَاشِيَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৩০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
انس بن حکیم (رح) کہتے ہیں کہ زیاد یا ابن زیاد کے زمانے میں انہیں خطرہ لاحق ہوا تو مدینہ منورہ آگئے حضرت ابوہریرہ (رض) سے ملاقات ہوئی انہوں نے مجھ سے نام و نسب پوچھا میں نے انہیں بتایا، وہ کہنے لگے کہ اے نوجوان کیا میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جس سے اللہ تمہیں نفع پہنچائے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں آپ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جس چیز کا حساب لیا جائے گا وہ فرض نماز ہوگی پروردگار اپنے فرشتوں سے فرمائے گا " حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتا ہے " کہ میرے بندے کی نماز دیکھو، مکمل ہے ناقص ! اگر مکمل ہوئی تو مکمل لکھ دی جائے گی اور نامکمل ہوئی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھو میرے بندے کے پاس نوافل بھی ہیں ؟ اگر اس کے پاس نوافل ہوئے تو اللہ فرمائے گا کہ میرے بندے کے فرائض کو اس کے نوافل سے مکمل کردو، اس کے بعد دیگر فرض اعمال میں بھی اسی طرح کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ حَكِيمٍ الضَّبِّيِّ أَنَّهُ خَافَ زَمَنَ زِيَادٍ أَوْ ابْنِ زِيَادٍ فَأَتَى الْمَدِينَةَ فَلَقِيَ أَبَا هُرَيْرَةَ فَانْتَسَبَنِي فَانْتَسَبْتُ لَهُ فَقَالَ يَا فَتَى أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَنْفَعَكَ بِهِ قُلْتُ بَلَى رَحِمَكَ اللَّهُ قَالَ إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ الصَّلَاةِ قَالَ يَقُولُ رَبُّنَا عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ انْظُرُوا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهُ تَامَّةً وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ انْظُرُوا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ فَإِنْ كَانَ لَهُ تَطَوُّعٌ قَالَ أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهُ مِنْ تَطَوُّعِهِ ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلَى ذَلِكُمْ قَالَ يُونُسُ وَأَحْسَبُهُ قَدْ ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৩১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا وہ آدمی جو امام سے پہلے سر اٹھائے اور امام سجدہ ہی میں ہو اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اس کی شکل گدھے جیسی بنا دے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَأْمَنُ الَّذِي يَرْفَعُ رَأْسَهُ فِي صَلَاتِهِ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৩২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کرسکتا کہ نماز پڑھتے وقت تھوڑا سا آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہوجائے (تاکہ گذرنے والوں کو تکلیف نہ ہو)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ لَيْثٍ عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عُبَيْدٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا صَلَّى أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ أَوْ عَنْ يَمِينِهِ أَوْ عَنْ شِمَالِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৩৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ جب ماہ رمضان قریب آتا تو نبی کریم ﷺ فرماتے کہ تمہارے پاس رمضان کا مہینہ آ رہا ہے یہ مبارک مہینہ ہے اللہ نے تم پر اس کے روزے فرض کئے ہیں اس مبارک مہینے میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ اس مہینے میں ایک رات ایسی بھی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے جو شخص اس کی خیروبرکت سے محروم رہا وہ مکمل طور پر محروم ہی رہا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَمَّا حَضَرَ رَمَضَانُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جَاءَكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ افْتَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৩৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت کو چھوٹ دی گئی ہے کہ اس کے ذہن میں جو وسوسے پیدا ہوتے ہیں ان پر کوئی مواخذہ نہ ہوگا بشرطیکہ وہ اس وسوسے پر عمل نہ کرے یا اپنی زبان سے اس کا اظہار نہ کرے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَجَاوَزَ لِأُمَّتِي عَمَّا حَدَّثَتْ بِهِ أَنْفُسَهَا مَا لَمْ تَكَلَّمْ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৩৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے یمن کی طرف اپنے دست مبارک سے اشارہ کر کے تین مرتبہ فرمایا یمن والوں کا ایمان بہت عمدہ ہے کفر کا مرکز مشرق کی جانب ہے اور غروروتکبر اونٹوں کے مالکوں میں ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي مُصْعَبٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحَا بِيَدِهِ نَحْوَ الْيَمَنِ الْإِيمَانُ يَمَانٍ الْإِيمَانُ يَمَانٍ الْإِيمَانُ يَمَانٍ رَأْسُ الْكُفْرِ الْمَشْرِقُ وَالْكِبْرُ وَالْفَخْرُ فِي الْفَدَّادِينَ أَصْحَابِ الْوَبَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৩৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے پھوپھی کی موجودگی میں اس کی بھتیجی سے یا بھتیجی کی موجودگی میں اس کی پھوپھی سے خالہ کی موجودگی میں بھانجی سے یا بھانجی کی موجودگی میں خالہ سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا بڑی کی موجودگی میں چھوٹی سے اور چھوٹی کی موجودگی میں بڑی سے نکاح نہ کیا جائے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ تُنْكَحَ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَالْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا وَالْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا وَالْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا لَا تُنْكَحُ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى وَلَا الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৩৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ لوگوں کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یارسول اللہ ﷺ ایمان کیا چیز ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پر، اس کے فرشتوں، کتابوں اس سے ملنے اس کے رسولوں اور دوبارہ جی اٹھنے پر یقین رکھو اس نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اسلام کیا ہے ؟ فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ فرض نماز قائم کرو فرض زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اس نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ احسان کیا چیز ہے ؟ فرمایا اللہ کی عبادت اس طرح کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہے ہو اگر یہ تصور نہ کرسکو تو یہ تصور ہی کرلو کہ اللہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ اس سے اگلا سوال پوچھا یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس سے سوال پوچھا جا رہا ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، البتہ میں تمہیں اس کی علامات بتائے دیتا ہوں جب لونڈی اپنے مالک کو جنم دینے لگے تو یہ قیامت کی علامت ہے جب ننگے جسم اور ننگے پاؤں رہنے والے لوگوں کے سردار (حکمران) بن جائیں تو یہ قیامت کی علامت ہے اور جب بکریوں کے چرواہے بڑی بڑی عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگیں تو یہ قیامت کی علامت ہے اور پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا یقینی عمل صرف اللہ ہی کے پاس ہے پھر نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی بیشک اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے وہی بارش برساتا ہے اور جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے ؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا ؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس علاقے میں مرے گا ؟
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَارِزًا لِلنَّاسِ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِيمَانُ قَالَ الْإِيمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكِتَابِهِ وَلِقَائِهِ وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ الْآخِرِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِسْلَامُ قَالَ الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْإِحْسَانُ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنَّكَ إِنْ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنْ السَّائِلِ وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا إِذَا وَلَدَتْ الْأَمَةُ رَبَّهَا فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا كَانَتْ الْعُرَاةُ الْحُفَاةُ الْجُفَاةُ رُءُوسَ النَّاسِ فَذَاكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الْبَهْمِ فِي الْبُنْيَانِ فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِهَا فِي خَمْسٍ لَا يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللَّهُ ثُمَّ تَلَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ثُمَّ أَدْبَرَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُدُّوا عَلَيَّ الرَّجُلَ فَأَخَذُوا لِيَرُدُّوهُ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا فَقَالَ هَذَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام جَاءَ لِيُعَلِّمَ النَّاسَ دِينَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৩৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کی کسی غلام میں شراکت ہو اور وہ اپنے حصے کے بقدر اسے آزاد کر دے تو اگر وہ مالدار ہے تو اس کی مکمل جان خلاصی کرانا اس کی ذمہ داری ہے اور اگر وہ مالدار نہ ہو تو بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لئے غلام سے اس طرح کوئی محنت مزدوری کروائی جائے کہ اس پر بوجھ نہ بنے ( اور بقیہ قیمت کی ادائیگی کے بعد وہ مکمل آزاد ہوجائے گا)
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنِ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৩৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی کریم ﷺ ہمارے سامنے خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے اور اس میں مال غنیمت میں خیانت کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کی شناخت کو خوب واضح فرمایا اور فرمایا میں تم میں سے کسی ایسے آدمی کو نہ پاؤں جو قیامت کے دن اپنی گردن پر ایک چلاتے ہوئے اونٹ کو سوار کرا کے لے آئے اور کہے یا رسول اللہ ﷺ میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے کئی آدمی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن ایک بکری کو منمناتا ہوا اپنی گردن پر لے آئے اور کہے یا رسول اللہ ﷺ میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی آدمی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن ایک گھوڑے کو ہنہناتا ہوا اپنی گردن پر لے آئے اور کہے یا رسول اللہ ﷺ میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں کسی آدمی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن ایک شخص چلاتا ہوا اپنی گردن پر لے آئے اور کہے یارسول اللہ ﷺ میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی آدمی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن لدے ہوئے کپڑے اپنی گردن پر لے آئے اور کہے یا رسول اللہ ﷺ میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔ میں تم میں سے کسی آدمی کو اس طرح نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن سونا چاندی لاد کر اپنی گردن پر لے آئے اور کہے یا رسول اللہ ﷺ میری مدد کیجئے اور میں کہہ دوں کہ میں تمہاری کوئی مدد نہیں کرسکتا میں نے تم تک پیغام پہنچا دیا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَذَكَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ ثُمَّ قَالَ لَا أُلْفِيَنَّ يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَاءٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَكُمْ يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ لَا أُلْفِيَنَّ يَجِيءُ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِهِ صَامِتٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہر نبی کی ایک دعا ایسی ضرور رہی ہے جو قبول ہوئی ہو اور ہر نبی نے دنیا میں اپنی دعاء قبول کروا لی لیکن میں نے اپنی دعاء کو اپنی امت کی شفاعت کے لئے ذخیرہ کرلیا ہے اور انشاء اللہ یہ شفاعت ہر اس شخص کو نصیب ہوگی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً مُسْتَجَابَةً فَتَعَجَّلَ كُلُّ نَبِيٍّ دَعْوَتَهُ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي فَهِيَ نَائِلَةٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا قَالَ يَعْلَى الشَّفَاعَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پانچ نمازوں کی مثال اس نہر کی سی ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر بہہ رہی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو۔ گذشتہ حدیث ایک دوسری سند سے حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ فَمَاذَا يُبْقِي ذَلِكَ مِنْ الدَّرَنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کو کبھی کسی کھانے میں عبیب نکالتے ہوئے نہیں دیکھا اگر تمنا ہوتی تو کھالیتے اور اگر تمنا نہ ہوتی تو سکوت فرما لیتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي يَحْيَى مَوْلَى جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَابَ طَعَامًا قَطُّ كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِنْ لَمْ يَشْتَهِهِ سَكَتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ کبریائی میری اوپر کی چادر ہے اور عزت میری نیچے کی چادر ہے جو دونوں میں سے کسی ایک کے بارے مجھ سے جھگڑا کرے گا میں اسے جہنم میں ڈال دوں گا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ عَنِ الْأَغَرِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي فَمَنْ يُنَازِعُنِي وَاحِدَةً مِنْهُمَا أَلْقَيْتُهُ فِي جَهَنَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مغرب سے سورج نکلنے کا واقعہ پیش آنے سے قبل جو شخص بھی توبہ کرلے اس کی توبہ قبول کرلی جائے گی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ مَغْرِبِهَا تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
عمیر بن اسحاق (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت امام حسن (رض) کے ساتھ تھا کہ راستے میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے ملاقات ہوگئی وہ کہنے لگے کہ مجھے دکھاؤ نبی کریم ﷺ نے تمہارے جسم کے جس حصے پر بوسہ دیا تھا میں بھی اس کی تقبیل کا شرف حاصل کروں اس پر حضرت امام حسن (رض) نے اپنی قمیض اٹھائی اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے ان کی ناف کو بوسہ دیا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ عُمَيْرِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ لَقِيَ الْحَسَنَ فَقَالَ لَهُ اكْشِفْ عَنْ بَطْنِكَ حَتَّى أُقَبِّلَ حَيْثُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ مِنْهُ قَالَ فَكَشَفَ عَنْ بَطْنِهِ فَقَبَّلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯১৪৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا منہ مار دے تو اسے چاہئے کہ اس برتن کو سات مرتبہ دھوئے اور پہلی مرتبہ اسے مانجھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طُهُورُ إِنَاءِ أَحَدِكُمْ إِذَا وَلَغَ فِيهِ الْكَلْبُ أَنْ يَغْسِلَهُ سَبْعَ مَرَّاتٍ أُولَاهُنَّ بِالتُّرَابِ
tahqiq

তাহকীক: