আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২৭৯৫ টি
হাদীস নং: ৯২৪৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں آدمی کو اس چیز کی کوئی پرواہ نہ ہوگی کہ وہ حلال طریقے سے مال حاصل کر رہا ہے یا حرام طریقے سے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يُبَالِي الْمَرْءُ بِمَا أَخَذَ مِنْ الْمَالِ بِحَلَالٍ أَوْ بِحَرَامٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৪৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مسلمان ایک آنت میں کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں میں کھاتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو وَيَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৪৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے اسی سال کی عمر میں اپنے ختنے کئے جس جگہ ختنے کئے اس کا نام " قدوم " تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اخْتَتَنَ إِبْرَاهِيمُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِينَ اخْتَتَنَ بِالْقَدُومِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৫০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ کچھ گوشت پیش کیا گیا اور بکری کی دستی اٹھا کر آپ ﷺ کو دی گئی کیونکہ آپ ﷺ کو دست کا گوشت پسند تھا آپ ﷺ نے دانتوں سے اس کا کچھ گوشت نوچا پھر فرمایا کہ قیامت کے دن میں سب لوگوں کو سردار ہوں گا اور کیا تم کو علم ہے کہ میرے سردار ہونے کی کیا وجہ ہے ؟ وجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اگلے پچھلے سب لوگوں کو ایک میدان میں جمع کرے گا ایک پکارنے والا ان کو (اپنی آواز) سنائے گا اور نگاہیں دوسری طرف کی سب چیزیں دیکھ سکیں گے اور سورج (سروں کے) قریب ہوجائے گا اور لوگوں پر ناقابل برداشت غم کا ہجوم ہوگا۔ بعض لوگ کہیں گے دیکھو تمہاری حالت کس نوبت تک پہنچ گئی ہے کوئی ایسا آدمی تلاش کرنا چاہئے جو خدا تعالیٰ کے سامنے ہماری سفارش کرے چناچہ بعض لوگ کہیں گے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس چلو سب لوگ آدم (علیہ السلام) کے پاس پہنچ کر کہیں گے آپ سب آدمیوں کے باپ ہیں آپ کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور آپ کے اندر اپنی روح پھونکی اور فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا فرشتوں نے آپ کو سجدہ کیا کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم کس مصیبت میں ہیں کیا آپ نہیں دیکھتے کہ ہماری کیا حالت ہوگئی آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہماری سفارش کر دیجئے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) فرمائیں گے آج میرا رب اس قدر غضب میں ہے کہ نہ اس سے قبل کبھی اتنے غضب میں ہوا ہے نہ بعد میں ہوگا۔ اس نے مجھے درخت کے کھانے کی ممانعت فرمائی لیکن میں نے اس کا فرمان نہ مانا نفسی نفسی نفسی تم مجھے چھوڑ کر نوح کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور کہیں گے آپ زمین پر اللہ کے سب سے پہلے رسول ہیں اللہ نے آپ کا نام شکر گزار بندہ رکھا ہے آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں اللہ کے سامنے ہماری سفارش کر دیجئے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کہیں گے آج میرا پروردگار اس قدر غضب میں ہے کہ نہ اس سے قبل کبھی اتنا غضبناک ہوا نہ بعد میں ہوگا میں تو اپنی قوم کے لئے بدعا کرچکا ہوں (جس سے تمام قوم غرق آب ہوگئی تھی) نفسی نفسی نفسی تم مجھے چھوڑ کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور کہیں گے آپ اللہ کے نبی اور خلیل ہیں آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں اللہ کے سامنے سفارش کر دیجئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہیں گے آج میرا پروردگار اس قدر غضب میں ہے کہ نہ اس سے قبل کبھی اتنا غضب ناک ہوا نہ بعد میں ہوگا اور میں نے تو (دنیا میں) تین جھوٹ بولے تھے نفسی نفسی نفسی تم مجھے چھوڑ کر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جا کر کہیں گے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اللہ نے تمام آدمیوں پر آپ کو ہم کلام ہونے کی فضیلت عطاء کی ہے آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس مصیبت میں مبتلا ہیں آپ اللہ سے ہماری سفارش کر دیجئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہیں گے آج میرا پروردگار اس قدر غضب میں ہے کہ نہ اس سے قبل کبھی اتنا غضب ناک ہوا نہ بعد میں ہوگا اور مجھ سے تو ایک قتل سرزد ہوگیا جس کا مجھ کو حکم نہ ہوا تھا نفسی نفسی نفسی تم مجھے چھوڑ کر عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جاؤ۔ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے جا کر کہیں گے آپ اللہ کے رسول اور کلمہ ہیں اور آپ روح اللہ بھی ہیں آپ نے اس وقت لوگوں سے کلام کیا جب بہت چھوٹے جھولے میں پڑے تھے اللہ تعالیٰ سے آج ہماری سفارش کر دیجئے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اپنا قصور ذکر نہیں کریں گے البتہ یہ فرمائیں گے آج میرا پروردگار اس قدر غضب میں ہے کہ نہ اس سے قبل کبھی اتنا غضب ناک ہوا نہ بعد میں ہوگا تم مجھے چھوڑ کر محمد ﷺ کے پاس جاؤ۔ لوگ مجھ سے آ کر کہیں گے آپ اللہ کے رسول اللہ ﷺ ہیں خاتم الانبیاء ﷺ ہیں اللہ نے آپ ﷺ کے اگلے پچھلے قصور معاف فرما دیئے ہیں آپ ﷺ دیکھ رہے ہیں کہ ہم کس قدر مصیبت میں ہیں ہماری سفارش اللہ کے سامنے کر دیجئے میں یہ سن کر فوراً جا کر عرش کے نیچے اپنے رب کے سامنے سجدہ میں گر پڑوں گا اللہ تعالیٰ میری زبان پر اپنی وہ حمدوثنا جاری کرا دے گا جو مجھ سے پہلے کسی کی زبان سے جاری نہ کرائی ہوگی پھر حکم ہوگا محمد ﷺ سر اٹھا کر استدعاء پیش کرو تمہارا سوال پورا کیا جائے گا تم سفارش کرو تمہاری سفارش قبول کی جائے گی میں سر اٹھا کر عرض کروں گا پروردگار میری امت پروردگار میری امت حکم ہوگا محمد ﷺ اپنی امت کو بےحساب کتاب بہشت میں داہنے دروازے سے داخل کرو اور دیگر دروازوں میں بھی یہ لوگ ساتھ شریک ہیں (یعنی داہنا دروازہ انہی کے لئے مخصوص ہے اور دیگر دروازے مشترک ہیں) حضور اقدس ﷺ نے یہ حدیث بیان فرمانے کے بعد ارشاد فرمایا قسم ہے اس اللہ کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ جنت کی چوکھٹوں کے دو بازوؤں کا درمیانی فاصلہ اتنا ہوگا جتنا مکہ اور ہجر یا مکہ اور بصرٰی کے درمیان ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَحْمٍ فَدُفِعَ إِلَيْهِ الذِّرَاعُ وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ فَنَهَسَ مِنْهَا نَهْسَةً ثُمَّ قَالَ أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهَلْ تَدْرُونَ لِمَ ذَلِكَ يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يُسْمِعُهُمْ الدَّاعِي وَيَنْفُذُهُمْ الْبَصَرُ وَتَدْنُو الشَّمْسُ فَيَبْلُغُ النَّاسَ مِنْ الْغَمِّ وَالْكَرْبِ مَا لَا يُطِيقُونَ وَلَا يَحْتَمِلُونَ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى مَا أَنْتُمْ فِيهِ أَلَا تَرَوْنَ إِلَى مَا قَدْ بَلَغَكُمْ أَلَا تَنْظُرُونَ مَنْ يَشْفَعُ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ أَبُوكُمْ آدَمُ فَيَأْتُونَ آدَمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ بِيَدِهِ وَنَفَخَ فِيكَ مِنْ رُوحِهِ وَأَمَرَ الْمَلَائِكَةَ فَسَجَدُوا لَكَ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ نَهَانِي عَنْ الشَّجَرَةِ فَعَصَيْتُهُ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى نُوحٍ فَيَأْتُونَ نُوحًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ يَا نُوحُ أَنْتَ أَوَّلُ الرُّسُلِ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ وَسَمَّاكَ اللَّهُ عَبْدًا شَكُورًا فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ نُوحٌ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنَّهُ كَانَتْ لِي دَعْوَةٌ عَلَى قَوْمِي نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُونَ يَا إِبْرَاهِيمُ أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ وَخَلِيلُهُ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ إِبْرَاهِيمُ إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ فَذَكَرَ كَذِبَاتِهِ نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُونَ يَا مُوسَى أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ اصْطَفَاكَ اللَّهُ بِرِسَالَاتِهِ وَبِتَكْلِيمِهِ عَلَى النَّاسِ اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ مُوسَى إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَإِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا لَمْ أُومَرْ بِقَتْلِهَا نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي نَفْسِي اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى عِيسَى فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ يَا عِيسَى أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ قَالَ هَكَذَا هُوَ وَكَلَّمْتَ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَيَقُولُ لَهُمْ عِيسَى إِنَّ رَبِّي قَدْ غَضِبَ الْيَوْمَ غَضَبًا لَمْ يَغْضَبْ قَبْلَهُ مِثْلَهُ وَلَنْ يَغْضَبَ بَعْدَهُ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ لَهُ ذَنْبًا اذْهَبُوا إِلَى غَيْرِي اذْهَبُوا إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَأْتُونِي فَيَقُولُونَ يَا مُحَمَّدُ أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ وَخَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْهُ وَمَا تَأَخَّرَ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ أَلَا تَرَى إِلَى مَا نَحْنُ فِيهِ أَلَا تَرَى مَا قَدْ بَلَغَنَا فَأَقُومُ فَآتِي تَحْتَ الْعَرْشِ فَأَقَعُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيَّ وَيُلْهِمُنِي مِنْ مَحَامِدِهِ وَحُسْنِ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى أَحَدٍ قَبْلِي فَيُقَالُ يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ وَسَلْ تُعْطَهْ اشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَقُولُ يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي يَا رَبِّ أُمَّتِي أُمَّتِي يَا رَبِّ فَيَقُولُ يَا مُحَمَّدُ أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مَنْ لَا حِسَابَ عَلَيْهِ مِنْ الْبَابِ الْأَيْمَنِ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ وَهُمْ شُرَكَاءُ النَّاسِ فِيمَا سِوَاهُ مِنْ الْأَبْوَابِ ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَمَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَهَجَرَ أَوْ كَمَا بَيْنَ مَكَّةَ وَبُصْرَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৫১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں حضرت صدیق اکبر (رض) کو برا بھلا کہا نبی کریم ﷺ حضرت صدیق اکبر (رض) کے سکوت پر تعجب اور تبسم فرماتے رہے لیکن جب وہ آدمی حد سے ہی آگے بڑھ گیا تو حضرت صدیق اکبر (رض) نے بھی اس کی کسی بات کا جواب دیا اس پر نبی ﷺ ناراضگی میں وہاں سے کھڑے ہوگئے حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے پیچھے سے جا کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ جب تک وہ مجھے برا بھلا کہتا رہا آپ ﷺ بیٹھے رہے اور جب میں نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو آپ ﷺ غصہ میں آ کر کھڑے ہوگئے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تمہاری جانب سے اسے جواب دے رہا تھا اور جب تم نے اسے جواب دیا تو درمیان میں شیطان آگیا اس لئے میں شیطان کی موجودگی میں نہ بیٹھ سکا۔ پھر فرمایا ابوبکر ! تین چیزیں برحق ہیں (١) جس بندے پر ظلم ہو اور وہ اللہ کی خاطر اس پر خاموشی اختیار کرلے اللہ اس کی زبردست مدد ضرور فرماتا ہے (٢) جو آدمی صلہ رحمی کے لئے جود و سخا کا دروازہ کھولتا ہے اللہ اس کے مال میں اتنا ہی اضافہ کرتا ہے (٣) اور جو آدمی اپنے اوپر مانگنے کا دروازہ کھولتا ہے تاکہ اپنا مال بڑھا لے اللہ اس کی قلت میں اور اضافہ کردیتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا شَتَمَ أَبَا بَكْرٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ فَلَمَّا أَكْثَرَ رَدَّ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ قَالَ إِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَلَكٌ يَرُدُّ عَنْكَ فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ وَقَعَ الشَّيْطَانُ فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلَاثٌ كُلُّهُنَّ حَقٌّ مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ بِمَظْلَمَةٍ فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا أَعَزَّ اللَّهُ بِهَا نَصْرَهُ وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ عَطِيَّةٍ يُرِيدُ بِهَا صِلَةً إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ بِهَا كَثْرَةً وَمَا فَتَحَ رَجُلٌ بَابَ مَسْأَلَةٍ يُرِيدُ بِهَا كَثْرَةً إِلَّا زَادَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا قِلَّةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৫২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
وہب بن کیسان رحمتہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میرے والد صاحب حضرت ابوہریرہ (رض) کے پاس سے گذرے انہوں نے پوچھا کہ کہاں کا ارادہ ہے ؟ والد صاحب نے جواب دیا کہ اپنی بکریوں کے باڑے میں جا رہا ہوں حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا اچھا ان کی ناک صاف کرنا چرنے کی جگہ کو صاف رکھنا اور چراگاہ میں ان کے ساتھ نرمی برتنا کیونکہ یہ جنت کے جانور ہیں اور ان کے ساتھ انس رکھا کرو کیونکہ میں نے نبی کریم ﷺ کو سر زمین مدینہ کے متعلق فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ علاقہ کم بارشوں والا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ قَالَ مَرَّ أَبِي عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قَالَ غُنَيْمَةً لِي قَالَ نَعَمْ امْسَحْ رُعَامَهَا وَأَطِبْ مُرَاحَهَا وَصَلِّ فِي جَانِبِ مُرَاحِهَا فَإِنَّهَا مِنْ دَوَابِّ الْجَنَّةِ وَأْنَسْ بِهَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهَا أَرْضٌ قَلِيلَةُ الْمَطَرِ قَالَ يَعْنِي الْمَدِينَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৫৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ ایسے گھوڑے کو ناپسند فرماتے تھے جس کی تین ٹانگوں کا رنگ سفید ہو اور چوتھی کا رنگ باقی جسم کے رنگ کے مطابق ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي سَلْمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْرَهُ الشِّكَالَ مِنْ الْخَيْلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৫৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس شخص پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے جو رات کو اٹھ کر خود بھی نماز پڑھے اور اپنی بیوی کو بھی نماز پڑھنے کے لئے جگائے اور اگر وہ انکار کرے تو اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَعْقَاعُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا قَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَصَلَّى وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ فَصَلَّتْ فَإِنْ أَبَتْ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا الْمَاءَ وَرَحِمَ اللَّهُ امْرَأَةً قَامَتْ مِنْ اللَّيْلِ وَأَيْقَظَتْ زَوْجَهَا فَصَلَّى فَإِنْ أَبَى نَضَحَتْ فِي وَجْهِهِ الْمَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৫৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے کنکریاں مار کر بیع کرنے سے اور دھوکہ کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَصَاةِ وَبَيْعِ الْغَرَرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৫৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہوا کو برا بھلا نہ کہا کرو کیونکہ وہ تو رحمت اور زحمت دونوں کے ساتھ آتی ہے البتہ اللہ سے اس کی خیر مانگا کرو اور اس کے شر سے پناہ مانگا کرو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الزُّرَقِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا الرِّيحَ فَإِنَّهَا تَجِيءُ بِالرَّحْمَةِ وَالْعَذَابِ وَلَكِنْ سَلُوا اللَّهَ مِنْ خَيْرِهَا وَتَعَوَّذُوا مِنْ شَرِّهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৫৭
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کسی ایسی عورت کے لئے " جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو " حلال نہیں ہے کہ اپنے اہل خانہ میں سے کسی محرم کے بغیر ایک دن کا بھی سفر کرے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ يَوْمًا إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৫৮
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تین آدمی ایسے ہیں کہ جن کی مدد کرنا اللہ کے ذمے واجب ہے (١) اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والا (٢) اپنی عفت کی حفاظت کی خاطر نکاح کرنے والا (٣) وہ عبد مکاتب جو اپنا بدل کتابت ادا کرنا چاہتا ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ حَقٌّ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَوْنُهُ الْمُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالنَّاكِحُ لِيَسْتَعْفِفَ وَالْمُكَاتَبُ يُرِيدُ الْأَدَاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৫৯
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمام انبیاء کرام (علیہم السلام) علاتی بھائیوں (جن کا باپ ایک ہو مائیں مختلف ہوں) کی طرح ہیں ان سب کی مائیں مختلف اور دین ایک ہے اور میں تمام لوگوں میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے سب سے زیادہ قریب ہوں کیونکہ میرے اور ان کے درمیان کوئی نبی نہیں اور عنقریب وہ زمین پر نزول بھی فرمائیں گے اس لئے تم جب انہیں دیکھنا تو مندرجہ ذیل علامات سے انہیں پہچان لینا۔ وہ درمیانے قد کے آدمی ہوں گے سرخ وسفید رنگ ہوگا گیروے رنگے ہوئے دو کپڑے ان کے جسم پر ہوں گے ان کے سر سے پانی کے قطرے ٹپکتے ہوئے محسوس ہوں گے گو کہ انہیں پانی کی تری بھی نہ پہنچی ہو پھر وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کردیں گے جزیہ موقوف کردیں گے اور لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں گے ان کے زمانے میں اللہ اسلام کے علاوہ تمام ادیان کو مٹا دے گا اور ان ہی کے زمانے میں مسیح دجال کو ہلاک کروائے گا اور روئے زمین پر امن وامان قائم ہوجائے گا حتی کہ سانپ اونٹ کے ساتھ چیتے گائے کے ساتھ اور بھیڑئیے بکریوں کے ساتھ ایک گھاٹ سے سیراب ہوں گے اور بچے سانپوں سے کھیلتے ہوں گے اور وہ سانپ انہیں نقصان نہ پہنچائیں گے اس طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) چالیس سال تک زمین پر رہ کر فوت ہوجائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ دِينُهُمْ وَاحِدٌ وَأُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَأَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ لِأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ نَبِيٌّ وَإِنَّهُ نَازِلٌ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَاعْرِفُوهُ فَإِنَّهُ رَجُلٌ مَرْبُوعٌ إِلَى الْحُمْرَةِ وَالْبَيَاضِ سَبْطٌ كَأَنَّ رَأْسَهُ يَقْطُرُ وَإِنْ لَمْ يُصِبْهُ بَلَلٌ بَيْنَ مُمَصَّرَتَيْنِ فَيَكْسِرُ الصَّلِيبَ وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ وَيُعَطِّلُ الْمِلَلَ حَتَّى يُهْلِكَ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمِلَلَ كُلَّهَا غَيْرَ الْإِسْلَامِ وَيُهْلِكُ اللَّهُ فِي زَمَانِهِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ الْكَذَّابَ وَتَقَعُ الْأَمَنَةُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى تَرْتَعَ الْإِبِلُ مَعَ الْأُسْدِ جَمِيعًا وَالنُّمُورُ مَعَ الْبَقَرِ وَالذِّئَابُ مَعَ الْغَنَمِ وَيَلْعَبَ الصِّبْيَانُ وَالْغِلْمَانُ بِالْحَيَّاتِ لَا يَضُرُّ بَعْضُهُمْ بَعْضًا فَيَمْكُثُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ يُتَوَفَّى فَيُصَلِّيَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ وَيَدْفِنُونَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ آدَمَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْأَنْبِيَاءُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حَتَّى يُهْلَكَ فِي زَمَانِهِ مَسِيحُ الضَّلَالَةِ الْأَعْوَرُ الْكَذَّابُ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ آدَمَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৬০
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مسجد نبوی میں ایک آدمی آیا اور نماز پڑھنے لگا نبی کریم ﷺ اس وقت مسجد ہی میں تھے نماز پڑھ کر وہ آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا نبی کریم ﷺ نے سلام کا جواب دے کر فرمایا جا کر دوبارہ پڑھو، تمہاری نماز نہیں ہوئی اس نے واپس جا کر دوبارہ نماز پڑھی اور تین مرتبہ اسی طرح ہوا اس کے بعد وہ کہنے لگا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا میں اس سے اچھی نماز نہیں پڑھ سکتا اس لئے آپ مجھے سکھا دیجئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو تو تکبیر کہو، پھر جتنا ممکن ہو قرآن کی تلاوت کرو پھر اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور ساری نماز میں اسی طرح کرو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ دَخَلَ رَجُلٌ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى ثُمَّ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ وَقَالَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ فَرَجَعَ فَفَعَلَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أُحْسِنُ غَيْرَ هَذَا فَعَلِّمْنِي قَالَ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنْ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ افْعَلْ ذَلِكَ فِي صَلَاتِكَ كُلِّهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৬১
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب کسریٰ ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہ رہے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں رہے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں ضرور خرچ کروگے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا زِيَادٌ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا كِسْرَى بَعْدَ كِسْرَى وَلَا قَيْصَرَ بَعْدَ قَيْصَرَ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَتُنْفَقَنَّ كُنُوزُهُمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৬২
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
اسماعیل اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) انہیں مدینہ میں قیس جیسی نماز پڑھاتے تھے اور قیس لمبی نماز نہیں پڑھاتے تھے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا نبی کریم ﷺ اسی طرح نماز پڑھاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! بلکہ اس سے بھی مختصر۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى وَيَزِيدُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يُصَلِّي بِهِمْ بِالْمَدِينَةِ نَحْوًا مِنْ صَلَاةِ قَيْسٍ وَكَانَ قَيْسٌ لَا يُطَوِّلُ قَالَ قُلْتُ هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَالَ نَعَمْ أَوْ أَوْجَزُ وَقَالَ يَزِيدُ وَأَوْجَزُ حَدَّثَنَاه وَكِيعٌ قَالَ نَعَمْ وَأَوْجَزُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৬৩
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) ابوسعید (رض) اور جابر (رض) میں سے کسی دو سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ادھار پر سونے چاندی کی خریدوفروخت سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَشْعَثَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ أَوْ اثْنَيْنِ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الصَّرْفِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৬৪
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا چاندی کو چاندی کے بدلے اور سونے کو سونے کے بدلے برابر سرابر وزن کر کے بیچا جائے جو شخص اس میں اضافہ کرے گویا اس نے سودی معاملہ کیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نُعْمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْوَرِقُ بِالْوَرِقِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৬৫
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے باندیوں کی جسم فروشی کی کمائی سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯২৬৬
صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
পরিচ্ছেদঃ صحیفہ ہمام بن منبہ رحمتہ اللہ علیہ
حضرت ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا زمین کا جو حصہ میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے وہ جنت کا باغ ہے اور میرا منبر قیامت کے دن میرے حوض پر نصب کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَيْنَ بَيْتِي وَمِنْبَرِي رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ وَمِنْبَرِي عَلَى حَوْضِي
তাহকীক: