আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৯৪১ টি
হাদীস নং: ১০৯৪২
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
ابوسائب (رح) فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید خدری (رض) کے پاس آیا، میں ابھی ان کے پاس بیٹھا ہی تھا کہ چارپائی کے نیچے سے کسی چیز کی آہٹ محسوس ہوئی، میں نے دیکھا تو وہاں ایک سانپ تھا، میں فوراً کھڑا ہوگیا، حضرت ابوسعید (رض) نے پوچھا کہ کیا ہوا ؟ میں نے کہا کہ یہاں سانپ ہے، انہوں نے پوچھا اب تم کیا کرنا چاہتے ہو ؟ میں نے کہا کہ میں اسے مار دوں گا، انہوں نے اپنے گھر کے ایک کمرے کی طرف " جو ان کے کمرے کے سامنے ہی تھا " اشارہ کرکے فرمایا کہ میرا ایک چچا زاد بھائی یہاں رہا کرتا تھا، غزوہ خندق کے دن اس نے نبی ﷺ سے اپنے اہل خانہ کے پاس واپس آنے کی اجازت مانگی، کیونکہ اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی، نبی ﷺ نے اسے اجازت دے دی اور اسلحہ ساتھ لے جانے کا حکم دیا۔ وہ اپنے گھر پہنچا تو دیکھا کہ اس کی بیوی گھر کے دروازے پر کھڑی ہے، اس نے اپنی بیوی کی طرف نیزے سے اشارہ کیا تو اس نے کہا کہ مجھے مارنے کی جلدی نہ کرو، پہلے یہ دیکھو کہ مجھے گھر سے باہر نکلنے پر کس چیز نے مجبور کیا ہے ؟ وہ گھر میں داخل ہوا تو وہاں ایک عجیب و غریب سانپ نظر آیا، اس نے اسے اپنا نیزہ دے مارا اور نیزے کے ساتھ اسے گھسیٹتا ہوا باہر لے آیا، مجھے نہیں خبر کہ دونوں میں سے پہلے کون مرا، وہ نوجوان یا سانپ ؟ اس کی قوم کے لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اللہ سے دعاء فرمائیے کہ وہ ہمارے ساتھی کو ہمارے پاس لوٹا دے، نبی ﷺ نے دو مرتبہ فرمایا اپنے ساتھی کے لئے استغفار کرو، پھر فرمایا کہ جنات کے ایک گروہ نے اسلام قبول کرلیا ہے اس لئے اگر تم میں سے کوئی شخص کسی سانپ کو دیکھے تو اسے تین مرتبہ ڈرائے پھر بھی اگر اسے مارنا مناسب سمجھے تو تیسری مرتبہ کے بعد مارے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ عَنْ أَبِي السَّائِبِ أَنَّهُ قَالَ أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ إِذْ سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ فَقُمْتُ فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ مَا لَكَ قُلْتُ حَيَّةٌ هَاهُنَا فَقَالَ فَتُرِيدُ مَاذَا فَقُلْتُ أُرِيدُ قَتْلَهَا فَأَشَارَ لِي إِلَى بَيْتٍ فِي دَارِهِ تِلْقَاءَ بَيْتِهِ فَقَالَ إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لِي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِهِ وَكَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ فَأَذِنَ لَهُ وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلَاحِهِ مَعَهُ فَأَتَى دَارَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى بَابِ الْبَيْتِ فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ فَقَالَتْ لَا تَعْجَلْ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ قَالَ لَا أَدْرِي أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعُ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوْ الْحَيَّةُ فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا قَالَ اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ نَفَرًا مِنْ الْجِنِّ أَسْلَمُوا فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ فَحَذِّرُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّالِثَةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪৩
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس میں اللہ کا نام نہ لے۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ اللَّيْثِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي رُبَيْحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪৪
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس میں اللہ کا نام نہ لے۔
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ رُبَيْحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪৫
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب میت کو چارپائی پر رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ اسے اپنے کندھوں پر اٹھالیتے ہیں تو اگر وہ نیک ہو تو کہتی ہے کہ مجھے جلدی لے چلو اور اگر نیک نہ ہو تو کہتی ہے کہ ہائے افسوس ! مجھے کہاں لے جاتے ہو ؟ اس کی یہ آواز انسانوں کے علاوہ ہر چیز سنتی ہے اور اگر انسان بھی اس آواز کو سن لے تو بےہوش ہوجائے۔
قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَجَّاجٌ قَالَا حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَتْ الْجَنَازَةُ وَاحْتَمَلَهَا الرِّجَالُ عَلَى أَعْنَاقِهِمْ فَإِنْ كَانَتْ صَالِحَةً قَالَتْ قَدِّمُونِي وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ صَالِحَةٍ قَالَتْ يَا وَيْلَهَا أَيْنَ تَذْهَبُونَ بِهَا يَسْمَعُ صَوْتَهَا كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الْإِنْسَانَ وَلَوْ سَمِعَهَا الْإِنْسَانُ لَصُعِقَ قَالَ حَجَّاجٌ لَصُعِقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪৬
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس گوہ لائی گئی، نبی ﷺ کے دست مبارک میں جو لکڑی تھی، آپ ﷺ نے اسے اس لکڑی سے الٹ پلٹ کر دیکھا اور فرمایا بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ مسخ ہوگیا تھا، اگر وہ باقی ہوا تو یہی ہوگا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِضَبٍّ فَقَلَّبَهُ بِعُودٍ كَانَ فِي يَدِهِ ظَهْرَهُ لِبَطْنِهِ فَقَالَ تَاهَ سِبْطٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَإِنْ يَكُنْ فَهُوَ هَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪৭
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ تبوک کے سال کھجور کے ایک درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کیا میں تمہیں بہترین اور بدترین انسان کے بارے نہ بتاؤں ؟ بہترین آدمی تو وہ ہے جو اللہ کے راستے میں اپنے گھوڑے، اونٹ یا اپنے پاؤں پر موت تک جہاد کرتا رہے اور بدترین آدمی وہ فاجر شخص ہے جو گناہوں پر جری ہو، قرآن کریم پڑھتا ہو، لیکن اس سے کوئی اثر قبول نہ کرتا ہو۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ تَبُوكَ خَطَبَ النَّاسَ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ وَشَرِّ النَّاسِ إِنَّ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا عَمِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَلَى ظَهْرِ فَرَسِهِ أَوْ عَلَى ظَهْرِ بَعِيرِهِ أَوْ عَلَى قَدَمَيْهِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمَوْتُ وَإِنَّ مِنْ شَرِّ النَّاسِ رَجُلًا فَاجِرًا جَرِيئًا يَقْرَأُ كِتَابَ اللَّهِ لَا يَرْعَوِي إِلَى شَيْءٍ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪৮
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
ابونضر (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت ابوسعید خدری (رض) کے پاؤں میں درد ہو رہا تھا، انہوں نے لیٹ کر ایک ٹانگ دوسری پر رکھی ہوئی تھی کہ ان کے ایک بھائی صاحب آئے اور اپنا ہاتھ اسی ٹانگ پر مارا جس میں درد ہو رہا تھا، اس سے ان کے درد میں اور اضافہ ہوگیا اور وہ کہنے لگے کہ کیا تمہیں نہیں پتہ کہ میرے پاؤں میں درد ہو رہا ہے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں، حضرت ابوسعید (رض) نے پوچھا پھر تم نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ کہنے لگا کہ کیا تم نے نہیں سنا کہ نبی ﷺ نے اس طریقے سے لیٹنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ كَانَ يَشْتَكِي رِجْلَهُ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَخُوهُ وَقَدْ جَعَلَ إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى وَهُوَ مُضْطَجِعٌ فَضَرَبَهُ بِيَدِهِ عَلَى رِجْلِهِ الْوَجِعَةِ فَأَوْجَعَهُ فَقَالَ أَوْجَعْتَنِي أَوَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ رِجْلِي وَجِعَةٌ قَالَ بَلَى قَالَ فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ قَالَ أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى عَنْ هَذِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৪৯
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس گوہ لائی گئی، نبی ﷺ نے فرمایا اسے الٹا کرو، لوگوں نے اسے الٹا کردیا، نبی ﷺ نے فرمایا اب اسے پیٹ کی جانب پلٹو، چناچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا، آپ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کا ایک قبیلہ مسخ ہوگیا تھا، اگر وہ باقی ہوا تو یہی ہوگا، یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يَقُولُ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَقَالَ اقْلِبُوهُ لِظَهْرِهِ فَقُلِبَ لِظَهْرِهِ ثُمَّ قَالَ اقْلِبُوهُ لِبَطْنِهِ فَقُلِبَ لِبَطْنِهِ فَقَالَ تَاهَ سِبْطٌ مِمَّنْ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَإِنْ يَكُ فَهُوَ هَذَا فَإِنْ يَكُ فَهُوَ هَذَا فَإِنْ يَكُ فَهُوَ هَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫০
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے وضع حمل سے پہلے جانوروں کے پیٹ میں موجود بچے خریدنے اور ماپے بغیر ان کے تھنوں میں موجود دودھ خریدنے سے، بھگوڑا غلام اور تقسیم سے قبل مال غنیمت اور قبضہ سے پہلے صدقات خریدنے سے منع فرمایا ہے، نیز غوطہ خور کی ایک چھلانگ پر جو ہاتھ میں آنے کی بنیاد پر معاملہ کرنے سے بھی منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَهْضَمٌ يَعْنِي الْيَمَامِيَّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شِرَاءِ مَا فِي بُطُونِ الْأَنْعَامِ حَتَّى تَضَعَ مَا فِي ضُرُوعِهَا إِلَّا بِكَيْلٍ وَعَنْ شِرَاءِ الْعَبْدِ وَهُوَ آبِقٌ وَعَنْ شِرَاءِ الْمَغَانِمِ حَتَّى تُقْسَمَ وَعَنْ شِرَاءِ الصَّدَقَاتِ حَتَّى تُقْبَضَ وَعَنْ ضَرْبَةِ الْغَائِصِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫১
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے صرف ایک پاؤں میں جوتا یا موزہ پہن کر چلنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَمْشِيَ الرَّجُلُ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ أَوْ فِي خُفٍّ وَاحِدٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫২
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی ﷺ سے تنگدستی کی شکایت کی تو نبی ﷺ نے فرمایا ابوسعید ! صبر کرو، کیونکہ مجھ سے محبت کرنے والوں کی طرف فقر وفاقہ اس سیلاب سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھتا ہے جو اوپر کی جانب سے نیچے آئے۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اصْبِرْ أَبَا سَعِيدٍ فَإِنَّ الْفَقْرَ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنْكُمْ أَسْرَعُ مِنْ السَّيْلِ عَلَى أَعْلَى الْوَادِي وَمِنْ أَعْلَى الْجَبَلِ إِلَى أَسْفَلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫৩
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے سامنے کچھ اونٹ والے اپنے اوپر فخر کرنے لگے، تو نبی ﷺ نے فرمایا سکون اور وقار بکریوں والوں میں ہوتا ہے اور فخر وتکبر اونٹ والوں میں ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنِ الْحَجَّاجِ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ افْتَخَرَ أَهْلُ الْإِبِلِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّكِينَةُ وَالْوَقَارُ فِي أَهْلِ الْغَنَمِ وَالْفَخْرُ وَالْخُيَلَاءُ فِي أَهْلِ الْإِبِلِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫৪
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے (عید گاہ کے لئے) نکلتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے، پھر سلام پھیر کر کھڑے ہوجاتے اور آگے بڑھ کر لوگوں کی جانب رخ فرمالیتے، لوگ بیٹھے رہتے اور نبی ﷺ انہیں تین مرتبہ صدقہ کرنے کی ترغیب دیتے، اکثر عورتیں اس موقع پر بالیاں اور انگوٹھیاں وغیرہ صدقہ کردیا کرتی تھیں، پھر اگر نبی ﷺ کو لشکر کے حوالے سے کوئی ضرورت ہوتی تو آپ ﷺ بیان فرمادیتے، ورنہ واپس چلے جاتے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ أَبُو الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ يَوْمَ الْفِطْرِ صَلَّى بِالنَّاسِ تَيْنِكَ الرَّكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ وَقَامَ فَاسْتَقْبَلَ النَّاسَ وَهُمْ جُلُوسٌ فَقَالَ تَصَدَّقُوا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَكَانَ أَكْثَرَ مَنْ يَتَصَدَّقُ النِّسَاءُ بِالْقُرْطِ وَبِالْخَاتَمِ وَبِالشَّيْءِ فَإِنْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَةٌ أَنْ يَضْرِبَ عَلَى النَّاسِ بَعْثًا ذَكَرَهُ لَهُمْ وَإِلَّا انْصَرَفَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫৫
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کپڑے میں تھوکا اور اسے مل لیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَزَقَ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ دَلَكَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫৬
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مرفوعاً مروی ہے کہ جب کسی شخص کو اپنی نماز میں شک ہوجائے اور اسے یاد نہ رہے کہ اس نے زیادہ رکعتیں پڑھ لی ہیں یا کم کردی ہیں تو اسے چاہئے کہ بیٹھے بیٹھے سہو کے دو سجدے کرلے۔
حَدَّثَنَا عَارِمٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَرَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِذَا أَوْهَمَ الرَّجُلُ فِي صَلَاتِهِ فَلَمْ يَدْرِ أَزَادَ أَمْ نَقَصَ فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫৭
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں اور وہ ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا اور ان سے عمدہ سلوک کرتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ زَكَرِيَّا عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُكْمِلٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكُونُ لِأَحَدٍ ثَلَاثُ بَنَاتٍ أَوْ ثَلَاثُ أَخَوَاتٍ أَوْ ابْنَتَانِ أَوْ أُخْتَانِ فَيَتَّقِي اللَّهَ فِيهِنَّ وَيُحْسِنُ إِلَيْهِنَّ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫৮
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) کے ایک آزاد کردہ غلام کا کہنا ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوسعید (رض) کی معیت میں نبی ﷺ کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، مسجد کے درمیان میں ایک آدمی گوٹ مار کر بیٹھا ہوا تھا اور اس نے اپنے ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا رکھی تھیں، نبی ﷺ نے اسے اشارہ سے منع کیا لیکن وہ نبی ﷺ کا اشارہ سمجھ نہ سکا، نبی ﷺ نے حضرت ابوسعید (رض) کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں ہو تو انگلیاں ایک دوسرے میں نہ پھنسائے کیونکہ یہ شیطانی حرکت ہے اور جو شخص جب تک مسجد میں رہتا ہے، مسجد سے نکلنے تک اس کا شمار نماز پڑھنے والوں میں ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَوْهَبٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمِّي يَعْنِي عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ عَنْ مَوْلًى لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ بَيْنَمَا أَنَا مَعَ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ فَإِذَا رَجُلٌ جَالِسٌ فِي وَسَطِ الْمَسْجِدِ مُحْتَبِيًا مُشَبِّكٌ أَصَابِعَهُ بَعْضَهَا فِي بَعْضٍ فَأَشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَفْطِنْ الرَّجُلُ لِإِشَارَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ إِذَا كَانَ أَحَدُكُمْ فِي الْمَسْجِدِ فَلَا يُشَبِّكَنَّ فَإِنَّ التَّشْبِيكَ مِنْ الشَّيْطَانِ وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَزَالُ فِي صَلَاةٍ مَا دَامَ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَخْرُجَ مِنْهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৫৯
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) اور ابوہریرہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب رات کا ایک تہائی حصہ گذر جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ کون ہے جو مجھ سے دعاء کرے کہ میں اسے قبول کرلوں ؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرے کہ میں اسے بخش دوں ؟ کون ہے جو مجھ سے طلب کرے کہ میں اسے عطاء کروں ؟۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ قَالَ أَشْهَدُ عَلَى أَبِي سَعِيدٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُمَا شَهِدَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يُمْهِلُ حَتَّى إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ هَبَطَ فَيَقُولُ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ مِنْ ذَنْبٍ هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৬০
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے ایک آدمی نے نبی ﷺ کے رکوع سے قبل رکوع اور ان کے سر اٹھانے سے پہلے اپنا سر اٹھالیا، نماز سے فارغ ہو کر نبی ﷺ نے پوچھا کہ ایسا کس نے کیا ہے ؟ اس شخص نے اپنے آپ کو پیش کرتے ہوئے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے ایسا کیا ہے، دراصل میں یہ جاننا چاہتا تھا کہ آپ کو پتہ چلتا ہے یا نہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نماز کو نامکمل کرنے سے بچو، جب امام رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ سر اٹھائے تو تم سر اٹھاؤ۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ الْحَنَفِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ صَلَّى رَجُلٌ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يَرْكَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ وَيَرْفَعُ قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ مَنْ فَعَلَ هَذَا قَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ تَعْلَمُ ذَلِكَ أَمْ لَا فَقَالَ اتَّقُوا خِدَاجَ الصَّلَاةِ إِذَا رَكَعَ الْإِمَامُ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১০৯৬১
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے یا کسی اور نے نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! ایک بھیڑیا میری بکری کی دم کاٹ کر بھاگ گیا ہے، کیا میں اس کی قربانی کرسکتا ہوں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! کرسکتے ہو۔
حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَقَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الذِّئْبَ قَطَعَ ذَنَبَ شَاةٍ لِي فَأُضَحِّي بِهَا قَالَ نَعَمْ وَقَالَ عَفَّانُ عَنْ ذَنَبِ شَاةٍ لَهُ فَقَطَعَهَا الذِّئْبُ فَقَالَ أُضَحِّي بِهَا قَالَ نَعَمْ
তাহকীক: