আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৯৪১ টি

হাদীস নং: ১১৪৬২
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم پہلے لوگوں کی بالشت بالشت بھر اور گز گز بھر عادات کی پیروی کرو گے حتیٰ کہ اگر وہ کسی گوہ کے بل میں داخل ہوں گے تو تم بھی ایسا ہی کرو گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَتَّبِعُنَّ سُنَنَ بَنِي إِسْرَائِيلَ شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ حَتَّى لَوْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ جُحْرَ ضَبٍّ لَتَبِعْتُمُوهُمْ فِيهِ وَقَالَ مَرَّةً لَتَبِعْتُمُوهُ فِيهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৬৩
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب مسلمان قیامت کے دن جہنم سے نجات پاجائیں گے اور مامون ہوجائیں گے تو دنیا میں تم میں سے کسی صاحب حق کا اتنا شدید جھگڑا نہیں ہوگا جتنا وہ اپنے رب کے سامنے اپنے ان بھائیوں کے متعلق اصرار کریں گے جنہیں جہنم میں داخل کردیا گیا ہوگا اور وہ کہیں گے کہ پروردگار ! یہ ہمارے بھائی تھے، ہمارے ساتھ نماز پڑھتے، روزہ رکھتے اور حج کرتے تھے اور تو نے انہیں جہنم میں داخل کردیا ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم جاؤ اور جن لوگوں کو جانتے ہو انہیں جہنم سے نکال لو، چناچہ وہ لوگ آئیں گے اور انہیں ان کی صورت سے پہچان لیں گے کیونکہ آگ نے ان کے چہرے کو نہیں کھایا ہوگا، کسی کو نصف پنڈلی تک آگ نے پکڑ رکھا ہوگا اور کسی کو گھٹنوں تک، انہیں نکال کر وہ کہیں گے کہ پروردگار ! ہم نے ان لوگوں کو نکال لیا ہے، جنہیں نکالنے کا تو نے حکم دیا تھا۔ اللہ فرمائے گا کہ ان لوگوں کو بھی جہنم سے نکال لو جن کے دل میں ایک دینار کے برابر ایمان موجود ہو، پھر جس کے دل میں نصف دینار کے برابر ایمان ہو، یہاں تک کہ اللہ فرمائے گا جس کے دل میں ایک ذرے کے برابر ایمان ہو، اسے بھی نکال لو، حضرت ابوسعید (رض) فرماتے ہیں کہ جو شخص اس بات کو سچا نہ سمجھے اسے یہ آیت پڑھ لینی چاہئے " بیشک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرے گا اور اگر کوئی نیکی ہوئی تو اسے دوگنا کر دے گا اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطاء فرمائے گا " وہ کہیں گے کہ پروردگار ! ہم نے ان تمام لوگوں کو نکال لیا ہے جنہیں نکالنے کا تو نے ہمیں حکم دیا تھا اور اب جہنم میں کوئی ایسا آدمی نہیں رہا جس میں کوئی خیر ہو۔ پھر اللہ فرمائے گا کہ فرشتوں نے سفارش کی، انبیاء نے سفارش کی اور مسلمانوں نے سفارش کی، اب ارحم الراحمین رہ گیا ہے۔ چناچہ اللہ جہنم سے ایک یا دو مٹھیوں کے برابر آدمی نکالے گا، یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے کبھی نیکی کا کوئی کام نہ کیا ہوگا، وہ جل کر کوئلہ ہوچکے ہوں گے، انہیں " ماءِ حیات " نامی نہر پر لایا جائے گا ان پر پانی بہایا جائے گا اور وہ ایسے اگ آئیں گے جیسے پانی کے بہاؤ میں دانہ اگ آتا ہے اور ان کے جسم موتیوں کی طرح چمکدار ہو کر نکلیں گے، ان کی گردنوں پر " اللہ کے آزاد کردہ لوگوں " کی مہر ہوگی اور ان سے کہا جائے گا کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ تم جو تمنا کرو گے اس سے بہترین ملے گا، وہ کہیں گے کہ پروردگار ! اس سے افضل اور کیا ہوگا ؟ اللہ فرمائے گا میری رضا مندی، آج کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَلَصَ الْمُؤْمِنُونَ مِنْ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَمِنُوا فَمَا مُجَادَلَةُ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ فِي الْحَقِّ يَكُونُ لَهُ فِي الدُّنْيَا بِأَشَدَّ مُجَادَلَةً لَهُ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ لِرَبِّهِمْ فِي إِخْوَانِهِمْ الَّذِينَ أُدْخِلُوا النَّارَ قَالَ يَقُولُونَ رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَحُجُّونَ مَعَنَا فَأَدْخَلْتَهُمْ النَّارَ قَالَ فَيَقُولُ اذْهَبُوا فَأَخْرِجُوا مَنْ عَرَفْتُمْ فَيَأْتُونَهُمْ فَيَعْرِفُونَهُمْ بِصُوَرِهِمْ لَا تَأْكُلُ النَّارُ صُوَرَهُمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ النَّارُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى كَعْبَيْهِ فَيُخْرِجُونَهُمْ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا ثُمَّ يَقُولُ أَخْرِجُوا مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ دِينَارٍ مِنْ الْإِيمَانِ ثُمَّ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ وَزْنُ نِصْفِ دِينَارٍ حَتَّى يَقُولَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْ بِهَذَا فَلْيَقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا قَدْ أَخْرَجْنَا مَنْ أَمَرْتَنَا فَلَمْ يَبْقَ فِي النَّارِ أَحَدٌ فِيهِ خَيْرٌ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ شَفَعَتْ الْمَلَائِكَةُ وَشَفَعَ الْأَنْبِيَاءُ وَشَفَعَ الْمُؤْمِنُونَ وَبَقِيَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ قَالَ فَيَقْبِضُ قَبْضَةً مِنْ النَّارِ أَوْ قَالَ قَبْضَتَيْنِ نَاسٌ لَمْ يَعْمَلُوا لِلَّهِ خَيْرًا قَطُّ قَدْ احْتَرَقُوا حَتَّى صَارُوا حُمَمًا قَالَ فَيُؤْتَى بِهِمْ إِلَى مَاءٍ يُقَالُ لَهُ مَاءُ الْحَيَاةِ فَيُصَبُّ عَلَيْهِمْ فَيَنْبُتُونَ كَمَا تَنْبُتُ الْحِبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ فَيَخْرُجُونَ مِنْ أَجْسَادِهِمْ مِثْلَ اللُّؤْلُؤِ فِي أَعْنَاقِهِمْ الْخَاتَمُ عُتَقَاءُ اللَّهِ قَالَ فَيُقَالُ لَهُمْ ادْخُلُوا الْجَنَّةَ فَمَا تَمَنَّيْتُمْ أَوْ رَأَيْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ لَكُمْ عِنْدِي أَفْضَلُ مِنْ هَذَا قَالَ فَيَقُولُونَ رَبَّنَا وَمَا أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ فَيَقُولُ رِضَائِي عَلَيْكُمْ فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ أَبَدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৬৪
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اچھی طرح کپڑا دیکھے بغیر اسے ہاتھ لگا دے (اور وہ اسے خریدنا پڑجائے) نیز بیع مناہدہ سے بھی منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی کپڑے وغیرہ کو دیکھے اور اچھی طرح الٹ پلٹ کرنے سے قبل ہی اسے مشتری (خریدنے والا) کی طرف پھینک دے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُلَامَسَةُ يُمَسُّ الثَّوْبُ لَا يُنْظَرُ إِلَيْهِ وَعَنْ الْمُنَابَذَةِ وَهُوَ طَرْحُ الثَّوْبِ الرَّجُلُ بِالْبَيْعِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ وَيَنْظُرَ إِلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৬৫
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ وَحَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيِّ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৬৬
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک کوئی نماز نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَابْنُ بَكْرٍ قَالَا أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عِيَاضٍ وَعَطَاءِ بْنِ بُخْتٍ كِلَاهُمَا يُخْبِرُ عُمَرَ بْنَ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمَا سَمِعَاهُ يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ يَقُولُ لَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى اللَّيْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৬৭
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بیع ملامسہ سے منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی اچھی طرح کپڑا دیکھے بغیر اسے ہاتھ لگا دے (اور وہ اسے خریدنا پڑجائے) نیز بیع مناہدہ سے بھی منع فرمایا ہے جس کی صورت یہ ہے کہ آدمی کپڑے وغیرہ کو دیکھے اور اچھی طرح الٹ پلٹ کرنے سے قبل ہی اسے مشتری (خریدنے والا) کی طرف پھینک دے۔ حدیث نمبر (١١٩١٢) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ ثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ وَحَدَّثَ ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُلَامَسَةُ لَمْسُ الثَّوْبِ لَا يُنْظَرُ إِلَيْهِ وَعَنْ الْمُنَابَذَةِ وَالْمُنَابَذَةُ طَرْحُ الرَّجُلِ ثَوْبَهُ إِلَى الرَّجُلِ قَبْلَ أَنْ يُقَلِّبَهُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ الْجُنْدَعِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ يَعْنِي مِثْلَ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَابْنِ بَكْرٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ وَقَالَ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৬৮
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دو قسم کے لباس اور دو قسم کی تجارت سے منع فرمایا ہے، لباس کی تفصیل تو یہ ہے کہ ایک کپڑے میں اس طرح لپٹنا کہ کپڑے کا ایک کونا بائیں کندھے پر رکھے اور دائیں کونے سے تہبند بنائے اور دوسرا یہ کہ ایک کپڑے میں اس طرح گوٹ مار کر بیٹھے کہ اس کی شرمگاہ نظر آرہی ہو اور دو قسم کی تجارت سے مراد منابدہ اور ملامسہ ہے، منابدہ تو یہ ہے کہ آدمی یوں کہے کہ جب میں یہ کپڑا پھینک دوں تو بیع ہوگی اور ملامسہ یہ ہے کہ آدمی اسے ہاتھ سے چھولے لیکن پہن کر یا پلٹ کر نہ دیکھے، کہ جب چھوئے تو بیع ہوجائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ ثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لِبْسَتَيْنِ وَعَنْ بَيْعَتَيْنِ أَمَّا اللِّبْسَتَانِ فَاشْتِمَالُ الصَّمَّاءِ أَنْ يَشْتَمِلَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ يَضَعَ طَرَفَيْ الثَّوْبِ عَلَى عَاتِقِهِ الْأَيْسَرِ وَيَتَّزِرَ بِشِقِّهِ الْأَيْمَنِ وَالْأُخْرَى أَنْ يَحْتَبِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَيْهِ غَيْرُهُ وَيُفْضِيَ بِفَرْجِهِ إِلَى السَّمَاءِ وَأَمَّا الْبَيْعَتَانِ فَالْمُنَابَذَةُ وَالْمُلَامَسَةُ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَقُولَ إِذَا نَبَذْتَ هَذَا الثَّوْبَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَالْمُلَامَسَةُ أَنْ يَمَسَّهُ بِيَدِهِ وَلَا يَلْبَسَهُ وَلَا يُقَلِّبَهُ إِذَا مَسَّهُ وَجَبَ الْبَيْعُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৬৯
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں یہ منادی کردی جائے گی کہ تم زندہ رہو گے، کبھی نہ مرو گے، ہمیشہ تندرست رہو گے، کبھی بیمار نہ ہوگے، ہمیشہ جوان رہو گے، کبھی بوڑھے نہ ہوگے، ہمیشہ نعمتوں میں رہو گے، کبھی غم نہ دیکھو گے یہی مطلب ہے اس ارشاد باری تعالیٰ کا کہ " انہیں پکار کر کہا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کا تمہیں تمہارے اعمال کی وجہ سے وارث بنادیا گیا ہے۔ "
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَقَالَ قَالَ الثَّوْرِيُّ فَحَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ أَنَّ الْأَغَرَّ حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يُنَادِي مُنَادٍ أَنَّ لَكُمْ أَنْ تَحْيَوْا فَلَا تَمُوتُوا أَبَدًا وَأَنَّ لَكُمْ أَنْ تَصِحُّوا فَلَا تَسْقَمُوا أَبَدًا وَأَنَّ لَكُمْ أَنْ تَشِبُّوا وَلَا تَهْرَمُوا وَأَنَّ لَكُمْ أَنْ تَنْعَمُوا وَلَا تَبْأَسُوا أَبَدًا فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ وَنُودُوا أَنْ تِلْكُمْ الْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৭০
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک دو بڑے گروہوں میں جنگ نہ ہوجائے، جن دونوں کا دعویٰ ایک ہی ہوگا اور ان دونوں کے درمیان ایک گروہ نکلے گا جسے ان دو فرقوں میں سے حق کے زیادہ قریب فرقہ قتل کرے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَقْتَتِلَ فِئَتَانِ عَظِيمَتَانِ دَعْوَاهُمَا وَاحِدَةٌ تَمْرُقُ بَيْنَهُمَا مَارِقَةٌ يَقْتُلُهَا أَوْلَاهُمَا بِالْحَقِّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৭১
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا وہ شخص مسلسل نماز میں ہوتا ہے جو اپنے مصلیٰ پر نماز کا انتظار کر رہا ہو اور فرشتے اس کے حق میں یہ دعاء کرتے ہیں کہ اے اللہ ! اسے معاف فرما دے، اے اللہ ! اس پر رحم فرما دے، یہاں تک کہ وہ واپس چلا جائے یا اسے حدث لاحق ہوجائے، میں نے حدث کا مطلب پوچھا تو فرمایا آہستہ سے یا آواز سے ہوا کا خارج ہونا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ حَتَّى يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ فَقُلْتُ مَا يُحْدِثُ فَقَالَ كَذَا قُلْتُ لِأَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৭২
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید (رض) سے (غالباً ) مرفوعاً مروی ہے کہ جب ابن آدم صبح کرتا ہے تو اس کے جسم کے سارے اعضاء زبان سے کہتے ہیں کہ ہمارے معاملے میں اللہ کا خوف کرنا، اگر تم سیدھی رہیں تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تم ٹیڑھی ہوگئیں تو (تمہاری برکت سے) ہم بھی ٹیڑھے ہوجائیں گے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الصَّهْبَاءِ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ قَالَ إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ فَإِنَّ أَعْضَاءَهُ تُكَفِّرُ لِلِّسَانِ تَقُولُ اتَّقِ اللَّهَ فِينَا فَإِنَّكَ إِنْ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَأَنْ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৭৩
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے " عزل " کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کیا اس نومولود کو تم پیدا کرو گے ؟ کیا تم اسے رزق دو گے ؟ اللہ نے اسے اس کے ٹھکانے میں رکھ دیا ہے تو یہ تقدیر کا حصہ ہے اور یہی تقدیر ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنْتَ تَخْلُقُهُ أَنْتَ تَرْزُقُهُ فَأَقْرِرْهُ مَقَرَّهُ فَإِنَّمَا كَانَ قَدَرٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৭৪
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دو وقت کی نماز، دو دن کے روزے اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے، نمازِ عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک اور نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک نماز پڑھنے سے، عیدین کے دن روزے سے اور ایک کپڑے میں لیٹنے سے یا اس طرح گوٹ مار کر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے کہ انسان کی شرمگاہ پر کچھ نہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صِيَامِ يَوْمَيْنِ يَوْمِ الْفِطْرِ وَيَوْمِ الْأَضْحَى وَعَنْ لِبْسَتَيْنِ الصَّمَّاءِ وَأَنْ يَحْتَبِيَ الرَّجُلُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَعَنْ صَلَاةٍ فِي سَاعَتَيْنِ بَعْدَ الصُّبْحِ وَبَعْدَ الْعَصْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৭৫
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ میدان عرفات میں کھڑے ہو کر اس طرح دعاء کر رہے تھے کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سینے کے سامنے بلند کر رکھے تھے اور ہتھیلیوں کی پشت زمین کی جانب کر رکھی تھی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَحَسَنٌ قَالَا ثَنَا حَمَّادٌ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِعَرَفَةَ قَالَ حَسَنٌ وَيَرْفَعُ يَدَيْهِ هَكَذَا يَجْعَلُ ظَاهِرَهُمَا فَوْقَ وَبَاطِنَهُمَا أَسْفَلَ وَوَصَفَ حَمَّادٌ وَرَفَعَ حَمَّادٌ يَدَيْهِ وَكَفَّيْهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৭৬
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص جب نماز پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کے پاس شیطان آتا ہے اور اس کی پچھلی شرمگاہ کا ایک بال پکڑ کر اسے کھینچتا ہے، وہ آدمی یہ سمجھتا ہے کہ اس کا وضو ٹوٹ گیا ہے، اگر کسی کے ساتھ ایسا ہو تو وہ اپنی نماز نہ توڑے تاآنکہ آواز سن لے یا بدبو محسوس کرنے لگے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ فَيَأْخُذُ شَعْرَةً مِنْ دُبُرِهِ فَيَمُدُّهَا فَيَرَى أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ فَلَا يَنْصَرِفَنَّ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৭৭
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
ہمارے نسخے میں یہاں صرف لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْتِي أَحَدَكُمْ وَهُوَ فِي صَلَاتِهِ فَيَأْخُذُ بِشَعْرَةٍ مِنْ دُبُرِهِ فَيَمُدُّهَا فَيَرَى أَنَّهُ قَدْ أَحْدَثَ فَلَا يَنْصَرِفْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৭৮
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس امت میں ایک ایسا خلیفہ ضرور مبعوث فرمائے گا، جو لوگوں کو شمار کئے بغیر خوب مال و دولت عطاء کیا کرے گا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيفَةً يَحْثِي الْمَالَ حَثْيًا وَلَا يَعُدُّهُ عَدًّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৭৯
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ صحابہ (رض) بیٹھے قرآن کریم کی تلاوت کر رہے تھے، اسی اثناء میں نبی ﷺ بھی تشریف لے آئے، ہم انہیں دیکھ کر خاموش ہوگئے، نبی ﷺ نے فرمایا تم اس اس طرح نہیں کر رہے تھے ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! جی ہاں ! اس پر نبی ﷺ نے فرمایا اسی طرح کرتے رہو جیسے تم کر رہے تھے اور خود بھی ہمارے ساتھ بیٹھ گئے اور تھوڑی دیر بعد فرمایا اے غریبوں کے گروہ ! خوش ہوجاؤ کہ تم لوگ مالداروں سے پانچ سو سال " جو قیامت کا نصف دن ہوگا " پہلے جنت میں داخل ہوگے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا الْمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُزَيْنَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُمْ كَانُوا جُلُوسًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ وَيَدْعُونَ قَالَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ سَكَتْنَا فَقَالَ أَلَيْسَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ كَذَا وَكَذَا قُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَاصْنَعُوا كَمَا كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ وَجَلَسَ مَعَنَا ثُمَّ قَالَ أَبْشِرُوا صَعَالِيكَ الْمُهَاجِرِينَ بِالْفَوْزِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى الْأَغْنِيَاءِ بِخَمْسِ مِائَةٍ أَحْسَبُهُ قَالَ سَنَةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮০
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کسی کو جمائی آئے، تو وہ حسب طاقت اپنا منہ بند رکھے۔ کیونکہ شیطان جمائی کے ساتھ اس کے منہ میں داخل ہوجاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ عَنِ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيُمْسِكْ يَدَهُ عَلَى فِيهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৪৮১
حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت ابوسعید خدری (رض) کی مرویات
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک سحری سے مسلسل کئی روزے رکھنے سے منع فرمایا ہے، صحابہ کرام مسلسل اصرار کرتے رہے تو نبی ﷺ نے انہیں سحری سے سحری تک کی اجازت دے دی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ فَلَمْ يَزَلْ بِهِ أَصْحَابُهُ حَتَّى رَخَّصَ لَهُمْ مِنْ السَّحَرِ إِلَى السَّحَرِ
tahqiq

তাহকীক: