আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১১৭০৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دوران نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ إِلَى السَّمَاءِ فِي صَلَاتِهِمْ فَاشْتَدَّ قَوْلُهُ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭০৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَحَّى بِكَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا عَلَى صِفَاحِهِمَا قَدَمَهُ وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭০৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا رکوع و سجود کو مکمل کیا کرو، کیونکہ میں واللہ تمہیں اپنی پشت کے پیچھے سے بھی دیکھ رہا ہوتا ہوں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِي وَرُبَّمَا قَالَ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي إِذَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا سَجَدْتُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭০৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اعْتَدِلُوا فِي السُّجُودِ وَلَا يَبْسُطْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ انْبِسَاطَ الْكَلْبِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭০৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور عرب کے کچھ قبائل پر بددعاء کرتے رہے پھر اسے ترک کردیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَرَكَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭০৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں جنت میں داخل ہوا تو اچانک ایک نہر پر نظر پڑی جس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں نے اس میں ہاتھ ڈال کر پانی میں بہنے والی چیز کو پکڑا تو وہ مہکتی ہوئی مشک تھی میں نے جبرئیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِنَهْرٍ حَافَتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ فَضَرَبْتُ بِيَدِي فِي مَجْرَى الْمَاءِ فَإِذَا مِسْكٌ أَذْفَرُ قُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَا قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ أَوْ أَعْطَاكَ رَبُّكَ عَزَّ وَجَلَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭০৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے اور فرمایا کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَقَالَ عُصَيَّةُ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭১০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سارے مسلمان اکٹھے ہوں گے ان کے دل میں یہ بات ڈالی جائے گی اور وہ کہیں گے کہ اگر ہم اپنے پروردگار کے سامنے کسی کی سفارش لے کر جائیں تو شاید وہ ہمیں اس جگہ سے راحت عطاء فرما دے، چناچہ وہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے پاس جائیں اور ان سے کہیں گے کہ اے آدم ! آپ ابو البشر ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا اپنے فرشتوں سے آپ کو سجدہ کروایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے، لہٰذا آپ ہمارے رب سے سفارش کردیں کہ وہ ہمیں اس جگہ سے نجات دے دے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) جواب دیں گے کہ میں تو اس کا اہل نہیں ہوں اور انہیں اپنی لغزش یاد آجائے گی اور وہ اپنے رب سے حیاء کریں گے اور فرمائیں گے کہ تم حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ وہ پہلے رسول ہیں جنہیں اللہ نے اہل زمین کی طرف بھیجا تھا، چناچہ وہ سب لوگ حضرت نوح (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے اور ان سے کہیں گے کہ آپ اپنے پروردگار سے ہماری سفارش کر دیجئے، وہ جواب دیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے، تم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے انہیں اپنا خلیل قرار دیا ہے۔ چناچہ وہ سب لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس جائیں گے وہ بھی یہی کہیں گے کہ تمہارا گوہر مقصود میرے پاس نہیں ہے البتہ تم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، کیونکہ اللہ نے ان سے براہ راست کلام فرمایا ہے اور انہیں تورات دی تھی، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی معذرت کرلیں گے کہ میں نے ایک ناحق شخص کو قتل کردیا تھا البتہ تم حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پاس چلے جاؤ، وہ اللہ کے بندے، اس کے رسول اور اس کا کلمہ اور روح تھے لیکن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی معذرت کرلیں گے اور فرمائیں گے کہ تم محمد ﷺ کے پاس چلے جاؤ، وہ تمہاری سفارش کریں گے جن کی اگلی پچھلی لغزشیں اللہ نے معاف فرما دی ہیں۔ نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ میں اپنے پروردگار کے پاس حاضری کی اجازت چاہوں گا جو مجھے مل جائے گی میں اپنے رب کو دیکھ کر سجدہ ریز ہوجاؤں گا، اللہ جب تک چاہے گا مجھے سجدے ہی کی حالت میں رہنے دے گا، پھر مجھ سے کہا جائے گا کہ اے محمد ﷺ ! سر اٹھائیے، آپ جو کہیں گے اس کی شنوائی ہوگی، جو مانگیں گے وہ ملے گا اور جس کی سفارش کریں گے قبول کرلی جائے گی، چناچہ میں اپنا سر اٹھا کر اللہ کی ایسی تعریف کروں گا جو وہ خود مجھے سکھائے گا پھر میں سفارش کروں گا تو اللہ میرے لئے ایک حد مقرر فرما دے گا اور میں انہیں جنت میں داخل کروا کر دوبارہ آؤں گا، تین مرتبہ اسی طرح ہوگا، چوتھی مرتبہ میں کہوں گا کہ پروردگار ! اب صرف وہی لوگ باقی بچے ہیں جنہیں قرآن نے روک رکھا ہے۔ چناچہ وہ جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں جو کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو، پھر جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں گندم کے دانے کے برابر بھی خیر موجود ہو اور جہنم سے ہر اس شخص کو نکال لیا جائے گا جو لا الہ الا اللہ کہتا ہو اور اس کے دل میں ایک ذرے کے برابر بھی خیر موجود ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجْتَمِعُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْهَمُونَ ذَلِكَ فَيَقُولُونَ لَوْ اسْتَشْفَعْنَا عَلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَأَرَاحَنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا فَيَأْتُونَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَيَقُولُونَ يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ خَلَقَكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِيَدِهِ وَأَسْجَدَ لَكَ مَلَائِكَتَهُ وَعَلَّمَكَ أَسْمَاءَ كُلِّ شَيْءٍ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا عَزَّ وَجَلَّ يُرِيحُنَا مِنْ مَكَانِنَا هَذَا فَيَقُولُ لَهُمْ آدَمُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ ذَنْبَهُ الَّذِي أَصَابَ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَيَقُولُ وَلَكِنْ ائْتُوا نُوحًا فَإِنَّهُ أَوَّلُ رَسُولٍ بَعَثَهُ اللَّهُ إِلَى الْأَرْضِ فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ لَهُمْ خَطِيئَتَهُ وَسُؤَالَهُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا لَيْسَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ بِذَلِكَ وَلَكِنْ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَأْتُونَ فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام عَبْدًا كَلَّمَهُ اللَّهُ وَأَعْطَاهُ التَّوْرَاةَ فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَيَذْكُرُ لَهُمْ النَّفْسَ الَّتِي قَتَلَ بِغَيْرِ نَفْسٍ فَيَسْتَحْيِي رَبَّهُ مِنْ ذَلِكَ وَلَكِنْ ائْتُوا عِيسَى عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ وَكَلِمَتَهُ وَرُوحَهُ فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ لَسْتُ هُنَاكُمْ وَلَكِنْ ائْتُوا مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدًا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ فَيَأْتُونِي قَالَ الْحَسَنُ هَذَا الْحَرْفَ فَأَقُومُ فَأَمْشِي بَيْنَ سِمَاطَيْنِ مِنْ الْمُؤْمِنِينَ قَالَ أَنَسٌ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ عَلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَيُؤْذَنَ لِي فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ أَوْ خَرَرْتُ سَاجِدًا إِلَى رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي قَالَ ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ قُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ إِلَيْهِ الثَّانِيَةَ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَقَعْتُ أَوْ خَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ قُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي وَقَعْتُ أَوْ خَرَرْتُ سَاجِدًا لِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَيَدَعُنِي مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدَعَنِي ثُمَّ يُقَالُ ارْفَعْ مُحَمَّدُ وَقُلْ تُسْمَعْ وَسَلْ تُعْطَهْ وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَحْمَدُهُ بِتَحْمِيدٍ يُعَلِّمُنِيهِ ثُمَّ أَشْفَعُ فَيَحُدُّ لِي حَدًّا فَأُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ ثُمَّ أَعُودُ الرَّابِعَةَ فَأَقُولُ يَا رَبِّ مَا بَقِيَ إِلَّا مَنْ حَبَسَهُ الْقُرْآنُ فَحَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَيَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ شَعِيرَةً ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ بُرَّةً ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ النَّارِ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَكَانَ فِي قَلْبِهِ مِنْ الْخَيْرِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭১১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف سے کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے۔ یہ بات دو مرتبہ فرمائی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ التَّيْمِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ قَالَهُ مَرَّتَيْنِ وَقَالَ مَرَّةً مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭১২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ دورانِ نماز آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے شدت سے اس کی ممانعت کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اس سے باز آجائیں، ورنہ ان کی بصارت اچک لی جائے گی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْفَعُونَ أَبْصَارَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ قَالَ فَاشْتَدَّ فِي ذَلِكَ حَتَّى قَالَ لَيَنْتَهُنَّ عَنْ ذَلِكَ أَوْ لَتُخْطَفَنَّ أَبْصَارُهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭১৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور ان کی اہلیہ محترمہ ایک ہی برتن سے غسل کیا کرتے تھے۔ نبی ﷺ پانچ مکوک پانی سے غسل اور ایک مکوک پانی سے وضو فرمالیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمَرْأَةُ مِنْ نِسَائِهِ يَغْتَسِلَانِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَكَانَ يَغْتَسِلُ بِخَمْسِ مَكَاكِيَّ وَيَتَوَضَّأُ بِمَكُّوكٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭১৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ماں کے رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر رکھا ہے، جو اپنے اپنے وقت پر یہ کہتا رہتا ہے کہ پروردگار ! اب نطفہ بن گیا، پروردگار ! اب گوشت کی بوٹی بن گیا، پھر جب اللہ اسے پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ پوچھتا ہے کہ پروردگار ! یہ شقی ہوگا یا سعید ؟ مذکر ہوگا یا مونث ؟ اور عمر کتنی ہوگی ؟ یہ سب چیزیں ماں کے پیٹ میں لکھ دی جاتی ہیں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكَّلَ بِالرَّحِمِ مَلَكًا قَالَ أَيْ رَبِّ نُطْفَةٌ أَيْ رَبِّ عَلَقَةٌ أَيْ رَبِّ مُضْغَةٌ فَإِذَا قَضَى الرَّبُّ عَزَّ وَجَلَّ خَلْقَهَا قَالَ أَيْ رَبِّ أَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ ذَكَرًا أَوْ أُنْثَى فَمَا الرِّزْقُ وَمَا الْأَجَلُ قَالَ فَيَكْتُبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ بِمَكَّةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ أَبُو مُعَاذٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭১৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (حضرت عائشہ (رض) کی باندی پر) بریرہ کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آئی، تو نبی ﷺ نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ بَرِيرَةَ تُصُدِّقَ عَلَيْهَا بِصَدَقَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭১৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے تو مسلمان پر تعجب ہوتا ہے کہ اللہ اس کے لئے جو فیصلہ بھی فرماتا ہے وہ اس کے حق میں بہتر ہی ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ شُرَيْحٍ عَنْ ثَعْلَبَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَجِبْتُ لِلْمُؤْمِنِ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَقْضِ قَضَاءً إِلَّا كَانَ خَيْرًا لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭১৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُصْبَرَ الْبَهَائِمُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭১৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ تم پر جو وقت بھی آئے گا، وہ پہلے سے بدترین ہی ہوگا، ہم نے تمہارے پیغمبر ﷺ سے یوں ہی سنا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ يَعْنِي ابْنَ مِغْوَلٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَا يَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ إِلَّا هُوَ شَرٌّ مِنْ الزَّمَانِ الَّذِي كَانَ قَبْلَهُ سَمِعْنَا ذَلِكَ مِنْ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭১৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن ہر فقیر اور مالدار کی تمنا یہی ہوگی کہ اسے دنیا میں بقدر گذارہ دیا گیا ہوتا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ نَفِيعٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَحَدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غَنِيٍّ وَلَا فَقِيرٍ إِلَّا وَدَّ أَنَّمَا كَانَ أُوتِيَ مِنْ الدُّنْيَا قُوتًا قَالَ يَعْلَى فِي الدُّنْيَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭২০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ مجھے " دو کانوں والے " کہہ کر مخاطب فرمایا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا ذَا الْأُذُنَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭২১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ام سلیم (رض) دورانِ سفر ازواجِ مطہرات کے ساتھ تھیں، ایک آدمی " جس کا نام انجشہ تھا " وہ امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، ان کے پاس آکر نبی ﷺ نے فرمایا انجشہ ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُنَّ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ فَأَتَى عَلَيْهِنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيْ أَوْ يَا أَنْجَشَةُ سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৭২২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں لاچاری، سستی، بزدلی، بڑھاپے، بخل اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَقَدْ ذَكَرَ فِيهِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتَ
tahqiq

তাহকীক: