আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১১৮৪৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں تین مرتبہ آیا اور تین مرتبہ یہ سوال پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! کون سی دعاء سب سے افضل ہے ؟ اور نبی ﷺ نے تینوں مرتبہ یہی جواب دیا کہ اپنے رب سے دنیا میں درگذر اور عافیت کا سوال کیا کرو اور آخری مرتبہ فرمایا کہ اگر تمہیں دنیا و آخرت میں یہ دونوں چیزیں مل جائیں تو تم کامیاب ہوگئے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُلَاثَةَ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ الْمَدَنِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ثُمَّ أَتَاهُ مِنْ الْغَدِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّالِثَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ قَالَ تَسْأَلُ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ فَإِنَّكَ إِذَا أُعْطِيتَهُمَا فِي الدُّنْيَا ثُمَّ أُعْطِيتَهُمَا فِي الْآخِرَةِ فَقَدْ أَفْلَحْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৪৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگوں میں سے کچھ اہل اللہ ہوتے ہیں، صحابہ (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کون لوگ ہوتے ہیں ؟ فرمایا قرآن والے، اللہ کے خاص لوگ اور اہل اللہ ہوتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَهْلِينَ مِنْ النَّاسِ قَالَ قِيلَ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَهْلُ الْقُرْآنِ هُمْ أَهْلُ اللَّهِ وَخَاصَّتُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৪৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا دنیا میں سے میرے نزدیک عورت اور خوشبو کی محبت ڈالی گئی ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ سَلَّامٍ أَبِي الْمُنْذِرِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حُبِّبَ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৪৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا دنیا میں سے میرے نزدیک عورت اور خوشبو کی محبت ڈالی گئی ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا سَلَّامٌ أَبُو الْمُنْذِرِ الْقَارِئُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبِّبَ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৪৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تین سانسوں میں پانی پیا کرتے تھے، خود حضرت انس (رض) بھی تین سانس لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَرِبَ تَنَفَّسَ مَرَّتَيْنِ وَثَلَاثًا وَكَانَ أَنَسٌ يَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৪৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت انس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، ان کے یہاں نانبائی مقرر تھا، ایک دن وہ ہم سے فرمانے لگے کھاؤ، البتہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی ﷺ نے کبھی اپنی آنکھوں سے باریک روٹی کو دیکھا بھی ہو، یا کبھی سالم بھنی ہوئی بکری کھائی ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَنَسًا وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ قَالَ فَقَالَ لَنَا ذَاتَ يَوْمٍ كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا بِعَيْنِهِ وَلَا أَكَلَ شَاةً سَمِيطًا قَطُّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৪৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
ابراہیم بن ابی ربیعہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ اس وقت ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے، حالانکہ ان کی چادر پاس ہی پڑی ہوئی تھی، میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو بھی اسی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي الْمَوَالِي عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُتَلَحِّفًا بِهِ وَرِدَاؤُهُ مَوْضُوعٌ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْنَا لَهُ تُصَلِّي وَرِدَاؤُكَ مَوْضُوعٌ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৫০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ خیبر روانہ ہوئے، ہمارا ایک ساتھی وہاں ایک ویرانے میں قضاء حاجت کے لئے گیا، اس نے استنجاء کرنے کے لئے ایک اینٹ اٹھائی تو وہاں سے چاندی کا ایک ٹکڑا گرا، اس نے وہ اٹھالیا اور نبی ﷺ کے پاس لایا اور سارا واقعہ بتایا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے تو لو، اس نے وزن کیا تو وہ دو سو درہم کے برابر بنا، نبی ﷺ نے فرمایا یہ رکاز ہے اور اس میں پانچواں حصہ واجب ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خَيْبَرَ فَدَخَلَ صَاحِبٌ لَنَا إِلَى خَرِبَةٍ يَقْضِي حَاجَتَهُ فَتَنَاوَلَ لَبِنَةً لِيَسْتَطِيبَ بِهَا فَانْهَارَتْ عَلَيْهِ تِبْرًا فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ قَالَ زِنْهَا فَوَزَنَهَا فَإِذَا مِائَتَا دِرْهَمٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا رِكَازٌ وَفِيهِ الْخُمْسُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৫১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کی نماز زوال کے وقت ہی پڑھ لیا کرتے تھے اور جب مکہ مکرمہ کے لئے نکلتے تو ظہر کی دو رکعتیں ایک درخت کے نیچے پڑھ لیتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُثْمَانَ التَّيْمِيُّ أَنَّ أَنَسًا أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْجُمُعَةَ حِينَ تَمِيلُ الشَّمْسُ وَكَانَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مَكَّةَ صَلَّى الظُّهْرَ بِالشَّجَرَةِ سَجْدَتَيْنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৫২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حضرت حمزہ (رض) کی نعش مبارک کے پاس آکر کھڑے ہوگئے، دیکھا تو ان کی لاش کا مشرکین نے مثلہ کردیا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا اگر صفیہ اپنے دل میں بوجھ نہ بناتیں تو میں انہیں یونہی چھوڑ دیتا تاکہ پرندے ان کا گوشت کھالیتے اور قیامت کے دن یہ پرندوں کے پیٹوں سے نکلتے، پھر نبی ﷺ نے ایک چادر منگوا کر اس میں انہیں کفنایا، جب اس چادر کو سر پر ڈالا جاتا تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں پر ڈالا جاتا تو سر کھل جاتا۔ غزوہ احد کے موقع پر شہداء کی تعداد زیادہ اور کفن کم پڑگئے تھے، جس کی وجہ سے ایک ایک کفن میں دو دو تین تین آدمیوں کو لپٹ دیا جاتا تھا، البتہ نبی ﷺ یہ پوچھتے جاتے تھے کہ ان میں سے قرآن کسے زیادہ آتا تھا ؟ پھر پہلے اس ہی کو قبلہ رخ فرماتے تھے، نبی ﷺ نے اس طرح ان سب کو دفنا دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى وَزَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَا أَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى حَمْزَةَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَرَآهُ قَدْ مُثِّلَ بِهِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ وَقَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ تَأْكُلَهُ الْعَاهَةُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا ثُمَّ قَالَ دَعَا بِنَمِرَةٍ فَكَفَّنَهُ فِيهَا قَالَ وَكَانَتْ إِذَا مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ بَدَتْ قَدَمَاهُ وَإِذَا مُدَّتْ عَلَى قَدَمَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ قَالَ وَكَثُرَ الْقَتْلَى وَقَلَّتْ الثِّيَابُ قَالَ وَكَانَ يُكَفَّنُ أَوْ يُكَفِّنُ الرَّجُلَيْنِ شَكَّ صَفْوَانُ وَالثَّلَاثَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْ أَكْثَرِهِمْ قُرْآنًا فَيُقَدِّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ قَالَ فَدَفَنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ وَقَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ فَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৫৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا میں سدرۃ المنتہیٰ پہنچا تو دیکھا کہ اس کے پھل مٹکے برابر اور پتے ہاتھی کے کان برابر ہیں، جب اسے اللہ کے حکم سے اس چیز نے ڈھانپ لیا جس نے ڈھانپا تو وہ یاقوت اور زمرد میں تبدیل ہوگیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَهَيْتُ إِلَى السِّدْرَةِ فَإِذَا نَبْقُهَا مِثْلُ الْجِرَارِ وَإِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللَّهِ مَا غَشِيَهَا تَحَوَّلَتْ يَاقُوتًا أَوْ زُمُرُّدًا أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৫৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ربیع " جو حضرت انس (رض) کی پھوپھی ہیں " نے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا، پھر ان کے اہل خانہ نے لڑکی والوں سے معافی مانگی لیکن انہوں نے معاف کرنے سے انکار کردیا اور نبی ﷺ کے پاس آکر قصاص کا مطالبہ کرنے لگے، انس بن نضر (رض) کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! کیا فلاں (میری بہن) کا دانت توڑ دیا جائے گا ؟ نبی ﷺ فرمایا انس ! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہی کا ہے، وہ کہنے لگے کہ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، فلاں عورت کا دانت نہیں توڑا جائے گا، اسی اثناء میں وہ لوگ راضی ہوگئے اور انہوں نے انہیں معاف کردیا اور قصاص کا مطالبہ ترک کردیا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کے بعض بندے ایسے ہوتے ہیں جو اگر کسی کام پر اللہ کی قسم کھالیں تو اللہ انہیں ان کی قسم میں ضرور سچا کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ الرُّبَيِّعَ عَمَّةَ أَنَسٍ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَطَلَبُوا إِلَى الْقَوْمِ الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْقِصَاصُ قَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَكْسِرُ ثَنِيَّةَ فُلَانَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ قَالَ فَقَالَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّةُ فُلَانَةَ قَالَ فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا وَتَرَكُوا الْقِصَاصَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ أَبَرَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৫৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ میرے ایک چچا نے ایک مرتبہ نبی ﷺ کی کھانے پر دعوت کی اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! میری خواہش ہے کہ آپ میرے گھر میں کھانا کھائیں اور اس میں نماز پڑھیں، چناچہ نبی ﷺ تشریف لائے، وہاں گھر میں ایک چٹائی پڑی ہوئی تھی جو پرانی ہو کر کالی ہوچکی تھی، نبی ﷺ نے اسے ایک کونے میں رکھنے کا حکم دیا، اسے جھاڑا گیا اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، پھر نبی ﷺ نے وہاں نماز پڑھی اور ہم نے بھی نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَارُودٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَنَعَ بَعْضُ عُمُومَتِي طَعَامًا فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْكُلَ فِي بَيْتِي وَتُصَلِّيَ فِيهِ قَالَ فَأَتَى وَفِي الْبَيْتِ فَحْلٌ مِنْ تِلْكَ الْفُحُولِ قَالَ فَأَمَرَ بِنَاحِيَةٍ مِنْهُ فَكُنِسَ وَرُشَّ وَصَلَّى وَصَلَّيْنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৫৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا ؟ حضرت ابن مسعود (رض) اس خدمت کے لئے چلے گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے مارمار کر ٹھنڈا کردیا ہے، حضرت ابن مسعود (رض) نے ابوجہل کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا کیا تو ہی ابوجہل ہے ؟ اس نے کہا کیا تم نے مجھ سے بڑے بھی کسی آدمی کو قتل کیا ہے ؟
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ قَالَ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَهُ قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَكَ قَالَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَقَالَ أَنْتَ أَبُو جَهْلٍ قَالَ وَهَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ أَوْ قَالَ قَتَلْتُمُوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৫৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک انصاری عورت (اپنے بچے کے ساتھ) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، نبی ﷺ نے اس سے تخلیہ میں فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو، یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامٍ قَالَ عَفَّانُ أَخْبَرَنِي هِشَامُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ جَاءَتْ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَفَّانُ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا فَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ وَقَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ قَالَ فَخَلَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৫৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے انصار کے متعلق فرمایا تم لوگ مجھے تمام لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ہو۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ إِنَّكُمْ لَمِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৫৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
بکیر بن وہب (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھ سے حضرت انس (رض) نے فرمایا کہ میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں ہر ایک سے بیان نہیں کرتا اور وہ یہ کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ایک گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے، ہم اس کے اندر تھے اور فرمایا امراء قریش میں سے ہوں گے اور ان کا تم پر حق بنتا ہے اور ان پر تمہارا بھی اسی طرح حق بنتا ہے، جب ان سے لوگ رحم کی درخواست کریں تو رحم کا معاملہ کریں، وعدہ کریں تو پورا کریں، فیصلہ کریں تو انصاف کریں، جو شخص ایسا نہ کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَهْلِ أَبِي الْأَسَدِ قَالَ حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ وَهْبٍ الْجَزَرِيُّ قَالَ قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُهُ كُلَّ أَحَدٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى بَابِ الْبَيْتِ وَنَحْنُ فِيهِ فَقَالَ الْأَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْكُمْ حَقًّا وَلَكُمْ عَلَيْهِمْ حَقًّا مِثْلَ ذَلِكَ مَا إِنْ اسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا وَإِنْ عَاهَدُوا وَفَوْا وَإِنْ حَكَمُوا عَدَلُوا فَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ مِنْهُمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৬০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حمزہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس (رض) نے ان سے فرمایا کیا میں تم سے ایک حدیث بیان کروں کہ اللہ تمہیں اس سے فائدہ پہنچائے اور وہ یہ کہ نبی ﷺ جب کسی منزل پر پڑاؤ کرتے تو ظہر کی نماز پڑھنے سے پہلے وہاں سے کوچ نہیں کرتے تھے، محمد بن عمر (رض) نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ ! اگرچہ نصف النہار کے وقت میں ہو ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! اگرچہ نصف النہار کے وقت ہی ہو۔ حمزہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دریائے نیل کے کنارے حضرت انس (رض) سے میری ملاقات ہوگئی، میرے اور ان کے درمیان محمد بن عمرو تھے، پھر راوی نے مکمل حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَمْزَةَ الضَّبِّيِّ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا لَعَلَّ اللَّهَ يَنْفَعُكَ بِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ قَالَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ قَالَ وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَمْزَةُ الضَّبِّيُّ قَالَ لَقِيتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ بِفَمِ النِّيلِ وَمَشَى وَبَيْنِي وَبَيْنَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فَذَكَرَ مِثْلَهُ قَالَ فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَإِنْ كَانَ بِنِصْفِ النَّهَارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৬১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
ابوفزارہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت انس (رض) سے مغرب سے پہلے دو رکعتوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم نبی ﷺ کے دور باسعادت میں ان کی طرف سبقت کیا کرتے تھے، اس کے بعد دوبارہ پوچھا تو انہوں نے نبی ﷺ کے دور باسعادت کا تذکرہ نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي فَزَارَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ قَالَ كُنَّا نَبْتَدِرُهُمَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ ثُمَّ قَالَ بَعْدُ وَسَأَلْتُهُ غَيْرَ مَرَّةٍ فَقَالَ كُنَّا نَبْتَدِرُهُمَا وَلَمْ يَقُلْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৮৬২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
ابوصدقہ " کو حضرت انس (رض) کے آزاد کردہ غلام ہیں " کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے نبی ﷺ کی نماز کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ ظہر کی نماز زوال کے بعد پڑھتے تھے، عصر ان دو نمازوں کے درمیان پڑھتے تھے، مغرب غروب آفتاب کے وقت پڑھتے تھے اور نماز عشاء شفق غائب ہوجانے کے بعد پڑھتے تھے اور نماز فجر اس وقت پڑھتے تھے جب طلوع فجر ہوجائے یہاں تک کہ نگاہیں کھل جائیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي صَدَقَةَ مَوْلَى أَنَسٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ إِذَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَالْعَصْرَ بَيْنَ صَلَاتَيْكُمْ هَاتَيْنِ وَالْمَغْرِبَ إِذَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَالْعِشَاءَ إِذَا غَابَ الشَّفَقُ وَالصُّبْحَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ إِلَى أَنْ يَنْفَسِحَ الْبَصَرُ
tahqiq

তাহকীক: