আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১১৯২৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سے کبیرہ گناہوں کے متعلق پوچھا تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ وہ یہ ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا، ناحق قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی بات یا جھوٹی گواہی دینا۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكَبَائِرِ أَوْ ذَكَرَهَا قَالَ الشِّرْكُ وَالْعُقُوقُ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَشَهَادَةُ الزُّورِ أَوْ قَوْلُ الزُّورِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯২৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کتنے حج کئے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حج کیا تھا اور چار مرتبہ عمرہ، ایک عمرہ تو حدیبیہ کے زمانے میں، دوسرا ذیقعدہ کے مہینے میں مدینہ سے، تیسرا عمرہ ذیقعدہ ہی کے مہینے میں جعرانہ سے جب آپ ﷺ نے غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تھا اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ کیا تھا۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَبْدُ الصَّمَدِ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قُلْتُ كَمْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ مِرَارٍ عُمْرَتَهُ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ وَعُمْرَتَهُ فِي ذِي الْقَعْدَةِ مِنْ الْمَدِينَةِ وَعُمْرَتَهُ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنِيمَةَ حُنَيْنٍ وَعُمْرَتَهُ مَعَ حَجَّتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯২৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت انس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا کرتے تھے، ان کے یہاں نانبائی مقرر تھا، ایک دن وہ ہم سے فرمانے لگے کھاؤ، البتہ میرے علم میں نہیں ہے کہ نبی ﷺ نے کبھی اپنی آنکھوں سے باریک روٹی کو دیکھا بھی ہو، یا کبھی سالم بھنی ہوئی بکری کھائی ہو۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ قَتَادَةَ قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ قَالَ فَقَالَ يَوْمًا كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا وَلَا شَاةً سَمِيطًا قَطُّ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯২৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو صحابہ کرام (رض) پر غم اور پریشانی کے آثار تھے کیونکہ انہیں عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں حدیبیہ میں ہی اپنے جانور قربان کرنے پڑے تھے، اس موقع پر آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی " انا فتحنا لک فتحا مبینا۔۔۔۔۔۔۔ صراطا مستقیما " نبی ﷺ نے فرمایا مجھ پر دو آیتیں ایسی نازل ہوئی ہیں جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں، پھر نبی ﷺ نے ان کی تلاوت فرمائی، تو ایک مسلمان نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات۔۔۔۔۔۔۔ فوزا عظیما "
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّهَا نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْجِعَهُ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَصْحَابُهُ يُخَالِطُونَ الْحُزْنَ وَالْكَآبَةَ وَقَدْ حِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَسَاكِنِهِمْ وَنَحَرُوا الْهَدْيَ بِالْحُدَيْبِيَةِ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا إِلَى قَوْلِهِ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا قَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَتَانِ هُمَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا جَمِيعًا قَالَ فَلَمَّا تَلَاهُمَا قَالَ رَجُلٌ هَنِيئًا مَرِيئًا يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَا يَفْعَلُ بِكَ فَمَا يَفْعَلُ بِنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْآيَةَ الَّتِي بَعْدَهَا لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯২৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے، جب وہ جل کر کوئلہ ہوجائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت ان کا نام رکھ دیں گے کہ یہ جہنمی ہیں۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يَقُولُ فِي قِصَصِهِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ النَّارِ بَعْدَ مَا يُصِيبُهُمْ سَفْعٌ مِنْ النَّارِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَهَنَّمِيِّينَ قَالَ وَكَانَ قَتَادَةُ يَتْبَعُ هَذِهِ الرِّوَايَةَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ وَلَكِنْ أَحَقُّ مَنْ صَدَّقْتُمْ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ اخْتَارَهُمْ اللَّهُ لِصُحْبَةِ نَبِيِّهِ وَإِقَامَةِ دِينِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯২৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر نبی کی ایک دعاء ایسی ضرور تھی جو انہوں نے مانگی اور قبول ہوگئی، جب کہ میں نے اپنی دعاء اپنی امت کی سفارش کرنے کی خاطر قیامت کے دن کے لئے محفوظ کر رکھی ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ دَعْوَةً قَدْ دَعَا بِهَا فَاسْتُجِيبَ لَهُ وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯২৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ کو کون سا لباس پسند تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ دھاری دار یمنی چادر۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ أَيُّ اللِّبَاسِ كَانَ أَعْجَبَ قَالَ عَفَّانُ أَوْ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحِبَرَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৩০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৩১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৩২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جہنم مسلسل یہ کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار عالم اس میں اپنا پاؤں لٹکا دے گا، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم ! بس بس اسی طرح جنت میں بھی جگہ زائد بچ جائے گی حتیٰ کہ اللہ اس کے لئے ایک اور مخلوق کو پیدا کرکے جنت کے باقی ماندہ حصے میں اسے آباد کر دے گی۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبَانُ قَالَ بَهْزُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ قَالَ فَيُدَلِّي فِيهَا رَبُّ الْعَالَمِينَ قَدَمَهُ قَالَ فَيَنْزَوِي بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ وَتَقُولُ قَطْ قَطْ بِعِزَّتِكَ وَلَا يَزَالُ فِي الْجَنَّةِ فَضْلٌ حَتَّى يُنْشِئَ اللَّهُ لَهَا خَلْقًا آخَرَ فَيُسْكِنَهُ فِي فُضُولِ الْجَنَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৩৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے اسلام ظاہر کا نام ہے اور ایمان دل میں ہوتا ہے، پھر اپنے سینے کی طرف تین مرتبہ اشارہ کر کے فرمایا کہ تقویٰ یہاں ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْإِسْلَامُ عَلَانِيَةٌ وَالْإِيمَانُ فِي الْقَلْبِ قَالَ ثُمَّ يُشِيرُ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ التَّقْوَى هَاهُنَا التَّقْوَى هَاهُنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৩৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے نبی ﷺ کے بالوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کے بال ہلکے گھنگریالے تھے، نہ بہت زیادہ گھنگریالے اور نہ بہت زیادہ سیدھے اور وہ کانوں اور کندھوں کے درمیان تک ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ شَعْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ شَعْرُهُ رَجِلًا لَيْسَ بِالْجَعْدِ وَلَا بِالسَّبْطِ كَانَ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৩৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں کوئی خطبہ ایسا نہیں دیا جس میں یہ نہ فرمایا ہو کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس کے پاس امانت داری نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں جس کے پاس وعدہ کی پاسداری نہ ہو۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا خَطَبَنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৩৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عتبان (رض) کی آنکھیں شکایت کرنے لگیں، انہوں نے نبی ﷺ کے پاس پیغام بھیج کر اپنی مصیبت کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لا کر نماز پڑھ دیجئے تاکہ میں اس جگہ کو اپنی جائے نماز بنالوں، چناچہ ایک دن نبی ﷺ اپنے کچھ صحابہ (رض) کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے، نبی ﷺ نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور صحابہ کرام (رض) آپس میں باتیں کرنے لگے اور منافقین کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کا ذکر کرنے لگے۔ اور اس میں سب سے زیادہ حصہ دار مالک بن دخیثم کو قرار دینے لگے، نبی ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ایک آدمی نے کہا کیوں نہیں، لیکن یہ دل سے نہیں ہے، نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو جہنم کی آگ اسے ہرگز نہیں کھا سکے گی۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عِتْبَانَ اشْتَكَى عَيْنَهُ فَبَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ لَهُ مَا أَصَابَهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَعَالَ صَلِّ فِي بَيْتِي حَتَّى أَتَّخِذَهُ مُصَلًّى قَالَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ فَجَعَلُوا يَذْكُرُونَ مَا يَلْقَوْنَ مِنْ الْمُنَافِقِينَ فَأَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِكَ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُخَيْشَمٍ فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَقَالَ قَائِلٌ بَلَى وَمَا هُوَ مِنْ قَلْبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلَنْ تَطْعَمَهُ النَّارُ أَوْ قَالَ لَنْ يَدْخُلَ النَّارَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৩৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اچھے خوابوں سے خوش ہوتے تھے اور بعض اوقات پوچھتے تھے کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو وہ نبی ﷺ سے اس کی تعبیر دریافت کرلیتا، اگر اس میں کوئی پریشانی کی بات نہ ہوتی تو نبی ﷺ اس سے بھی خوش ہوتے، اسی تناظر میں ایک عورت آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوئی ہوں، میں نے وہاں ایک آواز سنی جس سے جنت بھی ہلنے لگی، اچانک میں نے دیکھا کہ فلاں بن فلاں اور فلاں بن فلاں کو لایا جا رہا ہے، یہ کہتے ہوئے اس نے بارہ آدمیوں کے نام گنوائے جنہیں نبی ﷺ نے اس سے پہلے ایک سریہ میں روانہ فرمایا تھا۔ اس خاتون نے بیان کیا کہ جب انہیں وہاں لایا گیا تو ان کے جسم پر جو کپڑے تھے وہ کالے ہوچکے تھے اور ان کی رگیں پھولی ہوئی تھیں، کسی نے ان سے کہا کہ ان لوگوں کو نہر سدخ یا نہر بیدخ میں لے جاؤ، چناچہ انہوں نے اس میں غوطہ لگایا اور جب باہر نکلے تو ان کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی طرح چمک رہے تھے، پھر سونے کی کرسیاں لائی گئیں، وہ ان پر بیٹھ گئے، پھر ایک تھالی لائی گئی جس میں کچی کھجوریں تھیں، وہ ان کھجوروں کو کھانے لگے، اس دوران وہ جس کھجور کو پلٹتے تھے تو حسب منشاء میوہ کھانے کو ملتا تھا اور میں بھی ان کے ساتھ کھاتی رہی۔ کچھ عرصے کے بعد اس لشکر سے ایک آدمی فتح کی خوشخبری لے کر آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! ہمارے ساتھ ایسا ایسا معاملہ پیش آیا اور فلاں فلاں آدمی شہید ہوگئے، یہ کہتے ہوئے اس نے انہی بارہ آدمیوں کے نام گنوا دئیے جو عورت نے بتائے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا اس عورت کو میرے پاس دوبارہ بلا کر لاؤ، وہ آئی تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اپنا خواب اس آدمی کے سامنے بیان کرو، اس نے بیان کیا تو وہ کہنے لگا کہ اس نے نبی ﷺ سے جس طرح بیان کیا ہے حقیقت بھی اسی طرح ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ فَرُبَّمَا قَالَ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا فَإِذَا رَأَى الرَّجُلُ رُؤْيَا سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ كَانَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ كَانَ أَعْجَبَ لِرُؤْيَاهُ إِلَيْهِ قَالَ فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ بِهَا وَجْبَةً ارْتَجَّتْ لَهَا الْجَنَّةُ فَنَظَرْتُ فَإِذَا قَدْ جِيءَ بِفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ وَفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ حَتَّى عَدَّتْ اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا وَقَدْ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قَبْلَ ذَلِكَ قَالَتْ فَجِيءَ بِهِمْ عَلَيْهِمْ ثِيَابٌ طُلْسٌ تَشْخُبُ أَوْدَاجُهُمْ قَالَ فَقِيلَ اذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى نَهْرِ الْبَيْدَخِ أَوْ قَالَ إِلَى نَهَرِ الْبَيْدَجِ قَالَ فَغُمِسُوا فِيهِ فَخَرَجُوا مِنْهُ وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ قَالَ ثُمَّ أَتَوْا بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ فَقَعَدُوا عَلَيْهَا وَأُتِيَ بِصَحْفَةٍ أَوْ كَلِمَةٍ نَحْوِهَا فِيهَا بُسْرَةٌ فَأَكَلُوا مِنْهَا فَمَا يُقَلِّبُونَهَا لِشِقٍّ إِلَّا أَكَلُوا مِنْ فَاكِهَةٍ مَا أَرَادُوا وَأَكَلْتُ مَعَهُمْ قَالَ فَجَاءَ الْبَشِيرُ مِنْ تِلْكَ السَّرِيَّةِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ مِنْ أَمْرِنَا كَذَا وَكَذَا وَأُصِيبَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَّ الِاثْنَيْ عَشَرَ الَّذِينَ عَدَّتْهُمْ الْمَرْأَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ بِالْمَرْأَةِ فَجَاءَتْ قَالَ قُصِّي عَلَى هَذَا رُؤْيَاكِ فَقَصَّتْ قَالَ هُوَ كَمَا قَالَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْمَعْنَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৩৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا : یہ ابن آدم ہے پھر انہیں اٹھا کر تھوڑا سا پیچھے رکھا اور فرمایا یہ اس کی موت ہے، پھر اپنا ہاتھ آگے کر کے تین مرتبہ فرمایا کہ یہ اس کی امیدیں ہیں۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَامِلَهُ فَنَكَتَهُنَّ فِي الْأَرْضِ فَقَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ وَقَالَ بِيَدِهِ خَلْفَ ذَلِكَ وَقَالَ هَذَا أَجَلُهُ قَالَ وَأَوْمَأَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ وَثَمَّ أَمَلُهُ ثَلَاثَ مِرَارٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৩৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سردی کے ایام میں نماز پڑھاتے تھے تو ہمیں کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ دن کا اکثر حصہ گذر گیا ہے یا باقی ہے۔
حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو الْعَلَاءِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي فِي أَيَّامِ الشِّتَاءِ وَمَا نَدْرِي مَا مَضَى مِنْ النَّهَارِ أَكْثَرُ أَوْ مَا بَقِيَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৪০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے بال کانوں سے آگے نہ بڑھتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يُجَاوِزُ شَعْرُهُ أُذُنَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৪১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا بھی ہے جس کے سائے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৯৪২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دنیا کی عورتوں میں حضرت مریم بنت عمران علیہا السلام، خدیجہ بنت خویلد (رض) ، فاطمہ بنت ( محمد ﷺ اور فرعون کی بیوی آسیہ ہی کافی ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَسْبُكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ وَفَاطِمَةُ ابْنَةُ مُحَمَّدٍ وَآسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ
tahqiq

তাহকীক: