আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১২১০৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جہنم کا لباس سب سے پہلے ابلیس کو پہنایا جائے گا اور وہ اسے اپنی ابروؤں پر رکھے گا، اس کے پیچھے اس کی ذریت گھستی چلی آرہی ہوگی، شیطان ہائے ہلاکت کی آواز لگا رہا ہوگا اور اس کی ذریت بھی ہائے ہلاکت کہہ رہی ہوگی، یہی کہتے کہتے وہ جہنم کے پاس پہنچ کر رک جائیں گے، شیطان پھر یہی کہے گا ہائے ہلاکت اور اس کی ذریت بھی یہی کہے گی، اس موقع پر ان سے کہا جائے گا کہ آج ایک ہلاکت کو نہ پکارو، کئی ہلاکتوں کو پکارو۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى حُلَّةً مِنْ النَّارِ إِبْلِيسُ يَضَعُهَا عَلَى حَاجِبَيْهِ وَهُوَ يَسْحَبُهَا مِنْ خَلْفِهِ وَذُرِّيَّتُهُ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ يَقُولُ يَا ثُبُورَاهُ وَهُمْ يُنَادُونَ يَا ثُبُورَاهُمْ حَتَّى يَقِفَ عَلَى النَّارِ فَيَقُولُ يَا ثُبُورَاهُ فَيُنَادُونَ يَا ثُبُورَاهُمْ فَيُقَالَ لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مومن وہ ہے جس سے لوگ مامون ہوں، مسلمان وہ ہوتا ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں، مہاجر وہ ہوتا ہے جو گناہوں سے ہجرت کرلے اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، کوئی شخص اس وقت تک جنت میں داخل نہ ہوگا جب تک اس کے پڑوسی اس کی ایذاء رسانی سے محفوظ نہ ہوں۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ وَالْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ السُّوءَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَبْدٌ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَيُونُسَ وَحُمَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ بنو نجار کے ایک آدمی کے پاس اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور اس سے فرمایا ماموں جان ! لا الہ الا اللہ کا اقرار کرلیجئے، اس نے کہا ماموں یا چچا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، ماموں ! لا الہ الا اللہ کہہ لیجئے، اس نے پوچھا کہ کیا یہ میرے حق میں بہتر ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَادَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ يَا خَالُ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ أَخَالٌ أَمْ عَمٌّ فَقَالَ لَا بَلْ خَالٌ قَالَ فَخَيْرٌ لِي أَنْ أَقُولَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی کہ نبی ﷺ نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال یعنی اچھا اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ مَا الْفَأْلُ قَالَ الْكَلِمَةُ الْحَسَنَةُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
عمرو بن عامر نے حضرت انس (رض) سے ہر نماز کے وقت وضو کے متعلق پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ نبی ﷺ ہر نماز کے وقت نیا وضو فرماتے تھے اور ہم بےوضو ہونے تک ایک ہی وضو سے کئی کئی نمازیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَامِرٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَأَلْنَاهُ عَنْ الْوُضُوءِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ فَقَالَ أَمَّا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ وَأَمَّا نَحْنُ فَكُنَّا نُصَلِّي الصَّلَوَاتِ بِطُهُورٍ وَاحِدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
ابن آدم کو جب سے اللہ نے پیدا کیا ہے، اس نے موت سے زیادہ سخت کوئی چیز نہیں دیکھی، لیکن اس کے بعد یہی موت اس کے لئے انتہائی آسان ہوجائے گی۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا سُكَيْنٌ قَالَ ذَكَرَ ذَاكَ أَبِي عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَلْقَ ابْنُ آدَمَ شَيْئًا قَطُّ مُذْ خَلَقَهُ اللَّهُ أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنْ الْمَوْتِ ثُمَّ إِنَّ الْمَوْتَ لَأَهْوَنُ مِمَّا بَعْدَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১০৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے بہت کم ہمیں کوئی خطبہ ایسا دیا ہے جس میں یہ نہ فرمایا ہو کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس کے پاس امانت داری نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں جس کے پاس وعدہ کی پاسداری نہ ہو۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ الرَّاسِبِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَلَّمَا خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
مختار بن قلفل (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ برتنوں میں پینے کا کیا حم ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نبی ﷺ نے مزفت سے منع فرمایا ہے، میں نے پوچھا کہ مزفت سے کیا مراد ہے ؟ انہوں نے فرمایا لک لگا ہوا برتن۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا عَنْ ظُرُوفِ النَّبِيذِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَمَّا زُفِّتَ مِنْ شَيْءٍ قَالَ وَقَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ الْمُقَيَّرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ نے فرمایا میں تمہارا امام ہوں لہذا رکوع، سجدہ، قیام میں مجھ سے آگے نہ بڑھا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنے آگے سے بھی دیکھتا ہوں اور پیچھے سے بھی اور اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، جو میں دیکھ چکا ہوں، اگر تم نے وہ دیکھا ہوتا تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے، صحابہ (رض) نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ آپ نے کیا دیکھا ہے ؟ فرمایا میں نے اپنی آنکھوں سے جنت اور جہنم کو دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَكُمْ إِمَامٌ فَلَا تَسْبِقُونِي بِالرُّكُوعِ وَلَا بِالسُّجُودِ وَلَا بِالْقِيَامِ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ أَمَامِي وَمِنْ خَلْفِي وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ رَأَيْتُمْ مَا رَأَيْتُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْتَ قَالَ رَأَيْتُ الْجَنَّةَ وَالنَّارَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی ﷺ باہر تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھا کر چلے گئے، کافی دیر گذر نے کے بعد دوبارہ آئے اور مختصر سی نماز پڑھا کر دوبارہ واپس چلے گئے اور کافی دیر تک اندر رہے، جب صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ہم آج رات بیٹھے ہوئے تھے، آپ تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھائی اور کافی دیر تک کے لئے گھر چلے گئے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے تمہاری وجہ سے ہی ایسا کیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثُمَامَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَيْهِمْ فِي رَمَضَانَ فَخَفَّفَ بِهِمْ ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ ثُمَّ خَرَجَ فَخَفَّفَ بِهِمْ ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قُلْنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ جَلَسْنَا اللَّيْلَةَ فَخَرَجْتَ إِلَيْنَا فَخَفَّفْتَ ثُمَّ دَخَلْتَ فَأَطَلْتَ قَالَ مِنْ أَجْلِكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ا کی درخت سے راستے میں گذر نے والوں کو اذیت ہوتی تھی، ایک آدمی نے اسے آکر ہٹا دیا، نبی ﷺ نے فرمایا میں نے جنت میں اسے درختوں کے سائے میں پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَتْ شَجَرَةٌ فِي طَرِيقِ النَّاسِ تُؤْذِي النَّاسَ فَأَتَاهَا رَجُلٌ فَعَزَلَهَا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَقَلَّبُ فِي ظِلِّهَا فِي الْجَنَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا صفوں کو پر کیا کرو، کیونکہ درمیان کی خالی جگہ میں شیاطین گھس جاتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَنْبَأَنَا جَعْفَرٌ يَعْنِي الْأَحْمَرَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاصُّوا الصُّفُوفَ فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَقُومُ فِي الْخَلَلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے یہاں ایک آدمی آیا، اس پر پیلا رنگ لگا ہوا دیکھا تو اس پر ناگواری ظاہر فرمائی جب وہ چلا گیا تو کسی صحابی سے دو تین فرمایا کہ اگر تم اس شخص کو یہ رنگ دھو دینے کا حکم دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا ؟ اور نبی ﷺ یہ عادت مبارکہ تھی کہ کسی کے سامنے اس طرح کا چہرہ لے کر نہ آتے تھے جس سے ناگواری کا اظہار ہوتا ہو۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ سَلْمٍ الْعَلَوِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَعَلَيْهِ صُفْرَةٌ فَكَرِهَهَا فَلَمَّا قَامَ الرَّجُلُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِبَعْضِ أَصْحَابِهِ لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا أَنْ يَدَعَ هَذِهِ الصُّفْرَةَ قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ أَنَسٌ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَلَّمَا يُوَاجِهُ الرَّجُلَ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ فِي وَجْهِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک سائل آیا نبی ﷺ نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا لیکن اس نے انہیں ہاتھ نہ لگایا، دوسرا آیا تو نبی ﷺ نے اسے کھجوریں دینے کا حکم دیا، اس نے خوش ہو کر انہیں قبول کرلیا اور کہنے لگا سبحان اللہ ! نبی ﷺ کی طرف سے کھجوریں، اس پر نبی ﷺ نے اپنی باندی سے فرمایا کہ ام سلمہ (رض) کے پاس جاؤ اور اسے ان کے پاس رکھے ہوئے چالیس ہزار درہم دلوا دو ۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا عُمَارَةُ الصَّيْدَلَانِيُّ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَائِلٌ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ فَلَمْ يَأْخُذْهَا أَوْ وَحَّشَ بِهَا قَالَ وَأَتَاهُ آخَرُ فَأَمَرَ لَهُ بِتَمْرَةٍ قَالَ فَقَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ تَمْرَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ لِلْجَارِيَةِ اذْهَبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَأَعْطِيهِ الْأَرْبَعِينَ دِرْهَمًا الَّتِي عِنْدَهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا یاد رکھو ! مزات ( یعنی کچی اور پکی کھجوروں کو ملا کر بنائی ہوئی نبیذ) حرام ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ الْفَرْزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا إِنَّ الْمُزَّاتِ حَرَامٌ وَالْمُزَّاتُ خَلْطُ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حمید (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) کے پاس نبی ﷺ کا ایک پیالہ دیکھا جس میں چاندی کا حلقہ لگا ہوا تھا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ رَأَيْتُ عِنْدَ أَنَسٍ قَدَحًا كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ ضَبَّةُ فِضَّةٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَاصِمٍ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১১৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک مرتبہ طوبی (خوشخبری) ہے ان لوگوں کے لئے جنہوں نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لائے اور سات مرتبہ طوبی ہے ان لوگوں کے لئے جو مجھ پر بن دیکھے ایمان لائیں گے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنَا جَسْرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَرَآنِي مَرَّةً وَطُوبَى لِمَنْ آمَنَ بِي وَلَمْ يَرَنِي سَبْعَ مِرَارٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১২০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کاش ! میں اپنے بھائیوں سے مل پاتا، صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم میرے صحابہ ہو، میرے بھائی وہ لوگ ہیں جو مجھ پر ایمان لائے ہوں گے لیکن میری زیارت نہ کرسکے ہوں گے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا جَسْرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِدْتُ أَنِّي لَقِيتُ إِخْوَانِي قَالَ فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَلَيْسَ نَحْنُ إِخْوَانَكَ قَالَ أَنْتُمْ أَصْحَابِي وَلَكِنْ إِخْوَانِي الَّذِينَ آمَنُوا بِي وَلَمْ يَرَوْنِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১২১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک خاتون نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنی بیٹی کے حسن و جمال کی تعریف کر کے کہنے لگی کہ وہ میں نے آپ کی نذر کی، نبی ﷺ نے فرمایا مجھے قبول ہے، تعریف کرتے کرتے اس کے منہ یہ یہ نکل گیا کہ کبھی اس کے سر میں درد ہوا اور نہ کبھی وہ بیمار ہوئی، نبی ﷺ نے فرمایا پھر مجھے تمہاری بیٹی کی ضرورت نہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ أَبُو وَهْبٍ حَدَّثَنَا سِنَانُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنِ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةٌ لِي كَذَا وَكَذَا ذَكَرَتْ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا فَآثَرْتُكَ بِهَا فَقَالَ قَدْ قَبِلْتُهَا فَلَمْ تَزَلْ تَمْدَحُهَا حَتَّى ذَكَرَتْ أَنَّهَا لَمْ تَصْدَعْ وَلَمْ تَشْتَكِ شَيْئًا قَطُّ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِي ابْنَتِكِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১২২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ تمہارے درمیان ایک ذات (خود نبی ﷺ تم سے بہتر موجود ہے کہ تم کتاب اللہ کی تلاوت کر رہے ہو اور سرخ وسفید عربی و عجمی سب تمہارے درمیان موجود ہیں، عنقریب لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا جس میں لوگ ایسے کھڑ کھڑائیں گے جیسے برتن کھڑ کھڑاتے ہیں وہ اپنا اجر فوری وصول کرلیں گے آگے کے لئے کچھ نہ رکھیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ عَنْ وَفَاءَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ خَرَجَ إِلَيْنَا فَقَالَ إِنَّ فِيكُمْ خَيْرًا مِنْكُمْ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَقْرَءُونَ كِتَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِيكُمْ الْأَحْمَرُ وَالْأَبْيَضُ وَالْعَرَبِيُّ وَالْعَجَمِيُّ وَسَيَأْتِي زَمَانٌ يَقْرَءُونَ فِيهِ الْقُرْآنَ يَتَثَقَّفُونَهُ كَمَا يَتَثَقَّفُ الْقَدَحُ يَتَعَجَّلُونَ أُجُورَهُمْ وَلَا يَتَأَجَّلُونَهَا
tahqiq

তাহকীক: