আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১২১৬৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کسی سفر سے واپس آتے اور مدینہ کی دیواروں پر نظر پڑتی تو سواری سے کود پڑتے اور اگر سواری پر رہتے تو اس کی رفتار مدینہ کی محبت میں تیز کردیتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ فَنَظَرَ إِلَى جُدُرَاتِ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ نَاقَتَهُ وَإِنْ كَانَ عَلَى دَابَّةٍ حَرَّكَهَا مِنْ حُبِّهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৬৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب روزہ رکھتے تو لوگ ایک دوسرے کو مطلع کردیتے کہ نبی ﷺ نے روزہ کی نیت کرلی ہے اور جب افطاری کرتے تب بھی لوگ ایک دوسرے کو مطلع کرتے تھے کہ نبی ﷺ نے روزہ کھول لیا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَاسْمُهُ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ صَامَ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ أَفْطَرَ أَفْطَرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৬৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ایک آدمی کسی قوم سے محبت کرتا ہے لیکن ان کے اعمال تک نہیں پہنچتا، تو کیا حکم ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَا يَبْلُغُ عَمَلَهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৬৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں نفلی نماز پڑھائی، حضرت ام سلیم (رض) اور حضرت ام حرام (رض) نے بھی ہمارے پیچھے نماز پڑھی اور نبی ﷺ نے مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کرلیا، یوں ہم نے ایک ہی چادر میں نماز پڑھ لی۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطَوُّعًا قَالَ فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا قَالَ ثَابِتٌ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ وَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ فَصَلَّيْنَا عَلَى بِسَاطٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৬৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
ابولبید (رح) نے مازہ بن زیار (رض) سے بیان کیا کہ میں نے حجاج بن یوسف کے زمانے میں اپنے گھوڑے کو بھیجا اور سوچا کہ ہم بھی گھڑ دوڑ کی شرط میں حصہ لیتے ہیں، پھر ہم نے سوچا کہ پہلے حضرت انس (رض) سے جا کر پوچھ لیتے ہیں کہ کیا آپ لوگ بھی نبی ﷺ کے زمانے میں گھڑ دوڑ پر شرط لگایا کرتے تھے ؟ چناچہ ہم نے ان کے پاس آکر ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا ہاں ! ایک مرتبہ انہوں نے اپنے ایک گھوڑے پر " جس کا نام سبحہ تھا " گھڑ دوڑ میں حصہ لیا تھا اور وہ سب سے آگے نکل گیا تھا، جس سے انہیں تعجب ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ خِرِّيتٍ حَدَّثَنَا أَبُو لَبِيدٍ لُمَازَةُ بْنُ زَبَّارٍ قَالَ أُرْسِلَتْ الْخَيْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ فَقُلْنَا لَوْ أَتَيْنَا الرِّهَانَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ ثُمَّ قُلْنَا لَوْ أَتَيْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَسَأَلْنَاهُ هَلْ كُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ نَعَمْ لَقَدْ رَاهَنَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ سُبْحَةُ فَسَبَقَ النَّاسَ فَهَشَّ لِذَلِكَ وَأَعْجَبَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৬৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی پر پیلا رنگ لگا ہوا دیکھا تو اس پر ناگواری ظاہر فرمائی اور فرمایا کہ اگر تم اس شخص کو یہ رنگ دھو دینے کا حکم دیتے تو کیا ہی اچھا ہوتا ؟ اور نبی ﷺ کی یہ عادت مبارکہ تھی کہ کسی کے سامنے اس طرح چہرہ لے کر نہ آتے تھے جس سے ناگواری کا اظہار ہوتا ہو۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ صُفْرَةً أَوْ قَالَ أَثَرَ صُفْرَةٍ قَالَ فَلَمَّا قَامَ قَالَ لَوْ أَمَرْتُمْ هَذَا فَغَسَلَ عَنْهُ هَذِهِ الصُّفْرَةَ قَالَ وَكَانَ لَا يَكَادُ يُوَاجِهُ أَحَدًا فِي وَجْهِهِ بِشَيْءٍ يَكْرَهُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৬৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ (جب غزوہ تبوک سے واپسی پر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو) فرمایا کہ مدینہ منورہ میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ تم جس راستے پر بھی چلے اور جس وادی کو بھی طے کیا وہ اس میں تمہارے ساتھ رہے، صحابہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا وہ مدینہ میں ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ تھے ؟ فرمایا ہاں ! مدینہ میں ہونے کے باوجود، کیونکہ انہیں کسی عذر نے روک دیا تھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ تَرَكْتُمْ بِالْمَدِينَةِ رِجَالًا مَا سِرْتُمْ مِنْ مَسِيرٍ وَلَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ وَلَا قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ إِلَّا وَهُمْ مَعَكُمْ فِيهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَكَيْفَ يَكُونُونَ مَعَنَا وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ قَالَ حَبَسَهُمْ الْعُذْرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৭০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں ایک پیالے میں کدو لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی ﷺ کو کدو بہت پسند تھا، اس لئے اسے اپنی انگلیوں سے تلاش کرنے لگے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قُدِّمَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ فِيهَا قَرْعٌ قَالَ وَكَانَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ قَالَ فَجَعَلَ يَلْتَمِسُ الْقَرْعَ بِأُصْبُعِهِ أَوْ قَالَ بِأَصَابِعِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৭১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن انہوں نے نبی ﷺ کے ہاتھ میں چاندی کی ایک انگوٹھی دیکھی، نبی ﷺ کو دیکھ کر لوگوں نے بھی چاندی کی انگوٹھیاں بنوا لیں، اس پر نبی ﷺ نے اپنی انگوٹھی اتار کر پھینک دی اور لوگوں نے بھی اپنی اپنی انگوٹھیاں اتار پھینکیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَبْصَرَ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ يَوْمًا وَاحِدًا فَصَنَعَ النَّاسُ خَوَاتِيمَ مِنْ وَرِقٍ قَالَ فَطَرَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَهُ وَطَرَحَ النَّاسُ خَوَاتِيمَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৭২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے چلے جایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ جَمِيعًا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৭৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز عشاء کا وقت ہوگیا، ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! مجھے آپ سے ایک کام ہے، نبی ﷺ اس کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو کرنے لگے یہاں تک کہ لوگ سو گئے، پھر نبی ﷺ نے نماز پڑھائی اور راوی نے وضو کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أُقِيمَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ قَالَ عَفَّانُ أَوْ أُخِّرَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي إِلَيْكَ حَاجَةً فَقَامَ مَعَهُ يُنَاجِيهِ حَتَّى نَعَسَ الْقَوْمُ أَوْ قَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَذْكُرْ وُضُوءًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৭৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سردی کے ایام میں نماز پڑھاتے تھے تو ہمیں کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ دن کا اکثر حصہ گذر گیا ہے یا باقی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُوسَى أَبِي الْعَلَاءِ وَقَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنَا مُوسَى أَبُو الْعَلَاءِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الظُّهْرِ أَيَّامَ الشِّتَاءِ وَمَا نَدْرِي مَا ذَهَبَ مِنْ النَّهَارِ أَكْثَرُ أَوْ مَا بَقِيَ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৭৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے نبی ﷺ کے خضاب کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کی مبارک ڈاڑھی میں تھوڑے سے بال سفید نہ تھے، البتہ حضرت صدیق اکبر (رض) اور حضرت عمر (رض) مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) فتح مکہ کے دن اپنے والد ابوقحافہ (رض) کو اپنی پیٹھ پر بٹھا کر نبی ﷺ کی خدمت میں لے کر آئے اور نبی ﷺ کے پاس پہنچ کر انہیں اتا دیا، نبی ﷺ نے حضرت صدیق اکبر (رض) کے اعزاز کا خیال رکھتے ہوئے فرمایا کہ اگر بزرگوں کو گھر میں ہی رہنے دیتے تو ہم خود ان کے پاس چلے جاتے، الغرض ابوقحافہ (رض) نے اسلام قبول کرلیا، اس وقت ان کے سر اور ڈاڑھی کے بال " ثغامہ " نامی بوٹی کی طرح سفید ہوچکے تھے، نبی ﷺ نے فرمایا ان کا رنگ بدل دو ، لیکن کالا رنگ کرنے سے پرہیز کرنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْحَرَّانِيُّ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ خِضَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ شَابَ إِلَّا يَسِيرًا وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ بَعْدَهُ خَضَبَا بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ قَالَ وَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِيهِ أَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ يَحْمِلُهُ حَتَّى وَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي بَكْرٍ لَوْ أَقْرَرْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ لَأَتَيْنَاهُ مَكْرُمَةً لِأَبِي بَكْرٍ فَأَسْلَمَ وَلِحْيَتُهُ وَرَأْسُهُ كَالثَّغَامَةِ بَيَاضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوهُمَا وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৭৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ زید بن ارقم کی عیادت کے لئے گیا، ان کی آنکھوں کی بصارت ختم ہوگئی تھی، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا زید ! یہ بتاؤ کہ اگر تمہاری آنکھیں چلی جائیں جہاں سے لی ہیں تو تم کیا کرو گے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں صبر کروں گا اور ثواب کی امید رکھوں گا، نبی ﷺ نے فرمایا اگر تمہاری بینائی ختم ہوگئی اور تم نے اس پر صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی تو تم اللہ سے اس طرح ملو گے کہ تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ خَيْثَمَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ يَعُودُهُ وَهُوَ يَشْكُو عَيْنَيْهِ قَالَ كَيْفَ أَنْتَ لَوْ كَانَتْ عَيْنُكَ لِمَا بِهَا قَالَ إِذًا أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ قَالَ لَوْ كَانَتْ عَيْنُكَ لِمَا بِهَا لَلَقِيتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى غَيْرِ ذَنْبٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৭৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے میری کنیت اس سبزی کے نام پر رکھی تھی جو میں چنتا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ أَبِي نَصْرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَنَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا غُلَامٌ بِبَقْلَةٍ كُنْتُ أَجْتَنِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৭৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے خوشہ بننے سے پہلے کھجور اور چھلنے سے پہلے دانے اور پھل پکنے سے پہلے ان کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ شَيْخٍ لَنَا عَنْ أَنَسٍ قَالَ نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ النَّخْلِ حَتَّى يَزْهُوَ وَالْحَبِّ حَتَّى يُفْرَكَ وَعَنْ الثِّمَارِ حَتَّى تُطْعِمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৭৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ نبی ﷺ کے پاس آئے لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ اور پیشاب پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَاسًا أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عُكْلٍ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لَهُمْ بِذَوْدِ لِقَاحٍ فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৮০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے چلے جایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطِيفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৮১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ شب معراج میں نبی ﷺ پر پچاس نمازیں فرض ہوئی تھیں، کم ہوتے ہوتے پانچ رہ گئیں اور پھر نداء لگائی گئی کہ اے محمد ﷺ ! ہمارے یہاں بات بدلتی نہیں، آپ کا ان پانچ پر پچاس ہی کا ثواب ملے گا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ فُرِضَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَوَاتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ خَمْسِينَ ثُمَّ نُقِصَتْ حَتَّى جُعِلَتْ خَمْسًا ثُمَّ نُودِيَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّهُ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ وَإِنَّ لَكَ بِهَذِهِ الْخَمْسِ خَمْسِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২১৮২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ بعض اوقات نماز کا وقت ہوجاتا تو ایک آدمی آکر اپنی کسی ضرورت کے حوالے سے نبی ﷺ کے ساتھ باتیں کرنے لگتا اور ان کے اور قبلہ کے درمیان کھڑا ہوجاتا اور وہ مسلسل باتیں کرتا رہتا یہاں تک کہ اس کی خاطر نبی ﷺ کے زیادہ دیر کھڑے رہنے کی صورت میں بعض لوگ سو بھی جاتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَتْ الصَّلَاةُ تُقَامُ فَيُكَلِّمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ فِي حَاجَتِهِ تَكُونُ لَهُ فَيَقُومُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَمَا يَزَالُ قَائِمًا يُكَلِّمُهُ فَرُبَّمَا رَأَيْتُ بَعْضَ الْقَوْمِ لَيَنْعَسُ مِنْ طُولِ قِيَامِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক: