আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২০৯৬ টি
হাদীস নং: ১২২০৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی ﷺ بےزین گھوڑے پر اس آواز کے رخ پر چل پڑے اور واپس آکر گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مَرَّةً فَرَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا كَأَنَّهُ مُقْرِفٌ فَرَكَضَهُ فِي آثَارِهِمْ فَلَمَّا رَجَعَ قَالَ وَجَدْنَاهُ بَحْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২০৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر آنے والی کسی تکلیف کی وجہ سے موت کی تمنا نہ کرے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمْ الْمَوْتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২০৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا لوگوں کی امامت وہ شخص کر وائے جو ان میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِلْقُرْآنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২০৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ وہ آخری نظر جو میں نے نبی ﷺ پر پیر کے دن ڈالی، وہ اس طرح تھی کہ نبی ﷺ نے اپنے حجرہ مبارکہ کا پردہ ہٹایا، لوگ اس وقت حضرت صدیق اکبر (رض) کی امامت میں نماز ادا کر رہے تھے، میں نے نبی ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھا تو وہ قرآن کا ایک کھلا ہوا صفحہ محسوس ہو رہا تھا، حضرت صدیق اکبر (رض) نے صف میں شامل ہونے کے لئے پیچھے ہٹنا چاہا اور وہ یہ سمجھے کہ نبی ﷺ لوگوں کو نماز پڑھانے کے لئے آنا چاہتے ہیں، لیکن نبی ﷺ نے انہیں صفوں میں کھڑا دیکھ کر تبسم فرمایا اور انہیں اشارے سے اپنی جگہ رہنے اور نماز مکمل کرنے کا حکم دیا اور پردہ لٹکا لیا اور اسی دن آپ ﷺ دنیا سے رخصت ہوگئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ آخِرُ نَظْرَةٍ نَظَرْتُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ اشْتَكَى فَأَمَرَ أَبَا بَكْرٍ فَصَلَّى لِلنَّاسِ فَكَشَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُتْرَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ فَنَظَرَ إِلَى النَّاسِ فَنَظَرْتُ إِلَى وَجْهِهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةُ مُصْحَفٍ حَتَّى نَكَصَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَقِبَيْهِ لِيَصِلَ إِلَى الصَّفِّ وَظَنَّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ لِلنَّاسِ فَتَبَسَّمَ حِينَ رَآهُمْ صُفُوفًا وَأَشَارَ بِيَدِهِ إِلَيْهِمْ أَنْ أَتِمُّوا صَلَاتَكُمْ وَأَرْخَى السِّتْرَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ فَتُوُفِّيَ مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২০৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک یہودی نے ایک انصاری بچی کو اس زیور کی خاطر قتل کردیا جو اس نے پہن رکھا تھا، قتل کر کے اس نے اس بچی کو ایک کنویں میں ڈالا اور پتھر مار مار کر اس کا سر کچل دیا، اس یہودی کو پکڑ کر نبی ﷺ کے سامنے لایا گیا، نبی ﷺ نے حکم دیا کہ اسے اتنے پتھر مارے جائیں کہ یہ مرجائے، چناچہ ایساہی کیا گیا اور وہ مرگیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ قَتَلَ جَارِيَةً مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَى حُلِيٍّ لَهَا ثُمَّ أَلْقَاهَا فِي قَلِيبٍ وَرَضَخَ رَأْسَهَا بِالْحِجَارَةِ فَأُخِذَ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِهِ أَنْ يُرْجَمَ حَتَّى يَمُوتَ فَرُجِمَ حَتَّى مَاتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২০৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل اور عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی ﷺ کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی ﷺ کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی ﷺ نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، نبی ﷺ نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دیئے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھروا دیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ نَفَرًا مِنْ عُكْلٍ وَعُرَيْنَةَ تَكَلَّمُوا بِالْإِسْلَامِ فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ أَهْلُ ضَرْعٍ وَلَمْ يَكُونُوا أَهْلَ رِيفٍ وَشَكَوْا حُمَّى الْمَدِينَةِ فَأَمَرَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَخْرُجُوا مِنْ الْمَدِينَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَلْبَانِهَا وَأَبْوَالِهَا فَانْطَلَقُوا فَكَانُوا فِي نَاحِيَةِ الْحَرَّةِ فَكَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقُوا الذَّوْدَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ الطَّلَبَ فِي آثَارِهِمْ فَأُتِيَ بِهِمْ فَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ وَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَتُرِكُوا بِنَاحِيَةِ الْحَرَّةِ يَقْضَمُونَ حِجَارَتَهَا حَتَّى مَاتُوا قَالَ قَتَادَةُ فَبَلَغَنَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِيهِمْ إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২০৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ نے حضرت زینب (رض) سے نکاح فرمایا تو حضرت ام سلیم (رض) نے پتھر کے ایک برتن میں حلوہ بنا کر نبی ﷺ کے لئے ہدیہ کے طور پر بھیجا، نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا جاؤ اور راستے میں جو بھی ملے، اسے دعوت دو ، میں نے ایسا ہی کیا اور لوگ آتے، کھاتے اور نکلتے گئے، نبی ﷺ نے کھانے پر اپنا ہاتھ رکھ کر دعاء کی اور اللہ کو جو منظور ہوا، وہ کہا، ادھر میں نے ایک آدمی بھی ایسا نہ چھوڑا جو مجھے ملا ہو اور میں نے اسے دعوت نہ دی ہو اور سب لوگ کھا پی کر سیراب ہوئے اور چلے گئے۔ لیکن کچھ لوگ وہیں پر بیٹھ گئے اور خوب گفتگو کرنے لگے، نبی ﷺ کو انہیں کچھ کہتے ہوئے حجاب محسوس ہوا، اس لئے آپ ﷺ نے انہیں گھر میں بیٹھا ہوا چھوڑا اور خود ہی باہر چلے گئے، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمادی کہ اے ایمان والو ! پیغمبر کے گھر میں اس وقت تک داخل نہ ہو جب تک تمہیں کھانے کی اجازت نہ مل جائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ أَهْدَتْ إِلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ قَالَ أَنَسٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاذْهَبْ فَادْعُ مَنْ لَقِيتَ فَجَعَلُوا يَدْخُلُونَ يَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ وَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى الطَّعَامِ وَدَعَا فِيهِ وَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ وَلَمْ أَدَعْ أَحَدًا لَقِيتُهُ إِلَّا دَعَوْتُهُ فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَخَرَجُوا فَبَقِيَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَطَالُوا عَلَيْهِ الْحَدِيثَ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا فَخَرَجَ وَتَرَكَهُمْ فِي الْبَيْتِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا حَتَّى بَلَغَ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২১০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ خیبر کے لئے صبح کے وقت تشریف لے گئے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر وہ اپنے قلعے کی طرف بھاگنے لگے، نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ بلند کر کے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا خیبر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ بُكْرَةً وَقَدْ خَرَجُوا بِالْمَسَاحِي فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২১১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ خیبر کے لئے صبح کے وقت تشریف لے گئے، لوگ اس وقت کام پر نکلے ہوئے تھے وہ کہنے لگے کہ محمد اور لشکر آگئے، پھر وہ اپنے قلعے کی طرف بھاگنے لگے، نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ بلند کر کے تین مرتبہ اللہ اکبر کہا اور فرمایا خیبر برباد ہوگیا جب ہم کسی قوم کے صحن میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بڑی بدترین ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْبَرَ فَوَجَدَهُمْ حِينَ خَرَجُوا إِلَى زُرُوعِهِمْ وَمَعَهُمْ مَسَاحِيهِمْ فَلَمَّا رَأَوْهُ وَمَعَهُ الْجَيْشُ نَكَصُوا فَرَجَعُوا إِلَى حِصْنِهِمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২১২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ شب معراج نبی ﷺ کی خدمت میں زین اور لگام کسا ہوا براق پیش کیا گیا، تاکہ آپ ﷺ اس پر سوار ہوجائیں، لیکن وہ ایک دم بدکنے لگا، حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا یہ کیا کر رہے ہو ؟ بخدا ! تم پر ان سے زیادہ کوئی معزز شخص سوار نہی ہوا، اس پر وہ شرم سے پانی پانی ہوگیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالْبُرَاقِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مُسَرَّجًا مُلَجَّمًا لِيَرْكَبَهُ فَاسْتَصْعَبَ عَلَيْهِ وَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ مَا يَحْمِلُكَ عَلَى هَذَا فَوَاللَّهِ مَا رَكِبَكَ أَحَدٌ قَطُّ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ قَالَ فَارْفَضَّ عَرَقًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২১৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے سامنے ساتویں آسمان پر سدرۃ المنتہیٰ کو پیش کیا گیا، اس کے پھل " ہجر " نامی مقام کے مٹکوں کے برابر اور پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر تھے، اس کی جڑ میں سے دو ظاہری اور دو باطنی نہریں جاری تھیں، میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا یہ کیا چیزیں ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ باطنی نہریں جنت میں ہیں اور ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى فِي السَّمَاءِ السَّابِعَةِ نَبْقُهَا مِثْلُ قِلَالِ هَجَرَ وَوَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ يَخْرُجُ مِنْ سَاقِهَا نَهْرَانِ ظَاهِرَانِ وَنَهْرَانِ بَاطِنَانِ فَقُلْتُ يَا جِبْرِيلُ مَا هَذَانِ قَالَ أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ فَالنِّيلُ وَالْفُرَاتُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২১৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ صحابہ کرام (رض) میں سے حضرت حسن (رض) سے بڑھ کر نبی ﷺ کے مشابہہ کوئی نہ تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ وَفَاطِمَةَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২১৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے سورت کوثر کی تفسیر میں مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ جنت کی ایک نہر ہے اور فرمایا میری اس پر نظر پڑی تو اس کے دونوں کناروں پر موتیوں کے خیمے لگے ہوئے تھے، میں جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ نہر کوثر ہے جو اللہ نے آپ کو عطاء فرمائی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هُوَ نَهَرٌ فِي الْجَنَّةِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ حَافَّتَاهُ قِبَابُ اللُّؤْلُؤِ فَقُلْتُ مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২১৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نماز عیدالفطر سے قبل کچھ تر کھجوریں تناول فرماتے تھے، وہ نہ ملتیں تو چھوہارے ہی کھالیتے اور اگر وہ بھی نہ ملتے تو چند گھونٹ پانی ہی پی لیتے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفْطِرُ عَلَى رُطَبَاتٍ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ رُطَبَاتٌ فَتَمَرَاتٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ تَمَرَاتٌ حَسَا حَسَوَاتٍ مِنْ مَاءٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২১৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جنت میں ایک درخت ایسا بھی ہے جس کے سامنے میں اگر کوئی سوار سو سال تک چلتا رہے تب بھی اس کا سایہ ختم نہ ہو۔ گذشتہ حدیث حضرت ابوہریرہ (رض) سے بھی مروی ہے اور حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے تھے کہ اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو " وظل ممدود
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ فِي ظِلِّهَا مِائَةَ عَامٍ لَا يَقْطَعُهَا قَالَ مَعْمَرٌ وَأَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ وَاقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২১৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں حضرت ابوطلحہ (رض) کے پیچھے سواری پر بیٹھا ہوا تھا، وہ نبی ﷺ کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں کہ میرے پاؤں نبی ﷺ کی رکاب سے لگ جاتے تھے اور میں نے نبی ﷺ کو حج وعمرہ کا تلبیہ اکٹھے پڑھتے ہوئے سنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ يُسَايِرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ رِجْلِي لَتَمَسُّ غَرَزَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يُلَبِّي بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ مَعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২১৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے یہ منادی کروا دی کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں گدھوں کے گوشت سے منع کرتے ہیں کیونکہ ان کا گوشت ناپاک ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ مُنَادِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ فَإِنَّهَا رِجْسٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২২০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ان کی دادی حضرت ملیکہ نے ایک مرتبہ نبی ﷺ کی کھانے پر دعوت کی، نبی ﷺ نے کھانا تناول فرمانے کے بعد فرمایا اٹھو، میں تمہارے لئے نماز پڑھ دوں حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ میں اٹھ کر ایک چٹائی لے آیا جو طویل عرصہ استعمال ہونے کی وجہ سے سیاہ ہوچکی تھی، میں نے اس پر پانی چھڑک دیا، نبی ﷺ اس پر کھڑے ہوگئے، میں اور ایک یتیم بچہ نبی ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوگئے اور بڑی بی ہمارے پیچھے کھڑی ہوگئیں، پھر نبی ﷺ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں اور واپس تشریف لے گئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ لَهُ قَالَ فَأَكَلَ ثُمَّ قَالَ قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ لَكُمْ قَالَ فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدْ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لَبِثَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ وَرَاءَنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২২১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی ﷺ جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے خود پہن رکھا تھا، کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن اخطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کردو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ الْمِغْفَرُ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ هَذَا ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِالْأَسْتَارِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْتُلُوهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২২২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حالت احرام میں پاؤں کے اوپر والے حصے پر درد کی وجہ سے سینگی لگوائی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ عَلَى ظَهْرِ الْقَدَمِ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِهِ
তাহকীক: