আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২০৯৬ টি
হাদীস নং: ১২২৪৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر لوگوں کو ڈرایا، اسی اثناء میں ایک آدمی نے کھڑے ہو کر پوچھا یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی ﷺ کے روئے انور پر ناگواری کے آثار نظر آئے تو ہم نے اس سے کہا کہ بیٹھ جاؤ، تم نے نبی ﷺ سے ایسا سوال پوچھا ہے جو انہیں اچھا نہیں لگا، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، بالآخر نبی ﷺ نے اس سے پوچھا اے بھئی ! تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے یہ تیاری کی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ تم محبت کرتے ہو۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ يَعْنِي الْمَقْبُرِيَّ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَحَذَّرَ النَّاسَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَبَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ فَقُلْنَا لَهُ اقْعُدْ فَإِنَّكَ قَدْ سَأَلْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَكْرَهُ قَالَ ثُمَّ قَامَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ فَبَسَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجْهِهِ أَشَدَّ مِنْ الْأُولَى فَأَجْلَسْنَاهُ قَالَ ثُمَّ قَامَ الثَّالِثَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَكَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ أَعْدَدْتُ لَهَا حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْلِسْ فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৪৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ربیع " جو حضرت انس (رض) کی پھوپھی تھیں " نے ایک لڑکی کا دانت توڑ دیا، پھر ان کے اہل خانہ نے لڑکی والوں کو تاوان کی پیشکش کی لیکن انہوں نے انکار کردیا، پھر انہوں نے ان سے معافی مانگی لیکن انہوں نے معاف کرنے سے انکار کردیا اور نبی ﷺ کے پاس آکر قصاص کا مطالبہ کرنے لگے، نبی ﷺ نے قصاص کا حکم دے دیا، اسی اثناء میں ان کے بھائی اور حضرت انس (رض) کے چچا انس بن نضر آگئے اور وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! کیا ربیع کا دانت توڑ دیا جائے گا ؟ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا، نبی ﷺ نے فرمایا انس ! کتاب اللہ کا فیصلہ قصاص ہی کا ہے، اسی اثناء میں وہ راضٰی ہوگئے اور انہوں نے انہیں معاف کردیا اور قصاص کا مطالبہ ترک کردیا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کے بعض بندے ایسے ہوتے ہیں جو اگر کسی کام پر اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ انہیں ان کی قسم میں ضرور سچا کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ الرُّبَيِّعَ بِنْتَ النَّضْرِ عَمَّةَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ فَعَرَضُوا عَلَيْهِمْ الْأَرْشَ فَأَبَوْا وَطَلَبُوا الْعَفْوَ فَأَبَوْا فَأَبَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ بِالْقِصَاصِ فَجَاءَ أَخُوهَا أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ لَا وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَنَسُ كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ قَالَ فَعَفَا الْقَوْمُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৪৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
عاصم احول (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ قنوت رکوع سے پہلے ہے یا رکوع کے بعد ؟ انہوں نے فرمایا رکوع سے پہلے، میں نے کہا کہ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ نبی ﷺ نے رکوع کے بعد قنوت پڑھی ہے ؟ انہوں نے فرمایا وہ غلط کہتے ہیں، وہ تو نبی ﷺ نے صرف ایک ماہ تک پڑھی تھی، جس میں نبی ﷺ اپنے قراء صحابہ کو شہید کرنے والے لوگوں کے خلاف بددعاء فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سَأَلْتُهُ عَنْ الْقُنُوتِ أَقَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَقَالَ قَبْلَ الرُّكُوعِ قَالَ قُلْتُ فَإِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ بَعْدَ الرُّكُوعِ فَقَالَ كَذَبُوا إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى نَاسٍ قَتَلُوا نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ يُقَالُ لَهُمْ الْقُرَّاءُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৪৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں بلایا تاکہ بحرین سے آئے ہوئے مال کا حصہ ہمیں تقسیم کردیں، لیکن ہم لوگ کہنے لگے کہ پہلے ہمارے مہاجر بھائیوں کا ہمارے برابر حصہ الگ کیجئے، نبی ﷺ نے ان کے جذبہ ایثار کو دیکھ کر فرمایا میرے بعد تمہیں ترجیحات کا سامنا کرنا پڑگا لیکن تم صبر کرنا تاآنکہ مجھ سے آملو، صحابہ (رض) نے عرض کیا کہ ہم صبر کریں گے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَعَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَكْتُبَ لَنَا بِالْبَحْرَيْنِ قَطِيعَةً قَالَ فَقُلْنَا لَا إِلَّا أَنْ تَكْتُبَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَهَا فَقَالَ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي قَالُوا فَإِنَّا نَصْبِرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৪৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
عمار بن عاصم (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں کوفہ میں حضرت انس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے نبیذ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے دباء اور مزفت سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي إِسْمَاعِيلَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ بِالْكُوفَةِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ النَّبِيذِ فَقَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৪৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! لوگوں کو ان کے چہروں کے بل کیسے اٹھایا جائے گا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا جو ذات انہیں پاؤں کے بل چلانے پر قادر ہے وہ انہیں چہروں کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُمَرَ عَنْ نُفَيْعٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى وُجُوهِهِمْ قَالَ إِنَّ الَّذِي أَمْشَاهُمْ عَلَى أَرْجُلِهِمْ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُمْ عَلَى وُجُوهِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৪৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ دور نبوت میں ایک دیہاتی نے آکر مسجد نبوی میں پیشاب کردیا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو اور حکم دیا کہ اس پر پانی کا ایک ڈول بہا دو ۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ قَامَ إِلَى جَانِبِ الْمَسْجِدِ قَالَ فَصَاحَ بَعْضُ النَّاسِ فَكَفَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَمَرَ بِذَنُوبٍ مِنْ مَاءٍ فَصُبَّ عَلَى بَوْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৫০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن ہر فقیر اور مالدار کی تمنا یہی ہوگی کہ اسے دنیا میں بقدر گذارہ دیا گیا ہوتا۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ نُفَيْعٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ أَحَدٍ غَنِيٍّ وَلَا فَقِيرٍ إِلَّا يَوَدُّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّهُ كَانَ أُوتِيَ فِي الدُّنْيَا قُوتًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৫১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی ﷺ نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگرچہ قربانی کا جانور ہی ہو۔
حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَدَنَةٍ أَوْ هَدِيَّةٍ فَقَالَ لِصَاحِبِهَا ارْكَبْهَا فَقَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ أَوْ هَدِيَّةٌ قَالَ وَإِنْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৫২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یوں کہتے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا پلایا، ہماری کفایت کی اور ٹھکانہ دیا، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی کوئی کفایت کرنے والا یا انہیں ٹھکانہ دینے والا کوئی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا فَكَمْ مَنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৫৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی تو ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمد للہ حمدا کثیر طیبا مبارکا فیہ " نبی ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا ؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چناچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کا پہلے اٹھاتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ بَأْسًا فَقَالَ الرَّجُلُ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ جَلَسْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهُنَّ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৫৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات نماز میں قرأت کا آغاز " الحمدللہ رب العالمین " سے کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ أَنْبَأَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ وَثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقُرْآنَ بِالْحَمْدِ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৫৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ اس وقت اقامت ہوچکی تھی اس لئے نبی ﷺ نماز پڑھانے لگے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ قیامت کے متعلق سوال کرنے والا آدمی کہاں ہے ؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ! میں یہاں ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ انسان قیامت کے دن اس شخص کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ محبت کرتا ہے، حضرت انس (رض) فرماتے ہیں میں نے مسلمانوں کو اسلام قبول کرنے کے بعد اس دن جتنا خوش دیکھا اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ السَّاعَةِ فَقَالَ الرَّجُلُ هَا أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا فَإِنَّهَا قَائِمَةٌ قَالَ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَبِيرِ عَمَلٍ غَيْرَ أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ فَمَا فَرِحَ الْمُسْلِمُونَ بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ أَشَدَّ مِمَّا فَرِحُوا بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৫৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری کے وقت ان کی عمر دس سال تھی، وہ فرماتے ہیں کہ میری والدہ مجھے نبی ﷺ کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں، اس لئے پردہ کا حکم جب نازل ہوا اس وقت کی کیفیت تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے۔ اس رات نبی ﷺ نے حضرت زینب (رض) کے ساتھ خلوت فرمائی تھی اور صبح کے وقت نبی ﷺ دولہا تھے، اس کے بعد نبی ﷺ نے لوگوں کو دعوت دی، انہوں نے آکر کھانا کھایا اور چلے گئے، لیکن کچھ لوگ وہیں بیٹھ رہے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے حتیٰ کہ نبی ﷺ خود ہی اٹھ کر باہر چلے گئے، میں بھی باہر چلا گیا تاکہ وہ بھی چلے جائیں، نبی ﷺ اور میں چلتے ہوئے حضرت عائشہ (رض) کے حجرے کی چوکھٹ پر جا کر رک گئے، نبی ﷺ کا خیال تھا کہ شاید اب وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، چناچہ نبی ﷺ واپس آگئے، میں بھی ہمراہ تھا، دیکھا تو واقعی وہ لوگ جاچکے تھے، پھر نبی ﷺ نے اندر داخل ہو کر پردہ لٹکا لیا اور اللہ نے آیت حجاب نازل فرما دی۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّهُ كَانَ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ مَقْدِمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ قَالَ وَكَانَ أُمَّهَاتِي يُوطِئْنَنِي عَلَى خِدْمَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكُنْتُ أَعْلَمَ النَّاسِ بِشَأْنِ الْحِجَابِ حِينَ أُنْزِلَ وَكَانَ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ ابْتَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا عَرُوسًا فَدَعَا الْقَوْمَ فَأَصَابُوا مِنْ الطَّعَامِ ثُمَّ خَرَجُوا وَبَقِيَ رَهْطٌ مِنْهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَطَالُوا الْمُكْثَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ لِكَيْ يَخْرُجُوا فَمَشَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَشَيْنَا مَعَهُ حَتَّى جَاءَ عَتَبَةَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ وَظَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمْ بِسِتْرٍ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْحِجَابَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৫৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھرئی ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَادٍ آخَرُ وَلَا يَمْلَأُ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৫৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے میدان منیٰ میں نبی ﷺ کے ساتھ دو رکعتیں پڑھی ہیں، حضرت صدیق اکبر (رض) اور حضرت عمر (رض) کے ساتھ بھی اور حضرت عثمان (رض) کے ابتدائی دور خلافت میں بھی دو رکعتیں پڑھی ہیں۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ قَالَ حَدَّثَنِي بُكَيْرٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُثْمَانَ رَكْعَتَيْنِ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৫৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک شخص اونٹ پر سوار آیا، آکر مسجد میں اونٹ بٹھایا اور ( اتر کر) اونٹنی کو رسی سے باندھا، پھر پوچھنے لگا تم میں محمد ﷺ کون ہیں اس وقت رسول اللہ ﷺ تکیہ لگائے ہوئے درمیان میں بیٹھے ہوئے تھے ہم نے جواب دیا کہ یہ گورے آدمی تکیہ لگائے ہوئے جو بیٹھے ہوئے ہیں یہی محمد ﷺ ہیں۔ وہ شخص آپ ﷺ کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا اے عبدالمطلب کے بیٹے ! آپ ﷺ نے فرمایا ہاں سن رہا ہوں (مدعا کہو) اس شخص نے کہا میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں اور پوچھنے میں ذرا سختی سے کام لوں گا، آپ مجھ سے ناراض نہ ہوں آپ ﷺ نے فرمایا جو چاہتے ہو دریافت کرو، وہ بولا میں آپ کے اور گز شتہ لوگوں کے پروردگار کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو سب لوگوں کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم ! ( سب کے لئے اسی نے مجھے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے) وہ بولا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو شبانہ روز میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم دیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم، وہ بولا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں بتائے کہ کیا اللہ نے آپ کو ہر سال ماہ رمضان میں روزے رکھنے کا حکم دیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں ! اللہ کی قسم، وہ بولا میں آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں بتائے کہ کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ ہمارے مال داروں سے زکوٰۃ وصول کر کے غرباء میں تقسیم کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اللہ کی قسم ! یہ سن کر وہ شخص بولا آپ جو کچھ ( اللہ کی طرف سے) لائے ہیں میں سب پر ایمان لایا اور میں اپنی قوم کا نمائندہ ہوں اور میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ فَعَقَلَهُ ثُمَّ قَالَ أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ قَالَ فَقُلْنَا هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَجَبْتُكَ فَقَالَ الرَّجُلُ إِنِّي يَا مُحَمَّدُ سَائِلُكَ فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلَا تَجِدْ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ فَقَالَ سَلْ مَا بَدَا لَكَ فَقَالَ الرَّجُلُ نَشَدْتُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ كَانَ قَبْلَكَ آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ قَالَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ فَأَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنْ السَّنَةِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتُقَسِّمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ الرَّجُلُ آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي قَالَ وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৬০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ نے رومیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چناچہ نبی ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ ﷺ "
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ قَالُوا إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا مَخْتُومًا قَالَ فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَقْشُهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৬১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں، ایک حرص اور ایک امید۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَبْقَى مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ وَالْأَمَلُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২২৬২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے اصل خیر آخرت ہی کی خیر ہے، یا یہ فرماتے کہ اے اللہ ! آخرت کی خیر کے علاوہ کوئی خیر نہیں، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَةِ أَوْ قَالَ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ قَالَ شُعْبَةُ فَكَانَ قَتَادَةُ يَقُولُ هَذَا فِي قَصَصِهِ
তাহকীক: