আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২০৯৬ টি
হাদীস নং: ১২৩২৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو میری عمر نو سال تھی، ام سلیم (رض) مجھے لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ میرا بیٹا ہے آپ اسے اپنی خدمت کے لئے قبول فرمالیجئے، میں نے نبی ﷺ کی خدمت نو سال تک کی، نبی ﷺ نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے فلاں کام کیوں کیا، نہ ہی یہ فرمایا کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا ؟ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی ﷺ تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا جب میں واپس آگیا تو نبی ﷺ نے فرمایا یہ کسی کو نہ بتانا، ادھر مجھے گھر پہنچنے میں دیر ہوگئی چناچہ جب میں گھر واپس پہنچا تو حضرت ام سلیم (رض) (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی ؟ میں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا ؟ میں نے کہا کہ نبی ﷺ نے مجھے کسی کو بتانے سے منع کیا ہے، انہوں نے کہا پھر نبی ﷺ کے راز کی حفاظت کرنا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَأَنَا ابْنُ تِسْعِ سِنِينَ فَانْطَلَقَتْ بِي أُمُّ سُلَيْمٍ إِلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا ابْنِي اسْتَخْدِمْهُ فَخَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ فَعَلْتُهُ لِمَ فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا وَمَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ لَمْ أَفْعَلْهُ أَلَا فَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا وَأَتَانِي ذَاتَ يَوْمٍ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ أَوْ قَالَ مَعَ الصِّبْيَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَدَعَانِي فَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لَا تُخْبِرْ أَحَدًا وَاحْتَبَسْتُ عَلَى أُمِّي فَلَمَّا أَتَيْتُهَا قَالَتْ يَا بُنَيَّ مَا حَبَسَكَ قُلْتُ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ قَالَتْ وَمَا هِيَ قُلْتُ إِنَّهُ قَالَ لَا تُخْبِرْ بِهَا أَحَدًا قَالَتْ أَيْ بُنَيَّ فَاكْتُمْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩২৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ابوطیبہ نے نبی ﷺ کے سینگی لگائی، نبی ﷺ نے اسے ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا اور اس کے مالک سے بات کی تو انہوں نے اس پر تخفیف کردی۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَيْبَةَ حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ وَكَلَّمَ أَهْلَهُ فَوَضَعُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩২৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت تک ہونے والی کسی چیز کے معلق تم مجھ سے سوال کرسکتے ہو، ایک آدمی نے پوچھ لیا یا رسول اللہ ﷺ ! میرا باپ کون ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تمہارا باپ حذافہ ہے، ان کی والدہ نے ان سے کہا کہ تمہارا اس سے کیا مقصد تھا ؟ انہوں نے کہا کہ میں لوگوں کی باتوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہت تھا، دراصل ان کے متعلق کچھ باتیں مشہور تھیں۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ سَلُونِي فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبِي قَالَ أَبُوكَ حُذَافَةُ لِلَّذِي كَانَ يُنْسَبُ إِلَيْهِ فَقَالَتْ لَهُ أُمُّهُ يَا بُنَيَّ لَقَدْ قُمْتَ بِأُمِّكَ مَقَامًا عَظِيمًا قَالَ أَرَدْتُ أَنْ أُبَرِّئَ صَدْرِي مِمَّا كَانَ يُقَالُ وَقَدْ كَانَ يُقَالُ فِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩২৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو کدو بہت پسند تھا، جب بھی کدو کا سالن آتا تو میں اسے الگ کر کے نبی ﷺ کے سامنے پیش کرتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ فَكَانَ إِذَا جِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا قَرْعٌ جُعِلَتْ الْقَرْعُ مِمَّا يَلِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩২৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت عتبان (رض) کی آنکھیں شکایت کرنے لگیں، انہوں نے نبی ﷺ کے پاس پیغام بھیج کر اپنی مصیبت کا ذکر کیا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میرے گھر تشریف لا کر نماز پڑھ دیجئے تاکہ میں اس جگہ کو اپنی جائے نماز بنا لوں، چناچہ ایک دن نبی ﷺ اپنے کچھ صحابہ (رض) کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے، نبی ﷺ نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے اور صحابہ کرام (رض) آپس میں باتیں کرنے لگے اور منافقین کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف کا ذکر کرنے لگے۔ اور اس میں سب سے زیادہ حصہ دار مالک بن دخیثم کو قرار دینے لگے، نبی ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ایک آدمی نے کہا کیوں نہیں، لیکن یہ دل سے نہیں ہے، نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو جہنم کی آگ اس پر حرام کردی جاتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ ذَهَبَ بَصَرُهُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ جِئْتَ صَلَّيْتَ فِي دَارِي أَوْ قَالَ فِي بَيْتِي لَاتَّخَذْتُ مُصَلَّاكَ مَسْجِدًا فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى فِي دَارِهِ أَوْ قَالَ فِي بَيْتِهِ وَاجْتَمَعَ قَوْمُ عِتْبَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَذَكَرُوا مَالِكَ بْنَ الدُّخْشُمِ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ وَإِنَّهُ يُعَرِّضُونَ بِالنِّفَاقِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ قَالُوا بَلَى قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَقُولُهَا عَبْدٌ صَادِقٌ بِهَا إِلَّا حُرِّمَتْ عَلَيْهِ النَّارُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩২৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی کو بھیج دیں جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی ﷺ نے فرمایا میں تمہارے ساتھ اس امت کے امین کو بھیجوں گا، پھر نبی ﷺ نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ (رض) کو بھیج دیا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ وَفْدًا مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرَادَ أَنْ يَبْعَثَ مَعَهُمْ رَجُلًا فَقَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا فَقَالَ أَبْعَثُ مَعَكُمْ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ قَالَ أَبِي وَفِي مَوْضِعٍ آخَرَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ فَقَالَ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَهَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩২৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نبی ﷺ سے کچھ مانگا، نبی ﷺ نے اسے صدقہ کی دو بکریوں میں سے بہت سی بکریاں " جو دو پہاڑوں کے درمیان آسکیں " دینے کا حکم دیا، وہ آدمی اپنی قوم کے پاس آکر کہنے لگا لوگو ! اسلام قبول کرلو، کیونکہ محمد ﷺ اتنی بخشش دیتے ہیں کہ انسان کو فقر و فاقہ کا کوئی اندیشہ نہیں رہتا، دوسری سند سے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بعض اوقات نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی آکر صرف دنیا کا سازوسامان حاصل کرنے کے لئے اسلام قبول کرلیتا، لیکن اس دن کی شام تک دین اس کی نگاہوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوچکا ہوتا تھا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ فَأَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَمًا بَيْنَ جَبَلَيْنِ فَأَتَى الرَّجُلُ قَوْمَهُ فَقَالَ أَيْ قَوْمِي أَسْلِمُوا فَوَاللَّهِ إِنَّ مُحَمَّدًا لَيُعْطِي عَطِيَّةَ رَجُلٍ مَا يَخَافُ الْفَاقَةَ أَوْ قَالَ الْفَقْرَ قَالَ وَحَدَّثَنَاهُ ثَابِتٌ قَالَ قَالَ أَنَسٌ إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسْلِمُ مَا يُرِيدُ إِلَّا أَنْ يُصِيبَ عَرَضًا مِنْ الدُّنْيَا أَوْ قَالَ دُنْيَا يُصِيبُهَا فَمَا يُمْسِي مِنْ يَوْمِهِ ذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ دِينُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ أَوْ قَالَ أَكْبَرَ عَلَيْهِ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৩০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ سے گذرے، وہاں کسی قبر میں عذاب ہو رہا تھا، چناچہ خچر بدک گیا، نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ وَحَسَنٌ الْأَشْيَبُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَسَنٌ عَنْ ثَابِتٍ وَحُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ بِحَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ أَصْوَاتَ قَوْمٍ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ فَحَاصَتْ الْبَغْلَةُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَسَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৩১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی ﷺ کے لئے وضو کا پانی رکھتا تھا اور جوتے پکڑاتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی ﷺ نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، وہ خاموش رہا، نبی ﷺ نے اپنی بات دوبارہ دہرائی اور اس نے دوبارہ اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم ﷺ کی بات مانو، چناچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی ﷺ جب وہاں سے نکلے تو آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا يَهُودِيًّا كَانَ يَضَعُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَضُوءَهُ وَيُنَاوِلُهُ نَعْلَيْهِ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ عَلَيْهِ وَأَبُوهُ قَاعِدٌ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا فُلَانُ قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ فَسَكَتَ أَبُوهُ فَأَعَادَ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ فَقَالَ أَبُوهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَقَالَ الْغُلَامُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْرَجَهُ بِي مِنْ النَّارِ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ مِثْلَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৩২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت آیا تو ہر وہ آدمی جس کا مدینہ منورہ میں گھر تھا وہ اٹھ کر قضاء حاجت اور وضو کے لئے چلا گیا، کچھ مہاجرین رہ گئے جن کا مدینہ میں کوئی گھر نہ تھا اور وہ ستر اسی کے درمیان تھے، نبی ﷺ کی خدمت میں ایک کشادہ برتن پانی کا لایا گیا، نبی ﷺ نے اپنی ہتھیلیاں اس میں رکھ دیں لیکن اس برتن میں اتنی گنجائش نہ تھی، لہٰذا نبی ﷺ نے چار انگلیاں ہی رکھ کر فرمایا قریب آکر اس سے وضو کرو، اس وقت نبی ﷺ کا دست مبارک برتن میں ہی تھا، چناچہ ان سب نے اس سے وضو کرلیا اور ایک آدمی بھی ایسا نہ رہا جس نے وضو نہ کیا ہو اور پھر بھی اس میں اتنا ہی پانی بچ گیا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَقَامَ جِيرَانُ الْمَسْجِدِ إِلَى مَنَازِلِهِمْ يَتَوَضَّئُونَ وَبَقِيَ فِي الْمَسْجِدِ نَاسٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مَا بَيْنَ السَّبْعِينَ إِلَى الثَّمَانِينَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَأُتِيَ بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَةٍ فِيهِ مَاءٌ فَوَضَعَ أَصَابِعَ يَدِهِ الْيُمْنَى فِي الْمِخْضَبِ فَجَعَلَ يَصُبُّ عَلَيْهِمْ وَهُمْ يَتَوَضَّئُونَ وَيَقُولُ تَوَضَّئُوا حَيَّ عَلَى الْوُضُوءِ حَتَّى تَوَضَّئُوا جَمِيعًا وَبَقِيَ فِيهِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৩৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی کہ جب حضرت ابوطلحہ (رض) کے گھر میں ان کا بیٹا عبداللہ پیدا ہوا تو میں اس بچے کو لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کھجور ہے ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! نبی ﷺ نے ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا، جسے وہ چاٹنے لگا، نبی ﷺ نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے اور نبی ﷺ نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ انْطَلَقْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وُلِدَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ فَقَالَ لِي أَمَعَكَ تَمْرٌ قُلْتُ نَعَمْ فَتَنَاوَلَ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ فِي حَنَكِهِ فَفَغَرَ الصَّبِيُّ فَاهُ فَأَوْجَرَهُ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَتْ الْأَنْصَارُ إِلَّا حُبَّ التَّمْرِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৩৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام (رض) نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا کہ جب ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں، آپ ہم سے احادیث بیان فرماتے ہیں تو ہمارے دلوں پر رقت طاری ہوجاتی ہے اور جب ہم آپ کی مجلس سے نکل جاتے ہیں تو اپنے بیوی بچوں میں مگن ہوجاتے ہیں اور اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اگر ہمیشہ تمہاری یہ کیفیت رہنے لگے تو فرشتے تم سے مصافحہ کرنے لگیں۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ فَحَدَّثْتَنَا رَقَّتْ قُلُوبُنَا فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا النِّسَاءَ وَالصِّبْيَانَ وَفَعَلْنَا وَفَعَلْنَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ تِلْكَ السَّاعَةَ لَوْ تَدُومُونَ عَلَيْهَا لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৩৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی کہ نبی ﷺ کے سامنے انصار کی کچھ عورتیں اور بچے ایک شادی سے آتے ہوئے گذرے، نبی ﷺ نے کھڑے کھڑے تین مرتبہ فرمایا اللہ کی قسم ! تم لوگ میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى الصِّبْيَانَ وَالنِّسَاءَ مُقْبِلِينَ قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُمْثِلًا فَقَالَ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ يَعْنِي الْأَنْصَارَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৩৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی مجلس میں دو آدمیوں کو چھینک آئی، نبی ﷺ نے ان میں سے ایک کو اس کا جواب (یرحمک اللہ کہہ کر) دے دیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا، کسی نے پوچھا کہ دو آدمیوں کو چھینک آئی، آپ نے ان میں سے ایک کو جواب دیا، دوسرے کو کیوں نہ دیا ؟ فرمایا کہ اس نے الحمدللہ کہا تھا اور دوسرے نے نہیں کہا تھا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا أَوْ قَالَ سَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَتَرَكَ الْآخَرَ فَقِيلَ هُمَا رَجُلَانِ عَطَسَا فَشَمَّتَّ أَوْ قَالَ فَسَمَّتَّ أَحَدَهُمَا وَتَرَكْتَ الْآخَرَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّ هَذَا لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ قَالَ سُلَيْمَانُ أُرَاهُ نَحْوًا مِنْ هَذَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৩৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک سفر میں تھے نبی ﷺ کا ایک حدی خوان تھا " جس کا نام انجثہ تھا " وہ امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، حضرت انس (رض) کی والدہ بھی ان کے ساتھ تھیں، نبی ﷺ نے فرمایا انجثہ ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسُوقُ بِهِنَّ سَوَّاقٌ فَقَالَ لَهُ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدَكَ بِالْقَوَارِيرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৩৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جو شخص جان بوجھ کر میری طرف سے کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے، اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنالینا چاہئے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ هَكَذَا مَرَّتَيْنِ وَثَنَا بِهِ مَرَّةً أُخْرَى فَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৩৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اپنے بھائی یا پڑوسی کے لئے وہی پسند نہ کرنے لگے جو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ أَوْ لِجَارِهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ وَلَمْ يَشُكَّ حَجَّاجٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৪০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا انصار میرا پردہ ہیں لوگ بڑھتے جائیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، اس لئے تم انصار کی نیکیوں کو قبول کرو اور ان کے گناہگار سے تجاوز اور درگذر کرو۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْأَنْصَارَ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَإِنَّ النَّاسَ سَيَكْثُرُونَ وَيَقِلُّونَ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَاعْفُوا عَنْ مُسِيئِهِمْ وَقَالَ حَجَّاجٌ عَنْ مُسِيِّهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৪১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا، مجھے معلوم نہیں کہ یہ قرآں کی آیت تھی یا نبی ﷺ کا فرمان، کہ اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ أَوْ كَانَ يَقُولُهُ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَتَمَنَّى أَوْ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ أُنْزِلَ عَلَيْهِ فَذَكَرَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৩৪২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی، نبی ﷺ نے اسے تقریباً چالیس مرتبہ دو ٹہنیوں سے مارا، حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے بھی ایسا ہی کیا لیکن جب حضرت عمر فاروق (رض) کا دور خلافت آیا تو حضرت عمر (رض) نے اس کے متعلق مشورہ کیا، حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے یہ رائے دی کہ سب سے کم درجے کی حد اسی کوڑے ہے، چناچہ حضرت عمر (رض) نے شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے مقرر کردی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِرَجُلٍ قَدْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَجَلَدَهُ بِجَرِيدَتَيْنِ نَحْوَ الْأَرْبَعِينَ قَالَ وَفَعَلَهُ أَبُو بَكْرٍ فَلَمَّا كَانَ عُمَرُ اسْتَشَارَ النَّاسَ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَخَفُّ الْحُدُودِ ثَمَانُونَ قَالَ فَأَمَرَ بِهِ عُمَرُ
তাহকীক: