আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১২৩৮৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے منبر پر خطبہ دیا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور حضرت ابوبکر و عمر و عثمان (رض) تکبیر مکمل کیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَصَمِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ لَا يَنْقُصُونَ التَّكْبِيرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ایک مہنے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور عرب کے کچھ قبائل پر بددعاء کرتے رہے پھر اسے ترک کردیا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو بَعْدَ الرُّكُوعِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر کے دوران نبی ﷺ اپنے صحابہ (رض) کو اینٹیں پکڑاتے جا رہے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، اے اللہ ! انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ الضُّبَعِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ يُنَاوِلُ أَصْحَابَهُ وَهُمْ يَبْنُونَ الْمَسْجِدَ أَلَا إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت اہل مدینہ دشمن کے خوف سے گھبرا اٹھے، نبی ﷺ ہمارا ایک گھوڑا " جس کا نام مندوب تھا " عاریۃً لیا اور فرمایا گھبرانے کی کوئی بات نہیں اور گھوڑے کے متعلق فرمایا کہ ہم نے اسے سمندر جیسا رواں پایا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَزَعٌ فَاسْتَعَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسًا لِأَبِي طَلْحَةَ يُقَالُ لَهُ مَنْدُوبٌ فَرَكِبَهُ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ مَا رَأَيْنَا مِنْ فَزَعٍ وَإِنْ وَجَدْنَا لَبَحْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی ﷺ جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے خود پہن رکھا تھا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَعَلَيْهِ مِغْفَرٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৮৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے صحابہ کرام (رض) نے نبی ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کا فلاں غلام شہید ہوگیا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہرگز نہیں، میں نے تو اس پر ایک عباء دیکھی تھی جو اس نے فلاں دن مال غنیمت میں سے خیانت کر کے حاصل کی تھی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ أَبِي الْمَخِيسِ الْيَشْكُرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ اسْتُشْهِدَ مَوْلَاكَ فُلَانٌ قَالَ كَلَّا إِنِّي رَأَيْتُ عَلَيْهِ عَبَاءَةً غَلَّهَا يَوْمَ كَذَا وَكَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ (رض) نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ اگر یتیم بچوں کو وراثت میں شراب ملے تو کیا اس کا سرکہ بنا سکتا ہے ؟ نبی ﷺ نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ السُّدِّيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَيْتَامٍ فِي حِجْرِهِ وَرِثُوا خَمْرًا أَنْ يَجْعَلَهَا خَلًّا فَكَرِهَ ذَلِكَ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً أَفَلَا يَجْعَلُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے شراب نوشی کی سزا میں ٹہنیوں اور جوتوں سے مارا ہے، حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے (چالیس کوڑے) مارے ہیں، لیکن جب حضرت عمر فاروق (رض) کے دورخلافت میں لوگ مختلف شہروں اور بستیوں کے قریب ہوئے (اور ان میں وہاں کے اثرات آنے لگے) تو حضرت عمر (رض) نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ اس کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے یہ رائے دی کہ سب سے کم درجے کی حد کے برابر اس کی سزا مقرر کر دیجئے، چناچہ حضرت عمر (رض) نے شراب نوشی کی سزا اسی کوڑے مقرر کردی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَزِّرُ فِي الْخَمْرِ بِالنِّعَالِ وَالْجَرِيدِ قَالَ ثُمَّ ضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ فَلَمَّا كَانَ زَمَنُ عُمَرَ وَدَنَا النَّاسُ مِنْ الرِّيفِ وَالْقُرَى اسْتَشَارَ فِي ذَلِكَ النَّاسَ وَفَشَا ذَلِكَ فِي النَّاسِ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَرَى أَنْ تَجْعَلَهُ كَأَخَفِّ الْحُدُودِ فَضَرَبَ عُمَرُ ثَمَانِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا شبِ معراج میں ایسے لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جارہے تھے، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ دنیا کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے، کیا یہ سمجھتے نہ تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي عَلَى قَوْمٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ قُلْتُ مَا هَؤُلَاءِ قَالَ هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ أُمَّتِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا كَانُوا يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (حضرت عائشہ (رض) کی باندی پر) بریرہ کے پاس صدقہ کی کوئی چیز آئی، تو نبی ﷺ نے فرمایا یہ اس کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ وَابْنُ جَعْفَرٍ يَعْنِي غُنْدَرًا قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَهُوَ لَنَا هَدِيَّةٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن نبی ﷺ نے فرمایا جو میں جانتا ہوں اگر تم وہ جانتے ہوتے تو تم بہت تھوڑا ہنستے اور کثرت سے رویا کرتے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَسَدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے مجھے اپنے کسی کام سے بھیجا، جب میں واپس آیا تو نبی ﷺ اکڑوں بیٹھ کر کھجوریں تناول فرما رہے تھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَجِئْتُ وَهُوَ يَأْكُلُ تَمْرًا وَهُوَ مُقْعٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک درزی نے کھانے پر نبی ﷺ کو بلایا، وہ کھانا لے کر حاضر ہوا تو اس میں پرانا روغن اور کدو تھا، میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ پیالے میں کدو تلاش کر رہے ہیں، اس وقت سے مجھے بھی کدو پسند آنے لگا۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ خَيَّاطًا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى طَعَامٍ فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ وَقَدْ جَعَلَهُ بِإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ وَقَرْعٍ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتْبَعُ الْقَرْعَ مِنْ الصَّحْفَةِ قَالَ أَنَسٌ فَمَا زِلْتُ يُعْجِبُنِي الْقَرْعُ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے جانور کو باندھ کر اس پر نشانہ درست کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبْرِ الْبَهِيمَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৩৯৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) اور حضرت زبیر بن عوام (رض) کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ رُخِّصَ لِلزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ لِحِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا قَالَ شُعْبَةُ وَقَالَ رَخَّصَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪০০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ نے رومیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چناچہ نبی ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ ﷺ "
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ وَابْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ الْمَعْنَى عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ كِتَابًا إِلَى الرُّومِ فَقِيلَ لَهُ إِنْ لَمْ يَكُنْ مَخْتُومًا لَمْ يُقْرَأْ كِتَابُكَ فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ وَرِقٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي كَفِّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪০১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ (رض) نے ام سلیم (رض) سے " جو کہ حضرت انس (رض) کی والدہ تھیں " شادی کرلی، ان کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، حضرت ابوطلحہ (رض) کو اس سے بڑی محبت تھی، ایک دن وہ بچہ انتہائی شدید بیمار ہوگیا، حضرت ابوطلحہ (رض) کا معمول تھا کہ وہ فجر کی نماز پڑھنے کے لئے اٹھتے تو وضو کر کے بارگاہ نبوت میں حاضر ہوتے اور نبی ﷺ کے ہمراہ نماز ادا کرتے، نصف النہار کے قریب تک وہیں رہتے، پھر گھر آکر قیلولہ کرتے، کھانا کھاتے اور ظہر کی نماز کے بعد تیار ہو کر چلے جاتے، پھر عشاء کے وقت ہی واپس آتے، ایک دن وہ دوپہر کو گئے، تو ان کے پیچھے ان کا بیٹا فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم (رض) نے اسے کپڑا اوڑھا دیا، جب حضرت ابوطلحہ (رض) واپس آئے تو انہوں نے بچے کے بارے پوچھا، انہوں نے بتایا کہ پہلے سے بہتر ہے، پھر ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا، انہوں نے کھانا کھایا، حضرت ام سلیم (رض) نے بناؤ سنگھار کیا، حضرت ابوطلحہ (رض) اپنے بستر پر سر رکھ کر لیٹ گئے، وہ کہتی ہیں کہ میں کھڑی ہوگئی اور خوشبو لگا کر آئی اور ان کے ساتھ بستر پر لیٹ گئی، جب انہیں خوشبو کی مہک پہنچی تو انہیں وہی خواہش پید اہوئی جو ہر مرد کو اپنی بیوی سے ہوتی ہے، صبح ہوئی تو وہ حسب معمول تیاری کرنے لگے، حضرت ام سلیم (رض) نے حضرت ابوطلحہ (رض) سے کہا کہ اے ابوطلحہ ! اگر کوئی آدمی آپ کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائے آپ اس سے فائدہ اٹھائیں پھر وہ آپ سے اس کا مطالبہ کرے اور وہ چیز آپ سے لے لے تو کیا اس پر آپ جزع فزع کریں گے، انہوں نے کہا نہیں، انہوں نے کہا پھر آپ کا بیٹا فوت ہوگیا ہے، اس پر وہ سخت ناراض ہوئے اور نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کھانے کا، خوشبو لگانے کا اور خلوت کا سارا واقعہ بیان کیا، نبی ﷺ نے فرمایا تعجب ہے کہ وہ بچہ تمہارے پہلو میں پڑا رہا اور تم دونوں نے ایک دوسرے سے خلوت کی، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ایسا ہی ہوا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ تمہاری رات کو مبارک فرمائے، چناچہ حضرت ام سلیم (رض) اسی رات امید سے ہوگئیں اور ان کے یہاں لڑکا پیدا ہوا، صبح ہوئی تو حضرت ابوطلحہ (رض) نے مجھ سے کہا کہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر نبی ﷺ کے پاس لے جاؤ اور اپنے ساتھ کچھ عمدہ کھجوریں بھی لے جانا، انہوں نے خود اسے گھٹی دی اور نہ ہی کچھ چکھایا، میں نے اسے اٹھا کر ایک کپڑے میں لپیٹا اور نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا لڑکا، نبی ﷺ نے الحمدللہ کہہ کر فرمایا اسے میرے پاس لاؤ، میں نے وہ نبی ﷺ کو پکڑا دیا، نبی ﷺ نے اسے گھٹی دینے کے لئے پوچھا کہ تمہارے پاس عجوہ کھجوریں ہیں ؟ میں نے عرض کی جی ہاں ! اور کجھوریں نکال لیں، نبی ﷺ نے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں رکھی اور اسے چباتے رہے، جب وہ لعاب دہن میں مل گئی تو نبی ﷺ نے بچے کو اس سے گھٹی دی، اسے کھجور کا مزہ آنے لگا اور چوسنے لگا، گویا اس کی انتڑیوں میں سب سے پہلی جو چیز گئی وہ نبی ﷺ کا لعاب دہن تھا اور نبی ﷺ نے فرمایا انصار کو کجھور سے بڑی محبت ہے، پھر اس کا نام عبداللہ بن ابی طلحہ رکھا، اس کی نسل خوب چلی اور وہ ایران میں شہید ہوا۔
حَدَّثَنَا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ وَجَدَهُ فَأَقَرَّ بِهِ وَحَدَّثَنَا بِبَعْضِهِ فِي مَكَانٍ آخَرَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هِلَالٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ وَالْبَرَاءِ قَالَ فَوَلَدَتْ لَهُ ابْنًا قَالَ فَكَانَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا قَالَ فَمَرِضَ الصَّبِيُّ مَرَضًا شَدِيدًا فَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَقُومُ صَلَاةَ الْغَدَاةِ يَتَوَضَّأُ وَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي مَعَهُ وَيَكُونُ مَعَهُ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ وَيَجِيءُ يَقِيلُ وَيَأْكُلُ فَإِذَا صَلَّى الظُّهْرَ تَهَيَّأَ وَذَهَبَ فَلَمْ يَجِئْ إِلَى صَلَاةِ الْعَتَمَةِ قَالَ فَرَاحَ عَشِيَّةً وَمَاتَ الصَّبِيُّ قَالَ وَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ نَسَجَتْ عَلَيْهِ ثَوْبًا وَتَرَكَتْهُ قَالَ فَقَالَ لَهَا أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ كَيْفَ بَاتَ بُنَيَّ اللَّيْلَةَ قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا كَانَ ابْنُكَ مُنْذُ اشْتَكَى أَسْكَنَ مِنْهُ اللَّيْلَةَ قَالَ ثُمَّ جَاءَتْهُ بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ وَطَابَتْ نَفْسُهُ قَالَ فَقَامَ إِلَى فِرَاشِهِ فَوَضَعَ رَأْسَهُ قَالَتْ وَقُمْتُ أَنَا فَمَسِسْتُ شَيْئًا مِنْ طِيبٍ ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى دَخَلْتُ مَعَهُ الْفِرَاشَ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَجَدَ رِيحَ الطِّيبِ كَانَ مِنْهُ مَا يَكُونُ مِنْ الرَّجُلِ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ ثُمَّ أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ يَتَهَيَّأُ كَمَا كَانَ يَتَهَيَّأُ كُلَّ يَوْمٍ قَالَ فَقَالَتْ لَهُ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا اسْتَوْدَعَكَ وَدِيعَةً فَاسْتَمْتَعْتَ بِهَا ثُمَّ طَلَبَهَا فَأَخَذَهَا مِنْكَ تَجْزَعُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ لَا قَالَتْ فَإِنَّ ابْنَكَ قَدْ مَاتَ قَالَ أَنَسٌ فَجَزِعَ عَلَيْهِ جَزَعًا شَدِيدًا وَحَدَّثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهَا فِي الطَّعَامِ وَالطِّيبِ وَمَا كَانَ مِنْهُ إِلَيْهَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِتُّمَا عَرُوسَيْنِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِكُمَا قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا قَالَ فَحَمَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَ فَتَلِدُ غُلَامًا قَالَ فَحِينَ أَصْبَحْنَا قَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ احْمِلْهُ فِي خِرْقَةٍ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْمِلْ مَعَكَ تَمْرَ عَجْوَةٍ قَالَ فَحَمَلْتُهُ فِي خِرْقَةٍ قَالَ وَلَمْ يُحَنَّكْ وَلَمْ يَذُقْ طَعَامًا وَلَا شَيْئًا قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ مَا وَلَدَتْ قُلْتُ غُلَامًا قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ فَقَالَ هَاتِهِ إِلَيَّ فَدَفَعْتُهُ إِلَيْهِ فَحَنَّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَهُ مَعَكَ تَمْرُ عَجْوَةٍ قُلْتُ نَعَمْ فَأَخْرَجْتُ تَمَرَاتٍ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً وَأَلْقَاهَا فِي فِيهِ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُهَا حَتَّى اخْتَلَطَتْ بِرِيقِهِ ثُمَّ دَفَعَ الصَّبِيَّ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَجَدَ الصَّبِيُّ حَلَاوَةَ التَّمْرِ جَعَلَ يَمُصُّ بَعْضَ حَلَاوَةِ التَّمْرِ وَرِيقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ فَتَحَ أَمْعَاءَ ذَلِكَ الصَّبِيِّ عَلَى رِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرُ فَسُمِّيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ فَخَرَجَ مِنْهُ رَجُلٌ كَثِيرٌ قَالَ وَاسْتُشْهِدَ عَبْدُ اللَّهِ بِفَارِسَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৪০২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت صفیہ (رض) بنت حیی کو آزاد کردیا اور ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دے دیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا أَوْ مَهْرَهَا قَالَ يَحْيَى أَوْ أَصْدَقَهَا عِتْقَهَا
tahqiq

তাহকীক: