আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১২৫৬৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو صحابہ کرام (رض) پر غم اور پریشانی کے آثار تھے کیونکہ انہیں عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں حدیبیہ میں ہی اپنے جانور قربان کرنے پڑے تھے، اس موقع پر آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی " انا فتحنا لک فتحا مبینا۔۔۔۔۔۔۔ صراطا مستقیما " نبی ﷺ نے فرمایا مجھ پر دو آیتیں ایسی نازل ہوئی ہیں جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں، پھر نبی ﷺ نے ان کی تلاوت فرمائی، تو ایک مسلمان نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات۔۔۔۔۔۔۔ فوزا عظیما "
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّازَّقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ نَزَلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ مَرْجِعَنَا مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا عَلَى الْأَرْضِ ثُمَّ قَرَأَهَا عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا هَنِيئًا مَرِيئًا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَكَ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ فَمَاذَا يَفْعَلُ بِنَا فَنَزَلَتْ عَلَيْهِمْ لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ حَتَّى بَلَغَ فَوْزًا عَظِيمًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا عنقریب میری امت میں اختلاف اور تفرقہ بازی ہوگی اور ان میں سے ایک قوم ایسی نکلے گی جو قرآن پڑھتی ہوگی لیکن وہ اس کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، ان کا شعار منڈوانا اور چھوٹے بالوں کو جڑ سے اکھیڑنا ہوگا، تم انہیں جب دیکھو تو قتل کردو۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ يَخْرُجُ مِنْهُمْ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ سِيمَاهُمْ الْحَلْقُ وَالتَّسْبِيتُ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمْ فَأَنِيمُوهُمْ التَّسْبِيتُ يَعْنِي اسْتِئْصَالَ الشَّعْرِ الْقَصِيرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) نے ایک مرتبہ لوگوں سے فرمایا کیا میں تمہیں نبی ﷺ جیسی نماز نہ پڑھاؤں ؟ پھر انہوں نے عمدہ طریقے سے نماز پڑھائی اور اسے زیادہ لمبا نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا رَبَاحٌ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَلَا أُصَلِّي لَكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةً حَسَنَةً لَمْ يُطَوِّلْ فِيهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنویں میں سے پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا، نبی ﷺ کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر (رض) تھے، نبی ﷺ جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی ﷺ نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا فَحُلِبَ لَهُ دَاجِنٌ فَشَابُوا لَبَنَهَا بِمَاءِ الدَّارِ ثُمَّ نَاوَلُوهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَرِبَ وَأَبُو بَكْرٍ عَنْ يَسَارِهِ وَأَعْرَابِيٌّ عَنْ يَمِينِهِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ عِنْدَكَ وَخَشِيَ أَنْ يُعْطِيَهُ الْأَعْرَابِيَّ قَالَ فَأَعْطَاهُ الْأَعْرَابِيَّ ثُمَّ قَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، پھر کئی لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، ان کی دیکھا دیکھی بہت سے لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی، تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُرَّ بِجِنَازَةٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَثْنُوا عَلَيْهَا فَقَالُوا كَانَ مَا عَلِمْنَا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ عَلَيْهِ بِجِنَازَةٍ أُخْرَى فَقَالَ أَثْنُوا عَلَيْهَا فَقَالُوا بِئْسَ الْمَرْءُ كَانَ فِي دِينِ اللَّهِ فَقَالَ وَجَبَتْ أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
مروان " جو کہ ہند بنت مہلب کے آزاد کردہ غلام تھے " کہتے ہیں کہ مجھے ہند نے حضرت انس (رض) کے پاس اپنے کسی کام سے بھیجا تو میں نے انہیں اپنے ساتھیوں کو یہ حدیث سناتے ہوئے سنا کہ نبی ﷺ نے صوم وصال (بغیر افطاری کے مسلسل کئی دن روزہ رکھنے) سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مَرْوَانَ مَوْلَى هِنْدِ ابْنَةِ الْمُهَلَّبِ قَالَ رَوْحٌ أَرْسَلَتْنِي هِنْدٌ إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَلَمْ يَقُلْ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ أَصْحَابَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْوِصَالِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৬৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے غزوہ حنین کے دن اعلان فرما دیا کہ جو شخص کسی کافر کو قتل کرے گا، اس کا سازوسامان اسی کو ملے گا، چناچہ حضرت ابوطلحہ (رض) نے اکیس آدمیوں کو قتل کر کے ان کا سامان حاصل کیا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أَيُّوبَ الْإِفْرِيقِيُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَنْ تَفَرَّدَ بِدَمِ رَجُلٍ فَقَتَلَهُ فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ بِسَلَبِ أَحَدٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے دن حضرت ابوطلحہ (رض) نبی ﷺ کو ہنسانے کے لئے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ام سلیم کو دیکھیں کہ ان کے پاس خنجر ہے، نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ اے ام سلیم ! تم اس کا کیا کرو گی ؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ مُتَقَلِّدَةً خِنْجَرًا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَصْنَعِينَ بِهِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْهُمْ طَعَنْتُهُ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس ہدیہ کے طور پر تین پرندے آئے، نبی ﷺ نے ان میں سے ایک پرندہ اپنی ایک خادمہ کو دے دیا، اگلے دن اس نے وہی پرندہ نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں نے تمہیں اگلے دن کے لئے کوئی چیز اٹھا رکھنے سے منع نہیں کیا تھا ؟ ہر دن کا رزق اللہ خود دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي هِلَالُ بْنُ سُوَيْدٍ أَبُو مُعَلَّى قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَهُوَ يَقُولُ أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةُ طَوَائِرَ فَأَطْعَمَ خَادِمَهُ طَائِرًا فَلَمَّا كَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَتْهُ بِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَمْ أَنْهَكِ أَنْ تَرْفَعِي شَيْئًا فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْتِي بِرِزْقِ كُلِّ غَدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم میں سے جب کوئی اپنے دوست سے ملے تو کیا اس سے جھک کر مل سکتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، سائل نے پوچھا کیا اس سے چمٹ کر اسے بوسہ دے سکتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، سائل نے پوچھا کہ مصافحہ کرسکتا ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! اگر چاہے تو مصافحہ کرسکتا ہے۔
حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّدُوسِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحَدُنَا يَلْقَى صَدِيقَهُ أَيَنْحَنِي لَهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ وَيُقَبِّلُهُ قَالَ لَا قَالَ فَيُصَافِحُهُ قَالَ نَعَمْ إِنْ شَاءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ قبیلہ عکل کے آٹھ آدمی نبی ﷺ کے پاس آکر مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی ﷺ کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی ﷺ کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی ﷺ نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، نبی ﷺ نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دئیے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھر وادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَةُ نَفَرٍ مِنْ عُكْلٍ فَأَسْلَمُوا فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْتُوا إِبِلَ الصَّدَقَةِ فَيَشْرَبُوا مِنْ أَبْوَالِهَا وَأَلْبَانِهَا فَفَعَلُوا فَصَحُّوا فَارْتَدُّوا وَقَتَلُوا رُعَاتَهَا أَوْ رِعَاءَهَا وَسَاقُوهَا فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَلَبِهِمْ قَافَةً فَأُتِيَ بِهِمْ فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَلَمْ يَحْسِمْهُمْ حَتَّى مَاتُوا وَسَمَلَ أَعْيُنَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ نے عجمیوں کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا کہ وہ لوگ صرف مہر شدہ خطوط ہی پڑھتے ہیں، چناچہ نبی ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوالی، اس کی سفیدی اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے، اس پر یہ عبارت نقش تھی، " محمد رسول اللہ ﷺ "
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الْأَعَاجِمِ فَقِيلَ إِنَّهُمْ لَا يَقْبَلُونَ كِتَابًا إِلَّا بِنَقْشٍ فَاتَّخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اس کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ محبت کرتے ہو۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ قَالَ حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ مَا قَدَّمْتَ لَهَا قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کسی شخص کا ایمان اس وقت تک مستقیم نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل مستقیم نہ ہو اور دل اس وقت تک مستقیم نہیں ہوسکتا جب تک زبان مستقیم نہ ہو اور کوئی ایسا شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کا پڑوسی اس کی ایذاء رسانی سے محفوظ نہ ہو۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَسْتَقِيمُ إِيمَانُ عَبْدٍ حَتَّى يَسْتَقِيمَ قَلْبُهُ وَلَا يَسْتَقِيمُ قَلْبُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ لِسَانُهُ وَلَا يَدْخُلُ رَجُلٌ الْجَنَّةَ لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہر انسان خطاکار ہے اور بہترین خطاکار وہ لوگ ہیں جو توبہ کرنے والے ہوں اور اگر ابن آدم کے پاس مال سے بھری ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا پیٹ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ مَسْعَدَةَ الْبَاهِلِيُّ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ فَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ وَلَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى لَهُمَا ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے نبی ﷺ کی قرأت کے متعلق مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنی آواز کو کھینچا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ الْأَزْدِيُّ أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ قِرَاءَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ مَدًّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৭৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ خضاب لگاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ یہاں تک نوبت ہی نہیں آئی، نبی ﷺ کی کنپٹیوں میں چند بال سفید تھے، البتہ حضرت صدیق اکبر (رض) مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے۔
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ أَبُو أَحْمَدَ الطَّالَقَانِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ قَالَ سَمِعْتُ مَكْحُولًا يُحَدِّثُ عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمْ يَبْلُغْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الشَّيْبِ مَا يَخْضِبُ وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ حَتَّى يَقْنَأَ شَعَرُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৮০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ دین بڑا سنجیدہ اور مضبوط ہے، لہٰذا اس میں نرمی کو شامل رکھا کرو۔
قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا خَلَفٌ أَبُو الرَّبِيعِ إِمَامُ مَسْجِدِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا الدِّينَ مَتِينٌ فَأَوْغِلُوا فِيهِ بِرِفْقٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৮১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا آپس میں قطع تعلقی، بغض، پشت پھیرنا اور حسد نہ کیا کرو اور اللہ کے بندو ! بھائی بھائی بن کر رہا کرو اور کسی مسلمان کے لئے اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع کلامی کرنا حلال نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَقَاطَعُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৫৮২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے حضرت امام حسن سب سے بڑھ کر نبی کے مشابہہ تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى عَنِ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ أَشْبَهَهُمْ وَجْهًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক: