আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২০৯৬ টি
হাদীস নং: ১২৬০৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مہاجرین صحابہ (رض) نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں (انصار) ہم نے تھوڑے میں ان جیسا بہترین غمخوار اور زیادہ میں ان جیسا بہترین خرچ کرنے والا کسی قوم کو نہیں پایا، انہوں نے ہمارا بوجھ اٹھایا اور اپنی ہر چیز میں ہمیں شریک کیا، حتیٰ کہ ہم تو یہ سمجھنے لگے ہیں کہ سارا اجروثواب تو یہی لوگ لے جائیں گے، نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، جب تک تم ان کا شکریہ ادا کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے دعاء کرتے رہو گے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ الْمُهَاجِرُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ وَلَا أَحْسَنَ بَذْلًا فِي كَثِيرٍ لَقَدْ كَفَوْنَا الْمَئُونَةَ وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَإِ حَتَّى لَقَدْ حَسِبْنَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ قَالَ لَا مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ وَدَعَوْتُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں سستی، بخل اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَبِي و حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ہمارے یہاں آتے تھے اور میرے چھوٹے بھائی کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے، ایک دن نبی ﷺ نے اسے غمگین دیکھا تو فرمایا کیا بات ہے ابوعمیر ! غمگین دکھائی دے رہا ہے ؟ گھر والوں نے بتایا کہ اس کی ایک چڑیا مرگئی جس کے ساتھ یہ کھیلتا تھا، اس پر نبی ﷺ کہنے لگے اے ابوعمیر ! کیا کیا نغیر ؟ (چڑیا، جو مرگئی تھی)
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ ابْنًا لِأُمِّ سُلَيْمٍ صَغِيرًا كَانَ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ وَكَانَ لَهُ نُغَيْرٌ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهِ ضَاحَكَهُ فَرَآهُ حَزِينًا فَقَالَ مَا بَالُ أَبِي عُمَيْرٍ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَ نُغَيْرُهُ قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ يَا أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ خضاب لگاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ کی مبارک ڈاڑھی کے اگلے حصے میں صرف سترہ یا بیس بال سفید تھے اور ان پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، کسی نے پوچھا کہ کیا بڑھاپا عیب ہے ؟ انہوں نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اسے ناپسند سمجھتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ أَخَضَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَمْ يَشِنْهُ الشَّيْبُ قِيلَ أَوَشَيْنٌ هُوَ قَالَ كُلُّكُمْ يَكْرَهُهُ إِنَّمَا كَانَتْ شُعَيْرَاتٌ فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اپنے بھائی کی مدد کیا کرو، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم، کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ میں آتا ہے، ظالم کی مدد کیسے کریں ؟ فرمایا اسے ظلم کرنے سے روکو، یہی اس کی مدد ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا قَالَ تَمْنَعُهُ مِنْ الظُّلْمِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ میں تشریف لے گئے، وہاں کسی قبر سے آواز سنائی دی، نبی ﷺ نے اس کے متعلق دریافت فرمایا کہ اس قبر میں مردے کو کب دفن کیا گیا تھا لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! یہ شخص زمانہ جاہلیت میں دفن ہوا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنَخْلٍ لِبَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ صَوْتًا فَقَالَ مَا هَذَا قَالُوا قَبْرُ رَجُلٍ دُفِنَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬০৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا دجال کی بائیں آنکھ پونچھ دی گئی ہوگی، اس پر موٹی پھلی ہوگی اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان " کافر " لکھا ہوگا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الدَّجَّالَ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ الْيُسْرَى عَلَيْهَا ظَفَرَةٌ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی شخص باقی ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى لَا يُقَالَ فِي الْأَرْضِ اللَّهَ اللَّهَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی ﷺ کے اگلے چار دانت ٹوٹ گئے تھے اور آپ ﷺ کی پیشانی پر بھی زخم آیا تھا، حتیٰ کہ اس کا خون آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر بہنے لگا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا وہ قوم کیسے فلاح پائے گی جو اپنے نبی کے ساتھ یہ سلوک کرے جب کہ وہ انہیں ان کے رب کی طرف بلا رہا ہو ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ کو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں ہے کہ اللہ ان پر متوجہ ہوجائے یا انہیں سزا دے کہ وہ ظالم ہیں۔ "
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شُجَّ فِي وَجْهِهِ يَوْمَ أُحُدٍ وَكُسِرَتْ رَبَاعِيَتُهُ وَرُمِيَ رَمْيَةً عَلَى كَتِفَيْهِ فَجَعَلَ الدَّمُ يَسِيلُ عَلَى وَجْهِهِ وَهُوَ يَمْسَحُهُ عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ كَيْفَ تُفْلِحُ أُمَّةٌ فَعَلُوا هَذَا بِنَبِيِّهِمْ وَهُوَ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَأَنْزَلَ لَيْسَ لَكَ مِنْ الْأَمْرِ شَيْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر اللہ نے جب بنو ہوازن کا مال غنیمت نبی ﷺ کو عطاء فرمایا اور نبی ﷺ عیینہ اور اقرع وغیرہ کے ایک ایک یہودی کو سو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگ کہنے لگے اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کی بخشش فرمائے، کہ وہ قریش کو دیئے جا رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں جب کہ ہماری تلواروں سے ابھی تک خون کے قطرے ٹپک رہے ہیں۔ نبی ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے انصاری صحابہ (رض) کو بلا بھیجا اور فرمایا کیا تم لوگ اس بات پر خوش نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے کر چلے جائیں اور تم پیغمبر اللہ کو اپنے گھروں میں لے جاؤ، وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ ! پھر نبی ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے، اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری جانب، تو میں انصار کی وادی اور گھاٹی کو اختیار کروں گا۔ انصار میرا پردہ ہیں اور اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار ہی کا ایک فرد ہوتا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَعْطَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ الْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ مِائَةً مِنْ الْإِبِلِ فَقَالَ نَاسٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُعْطِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَنَا نَاسًا تَقْطُرُ سُيُوفُهُمْ مِنْ دِمَائِنَا أَوْ تَقْطُرُ سُيُوفُنَا مِنْ دِمَائِهِمْ فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَقَالَ هَلْ فِيكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ قَالُوا لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ أَقُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ إِلَى دِيَارِكُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَخَذَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا أَخَذْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ أَوْ شِعْبَهُمْ الْأَنْصَارُ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَلَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنْ الْأَنْصَارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میرے چچا انس بن نضر غزوہ بدر میں نبی ﷺ کے ساتھ شریک نہیں ہوسکے تھے اور اس کا انہیں افسوس تھا اور وہ کہا کرتے تھے کہ میں نبی ﷺ کے ساتھ سب سے پہلے غزوہ میں شریک نہیں ہوسکا، اگر اب اللہ نے نبی ﷺ کے ساتھ کسی غزوہ میں جانے کا موقع عطاء کیا تو اللہ دیکھے گا کہ میں کیا کرتا ہوں، چناچہ وہ غزوہ احد میں نبی ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے۔ اس موقع پر مسلمان منتشر ہوگئے تو وہ کہنے لگے یا اللہ ! میں اپنے ساتھیوں کی اس حرکت پر آپ سے عذر کرتا ہوں اور مشرکین کے اس حملے سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں، پھر وہ آگے بڑھے تو انہیں اپنے سامنے سے حضرت سعد بن معاذ (رض) آتے ہوئے دکھائی دیئے، وہ ان سے کہنے لگے کہ ابوعمرو ! کہاں جا رہے ہو ؟ بخدا ! مجھے تو احد کے پیچھے سے جنت کی خوشبو آرہی ہے، حضرت سعد (رض) نے کہا میں آپ کے ساتھ ہوں، لیکن بعد میں وہ کہتے تھے کہ جو کام سعد بن معاذ نے کردیا وہ میں نہ کرسکا اور ان کے جسم پر نیزوں، تلواروں اور تیروں کے اسی سے زیادہ نشانات پائے گئے، ہم سمجھتے تھے کہ یہ آیت حضرت سعبد بن معاذ اور ان جیسے دوسرے صحابہ (رض) کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ " کچھ لوگ وہ ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا، ان میں سے بعض تو اپنی امید پوری کرچکے اور بعض منتظر ہیں "
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ عَمَّهُ غَابَ عَنْ قِتَالِ بَدْرٍ فَقَالَ غِبْتُ مِنْ أَوَّلِ قِتَالٍ قَاتَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُشْرِكِينَ لَئِنْ اللَّهُ أَشْهَدَنِي قِتَالًا لِلْمُشْرِكِينَ لَيَرَيَنَّ اللَّهُ مَا أَصْنَعُ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْكَشَفَ الْمُسْلِمُونَ فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعْتَذِرُ إِلَيْكَ مِمَّا صَنَعَ هَؤُلَاءِ يَعْنِي أَصْحَابَهُ وَأَبْرَأُ إِلَيْكَ مِمَّا جَاءَ بِهِ هَؤُلَاءِ يَعْنِي الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَلَقِيَهُ سَعْدٌ لِأُخْرَاهَا دُونَ أُحُدٍ وَقَالَ يَزِيدُ بِبَغْدَادَ بِأُخْرَاهَا دُونَ أُحُدٍ فَقَالَ سَعْدٌ أَنَا مَعَكَ قَالَ سَعْدٌ فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَصْنَعَ مَا صَنَعَ فَوُجِدَ فِيهِ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ مِنْ بَيْنِ ضَرْبَةٍ بِسَيْفٍ وَطَعْنَةٍ بِرُمْحٍ وَرَمْيَةٍ بِسَهْمٍ قَالَ فَكُنَّا نَقُولُ فِيهِ وَفِي أَصْحَابِهِ نَزَلَتْ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کسی کے یہاں روزہ افطار کرتے تو فرماتے تمہارے یہاں روزہ داروں نے روزہ کھولا، نیکوں نے تمہارا کھانا کھایا اور رحمت کے فرشتوں نے تم پر نزول کیا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَفْطَرَ عِنْدَ أُنَاسٍ قَالَ أَفْطَرَ عِنْدَكُمْ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمْ الْأَبْرَارُ وَتَنَزَّلَتْ عَلَيْكُمْ الْمَلَائِكَةُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہ کرام (رض) نے نبی ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا کہ اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں، ہم انہیں کیا جواب دیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا صرف " وعلیکم " کہہ دیا کرو۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ومُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ قُولُوا وَعَلَيْكُمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک ہی سحری سے مسلسل کئی روزے نہ رکھا کرو، کسی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ تو اس طرح کرتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں اس معاملے میں تمہاری طرح نہیں ہوں، میرا رب مجھے کھلا پلا دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُوَاصِلُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضور نبی مکرم سرور دو عالم ﷺ نے فرمایا : دجال مدینہ منورہ کی طرف آئے گا لیکن وہاں فرشتوں کو اس کا پہرہ دیتے ہوئے پائے گا، انشاء اللہ مدینہ میں دجال داخل ہوسکے گا اور نہ ہی طاعون کی وباء۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْمَدِينَةُ يَأْتِيهَا الدَّجَّالُ فَيَجِدُ الْمَلَائِكَةَ يَحْرُسُونَهَا فَلَا يَقْرَبُهَا الدَّجَّالُ وَلَا الطَّاعُونُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جارہا تھا، نبی ﷺ نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی ﷺ نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ يَسُوقُ بَدَنَةً قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬১৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ سجدوں میں اعتدال برقرار رکھا کرو اور تم میں سے کوئی شخص کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِيَعْتَدِلْ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ وَلَا يَفْتَرِشْ ذِرَاعَيْهِ كَالْكَلْبِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا اللہ اور اس کے رسول سے محبت، نبی ﷺ نے فرمایا انسان تو اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ كَثِيرِ بْنِ خُنَيْسٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ فَقَالَ وَمَا أَعْدَدْتَ لِلسَّاعَةِ قَالَ حُبَّ اللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مرض الوفات میں مبتلاء ہوئے تو ایک موقع پر حضرت بلال (رض) نبی ﷺ کو نماز کی اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئے، دو مرتبہ کے بعد نبی ﷺ نے ان سے فرمایا بلال ! تم نے پیغام پہنچا دیا، جو چاہے نماز پڑھ لے اور جو چاہے چھوڑ دے، حضرت بلال (رض) نے پلٹ کر پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں لوگوں کو نماز کون پڑھائے گا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ابوبکر سے جا کر کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، جب حضرت ابوبکر (رض) نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو نبی ﷺ نے گھر کا پردہ ہٹایا، ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے سفید کاغذ ہو اور اس پر چادر ڈال دی گئی ہو، حضرت صدیق اکبر (رض) پیچھے ہٹنے لگے اور یہ سمجھے کہ نبی ﷺ نماز کے لئے تشریف لانا چاہتے ہیں، لیکن نبی ﷺ نے انہیں اشارے سے فرمایا کہ کھڑے رہیں اور نماز مکمل کریں، چناچہ حضرت ابوبکر (رض) ہی نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس کے بعد ہم نے نبی ﷺ کو نہیں دیکھا۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَضَهُ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ أَتَاهُ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ فَقَالَ بَعْدَ مَرَّتَيْنِ يَا بِلَالُ قَدْ بَلَّغْتَ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُصَلِّ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ فَرَجَعَ إِلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَنْ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ مُرْ أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَلَمَّا أَنْ تَقَدَّمَ أَبُو بَكْرٍ رُفِعَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّتُورُ قَالَ فَنَظَرْنَا إِلَيْهِ كَأَنَّهُ وَرَقَةٌ بَيْضَاءُ عَلَيْهِ خَمِيصَةٌ فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَأَخَّرُ وَظَنَّ أَنَّهُ يُرِيدُ الْخُرُوجَ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَقُومَ فَيُصَلِّيَ فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ بِالنَّاسِ فَمَا رَأَيْنَاهُ بَعْدُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৬২২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے نبی ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ انصار کے گھروں میں سب سے بہترین گھر کون سا ہے ؟ بنو نجار کا گھر، پھر فرمایا اس کے بعد جو لوگ سب سے بہتر ہیں ان کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، فرمایا بنو عبدالاشہل کا، پھر فرمایا اس کے بعد جو لوگ سب سے بہتر ہیں ان کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، فرمایا بنو حارث بن خزرج کا پھر فرمایا اس کے بعد جو لوگ سب سے بہتر ہیں ان کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے کہا کیوں نہیں، فرمایا بنی ساعدہ کا پھر بلند آواز کر کے فرمایا انصار کے ہر گھر میں خیر ہے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونٍَ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ دُورِ الْأَنْصَارِ قَالُوا بَلَى قَالَ دُورُ بَنِي النَّجَّارِ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ دُورُ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِالَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالُوا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ دُورُ بَنِي سَاعِدَةَ قَالَ ثُمَّ رَفَعَ صَوْتَهُ فَقَالَ فِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ
তাহকীক: