আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১২৬৪৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کی بیعت بات سننے اور ماننے کی شرط پر کی تھی اور نبی ﷺ نے اس میں " حسب طاقت " کی قید لگا دی تھی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَتَّابًا مَوْلَى ابْنِ هُرْمُزَ يَقُولُ صَحِبْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي سَفِينَةٍ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِيمَا اسْتَطَعْتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৪৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب ہم لوگ نبی ﷺ کی تدفین سے فارغ ہو کر واپس آئے تو حضرت فاطمہ (رض) فرمانے لگیں اے انس ! کیا تمہارے دلوں نے اس بات کو گوارا کرلیا کہ تم نبی ﷺ کو مٹی تلے دفن کردو اور خود واپس آجاؤ۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا دَفَنَّا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجَعْنَا قَالَتْ فَاطِمَةُ يَا أَنَسُ أَطَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ دَفَنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التُّرَابِ وَرَجَعْتُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৪৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ساتھ حضرت ام حرام (رض) کے گھر میں نماز پڑھی، نبی ﷺ مجھے اپنی دائیں جانب اور حضرت ام حرام (رض) کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا۔
حَدَّثَنَا زَيْدٌ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أُمِّ حَرَامٍ فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ وَأُمَّ حَرَامٍ خَلْفَنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৪৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کو رات کو بلا اطلاع سفر سے واپسی پر اپنے گھر نہیں آتے تھے، بلکہ صبح یا دوپہر تشریف لاتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَعَفَّانُ قَالَا أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ عَفَّانُ وَهَمَّامٌ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ ابْنُ أَخِي أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَطْرُقُ أَهْلَهُ لَيْلًا كَانَ يَقْدَمُ غُدْوَةً أَوْ عَشِيَّةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৪৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں رکوع کے بعد قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان اور عصیہ کے قبائل پر بددعاء کرتے رہے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ أَبُو الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى رِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৪৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے، پوچھا کہ یہ کیسی رسی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ فلاں خاتون کی رسی ہے، نماز پڑھتے ہوئے جب انہیں سستی یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ لیتی ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اسے کھول دو ، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو نشاط کی کیفیت برقرار رہنے تک پڑھے اور جب سستی یا تھکاوٹ محسوس ہو تو رک جائے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ فِي الْمَسْجِدِ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا فُلَانَةُ تُصَلِّي فَإِذَا غُلِبَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ لِتُصَلِّ مَا عَقَلَتْ فَإِذَا غُلِبَتْ فَلْتَنَمْض
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৪৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ مہاجرین صحابہ (رض) نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! جس قوم کے پاس ہم آئے ہیں (انصار) ہم نے تھوڑے میں ان جیسا بہترین غمخوار اور زیادہ میں ان جیسا بہترین خرچ کرنے والا کسی قوم کو نہیں پایا، انہوں نے ہمارا بوجھ اٹھایا اور اپنی ہر چیز میں ہمیں شریک کیا، حتیٰ کہ ہم تو یہ سمجھنے لگے ہیں کہ سارا اجروثواب تو یہی لوگ لے جائیں گے، نبی ﷺ نے فرمایا نہیں، جب تک تم ان کا شکریہ ادا کرتے رہو گے اور اللہ تعالیٰ سے ان کے لئے دعاء کرتے رہو گے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَتْ الْمُهَاجِرُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا رَأَيْنَا مِثْلَ قَوْمٍ قَدِمْنَا عَلَيْهِمْ أَحْسَنَ بَذْلًا مِنْ كَثِيرٍ وَلَا أَحْسَنَ مُوَاسَاةً فِي قَلِيلٍ قَدْ كَفَوْنَا الْمَئُونَةَ وَأَشْرَكُونَا فِي الْمَهْنَإِ فَقَدْ خَشِينَا أَنْ يَذْهَبُوا بِالْأَجْرِ كُلِّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلَّا مَا أَثْنَيْتُمْ عَلَيْهِمْ بِهِ وَدَعَوْتُمْ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৫০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) مدینہ منورہ میں آئے تو نبی ﷺ نے ان کے اور حضرت سعد بن ربیع (رض) کے درمیان بھائی چارہ قائم کردیا، حضرت سعد (رض) نے فرمایا کہ میں اپنا سارا مال دو حصوں میں تقسیم کرتا ہوں، نیز میری دو بیویاں ہیں، میں ان میں سے ایک کو طلاق دے دیتا ہوں، جب اس کی عدت گذر جائے تو آپ اس سے نکاح کرلیجئے، حضرت عبدالرحمن (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ آپ کے مال اور اہل خانہ کو آپ کے لئے باعث برکت بنائے، مجھے بازار کا راستہ دکھا دیجئے، چناچہ انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کو راستہ بتادیا، وہ چلے گئے، واپس آئے تو ان کے پاس کچھ پنیر اور گھی تھا جو وہ منافع میں بچا کر لائے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد نبی ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کو دیکھا تو ان پر زرد رنگ کے نشانات پڑے ہوئے تھے، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا یہ نشان کیسے ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے شادی کرلی ہے، نبی ﷺ نے پوچھا کہ مہر کتنا دیا ؟ انہوں نے بتایا کہ کجھور کی گٹھلی کے برابر سونا، نبی ﷺ نے فرمایا ولیمہ کرو، اگرچہ صرف ایک بکری ہی سے ہو۔
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ مُهَاجِرًا آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ لِي مَالٌ فَنِصْفُهُ لَكَ وَلِي امْرَأَتَانِ فَانْظُرْ أَحَبَّهُمَا إِلَيْكَ حَتَّى أُطَلِّقَهَا فَإِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا تَزَوَّجْهَا قَالَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ قَالَ فَمَا رَجَعَ يَوْمَئِذٍ حَتَّى رَجَعَ بِشَيْءٍ قَدْ أَصَابَهُ مِنْ السُّوقِ قَالَ وَفَقَدَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيَّامًا ثُمَّ أَتَاهُ وَعَلَيْهِ وَضَرُ صُفْرَةٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْيَمْ قَالَ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ مَا سُقْتَ إِلَيْهَا قَالَ نَوَاةً مِنْ ذَهَبٍ أَوْ قَالَ وَزْنَ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৫১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
محمد (رح) کہتے ہیں کہ حضرت انس (رض) جب نبی ﷺ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تو آخر میں یہ فرماتے " یا جیسے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا "۔
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ كَانَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ إِذَا حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا فَفَرَغَ مِنْهُ قَالَ أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৫২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور خلفاء ثلاثہ (رض) نماز میں قرأت کا آغاز الحمد للہ رب العالمین سے کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ قِرَاءَتَهُمْ فِي صَلَاتِهِمْ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৫৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ لوگوں میں سب سے زیادہ نماز کو مکمل اور مختصر کرنے والے تھے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ أَوْ أَتَمِّ النَّاسِ صَلَاةً وَأَوْجَزِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৫৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ سردی کے ایک دن باہر نکلے تو دیکھا کہ مہاجرین و انصار خندق کھود رہے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! اصل خیر تو آخرت کی ہی خیر ہے، پس انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، صحابہ (رض) نے جواباً یہ شعر پڑھا کہ " ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ سے جہاد پر بیعت کی ہے جب تک ہم زندہ ہیں۔ "
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُهَاجِرُونَ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ قَالَ أَنَسٌ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ خَدَمٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ قَالَ فَأَجَابُوهُ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْجِهَادِ مَا بَقِينَا أَبَدًا وَلَا نَفِرُّ وَلَا نَفِرُّ وَلَا نَفِرُّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৫৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ قبیلہ عرینہ کے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے، لیکن انہیں مدینہ منورہ کی آب و ہوا موافق نہ آئی، نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اگر تم ہمارے اونٹوں کے پاس جا کر ان کا دودھ پیو تو شاید تندرست ہوجاؤ، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، لیکن جب وہ صحیح ہوگئے تو دوبارہ مرتد ہو کر کفر کی طرف لوٹ گئے، نبی ﷺ کے مسلمان چرواہے کو قتل کردیا اور نبی ﷺ کے اونٹوں کو بھگا کرلے گئے، نبی ﷺ نے ان کے پیچھے صحابہ کو بھیجا، انہیں پکڑ کر نبی ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا، نبی ﷺ نے ان کے ہاتھ پاؤں مخالف سمت سے کٹوا دئیے، ان کی آنکھوں میں سلائیاں پھر وادیں اور انہیں پتھریلے علاقوں میں چھوڑ دیا یہاں تک کہ وہ مرگئے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَسْلَمَ نَاسٌ مِنْ عُرَيْنَةَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ خَرَجْتُمْ إِلَى ذَوْدٍ لَنَا فَشَرِبْتُمْ مِنْ أَلْبَانِهَا قَالَ حُمَيْدٌ وَقَالَ قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ وَأَبْوَالِهَا فَفَعَلُوا فَلَمَّا صَحُّوا كَفَرُوا بَعْدَ إِسْلَامِهِمْ وَقَتَلُوا رَاعِيَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُؤْمِنًا أَوْ مُسْلِمًا وَسَاقُوا ذَوْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهَرَبُوا مُحَارِبِينَ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آثَارِهِمْ فَأُخِذُوا فَقَطَّعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ وَسَمَرَ أَعْيُنَهُمْ وَتَرَكَهُمْ فِي الْحَرَّةِ حَتَّى مَاتُوا حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَدِمَ رَهْطٌ مِنْ عُرَيْنَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَوَوْا الْمَدِينَةَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَذَكَرَ أَيْضًا فِي حَدِيثِهِ قَالَ حُمَيْدٌ فَحَدَّثَ قَتَادَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ وَأَبْوَالِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৫৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی ساری نمازی قریب قریب برابر ہوتی تھیں، اسی طرح حضرت صدیق اکبر (رض) کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر (رض) نے فجر کی نماز طویل کرنا شروع فرمائی۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً وَصَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى بَسَطَ عُمَرُ فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৫৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے تھے، پھر ہم میں سے کوئی شخص بنو سلمہ کے پاس جاتا تو اس وقت بھی وہ اپنا تیر گرنے کی جگہ کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَأْتِي بَنِي سَلِمَةَ وَأَحَدُنَا يَرَى مَوَاقِعَ نَبْلِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৫৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نماز پڑھاتے ہوئے کسی بچے کے رونے کی آواز سنی اور نماز ہلکی کردی، ہم لوگ سمجھ گئے کہ نبی ﷺ نے اس کی ماں کی وجہ سے نماز کو ہلکا کردیا ہے، یہ اس بچے پر شفقت کا اظہار تھا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِذْ سَمِعَ بُكَاءَ صَبِيٍّ فَتَجَوَّزَ فِي صَلَاتِهِ فَظَنَنَّا أَنَّهُ إِنَّمَا خَفَّفَ مِنْ أَجْلِ الصَّبِيِّ أَنَّ أُمَّهُ كَانَتْ فِي الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৫৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حمید (رح) کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس (رض) سے عذاب قبر کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ اللہ کی پناہ مانگتے ہوئے کہتے تھے اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَعَوَّذُ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت ہوگیا نبی ﷺ ایک آدمی کے ساتھ مسجد میں تنہائی میں گفتگو فرما رہے تھے جس وقت آپ ﷺ نماز کے لئے اٹھے تو بعض لوگ سو چکے تھے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَعَرَضَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَهُ فَحَبَسَهُ بَعْدَمَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ حَتَّى نَعَسَ بَعْضُ الْقَوْمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی کہ نبی ﷺ اس بات کو پسند فرماتے تھے کہ مہاجرین اور انصار مل کر ان کے قریب کھڑے ہوں تاکہ مسائل نماز سیکھ لیں۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يَلِيَهُ فِي الصَّلَاةِ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ لِيَحْفَظُوا عَنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৬৬২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی کہ ایک مرتبہ نماز کا وقت قریب آگیا، اس وقت نبی ﷺ اور ازواجِ مطہرات کے درمیان کچھ تلخی ہو رہی تھی اور ازواج مطہرات ایک دوسرے کا دفاع کر رہی تھیں، اسی اثناء میں حضرت صدیق اکبر (رض) تشریف لے آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! ان کے منہ میں مٹی ڈالئے اور نماز کے لئے باہر چلئے۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَكَانَ بَيْنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ نِسَائِهِ شَيْءٌ فَجَعَلَ يَرُدُّ بَعْضُهُنَّ عَلَى بَعْضٍ فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ احْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ وَاخْرُجْ إِلَى الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক: