আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১২৭২৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں کوئی خطبہ ایسا نہیں دیا جس میں یہ نہ فرمایا ہو کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس کے پاس امانت داری نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں جس کے پاس وعدہ کی پاسداری نہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا خَطَبَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَالَ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭২৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حارثہ (رض) کی والدہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! اگر تو وہ جنت میں ہے تو میں صبر کرلوں گی، ورنہ پھر میں کثرت سے آہ وبکا کروں گی، نبی ﷺ نے فرمایا اے ام حارثہ ! جنت صرف ایک تو نہیں ہے، وہ تو بہت سی جنتیں ہیں اور حارثہ ان میں سے جنت الفردوس میں ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ حَارِثَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ كَانَ حَارِثَةُ أَصَابَ خَيْرًا وَإِلَّا أَكْثَرْتُ الْبُكَاءَ قَالَ يَا أُمَّ حَارِثَةَ إِنَّهَا جِنَانٌ كَثِيرَةٌ وَإِنَّهُ لَفِي الْفِرْدَوْسِ الْأَعْلَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭২৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کو ایک مرتبہ ایک یہودی نے جو کی روٹی اور پرانے روغن کی دعوت دی جو نبی ﷺ نے قبول فرمالی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ يَهُودِيًّا دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ فَأَجَابَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭২৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا وَيُسَمِّي وَيُكَبِّرُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭২৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی ﷺ نے فرمایا واجب ہوگئی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُرَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ وَمُرَّ بِجِنَازَةٍ فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ وَجَبَتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭২৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مرض الوفات میں مبتلاء ہوئے تو تین دن تک باہر نہیں آئے، ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی حضرت ابوبکر (رض) نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو نبی ﷺ نے گھر کا پردہ ہٹایا، ہم نے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا جیسے نبی ﷺ کا رخ تاباں کھلتا ہوا صفحہ تھا، اس وقت نبی ﷺ نے حضرت ابوبکر (رض) کو اشارے سے فرمایا کہ آگے بڑھ کر نماز مکمل کریں اور نبی ﷺ نے پردہ لٹکا لیا، پھر وصال تک نبی ﷺ نماز کے لئے نہ آسکے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمْ يَخْرُجْ إِلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَذَهَبَ أَبُو بَكْرٍ يَتَقَدَّمُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحِجَابِ فَرَفَعَهُ فَلَمَّا وَضَحَ لَنَا وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نَظَرْنَا مَنْظَرًا قَطُّ كَانَ أَعْجَبَ إِلَيْنَا مِنْ وَجْهِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَحَ لَنَا فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ أَنْ يَتَقَدَّمَ وَأَرْخَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحِجَابَ فَلَنْ يَقْدِرَ عَلَيْهِ حَتَّى مَاتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭২৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو اپنے پیچھے بٹھائے ہوئے تھے، حضرت صدیق اکبر (رض) بوڑھے اور جانے پہچانے تھے، جب کہ نبی ﷺ جوان اور غیر معروف تھے، اس لئے راستے میں اگر کوئی آدمی ملتا اور یہ پوچھتا کہ ابوبکر ! آپ کے آگے یہ کون صاحب ہیں ؟ تو وہ جواب دیتے کہ یہ مجھے راستہ دکھا رہے ہیں، سمجھنے والا یہ سمجھتا کہ نبی ﷺ انہیں راستہ دکھا رہے ہیں اور حضرت صدیق اکبر (رض) اس سے خیر کا راستہ مراد لے رہے تھے۔ ایک مرتبہ راستہ میں حضرت صدیق اکبر (رض) نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک شہسوار ان کے انتہائی قریب پہنچ چکا تھا، وہ نبی ﷺ سے کہنے لگے اے اللہ کے نبی ! یہ سوار تو ہم تک پہنچ چکا ہے، نبی ﷺ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا اے اللہ ! اسے گرا دے، اسی لمحے اس کے گھوڑے نے اسے اپنی پشت سے گرا دیا اور ہنہناتا ہوا کھڑا ہوگیا، وہ شہسوار کہنے لگا کہ اے اللہ کے نبی ! مجھے کوئی حکم دیجئے، نبی ﷺ نے فرمایا اپنی جگہ پر ہی جا کر رکو اور کسی کو ہمارے پاس پہنچنے نہ دو ، دن کے ابتدائی حصے میں وہ شخص نبی ﷺ کے خلاف کوششیں کر رہا تھا، اس طرح دن کے آخری حصے میں وہی نبی ﷺ کا ہتھیار بن گیا۔ اس طرح سفر کرتے کرتے نبی ﷺ نے پتھریلے علاقے کی جانب پہنچ کر پڑاؤ کیا اور انصار کو بلا بھیجا، وہ لوگ آئے اور دونوں حضرات کو سلام کیا اور کہنے لگے کہ امن و اطمینان کے ساتھ سوار ہو کر تشریف لے آئیے، چناچہ نبی ﷺ اور حضرت صدیق اکبر (رض) سوار ہوئے اور انصار نے ان دونوں کے گرد مسلح سپاہیوں سے حفاظتی حصار کرلیا، ادھر مدینہ منورہ میں اعلان ہوگیا کہ نبی ﷺ تشریف لے آئے ہیں، چناچہ لوگ جھانک جھانک کر نبی ﷺ کو دیکھنے اور اللہ کے نبی آگئے، کے نعرے لگانے لگے، نبی ﷺ چلتے چلتے حضرت ابو ایوب انصاری (رض) کے گھر کے پاس پہنچ کر اتر گئے۔ نبی ﷺ اہل خانہ سے باتیں کر ہی رہے تھے کہ عبداللہ بن سلام کو یہ خبر سننے کو ملی، اس وقت وہ اپنے کھجور کے باغ میں اپنے اہل خانہ کے لئے کھجوریں کاٹ رہے تھے، انہوں نے جلدی جلدی کھجوریں کاٹیں اور اپنے ساتھ ہی لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے، نبی ﷺ کی باتیں سنیں اور واپس گھر چلے گئے، ادھر نبی ﷺ نے لوگوں سے پوچھا کہ ہمارے رشتہ داروں میں سب سے زیادہ قریب کس کا گھر ہے ؟ حضرت ابو ایوب (رض) نے اپنے آپ کو پیش کیا اور عرض کیا کہ یہ میرا مکان ہے اور یہ میرا دروازہ ہے، نبی ﷺ نے فرمایا کہ پھر جا کر ہمارے لئے آرام کرنے کا انتظام کرو، حضرت ابو ایوب (رض) نے جا کر انتظام کیا اور واپس آکر کہنے لگے کہ اے اللہ کے نبی ! آرام کا انتظام ہوگیا ہے، آپ دونوں چل کر " اللہ کی برکت پر " آرام کیجئے۔ جب نبی ﷺ تشریف لائے تو ان کی خدمت میں عبداللہ بن سلام بھی حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور حق لے کر آئے ہیں، یہودی جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ابن سردار اور عالم بن عالم ہوں، آپ انہیں بلا کر ان سے پوچھئے، چناچہ وہ آئے اور نبی ﷺ نے ان سے فرمایا اے گروہ یہود ! اللہ سے ڈرو، اس اللہ کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا سچا رسول ہوں اور میں تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں، اس لئے تم اسلام قبول کرلو، انہوں نے کہا کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ أَقْبَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُرْدِفٌ أَبَا بَكْرٍ وَأَبُو بَكْرٍ شَيْخٌ يُعْرَفُ وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَابٌّ لَا يُعْرَفُ قَالَ فَيَلْقَى الرَّجُلُ أَبَا بَكْرٍ فَيَقُولُ يَا أَبَا بَكْرٍ مَنْ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْكَ فَيَقُولُ هَذَا الرَّجُلُ يَهْدِينِي إِلَى السَّبِيلِ فَيَحْسِبُ الْحَاسِبُ أَنَّهُ إِنَّمَا يَهْدِيهِ الطَّرِيقَ وَإِنَّمَا يَعْنِي سَبِيلَ الْخَيْرِ فَالْتَفَتَ أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هُوَ بِفَارِسٍ قَدْ لَحِقَهُمْ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا فَارِسٌ قَدْ لَحِقَ بِنَا قَالَ فَالْتَفَتَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُمَّ اصْرَعْهُ فَصَرَعَتْهُ فَرَسُهُ ثُمَّ قَامَتْ تُحَمْحِمُ قَالَ ثُمَّ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ مُرْنِي بِمَا شِئْتَ قَالَ قِفْ مَكَانَكَ لَا تَتْرُكَنَّ أَحَدًا يَلْحَقُ بِنَا قَالَ فَكَانَ أَوَّلُ النَّهَارِ جَاهِدًا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ آخِرُ النَّهَارِ مَسْلَحَةً لَهُ قَالَ فَنَزَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَانِبَ الْحَرَّةِ ثُمَّ بَعَثَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَاءُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِمَا وَقَالُوا ارْكَبَا آمِنَيْنِ مُطْمَئِنَّيْنِ قَالَ فَرَكِبَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَحَفُّوا حَوْلَهُمَا بِالسِّلَاحِ قَالَ فَقِيلَ بِالْمَدِينَةِ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ فَاسْتَشْرَفُوا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ وَيَقُولُونَ جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ فَأَقْبَلَ يَسِيرُ حَتَّى جَاءَ إِلَى جَانِبِ دَارِ أَبِي أَيُّوبَ قَالُوا فَإِنَّهُ لَيُحَدِّثُ أَهْلَهَا إِذْ سَمِعَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ وَهُوَ فِي نَخْلٍ لِأَهْلِهِ يَخْتَرِفُ لَهُمْ مِنْهُ فَعَجِلَ أَنْ يَضَعَ الَّذِي يَخْتَرِفُ فِيهَا فَجَاءَ وَهِيَ مَعَهُ فَسَمِعَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ بُيُوتِ أَهْلِنَا أَقْرَبُ قَالَ فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ أَنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذِهِ دَارِي وَهَذَا بَابِي قَالَ فَانْطَلِقْ فَهَيِّئْ لَنَا مَقِيلًا قَالَ فَذَهَبَ فَهَيَّأَ لَهُمَا مَقِيلًا ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَدْ هَيَّأْتُ لَكُمَا مَقِيلًا فَقُومَا عَلَى بَرَكَةِ اللَّهِ فَقِيلَا فَلَمَّا جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا وَأَنَّكَ جِئْتَ بِحَقٍّ وَلَقَدْ عَلِمَتْ الْيَهُودُ أَنِّي سَيِّدُهُمْ وَابْنُ سَيِّدِهِمْ وَأَعْلَمُهُمْ وَابْنُ أَعْلَمِهِمْ فَادْعُهُمْ فَاسْأَلْهُمْ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْيَهُودِ وَيْلَكُمْ اتَّقُوا اللَّهَ فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ إِنَّكُمْ لَتَعْلَمُونَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا وَأَنِّي جِئْتُكُمْ بِحَقٍّ أَسْلِمُوا قَالُوا مَا نَعْلَمُهُ ثَلَاثًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৩০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر مسلمان پڑھ لے گا خواہ وہ ان پڑھ ہو یا پڑھا لکھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ الْحَبْحَابِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ الْعَيْنِ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ ك ف ر يُهَجَّاهَا يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُسْلِمٍ ك ف ر
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৩১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تین سانسوں میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ طریقہ زیاہ آسان، خوشگوار اور مفید ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو عِصَامٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا وَيَقُولُ إِنَّهُ أَدْوَأُ وَأَبْرَأُ وَأَمْرَأُ قَالَ أَنَسٌ وَأَنَا أَتَنَفَّسُ ثَلَاثًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৩২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ کے بالائی حصے میں بنو عمرو بن عوف کے محلے میں پڑاؤ کیا اور وہاں چودہ راتیں مقیم رہے، پھر نبو نجار کے سرداروں کو بلا بھیجا، وہ اپنی تلواریں لٹکائے ہوئے آئے، وہ منظر اب بھی میرے سامنے ہے کہ نبی ﷺ اپنی سواری پر سوار تھے، حضرت صدیق اکبر (رض) ان کے پیچھے تھے اور بنو نجار ان کے ارد گرد تھے، یہاں تک کہ نبی ﷺ حضرت ابوایوب (رض) کے صحن میں پہنچ گئے، ابتداء جہاں بھی نماز کا وقت ہوجاتا، نبی ﷺ وہیں نماز پڑھ لیتے اور بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے تھے، پھر نبی ﷺ نے ایک مسجد تعمیر کرنے کا حکم دے دیا اور بنو نجار کے لوگوں کو بلا کر ان سے فرمایا اے بنو نجار ! اپنے اس باغ کی قیمت کا معاملہ میرے ساتھ طے کرلو، وہ کہنے لگے کہ ہم تو اس کی قیمت اللہ ہی سے لیں گے، اس وقت وہاں مشرکین کی کچھ قبریں، ویرانہ اور ایک درخت تھا، نبی ﷺ کے حکم پر مشرکین کی قبروں کو اکھیڑ دیا گیا، ویرانہ برابر کردیا گیا اور درخت کو کاٹ دیا گیا، قبلہ مسجد کی جانب درخت لگا دیا اور اس کے دروازوں کے کواڑ پتھر کے بنا دیئے، لوگ نبی ﷺ کو اینٹیں پکڑاتے تھے اور نبی ﷺ فرماتے جا رہے تھے کہ اے اللہ ! اصل خیر تو آخرت کی ہے، اے اللہ ! انصار اور مہاجرین کی نصرت فرما۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو التَّيَّاحِ يَزِيدُ بْنُ حُمَيْدٍ الضُّبَعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَزَلَ فِي عُلُوِّ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُ بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ إِنَّهُ أَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ قَالَ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ سُيُوفَهُمْ قَالَ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ فَكَانَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ثُمَّ إِنَّهُ أَمَرَ بِالْمَسْجِدِ فَأَرْسَلَ إِلَى مَلَإٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا فَقَالَ يَا بَنِي النَّجَّارِ ثَامِنُونِي حَائِطَكُمْ هَذَا فَقَالُوا وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ قَالَ وَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَ فِيهِ حَرْثٌ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ وَبِالْحَرْثِ فَسُوِّيَتْ وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ قَالَ فَصَفُّوا النَّخْلَ إِلَى قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً قَالَ وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ ذَلِكَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৩৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تمام لوگوں میں سب سے اچھے اخلاق والے تھے، میرا ایک بھائی تھا جس کا نام ابو عمیر تھا، غالباً یہ بھی فرمایا کہ اس کا دودھ چھڑا دیا گیا تھا، نبی ﷺ جب تشریف لاتے تو اس سے فرماتے ابوعمیر ! کیا ہوا نغیر، یہ ایک پرندہ تھا جس سے وہ کھیلتا تھا، بعض اوقات ہمارے گھر ہی میں نماز کا وقت ہوجاتا تو نبی ﷺ اپنے نیچے بستر کو صاف کرتے اور اس پر پانی چھڑک دینے کا حکم دیتے اور نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے، ہم لوگ پیچھے کھڑے ہوجاتے اور نبی ﷺ ہمیں نماز پڑھا دیتے، یاد رہے کہ ہمارا بستر کھجور کی شاخوں سے بنا ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو التَّيَّاحِ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا وَكَانَ لِي أَخٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو عُمَيْرٍ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ فَطِيمًا فَقَالَ وَكَانَ إِذَا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآهُ قَالَ أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ قَالَ نُغَرٌ كَانَ يَلْعَبُ بِهِ قَالَ فَرُبَّمَا تَحْضُرُهُ الصَّلَاةُ وَهُوَ فِي بَيْتِنَا فَيَأْمُرُ بِالْبِسَاطِ الَّذِي تَحْتَهُ فَيُكْنَسُ ثُمَّ يُنْضَحُ بِالْمَاءِ ثُمَّ يَقُومُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَقُومُ خَلْفَهُ فَيُصَلِّي بِنَا قَالَ وَكَانَ بِسَاطُهُمْ مِنْ جَرِيدِ النَّخْلِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৩৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں حضرت ابوطلحہ (رض) کے بیٹے عبداللہ کو لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے ؟ میں نے عرض کیا عجوہ کھجوریں ہیں، نبی ﷺ نے ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا، جسے وہ چاٹنے لگا، نبی ﷺ نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، پھر نبی ﷺ نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حِينَ وُلِدَ وَهُوَ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ وَعَلَيْهِ عَبَاءَةٌ فَقَالَ مَعَكَ تَمْرٌ فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ ثُمَّ أَوْجَرَهُنَّ إِيَّاهُ فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُ الصَّبِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৩৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تمہیں کوئی کتابی سلام کرے تو صرف علیکم کہا کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ قَتَادَةَ وَالْقَاسِمِ جَمِيعًا عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا عَلَيْكُمْ وَقَالَ الْآخَرُ وَعَلَيْكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৩৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس یمن سے لوگ آئے ہیں جو تم سے بھی زیادہ رقیق القلب ہیں اور یہی وہ پہلے لوگ ہیں جو مصافحہ کا رواج اپنے ساتھ لے کر آئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ وَهُمْ أَرَقُّ قُلُوبًا مِنْكُمْ وَهُمْ أَوَّلُ مَنْ جَاءَ بِالْمُصَافَحَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৩৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ماہ رمضان میں نبی ﷺ باہر تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھا کر چلے گئے، کافی دیر گذرنے کے بعد دوبارہ آئے اور مختصر سی نماز پڑھا کر دوبارہ واپس چلے گئے اور کافی دیر تک اندر رہے، جب صبح ہوئی تو ہم نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ ! ہم آج رات حاضر ہوئے تھے، آپ تشریف لائے اور مختصر سی نماز پڑھائی اور کافی دیر تک کے لئے گھر چلے گئے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا میں نے تمہاری وجہ سے ایسا ہی کیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا ثُمَامَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَوْهُ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ وَصَلَّى لَهُمْ فَخَفَّفَ ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ الصَّلَاةَ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى بِهِمْ ثُمَّ دَخَلَ فَأَطَالَ الصَّلَاةَ فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْنَاكَ فَفَعَلْتَ كَذَا وَكَذَا فَقَالَ مِنْ أَجْلِكُمْ فَعَلْتُ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৩৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت صدیق اکبر (رض) کو سورت برأت کے ساتھ مکہ مکرمہ کی طرف بھیجا، لیکن جب وہ ذوالحلیفہ کے قریب پہنچے تو نبی ﷺ نے انہیں کہلوایا کہ عرب کے دستور کے مطابق یہ پیغام صرف میں یا میرے اہل خانہ کو کوئی فرد ہی پہنچا سکتا ہے۔ چناچہ نبی ﷺ نے حضرت علی (رض) کو وہ پیغام دے کر بھیجا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ الْمَعْنَى عَنْ سِمَاكٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِبَرَاءَةٌ مَعَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمَّا بَلَغَ ذَا الْحُلَيْفَةِ قَالَ عَفَّانُ لَا يُبَلِّغُهَا إِلَّا أَنَا أَوْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَلِيٍّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৩৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی وفات پر حضرت ام ایمن (رض) رونے لگیں، کسی نے پوچھا کہ تم نبی ﷺ پر کیوں رو رہی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں جانتی ہوں کہ نبی ﷺ دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں، میں تو اس وحی پر رو رہی ہوں جو منقطع ہوگئی۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ أَيْمَنَ بَكَتْ لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهَا مَا يُبْكِيكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَيَمُوتُ وَلَكِنْ إِنَّمَا أَبْكِي عَلَى الْوَحْيِ الَّذِي رُفِعَ عَنَّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৪০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مسجد میں قبلہ کی جانب ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی تو اسے اپنے ہاتھ سے صاف کردیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৪১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب اہل یمن نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ ان کے ساتھ ایک آدمی بھیج دیں، جو انہیں دین کی تعلیم دے، نبی ﷺ نے ان کے ساتھ حضرت ابوعبیدہ (رض) کو بھیج دیا اور فرمایا یہ اس امت کے امین ہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا قَدِمَ أَهْلُ الْيَمَنِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا ابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا يُعَلِّمُنَا كِتَابَ رَبِّنَا وَالسُّنَّةَ قَالَ فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِ أَبِي عُبَيْدَةَ فَدَفَعَهُ إِلَيْهِمْ وَقَالَ هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৭৪২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے (حجۃ الوداع کے موقع پر) جب حلاق سے سر منڈوانے کا ارادہ کیا تو حضرت ابوطلحہ (رض) نے سر کے ایک حصے کے بال اپنے ہاتھوں میں لے لئے، پھر وہ بال ام سلیم (رض) اپنے ساتھ لے گئیں اور وہ انہیں اپنی خوشبو میں ڈال لیا کرتی تھیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يَحْلِقَ رَأْسَهُ قَبَضَ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى أَحَدِ شِقَّيْ رَأْسِهِ فَلَمَّا حَلَقَهُ الْحَجَّامُ أَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ أُمَّ سُلَيْمٍ فَجَعَلَتْ تَجْعَلُهُ فِي طِيبِهَا
tahqiq

তাহকীক: