আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১২৮৮৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ حضرت زینب بنت جحش (رض) دیگر ازواج مطہرات پر فخر کرتے ہوئے فرماتی تھیں کہ اللہ نے آسمان پر میرا نکاح نبی ﷺ سے کیا ہے، نبی ﷺ نے ان کے ولیمے میں روٹی اور گوشت کھلایا تھا، کچھ لوگ کھانا کھانے کے بعد نبی ﷺ کے گھر ہی میں بیٹھے رہے تھے، نبی ﷺ اٹھ کر چلے گئے، کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد واپس آئے تو لوگ پھر بھی بیٹھے ہوئے تھے، یہ چیز نبی ﷺ کو بڑی ناگوار لگی اور چہرہ مبارک پر اس کے آثار ظاہر ہوگئے اور اس موقع پر آیت حجاب نازل ہوگئی۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ طَهْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا قَالَ كَانَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ تَفْخَرُ عَلَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْكَحَنِي مِنْ السَّمَاءِ وَأَطْعَمَ عَلَيْهَا يَوْمَئِذٍ خُبْزًا وَلَحْمًا وَكَانَ الْقَوْمُ جُلُوسًا كَمَا هُمْ فِي الْبَيْتِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ فَلَبِثَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَلْبَثَ ثُمَّ رَجَعَ وَالْقَوْمُ جُلُوسٌ كَمَا هُمْ فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِ وَعُرِفَ فِي وَجْهِهِ فَنُزِّلَ آيَةُ الْحِجَابِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৮৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے یہاں ان کے گھر میں تھا، کہ ایک آدمی نے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو اور تمہیں وہی ملے گا جو تم نے کمایا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلَهُ رَجُلٌ مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أَمَا إِنَّهَا قَائِمَةٌ فَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ وَاللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ مِنْ كَثِيرِ عَمَلٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكَ مَا احْتَسَبْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৮৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو لکڑی کے ایک ستون کے ساتھ اپنی پشت مبارک کو سہارا دیتے تھے، لوگوں کی تعداد جب بڑھ گئی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ میرے لئے منبر بنایا، مقصد یہ تھا کہ سب تک آواز پہنچ جائے، چناچہ صحابہ (رض) نے دو سیڑھیوں کا منبر بنایا، نبی ﷺ اس ستون سے منبر پر منتقل ہوگئے، حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ انہوں نے خود اپنے کانوں سے اس تنے کے رونے کی ایسی آواز سنی جیسے گمشدہ بچہ بلک بلک کر روتا ہے اور وہ مسلسل روتا ہی رہا، یہاں تک کہ نبی ﷺ منبر سے نیچے اترے اور اس کی طرف چل کر گئے، اسے سینے سے لگایا تب جا کر وہ خاموش ہوا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا خَطَبَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ يُسْنِدُ ظَهْرَهُ إِلَى خَشَبَةٍ فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ قَالَ ابْنُوا لِي مِنْبَرًا أَرَادَ أَنْ يُسْمِعَهُمْ فَبَنَوْا لَهُ عَتَبَتَيْنِ فَتَحَوَّلَ مِنْ الْخَشَبَةِ إِلَى الْمِنْبَرِ قَالَ فَأَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّهُ سَمِعَ الْخَشَبَةَ تَحِنُّ حَنِينَ الْوَالِدِ قَالَ فَمَا زَالَتْ تَحِنُّ حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمِنْبَرِ فَمَشَى إِلَيْهَا فَاحْتَضَنَهَا فَسَكَنَتْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৮৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی خدمت میں جب خوشبو پیش کی جاتی تو آپ ﷺ اسے رد نہ فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِى طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا عُرِضَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طِيبٌ قَطُّ فَرَدَّهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৮৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کثرت سے یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ ! میں پریشانی، غم، لاچاری، سستی، بخل، بزدلی، قرضوں کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْبُخْلِ وَالْجُبْنِ وَضَلَعِ الدَّيْنِ وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৮৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حضرت ام سلیم (رض) کے گھر تشریف لا کر ان کے بستر پر سوجاتے تھے، وہ وہاں نہیں ہوتی تھیں، ایک دن نبی ﷺ حسب معمول آئے اور ان کے بستر پر سو گئے، کسی نے انہیں جا کر بتایا کہ نبی ﷺ تمہارے گھر میں تمہارے بستر پر سو رہے ہیں، چناچہ وہ گھر آئیں تو دیکھا کہ نبی ﷺ پسینے میں بھیگے ہوئے ہیں اور وہ پسینہ بستر پر بچھے ہوئے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر گر رہا ہے، انہوں نے اپنا دوپٹہ کھولا اور اس پسینے کو اس میں جذب کر کے ایک شیشی میں نچوڑنے لگیں، نبی ﷺ گھبرا کر اٹھ بیٹھے اور فرمایا ام سلیم ! یہ کیا کر رہی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم اس سے اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا تم نے صحیح کیا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ وَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ فِي بَيْتِهَا قَالَ فَأُتِيَتْ يَوْمًا فَقِيلَ لَهَا هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ عَلَى فِرَاشِكِ قَالَتْ فَجِئْتُ وَذَاكَ فِي الصَّيْفِ فَعَرِقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدَمٍ عَلَى الْفِرَاشِ فَجَعَلْتُ أُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ وَأَعْصِرُهُ فِي قَارُورَةٍ فَفَزِعَ وَأَنَا أَصْنَعُ ذَلِكَ فَقَالَ مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ أَصَبْتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৮৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت ام سلیم (رض) کے گھر میں ایک پرانی چٹائی پر " جس کا رنگ بھی پرانا ہونے کی وجہ سے بدل چکا تھا " ہمیں نماز پڑھائی، میں نے اس پر پانی کا چھڑکاؤ کردیا تھا، پھر نبی ﷺ نے سجدہ کیا۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ أُمِّ سُلَيْمٍ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ تَغَيَّرَ مِنْ الْقِدَمِ وَنَضَحَهُ بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ فَسَجَدَ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৯০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک دیہاتی آیا اور مسجد میں پیشاب کرنے لگا، صحابہ کرام (رض) نے اسے خبردار کرنے کے لئے روکا، نبی ﷺ نے فرمایا اسے مت روکو، اسے چھوڑ دو ، پھر اس کے فارغ ہونے کے بعد پانی منگوا کر اس پیشاب پر بہا دیا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى مَسْجِدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَالَ فِيهِ فَقَامَ إِلَيْهِ الْقَوْمُ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ لَا تُزْرِمُوهُ ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৯১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جس طرح نبی ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تھے میں تمہیں اس طرح نماز پڑھانے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتا، راوی کہتے ہیں کہ حضرت انس (رض) جس طرح کرتے تھے میں تمہیں اس طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھتا، بعض اوقات نبی ﷺ سجدہ یا رکوع سے سر اٹھاتے اور ان دونوں کے درمیان اتنا لمبا وقفہ فرماتے کہ ہمیں یہ خیال ہونے لگتا کہ کہیں نبی ﷺ بھول تو نہیں گئے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا قَالَ فَكَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاكُمْ تَصْنَعُونَهُ كَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّكُوعِ انْتَصَبَ قَائِمًا حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لَقَدْ نَسِيَ وَكَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السَّجْدَةِ قَعَدَ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ لَقَدْ نَسِيَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৯২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کی ملاقات حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) سے ہوئی، تو ان کے اوپر " خلوق " نامی خوشبو کے اثرات دکھائی دیئے، نبی ﷺ نے فرمایا عبدالرحمن ! یہ کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں نے ایک انصاری خاتون سے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونے کے عوض شادی کرلی ہے، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ مبارک کرے، پھر ولیمہ کرو، اگرچہ ایک بکری ہی سے ہو۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَثَرَ صُفْرَةٍ فَقَالَ مَا هَذَا قَالَ إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى وَزْنِ نَوَاةٍ مِنْ ذَهَبٍ فَقَالَ بَارَكَ اللَّهُ لَكَ أَوْلِمْ وَلَوْ بِشَاةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৯৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا کچھ بھی نہیں سوائے اس کے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو، حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ اسلام لانے کے بعد میں نے صحابہ (رض) کو اس بات سے زیادہ کسی بات پر خوش ہوتے ہوئے نہیں دیکھا، ہم نبی ﷺ اور حضرات ابوبکر و عمر (رض) سے محبت کرتے ہیں، اگرچہ ان جیسے اعمال کی طاقت نہیں رکھتے، جب ہم ان کے ساتھ ہوں گے تو یہی ہمارے لئے کافی ہے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَتَى السَّاعَةُ قَالَ وَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ لَا إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ أَنَسٌ فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحَنَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ قَالَ فَأَنَا أُحِبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَأَنَا أَرْجُو أَنْ أَكُونَ مَعَهُمْ لِحُبِّي إِيَّاهُمْ وَإِنْ كُنْتُ لَا أَعْمَلُ بِعَمَلِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৯৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حمید کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ کیا نبی ﷺ خضاب لگاتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی ﷺ پر بڑھاپے کا عیب نہیں آیا، اگر میں نبی ﷺ کی ڈاڑھی میں سفید بالوں کو گننا چاہوں تو گن سکتا ہوں، البتہ حضرت صدیق اکبر (رض) مہندی اور وسمہ کا خضاب لگاتے تھے، جب کہ حضرت عمر (رض) صرف مہندی کا خضاب لگاتے تھے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ أَنَّ أَنَسًا سُئِلَ خَضَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمْ يَبْلُغْ شَيْبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ يَخْضِبُ وَلَوْ شِئْتُ أَنْ أَعُدَّ شَمَطَاتٍ كُنَّ فِي لِحْيَتِهِ لَفَعَلْتُ وَلَكِنَّ أَبَا بَكْرٍ كَانَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ وَكَانَ عُمَرُ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৯৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے دس سال سفر وحضر میں نبی ﷺ کی خدمت کا شرف حاصل کیا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ میرا ہر کام نبی ﷺ کو پسند ہی ہو، لیکن نبی ﷺ نے مجھے کبھی اف تک نہیں کہا، نبی ﷺ نے مجھ سے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں کیا ؟ یا یہ کام کیوں نہیں کیا ؟
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَوَاللَّهِ مَا قَالَ لِي أُفٍّ قَطُّ وَلَا قَالَ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ كَذَا وَهَلَّا صَنَعْتَ كَذَا وَكَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৯৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے کوئی عنبر اور مشک یا کوئی دوسری خوشبو نبی ﷺ کی مہک سے زیادہ عمدہ نہیں سونگھی اور میں نے کوئی ریشم و دیبا، یا کوئی دوسری چیز نبی ﷺ سے زیادہ نرم نہیں چھوئی۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا مَسِسْتُ بِيَدَيَّ دِيبَاجًا وَلَا حَرِيرًا أَلْيَنَ مِنْ كَفِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا شَمِمْتُ رَائِحَةً كَانَتْ أَطْيَبَ مِنْ رَائِحَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৯৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی کہ ایک یہودی لڑکا نبی ﷺ کی خدمت کرتا تھا، ایک مرتبہ وہ بیمار ہوگیا، نبی ﷺ اس کے پاس تشریف لے گئے، وہاں اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا ہوا تھا، نبی ﷺ نے اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کی، اس نے اپنے باپ کو دیکھا، اس نے کہا ابوالقاسم ﷺ کی بات مانو، چناچہ اس لڑکے نے کلمہ پڑھ لیا، نبی ﷺ جب وہاں سے نکلے تو آپ ﷺ یہ فرما رہے تھے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے اسے میری وجہ سے جہنم سے بچا لیا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ أَنَّ غُلَامًا مِنْ الْيَهُودِ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ وَهُوَ بِالْمَوْتِ فَدَعَاهُ إِلَى الْإِسْلَامِ فَنَظَرَ الْغُلَامُ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ أَبُوهُ أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ فَأَسْلَمَ ثُمَّ مَاتَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ وَهُوَ يَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ بِي مِنْ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৯৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی کہ جس دن شراب حرام ہوئی، میں حضرت ابوطلحہ (رض) کے یہاں ان کے کچھ دوستوں کو پلا رہا تھا، ایک مسلمان آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ لوگوں کو یہ خبر نہیں ہوئی کہ شراب حرام ہوگئی، انہوں نے یہ سن کر مجھ سے کہا کہ باہر نکل کر دیکھو، میں نے باہر نکل کر دیکھا تو ایک منادی کی یہ آواز سنائی دی کہ لوگو ! شراب حرام ہوگئی، میں نے حضرت ابوطلحہ (رض) کو بتادیا، وہ کہنے لگے کہ جا کر تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو ، چناچہ میں نے جا کر اسے بہا دیا، اس موقع پر بعض لوگ کہنے لگے کہ سہیل بن بیضاء مارے گئے کیونکہ ان کے پیٹ میں شراب تھی، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی " ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ پہلے کھاپی چکے۔۔۔۔۔۔ " اس موقع پر صرف کچی اور پکی کجھور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی، یہی اس وقت شراب تھی۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتْ الْخَمْرُ قَالَ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ قَدْ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ قَالَ فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ اخْرُجْ فَانْظُرْ قَالَ فَخَرَجْتُ فَنَظَرْتُ فَسَمِعْتُ مُنَادِيًا يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ قَالَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَاذْهَبْ فَأَهْرِقْهَا قَالَ فَجِئْتُ فَأَهْرَقْتُهَا قَالَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ قُتِلَ سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ وَهِيَ فِي بَطْنِهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِلَى آخِرِ الْآيَةَ قَالَ وَكَانَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৮৯৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی " جس کا نام انجثہ تھا " امہات المومنین کی سواریوں کو ہانک رہا تھا، اس نے جانوروں کو تیزی سے ہانکنا شروع کردیا، اس پر نبی ﷺ نے فرمایا انجشہ ! ان آبگینوں کو آہستہ لے چلو۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ لَهُ وَكَانَ مَعَهُ غُلَامٌ أَسْوَدُ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ يَحْدُو قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَكَ يَا أَنْجَشَةُ رُوَيْدًا سَوْقَكَ بِالْقَوَارِيرِ ارْفُقْ بِالْقَوَارِيرِ قَالَ وَفِي حَدِيثِ أَبِي قِلَابَةَ يَعْنِي النِّسَاءَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯০০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو اپنی زوجہ محترمہ کا ایسا ولیمہ کرتے ہوئے نہیں دیکھا جیسا حضرت زینب بنت جحش (رض) کے موقع پر کیا تھا کہ اس میں نبی ﷺ نے ولیمے کے لئے بکری ذبح کروائی تھی۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ قَالَ فَأَوْلَمَ بِشَاةٍ أَوْ ذَبَحَ شَاةً
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯০১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب آیت حجاب نازل ہوگئی تب بھی میں حسب سابق ایک مرتبہ نبی ﷺ کے گھر میں داخل ہونے لگا، تو نبی ﷺ نے فرمایا بیٹا ! پیچھے رہو (اجازت لے کر اندر آؤ)
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَمُؤَمَّلٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ حَدَّثَنَا سَلْمٌ الْعَلَوِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ ذَهَبْتُ أَدْخُلُ كَمَا كُنْتُ أَدْخُلُ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَاءَكَ يَا بُنَيَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯০২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی ﷺ کی خدمت سے جب فارغ ہوا تو میں نے سوچا کہ اب نبی ﷺ قیلولہ کریں گے، چناچہ میں بچوں کے ساتھ کھیلنے نکل گیا، میں ابھی ان کا کھیل دیکھ رہا تھا کہ نبی ﷺ آگئے اور بچوں کو " جو کھیل رہے تھے " سلام کیا اور مجھے بلا کر اپنے کسی کام سے بھیج دیا اور خود ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں واپس آگیا، جب میں گھر واپس پہنچا تو حضرت ام سلیم (رض) (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی ؟ میں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کہ کیا کام تھا ؟ میں نے کہا کہ یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی ﷺ کے راز کی حفاظت کرنا، ثابت ! اگر وہ راز میں کسی سے بیان کرتا تو تم سے بیان کرتا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ حَجَرٍ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَجِّهًا إِلَى أَهْلِي فَمَرَرْتُ بِغِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ فَأَعْجَبَنِي لَعِبُهُمْ فَقُمْتُ عَلَى الْغِلْمَانِ فَانْتَهَى إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَى الْغِلْمَانِ فَسَلَّمَ عَلَى الْغِلْمَانِ ثُمَّ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَرَجَعْتُ فَخَرَجْتُ إِلَى أَهْلِي بَعْدَ السَّاعَةِ الَّتِي كُنْتُ أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ فِيهَا فَقَالَتْ لِي أُمِّي مَا حَبَسَكَ الْيَوْمَ يَا بُنَيَّ فَقُلْتُ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَقَالَتْ أَيُّ حَاجَةٍ يَا بُنَيَّ فَقُلْتُ يَا أُمَّاهُ إِنَّهَا سِرٌّ فَقَالَتْ يَا بُنَيَّ احْفَظْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِرَّهُ قَالَ ثَابِتٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَتَحْفَظُ تِلْكَ الْحَاجَةَ الْيَوْمَ أَوْ تَذْكُرُهَا قَالَ إِي وَاللَّهِ وَإِنِّي لَا أَذْكُرُهَا وَلَوْ كُنْتُ مُحَدِّثًا بِهَا أَحَدًا مِنْ النَّاسِ لَحَدَّثْتُكَ بِهَا يَا ثَابِتُ
tahqiq

তাহকীক: