আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১২৯২৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اس کی عمر میں برکت اور رزق میں اضافہ ہوجائے، اسے چاہئے کہ اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کرے اور صلہ رحمی کیا کرے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَزْمٌ عَنْ مَيْمُونِ بْنِ سِيَاهٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ وَأَنْ يُزَادَ لَهُ فِي رِزْقِهِ فَلْيَبَرَّ وَالِدَيْهِ وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯২৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جہنم مسلسل یہی کہتی رہے گی کہ کوئی اور بھی ہے تو لے آؤ، یہاں تک کہ پروردگار اس میں اپنا پاؤں لٹکا دے گا، اس وقت اس کے حصے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر سکڑ جائیں گے اور وہ کہے گی کہ تیری عزت کی قسم ! بس، بس۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ فَذَكَرَ شَيْئًا مِنْ التَّفْسِيرِ قَالَ قَوْلُهُ يَوْمَ نَقُولُ لِجَهَنَّمَ هَلْ امْتَلَأْتِ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَزَالُ جَهَنَّمُ تَقُولُ هَلْ مِنْ مَزِيدٍ حَتَّى يَضَعَ فِيهَا رَبُّ الْعِزَّةِ قَدَمَهُ فَتَقُولُ قَطْ قَطْ وَعِزَّتِكَ وَيُزْوَى بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯২৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
انس بن سیرین (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ جمعرات کے دن حضرت انس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے ہمارے لئے دسترخوان منگوایا اور کھانے کی دعوت دی، کچھ لوگوں نے کھالیا اور کچھ لوگوں نے ہاتھ روکے رکھا، پھر پیر کے دن حاضری ہوئی تو انہوں نے پھر دستر خوان منگوایا اور حسب سابق کھانے کی دعوت دی، اس مرتبہ بھی کچھ لوگوں نے کھالیا اور کچھ لوگوں نے نہ کھایا، حضرت انس (رض) نے یہ دیکھ کر فرمایا شاید تم لوگ پیر والے اور جمعرات والے ہو۔ نبی ﷺ بعض اوقات اتنے روزے رکھتے تھے کہ ہم یہ سمجھنے لگتے تھے کہ اس سال نبی ﷺ کے دل میں کوئی روزہ چھوڑنے کا ارادہ نہیں ہے اور بعض اوقات اتنا افطار فرماتے کہ ہم یہ سمجھنے لگتے کہ اس سال نبی ﷺ کے دل میں کوئی روزہ رکھنے کا ارادہ نہیں ہے اور نبی ﷺ کو ماہ شعبان میں روزہ رکھنا سب سے زیادہ پسند تھا۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ رُشَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فِي يَوْمِ خَمِيسٍ فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ فَدَعَاهُمْ إِلَى الْغَدَاءِ فَتَغَدَّى بَعْضُ الْقَوْمِ وَأَمْسَكَ بَعْضٌ ثُمَّ أَتَوْهُ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ فَفَعَلَ مِثْلَهَا فَدَعَا بِمَائِدَتِهِ ثُمَّ دَعَاهُمْ إِلَى الْغَدَاءِ فَأَكَلَ بَعْضُ الْقَوْمِ وَأَمْسَكَ بَعْضٌ فَقَالَ لَهُمْ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ لَعَلَّكُمْ اثْنَانِيُّونَ لَعَلَّكُمْ خَمِيسِيُّونَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ فَلَا يُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا فِي نَفْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفْطِرَ الْعَامَ ثُمَّ يُفْطِرُ فَلَا يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ مَا فِي نَفْسِهِ أَنْ يَصُومَ الْعَامَ وَكَانَ أَحَبُّ الصَّوْمِ إِلَيْهِ فِي شَعْبَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯২৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک لوگ مساجد کے بارے میں ایک دوسرے پر فخر نہ کرنے لگیں۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَتَبَاهَى النَّاسُ فِي الْمَسَاجِدِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯২৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
خواجہ حسن بصری (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبیداللہ بن زیاد کے سامنے کچھ لوگوں نے حوض کوثر کا تذکرہ کیا، اس نے اس کا انکار کرتے ہوئے کہا کیسا حوض ؟ حضرت انس (رض) کو پتہ چلا تو فرمایا بخدا ! میں اسے قائل کر کے رہوں گا، چناچہ وہ ابن زیاد کے پاس پہنچے اور اس سے فرمایا کیا تم لوگ حوض کوثر کا تذکرہ کر رہے تھے ؟ ابن زیاد نے پوچھا کہ کیا آپ نے نبی ﷺ کو اس کا تذکرہ کرے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! آپ ﷺ بیشمار مرتبہ فرماتے تھے کہ اس کے دونوں کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایلہ اور مکہ کے درمیان ہے (یا صنعاء اور مکہ کے درمیان ہے) اور اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد سے بھی زیادہ ہوں گے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا أَنْبَأَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ قَوْمًا ذَكَرُوا عِنْدَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْحَوْضَ فَأَنْكَرَهُ وَقَالَ مَا الْحَوْضُ فَبَلَغَ ذَلِكَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقَالَ لَا جَرَمَ وَاللَّهِ لَأَفْعَلَنَّ فَأَتَاهُ فَقَالَ ذَكَرْتُمْ الْحَوْضَ فَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهُ فَقَالَ نَعَمْ يَقُولُ أَكْثَرَ مِنْ كَذَا وَكَذَا مَرَّةً إِنَّ مَا بَيْنَ طَرَفَيْهِ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ أَوْ بَيْنَ صَنْعَاءَ وَمَكَّةَ وَإِنَّ آنِيَتَهُ أَكْثَرُ مِنْ نُجُومِ السَّمَاءِ قَالَ حَسَنٌ وَإِنَّ آنِيَتَهُ لَأَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ ذُكِرَ الْحَوْضُ عِنْدَ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَذَكَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ وَاللَّهِ لَأَفْعَلَنَّ بِهِ وَلَأَفْعَلَنَّ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯২৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تین چیزیں جس شخص میں بھی ہوں گی وہ ایمان کی حلاوت محسوس کرے گا، ایک تو یہ کہ اسے اللہ اور اس کے رسول دوسروں سے زیادہ محبوب ہوں، دوسرا یہ کہ انسان کسی سے محبت کرے تو صرف اللہ کی رضاء کے لئے اور تیسرا یہ انسان کفر سے نجات ملنے کے بعد اس میں واپس جانے کو اسی طرح ناپسند کرے جیسے آگ میں چھلانگ لگانے کو ناپسند کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ بِهِنَّ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ مَنْ كَانَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا وَرَجُلٌ يُحِبُّ رَجُلًا لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ وَرَجُلٌ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ يَهُودِيًّا نَصْرَانِيًّا قَالَ حَسَنٌ أَوْ نَصْرَانِيًّا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯২৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اسے استعمال فرماتے ہیں، صحابہ (رض) نے پوچھا کہ کیسے استعمال فرماتے ہیں ؟ نبی ﷺ نے فرمایا اسے مرنے سے پہلے عمل صالح کی توفیق عطاء فرما دیتے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا اسْتِعْمَالُهُ قَالَ يُوَفِّقُهُ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ مَوْتِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯৩০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حضرت ام سلیم (رض) کے گھر تشریف لا کر ان کے بستر پر سوجاتے تھے، وہ وہاں نہیں ہوتی تھیں، ایک دن نبی ﷺ حسب معمول آئے اور ان کے بستر پر سو گئے، وہ گھر آئیں تو دیکھا کہ نبی ﷺ پسینے میں بھیگے ہوئے ہیں، وہ روئی سے اس پسینے کو اس میں جذب کر کے ایک شیشی میں نچوڑنے لگیں اور اپنی خوشبو میں شامل کرلیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فِي بَيْتِهَا فَتَأْتِي فَتَجِدُهُ نَائِمًا وَكَانَ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ إِذَا نَامَ ذَفَّ عَرَقًا فَتَأْخُذُ عَرَقَهُ بِقُطْنَةٍ فِي قَارُورَةٍ فَتَجْعَلُهُ فِي مِسْكِهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯৩১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک درخت سے راستے میں گذرنے والوں کو اذیت ہوتی تھی، ایک آدمی نے اسے آکر ہٹا دیا، نبی ﷺ نے فرمایا میں نے جنت میں اسے درختوں کے سائے میں پھرتے ہوئے دیکھا ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ شَجَرَةً كَانَتْ عَلَى طَرِيقِ النَّاسِ كَانَتْ تُؤْذِيهِمْ فَأَتَاهَا رَجُلٌ فَعَزَلَهَا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَقَلَّبُ فِي ظِلِّهَا فِي الْجَنَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯৩২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جہنم میں ایک بندہ ایک ہزار سال تک " یا حنان یا منان " کہہ کر اللہ کو پکارتا رہے گا، اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے فرمائیں گے کہ جا کر میرے اس بندے کو لے کر آؤ، جبرائیل چلے جائیں گے، وہاں پہنچ کر وہ اہل جہنم کو ایک دوسرے کے اوپر اوندھا پڑا ہوا پائیں گے اور وہ لوگ رو رہے ہوں گے (حضرت جبرائیل (علیہ السلام) اسے پہچان نہ سکیں گے) اور واپس آکر پروردگار کو اس کی خبر دیں گے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ وہ فلاں فلاں جگہ میں ہے، اسے وہاں سے نکال کر میرے پاس لاؤ، چناچہ جبرائیل (علیہ السلام) اسے لا کر بارگاہ الٰہی میں پیش کردیں گے، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھیں گے کہ بندے ! تو نے اپنا ٹھکانہ اور آرام کرنے کی جگہ کیسی پائی ؟ وہ کہے گا پروردگار ! بدترین ٹھکانہ اور بدترین آرام گاہ، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے بندے کو واپس جہنم میں لے جاؤ، وہ عرض کرے گا کہ پروردگار ! جب آپ نے مجھے جہنم سے نکلوایا تھا تو مجھے یہ امید نہیں تھی کہ آپ دوبارہ مجھے اس میں واپس لوٹا دیں گے، اس پر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ میرے بندے کو چھوڑ دو ۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا سَلَّامٌ يَعْنِي ابْنَ مِسْكِينٍ عَنْ أَبِي ظِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ عَبْدًا فِي جَهَنَّمَ لَيُنَادِي أَلْفَ سَنَةٍ يَا حَنَّانُ يَا مَنَّانُ قَالَ فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام اذْهَبْ فَأْتِنِي بِعَبْدِي هَذَا فَيَنْطَلِقُ جِبْرِيلُ فَيَجِدُ أَهْلَ النَّارِ مُكِبِّينَ يَبْكُونَ فَيَرْجِعُ إِلَى رَبِّهِ فَيُخْبِرُهُ فَيَقُولُ ائْتِنِي بِهِ فَإِنَّهُ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا فَيَجِيءُ بِهِ فَيُوقِفُهُ عَلَى رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ لَهُ يَا عَبْدِي كَيْفَ وَجَدْتَ مَكَانَكَ وَمَقِيلَكَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ شَرَّ مَكَانٍ وَشَرَّ مَقِيلٍ فَيَقُولُ رُدُّوا عَبْدِي فَيَقُولُ يَا رَبِّ مَا كُنْتُ أَرْجُو إِذْ أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ تَرُدَّنِي فِيهَا فَيَقُولُ دَعُوا عَبْدِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯৩৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب رات کا کھانا سامنے آجائے اور نماز کھڑی ہوجائے تو پہلے کھانا کھالو۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ سِمَاكٍ يَعْنِي ابْنَ عَطِيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَفَعَهُ قَالَ إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯৩৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی ﷺ جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ نے خود پہن رکھا تھا، جب نبی ﷺ نے اسے اتارا تو کسی شخص نے آکر بتایا کہ ابن خطل خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا پھر بھی اسے قتل کردو۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى قَالَ سَمِعْتُ مَالِكًا يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ ابْنُ خَطَلٍ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯৩৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی نماز سب سے زیادہ خفیف اور مکمل ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯৩৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا گذر ایک آدمی پر ہوا جو قربانی کا جانور ہانکتے ہوئے چلا جا رہا تھا، نبی ﷺ نے اس سے سوار ہونے کے لئے فرمایا : اس نے کہا کہ یہ قربانی کا جانور ہے۔ نبی ﷺ نے دو تین مرتبہ اس سے فرمایا کہ سوار ہوجاؤ۔
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ يَسُوقُ بَدَنَةً قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا قَالَ إِنَّهَا بَدَنَةٌ قَالَ ارْكَبْهَا وَيْحَكَ أَوْ وَيْلَكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯৩৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے انصار سے فرمایا کیا تم میں تمہارے علاوہ بھی کوئی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا ایک بھانجا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا قوم کا بھانجا ان ہی میں شمار ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ أَوْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯৩৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنْ الْعَجْزِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯৩৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے دس سال تک نبی ﷺ کی خدمت کی ہے، نبی ﷺ نے اس دوران اگر مجھے کسی کا حکم دیا اور مجھے اس میں تاخیر ہوگئی یا وہ کام نہ کرسکا تو نبی ﷺ نے مجھے کبھی ملامت نہ کی، اگر اہل خانہ میں سے کوئی شخص ملامت کرتا تو آپ ﷺ فرما دیتے کہ اسے چھوڑ دو ، اگر تقدیر میں یہ کام لکھا ہوتا تو ضرور ہوجاتا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْبَصْرِيُّ الْقَصِيرُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَمَا أَمَرَنِي بِأَمْرٍ فَتَوَانَيْتُ عَنْهُ أَوْ ضَيَّعْتُهُ فَلَامَنِي فَإِنْ لَامَنِي أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ إِلَّا قَالَ دَعُوهُ فَلَوْ قُدِّرَ أَوْ قَالَ لَوْ قُضِيَ أَنْ يَكُونَ كَانَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ ثَابِتٍ حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ عِمْرَانَ الْبَصْرِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ سِنِينَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯৪০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص نماز میں کتے کی طرح اپنے ہاتھ نہ بچھائے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ أَيُّوبَ يَعْنِي الْقَصَّابَ أَبِي الْعَلَاءِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَفْتَرِشْ أَحَدُكُمْ ذِرَاعَيْهِ فِي الصَّلَاةِ كَالْكَلْبِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯৪১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا شبِ معراج میں ایسے لوگوں کے پاس سے گذرا جن کے منہ آگ کی قینچیوں سے کاٹے جا رہے تھے، میں نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ آپ کی امت کے خطباء ہیں جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے اور کتاب کی تلاوت کرتے تھے، کیا یہ سمجھتے نہ تھے۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أُسْرِيَ بِي مَرَرْتُ بِرِجَالٍ تُقْرَضُ شِفَاهُهُمْ بِمَقَارِيضَ مِنْ نَارٍ قَالَ فَقُلْتُ مَنْ هَؤُلَاءِ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَؤُلَاءِ خُطَبَاءُ مِنْ أُمَّتِكَ يَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَيَنْسَوْنَ أَنْفُسَهُمْ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلَا يَعْقِلُونَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১২৯৪২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں دس سال کا تھا، جب دنیا سے رخصت ہوئے تو بیس سال کا تھا، میری والدہ مجھے نبی ﷺ کی خدمت کی ترغیب دیا کرتی تھیں، ایک مرتبہ نبی ﷺ ہمارے گھر تشریف لائے، ہم نے ایک پالتو بکری کا دودھ دوہا اور گھر کے کنویں میں سے پانی لے کر اس میں ملایا اور نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا، نبی ﷺ کی دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر (رض) تھے، نبی ﷺ جب اسے نوش فرما چکے تو حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ یہ ابوبکر کو دے دیجئے، لیکن نبی ﷺ نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْمَاجِشُونُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ زَارَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي دَارِنَا فَحَلَبْنَا لَهُ دَاجِنًا لَنَا وَشُبْنَا لَبَنَهَا مِنْ مَاءِ الدَّارِ وَعَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ وَمِنْ وَرَاءِ الرَّجُلِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبُو بَكْرٍ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا نَزَعَ الْقَدَحَ عَنْ فِيهِ أَوْ هَمَّ بِنَزْعِهِ قَالَ لَهُ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَعْطِ أَبَا بَكْرٍ فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدَحَ الْأَعْرَابِيَّ ثُمَّ قَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ
tahqiq

তাহকীক: