আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২০৯৬ টি
হাদীস নং: ১২৯৮৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ اپنے چند صحابہ (رض) کے ساتھ کہیں جا رہے تھے، راستے میں ایک بچہ پڑا ہوا تھا، اس کی ماں نے جب لوگوں کو دیکھا تو اسے خطرہ ہوا کہ کہیں بچہ لوگوں کے پاؤں میں روندا نہ جائے، چناچہ وہ دوڑتی ہوئی " میرا بیٹا، میرا بیٹا " پکارتی ہوئی آئی اور اسے اٹھا لیا، لوگ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! یہ عورت اپنے بیٹے کو کبھی آگ میں نہیں ڈال سکتی، نبی ﷺ نے انہیں خاموش کروایا اور فرمایا اللہ بھی اپنے دوست کو آگ میں نہیں ڈالے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ صَبِيٌّ عَلَى ظَهْرِ الطَّرِيقِ فَمَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ الْقَوْمَ خَشِيَتْ أَنْ يُوطَأَ ابْنُهَا فَسَعَتْ وَحَمَلَتْهُ وَقَالَتْ ابْنِي ابْنِي قَالَ فَقَالَ الْقَوْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا وَلَا يُلْقِي اللَّهُ حَبِيبَهُ فِي النَّارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৮৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو اپنے دو بیٹوں کے کندھوں کا سہارا لے کر چلتے ہوئے دیکھا تو پوچھا یہ کیا ماجرا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے پیدل چل کر حج کرنے کی منت مانی تھی، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ اس بات سے غنی ہے کہ یہ شخص اپنے آپ کو تکلیف میں مبتلاء کرے، پھر آپ ﷺ نے اسے سوار ہونے کا حکم دیا، چناچہ وہ سوار ہوگیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ قَالَ أَنَسٌ مُرَّ بِشَيْخٍ كَبِيرٍ يُهَادَى بَيْنَ ابْنَيْهِ قَالَ فَقَالَ مَا بَالُ هَذَا قَالُوا نَذَرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَمْشِيَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ تَعْذِيبِ هَذَا نَفْسَهُ لَغَنِيٌّ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْكَبَ فَرَكِبَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৮৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی ﷺ تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا اور خود ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں واپس آگیا اور وہ پیغام پہنچا دیا جو نبی ﷺ نے دے کر مجھے بھیجا تھا، جب میں گھر واپس پہنچا تو ام سلیم (رض) (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی ؟ میں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا ؟ میں نے کہا یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی ﷺ کے راز کی حفاظت کرنا، چناچہ اس کے بعد میں نے کبھی وہ کسی کے سامنے بیان نہ کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ انْتَهَى إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي غِلْمَانٍ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ أَخَذَ بِيَدَيَّ فَأَرْسَلَنِي فِي رِسَالَةٍ وَقَعَدَ فِي ظِلِّ جِدَارٍ أَوْ فِي جِدَارٍ حَتَّى رَجَعْتُ إِلَيْهِ فَلَمَّا أَتَيْتُ أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ مَا حَبَسَكَ قَالَ قُلْتُ أَرْسَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرِسَالَةٍ قَالَتْ وَمَا هِيَ قُلْتُ إِنَّهَا سِرٌّ قَالَتْ احْفَظْ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَخْبَرْتُ بِهِ بَعْدُ أَحَدًا قَطُّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৮৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو پتہ چلا کہ دو دن ایسے ہیں جن میں لوگ زمانہ جاہلیت سے جشن مناتے آرہے ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اللہ نے ان دونوں کے بدلے میں تمہیں اس سے بہتر دن یوم الفطر اور یوم الاضحی عطاء فرمائے ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَلِأَهْلِ الْمَدِينَةِ يَوْمَانِ يَلْعَبُونَ فِيهِمَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ وَلَكُمْ يَوْمَانِ تَلْعَبُونَ فِيهِمَا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْفِطْرِ وَيَوْمَ النَّحْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৮৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) نے نبی ﷺ سے سواری کے لئے کوئی جانور مانگا، نبی ﷺ اس وقت کسی کام میں مصروف تھے، اس لئے فرما دیا کہ بخدا ! میں تمہیں کوئی سواری نہیں دوں گا، لیکن جب وہ پلٹ کر جانے لگے تو انہیں واپس بلایا اور ایک سواری مرحمت فرما دی، وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ مجھے کوئی سواری نہیں دیں گے ؟ فرمایا اب قسم کھا لیتا ہوں کہ تمہیں سواری ضرور دوں گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ يَسْتَحْمِلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَافَقَ مِنْهُ شُغْلًا فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَحْمِلُكَ فَلَمَّا قَفَّى دَعَاهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ حَلَفْتَ أَنْ لَا تَحْمِلَنِي قَالَ وَأَنَا أَحْلِفُ لَأَحْمِلَنَّكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৮৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں سستی، بڑھاپے، بزدلی، بخل، فتنہ دجال اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَعَنْ الدَّجَّالِ فَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْكَسَلِ وَالْهَرَمِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৮৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ کسی نے حضرت انس (رض) سے نبی ﷺ کی رات کی نماز اور نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم رات کے جس وقت نبی ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھنا چاہتے تھے، دیکھ سکتے تھے اور جس وقت سوتا ہوا دیکھنے کا ارادہ ہوتا تو وہ بھی دیکھ لیتے تھے، اسی طرح نبی ﷺ کسی مہینے میں اس تسلسل کے ساتھ روزے رکھتے کہ ہم یہ سوچنے لگتے کہ اب نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں چھوڑیں گے اور بعض اوقات روزے چھوڑتے تو ہم کہتے کہ شاید اب نبی ﷺ کوئی روزہ نہیں رکھیں گے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَوْمِهِ تَطَوُّعًا قَالَ كَانَ يَصُومُ مِنْ الشَّهْرِ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ مِنْهُ شَيْئًا وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا وَمَا كُنَّا نَشَاءُ أَنْ نَرَاهُ مِنْ اللَّيْلِ مُصَلِّيًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ وَلَا نَرَاهُ نَائِمًا إِلَّا رَأَيْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৯০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا یہ ماہ رمضان آگیا ہے، اس ماہ مبارک میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ ذَكَرَ الزُّهْرِيُّ عَنْ أُوَيْسِ بْنِ أَبِي أُوَيْسِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا رَمَضَانُ قَدْ جَاءَ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ النَّارِ وَتُسَلْسَلُ فِيهِ الشَّيَاطِينُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৯১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی ﷺ سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کی مٹی مشک ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی ﷺ نے فرمایا انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكَوْثَرِ فَقَالَ هُوَ نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ تُرَابُهُ الْمِسْكُ مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ تَرِدُهُ طَيْرٌ أَعْنَاقُهَا مِثْلُ أَعْنَاقِ الْجُزُرِ قَالَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا لَنَاعِمَةٌ فَقَالَ أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৯২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر ابن آدم کے پاس سونے سے بھرئی ہوئی دو وادیاں بھی ہوتیں تو وہ تیسری کی تمنا کرتا اور ابن آدم کا منہ صرف قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے اور جو توبہ کرتا ہے اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ أَحَبَّ أَنَّ لَهُ وَادِيًا ثَالِثًا وَلَمْ يَمْلَأْ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৯৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کون جا کر دیکھے گا کہ ابوجہل کا کیا بنا ؟ حضرت ابن مسعود (رض) اس خدمت کے لئے چلے گئے، انہوں نے دیکھا کہ عفراء کے دونوں بیٹوں نے اسے مار مار کر ٹھنڈا کردیا ہے، حضرت ابن مسعود (رض) نے ابوجہل کی ڈاڑھی پکڑ کر فرمایا کیا تو ہی ابوجہل ہے ؟ کیا تو ہی گمراہ بڈھا ہے ؟ اس نے کہا کیا تم نے مجھ سے بڑے بھی کسی آدمی کو قتل کیا ہے ؟
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ بَدْرٍ مَنْ يَنْظُرُ مَا فَعَلَ أَبُو جَهْلٍ قَالَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَوَجَدَ ابْنَيْ عَفْرَاءَ قَدْ ضَرَبَاهُ حَتَّى بَرَكَ قَالَ فَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَالَ آنْتَ أَبُو جَهْلٍ آنْتَ الشَّيْخُ الضَّالُّ قَالَ فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ هَلْ فَوْقَ رَجُلٍ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ قَالَ قَتَلَهُ قَوْمُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৯৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ پردہ کا جب حکم نازل ہوا، اس وقت کی کیفیت تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مجھے معلوم ہے۔ اس رات نبی ﷺ نے حضرت زینب (رض) کے ساتھ خلوت فرمائی تھی اور صبح کے وقت نبی ﷺ دولہا تھے، اس کے بعد نبی ﷺ نے لوگوں کو دعوت دی، انہوں نے آکر کھانا کھایا اور چلے گئے، لیکن کچھ لوگ وہیں بیٹھ رہے اور کافی دیر تک بیٹھے رہے حتیٰ کہ نبی ﷺ خود ہی اٹھ کر باہر چلے گئے، میں بھی باہر چلا گیا تاکہ وہ بھی چلے جائیں، نبی ﷺ اور میں چلتے ہوئے حضرت عائشہ (رض) کے حجرے کی چوکھٹ پر جا کر رک گئے، نبی ﷺ کا خیال تھا کہ شاید اب وہ لوگ چلے گئے ہوں گے، چناچہ نبی ﷺ واپس آگئے، میں بھی ہمراہ تھا، لیکن وہ لوگ ابھی تک بیٹھے ہوئے تھے، دوبارہ اسی طرح ہوا تو اس مرتبہ واقعی وہ لوگ جا چکے تھے، پھر نبی ﷺ نے اندر داخل ہو کر پردہ لٹکا لیا اور اللہ نے آیت حجاب نازل فرمادی۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ لَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ قَالَ أَنَسٌ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ ابْنَةِ جَحْشٍ قَالَ قَالَ وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَمَا قَامَ الْقَوْمُ حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَشَى وَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ قَالَ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ وَأُنْزِلَ الْحِجَابُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৯৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ پر آپ کی وفات سے قبل مسلسل وحی نازل فرمائی، تاآنکہ آپ کا وصال ہوگیا اور سب سے زیادہ وحی اس دن نازل ہوئی جس دن آپ ﷺ کا وصال ہوا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ أَكْثَرَ مَا كَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৯৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی ﷺ سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت عمر (رض) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی ﷺ نے فرمایا عمر ! انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ أَخَاهُ أَخْبَرَ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا الْكَوْثَرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ أَبْيَضُ مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ فِيهِ طُيُورٌ أَعْنَاقُهَا كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّهَا لَنَاعِمَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلُوهَا أَنْعَمُ مِنْهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৯৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب کسی قوم پر حملے کا ارادہ کرتے تو رات کو حملہ نہ کرتے بلکہ صبح ہونے کا انتظار کرتے اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کردیتے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَشِيَ قَرْيَةً بَيَاتًا لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ فَإِنْ سَمِعَ تَأْذِينًا لِلصَّلَاةِ أَمْسَكَ وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ تَأْذِينًا لِلصَّلَاةِ أَغَارَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৯৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نماز عصر نبی ﷺ سے زیادہ جلدی پڑھنے والا کوئی نہ تھا، انصار میں سے دو آدمی ایسے تھے جن کا گھر مسجد نبوی سے سب سے زیادہ دور تھا، ایک تو حضرت ابو لبابہ بن عبدالمنذر (رض) تھے جن کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے تھا اور دوسرے حضرت ابوعبس بن جبر (رض) تھے جن کا تعلق بنو حارثہ سے تھا، حضرت ابولبابہ (رض) کا گھر قباء میں تھا اور حضرت ابوعبس (رض) کا گھر بنو حارثہ میں تھا، یہ دونوں نبی ﷺ کے ساتھ نماز عصر پڑھتے اور جب اپنی قوم میں واپس پہنچتے تو انہوں نے اب تک نماز عصر نہ پڑھی ہوتی تھی کیونکہ نبی ﷺ اسے جلدی پڑھ لیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ ثُمَّ الظَّفَرِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ مَا كَانَ أَحَدٌ أَشَدَّ تَعَجُّلًا لِصَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ أَبْعَدَ رَجُلَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ دَارًا مِنْ مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَخُو بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَأَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ أَخُو بَنِي حَارِثَةَ دَارُ أَبِي لُبَابَةَ بِقُبَاءَ أَوْ دَارُ أَبِي عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ فِي بَنِي حَارِثَةَ ثُمَّ إِنْ كَانَا لَيُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلَّوْهَا لِتَبْكِيرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১২৯৯৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
زیاد بن ابی زیاد (رح) کہتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور عمر ظہر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، یہ نماز ہشام بن اسماعیل نے لوگوں کو پڑھائی تھی، کہ اس وقت مدینے کے گورنر وہی تھے، نماز پڑھ کر ہم عمرو بن عبداللہ کی مزاج پرسی کے لئے گئے، وہاں ہم بیٹھے نہیں، صرف کھڑے کھڑے ہی ان کا حال دریافت کیا، پھر حضرت انس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے، ان کا گھر حضرت ابوطلحہ (رض) کے گھر کے ساتھ تھا، ابھی ہم وہاں جا کر بیٹھے ہی تھے کہ ایک باندی ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اے ابوحمزہ ! نماز کا وقت ہوگیا ہے، ہم نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں، کون سی نماز ؟ انہوں نے فرمایا نماز عصر ہم نے عرض کیا کہ ہم تو ظہر کی نماز ابھی پڑھ کر آئے ہیں، انہوں نے فرمایا تم نے نماز کو چھوڑ دیا یہاں تک کہ تم نے اسے بھلا دیا، میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح ایک ساتھ بھیجا گیا ہے، یہ کہہ کر اپنی شہادت والی اور درمیان والی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے اسے دراز کیا۔ حدیث نمبر (١٣٥٠٩) اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ أَخْبَرَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ انْصَرَفْتُ مِنْ الظُّهْرِ أَنَا وَعُمَرُ حِينَ صَلَّاهَا هِشَامُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بِالنَّاسِ إِذْ كَانَ عَلَى الْمَدِينَةِ إِلَى عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ نَعُودُهُ فِي شَكْوَى لَهُ فَمَا قَعَدْنَا مَا سَأَلْنَا عَنْهُ إِلَّا قِيَامًا قَالَ ثُمَّ انْصَرَفْنَا فَدَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ وَهِيَ إِلَى جَنْبِ دَارِ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ فَلَمَّا قَعَدْنَا أَتَتْهُ الْجَارِيَةُ فَقَالَتْ الصَّلَاةَ يَا أَبَا حَمْزَةَ قَالَ قُلْنَا أَيُّ الصَّلَاةِ رَحِمَكَ اللَّهُ قَالَ الْعَصْرُ قَالَ فَقُلْنَا إِنَّمَا صَلَّيْنَا الظُّهْرَ الْآنَ قَالَ فَقَالَ إِنَّكُمْ تَرَكْتُمْ الصَّلَاةَ حَتَّى نَسَيْتُمُوهَا أَوْ قَالَ نُسِّيتُمُوهَا حَتَّى تَرَكْتُمُوهَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولَ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ وَمَدَّ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَخِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْكَوْثَرِ فَذَكَرَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا أَبُو أُوَيْسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَوْثَرِ مِثْلَ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ سَوَاءً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০০০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
ہمارے پاس دستیاب نسخے میں یہاں صرف لفظ " حدثنا " لکھا ہوا ہے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ مُحَمَّدٌ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الْجَابِرُ قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا غَشِيَ قَرْيَةً بَيَاتًا لَمْ يُغِرْ حَتَّى يُصْبِحَ فَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ تَأْذِينًا لِلصَّلَاةِ أَغَارَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০০১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے قبرستان جانے، تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے اور دباء، نقیر، حنتم اور مزفت میں نبیذ پینے سے منع فرمایا تھا، پھر کچھ عرصہ گذرنے کے بعد فرمایا کہ میں نے پہلے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، اب ان کے بارے میں میری رائے واضح ہوگئی ہے، میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب میری رائے یہ ہوئی ہے کہ اس سے دل نرم ہوتے ہیں، آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور آخرت کی یاد تازہ ہوتی ہے، اس لئے قبرستان جایا کرو، لیکن بےہودہ گوئی مت کرنا، اسی طرح میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اب میری رائے یہ ہوئی ہے کہ لوگ اپنے مہمانوں کو یہ گوشت تحفے کے طور پر دیتے ہیں اور غائبین کے لئے محفوظ کر کے رکھتے ہیں، اس لئے تم جب تک چاہو، اسے رکھ سکتے ہو، نیز میں نے تمہیں ان برتنوں میں نیذ پینے سے منع کیا تھا، اب تم جس برتن میں چاہو، پی سکتے ہو، البتہ کوئی نشہ آور چیز مت پینا، اب جو چاہے وہ اپنے مشکیزے کا منہ گناہ کی چیز پر بند کرلے۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الْجَابِرُ عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ مَوْلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَعَمْرِو بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ وَعَنْ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ قَالَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ أَلَا إِنِّي قَدْ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ ثُمَّ بَدَا لِي فِيهِنَّ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّهَا تُرِقُّ الْقَلْبَ وَتُدْمِعُ الْعَيْنَ وَتُذَكِّرُ الْآخِرَةَ فَزُورُوهَا وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَأْكُلُوهَا فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ ثُمَّ بَدَا لِي أَنَّ النَّاسَ يُتْحِفُونَ ضَيْفَهُمْ وَيُخَبِّئُونَ لِغَائِبِهِمْ فَأَمْسِكُوا مَا شِئْتُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ النَّبِيذِ فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا بِمَا شِئْتُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا فَمَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩০০২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ظہر کی نماز مسجد نبوی میں چار رکعت کے ساتھ پڑھی اور نماز عصر ذوالحلیفہ میں پہنچ کردو رکعتوں میں پڑھائی، اس وقت ہر طرف امن وامان تھا، حجۃ الوداع میں تو کسی قسم کا کوئی خوف نہ تھا۔
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ التَّيْمِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فِي مَسْجِدِهِ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ ثُمَّ صَلَّى بِنَا الْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ آمِنًا لَا يَخَافُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ
তাহকীক: