আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১৩১৪৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بدشگونی کی کوئی حیثیت نہیں، البتہ مجھے فال یعنی اچھا اور پاکیزہ کلمہ اچھا لگتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ بَهْزٌ فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَيُعْجِبُنِي الْفَأْلُ الْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ وَالْكَلِمَةُ الصَّالِحَةُ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৪৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ تین سانسوں میں پانی پیتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ طریقہ زیاہ آسان، خوشگوار اور مفید ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَبُو عِصَامٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَيَقُولُ إِنَّهُ أَرْوَى وَأَمْرَأُ وَأَبْرَأُ قَالَ أَنَسٌ وَأَنَا أَتَنَفَّسُ فِي الشَّرَابِ ثَلَاثًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৪৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
عبدالرحمن اصم کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس (رض) سے نماز میں تکبیر کا حکم پوچھا تو میں نے انہیں یہ جواب دیتے ہوئے سنا کہ انسان جب رکوع سجدہ کرے، سجدے سے سر اٹھائے اور دو رکعتوں کے درمیان کھڑا ہو تو تکبیر کہے، حکیم نے ان سے پوچھا کہ آپ کو یہ حدیث کس کے حوالے سے یاد ہے ؟ انہوں نے فرمایا نبی ﷺ اور حضرات ابوبکر و عمر (رض) کے حوالے سے، پھر وہ خاموش ہوگئے، حکیم نے ان سے پوچھا کہ حضرت عثمان (رض) کے حوالے سے بھی ؟ انہوں نے فرمایا جی ہاں !
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْأَصَمُّ قَالَ سُئِلَ أَنَسٌ عَنْ التَّكْبِيرِ فِي الصَّلَاةِ وَأَنَا أَسْمَعُ فَقَالَ يُكَبِّرُ إِذَا رَكَعَ وَإِذَا سَجَدَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السُّجُودِ وَإِذَا قَامَ بَيْنَ الرَّكْعَتَيْنِ قَالَ فَقَالَ لَهُ حَكِيمٌ عَمَّنْ تَحْفَظُ هَذَا قَالَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ ثُمَّ سَكَتَ قَالَ فَقَالَ لَهُ حَكِيمٌ وَعُثْمَانَ قَالَ وَعُثْمَانَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৪৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص کا ایمان نہیں جس کے پاس امانت داری نہ ہو اور اس شخص کا دین نہیں جس کے پاس وعدہ کی پاسداری نہ ہو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ الثَّقَفِيُّ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ وَلَا دِينَ لِمَنْ لَا عَهْدَ لَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৪৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مشرکین کے ساتھ اپنی جان، مال اور زبان کے ذریعے جہاد کرو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَاهِدُوا الْمُشْرِكِينَ بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَأَلْسِنَتِكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৪৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب حدیبیہ سے واپس آرہے تھے تو صحابہ کرام (رض) پر غم اور پریشانی کے آثار تھے کیونکہ انہیں عمرہ ادا کرنے سے روک دیا گیا تھا اور انہیں حدیبیہ میں ہی اپنے جانور قربان کرنے پڑے تھے، اس موقع پر آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی " انا فتحنا لک فتحا مبینا۔۔۔۔۔۔۔ صراطا مستقیما " نبی ﷺ نے فرمایا مجھ پر دو آیتیں ایسی نازل ہوئی ہیں جو مجھے ساری دنیا سے زیادہ محبوب ہیں، پھر نبی ﷺ نے ان کی تلاوت فرمائی، تو ایک مسلمان نے یہ سن کر کہا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ کو مبارک ہو کہ اللہ نے آپ کو یہ دولت عطاء فرمائی، ہمارے لئے کیا حکم ہے ؟ اس پر یہ آیت نازل ہوئی " لیدخل المومنین والمومنات جنات۔۔۔۔۔۔۔ فوزا عظیما "
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ نَزَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا إِلَى آخِرِ الْآيَةِ مَرْجِعَهُ مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ وَأَصْحَابُهُ مُخَالِطُو الْحُزْنِ وَالْكَآبَةِ فَقَالَ نَزَلَتْ عَلَيَّ آيَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا جَمِيعًا قَالَ فَلَمَّا تَلَاهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ هَنِيئًا مَرِيئًا قَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَكَ مَاذَا يَفْعَلُ بِكَ فَمَاذَا يَفْعَلُ بِنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْآيَةَ الَّتِي بَعْدَهَا لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ حَتَّى خَتَمَ الْآيَةَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৪৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت زبیر (رض) اور عبدالرحمن بن عوف (رض) نے نبی ﷺ سے جوؤں کی شکایت کی، نبی ﷺ نے انہیں ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ شَكَوَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُمَّلَ فَرَخَّصَ لَهُمَا فِي قَمِيصِ الْحَرِيرِ فِي غَزَاةٍ لَهُمَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৫০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مہینہ تک قنوت نازلہ پڑھی ہے پھر اسے ترک فرما دیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৫১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی " جس کا نام انجثہ تھا " اس کی آواز بہت اچھی تھی، نبی ﷺ نے فرمایا انچثہ ! ان آبگینوں کو آہستہ لے کر چلو۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَبَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ حَادِيًا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُقَالُ لَهُ أَنْجَشَةُ قَالَ وَكَانَ حَسَنَ الصَّوْتِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُوَيْدَكَ يَا أَنْجَشَةُ لَا تَكْسِرْ الْقَوَارِيرَ قَالَ قَتَادَةُ يَعْنِي ضَعَفَةَ النِّسَاءِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৫২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک درزی نے کھانے پر نبی ﷺ کو بلایا، وہ کھانا لے کر حاضر ہوا تو اس میں پرانا روغن اور کدو تھا، میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ پیالے میں کدو تلاش کر رہے ہیں، اس وقت سے مجھے بھی کدو پسند آنے لگا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسٌ أَنَّ خَيَّاطًا بِالْمَدِينَةِ دَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامِهِ قَالَ فَإِذَا خُبْزُ شَعِيرٍ بِإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ وَإِذَا فِيهَا قَرْعٌ قَالَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ قَالَ أَنَسٌ لَمْ يَزَلْ الْقَرْعُ يُعْجِبُنِي مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৫৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے سامنے جب بھی قصاص کا کوئی معاملہ پیش ہوا تو آپ ﷺ نے اس میں معاف کرنے کی ترغیب ہی دی۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ يَعْنِي الْمُزَنِيَّ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَعْنِي ابْنَ أَبِي مَيْمُونَةَ يُحَدِّثُ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُرْفَعْ إِلَيْهِ قِصَاصٌ قَطُّ إِلَّا أَمَرَ بِالْعَفْوِ قَالَ ابْنُ بَكْرٍ كُنْتُ أُحَدِّثُهُ عَنْ أَنَسٍ فَقَالُوا لَهُ عَنْ أَنَسٍ لَا شَكَّ فِيهِ فَقُلْتُ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৫৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نماز کھڑی ہوئی تو ایک آدمی تیزی سے آیا، اس کا سانس پھولا ہوا تھا، صف تک پہنچ کر وہ کہنے لگا " الحمد للہ حمدا کثیر طیبا مبارکا فیہ " نبی ﷺ نے نماز سے فارغ ہو کر پوچھا کہ تم میں سے کون بولا تھا ؟ اس نے اچھی بات کہی تھی، چناچہ وہ آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! میں بولا تھا، میں تیزی سے آرہا تھا اور صف کے قریب پہنچ کر میں نے یہ جملہ کہا تھا، نبی ﷺ نے فرمایا میں نے بارہ فرشتوں کو اس کی طرف تیزی سے بڑھتے ہوئے دیکھا کہ کون اس جملے کو پہلے اٹھاتا ہے، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز کے لئے آئے تو سکون سے چلے، جتنی نماز مل جائے سو پڑھ لے اور جو رہ جائے اسے قضاء کرلے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ وَثَابِتٌ وَحُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ فَدَخَلَ الصَّفَّ وَقَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ فَقَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَالَ أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ بِالْكَلِمَاتِ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ أَيُّكُمْ الْمُتَكَلِّمُ بِهَا فَإِنَّهُ لَمْ يَقُلْ إِلَّا خَيْرًا فَقَالَ الرَّجُلُ جِئْتُ وَقَدْ حَفَزَنِي النَّفَسُ فَقُلْتُهَا فَقَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ اثْنَيْ عَشَرَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَرْفَعُهَا وَزَادَ حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ فَلْيَمْشِ عَلَى نَحْوِ مَا كَانَ يَمْشِي فَلْيُصَلِّ مَا أَدْرَكَ وَلْيَقْضِ مَا سَبَقَهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَالْإِرْمَامُ السُّكُوتُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৫৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ صحابہ کرام (رض) خندق کھودتے ہوئے یہ شعر پڑھتے جا رہے تھے کہ ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد ﷺ کے دست حق پرست پر مرنے تک کے لئے اسلام کی یقینی بیعت کی ہے اور نبی ﷺ جواباً یہ جملہ کہتے تھے کہ اے اللہ ! اصل خیر تو آخرت کی خیر ہے، پس تو انصار اور مہاجرین کو معاف فرما، پھر نبی ﷺ کے پاس جو کی روٹی لائی گئی جس پر سنا ہوا روغن رکھا تھا، صحابہ (رض) نے اسی کو تناول فرمالیا اور نبی ﷺ فرمانے لگے کہ اصل بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَقُولُونَ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَى الْإِسْلَامِ مَا بَقِينَا أَبَدًا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ وَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخُبْزِ شَعِيرٍ عَلَيْهِ إِهَالَةٌ سَنِخَةٌ فَأَكَلُوا مِنْهَا وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا الْخَيْرُ خَيْرُ الْآخِرَهْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৫৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے مسجد میں قبلہ کی جانب ناک کی ریزش لگی ہوئی دیکھی تو اسے اپنے ہاتھ سے صاف کردیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا بِيَدِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৫৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کبھی کبھار اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس ایک ہی رات میں ایک ہی غسل سے جایا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ أَجْمَعَ هَكَذَا وَرُبَّمَا قَالَ حَمَّادٌ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৫৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ احد کے دن نبی ﷺ کی دعاء یہ تھی کہ اے اللہ ! کیا تو یہ چاہتا ہے کہ آج کے بعد تیری عبادت نہ کی جائے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَنْبَأَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ اللَّهُمَّ إِنَّكَ إِنْ تَشَأْ لَا تُعْبَدْ فِي الْأَرْضِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৫৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب روزہ رکھتے تو لوگ ایک دوسرے کو مطلع کردیتے کہ نبی ﷺ نے روزہ کی نیت کرلی ہے اور جب افطاری کرتے تب بھی لوگ ایک دوسرے کو مطلع کرتے تھے کہ نبی ﷺ نے روزہ کھول لیا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَصُومُ حَتَّى يُقَالَ قَدْ صَامَ وَيُفْطِرُ حَتَّى يُقَالَ قَدْ أَفْطَرَ وَقَدْ قَالَ مَرَّةً أَفْطَرَ أَفْطَرَ أَفْطَرَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ مِثْلَ هَذَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৬০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دشمن پر طلوع فجر کے وقت حملے کی تیاری کرتے تھے اور کان لگا کر سنتے تھے، اگر وہاں سے اذان کی آواز سنائی دیتی تو رک جاتے ورنہ حملہ کردیتے، ایک دن اسی طرح نبی ﷺ نے کان لگا کر سنا تو ایک آدمی کے اللہ اکبر اللہ اکبر کہنے کی آواز سنائی دی، نبی ﷺ نے فرمایا فطرتِ سلیمہ پر ہے، پھر جب اس نے اشھدان لا الہ الا اللہ کہا تو فرمایا کہ تو جہنم کی آگ سے نکل گیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُغِيرُ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ فَكَانَ يَسْتَمِعُ فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا أَمْسَكَ وَإِلَّا أَغَارَ فَاسْتَمَعَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ عَلَى الْفِطْرَةِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ خَرَجْتَ مِنْ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৬১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جب اپنے بستر پر تشریف لاتے تو یوں کہتے کہ اس اللہ کا شکر ہے جس نے ہمیں کھلایا پلایا، ہماری کفایت کی اور ٹھکانہ دیا، کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کی کوئی کفایت کرنے والا یا انہیں ٹھکانہ دینے والا کوئی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا وَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩১৬২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اسی دوران نبی ﷺ تشریف لے آئے اور ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے کسی کام سے بھیج دیا، جب میں گھر واپس پہنچا تو ام سلیم (رض) (میری والدہ) کہنے لگیں کہ اتنی دیر کیوں لگا دی ؟ میں نے بتایا کہ نبی ﷺ نے اپنے کسی کام سے بھیجا تھا، انہوں نے پوچھا کیا کام تھا ؟ میں نے کہا یہ ایک راز ہے، انہوں نے کہا کہ پھر نبی ﷺ کے راز کی حفاظت کرنا، بخدا ! اے ثابت ! اگر میں وہ کسی سے بیان کرتا تو تم سے بیان کرتا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَرَّ بِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا ثُمَّ دَعَانِي فَبَعَثَنِي إِلَى حَاجَةٍ لَهُ فَجِئْتُ وَقَدْ أَبْطَأْتُ عَنْ أُمِّي فَقَالَتْ مَا حَبَسَكَ أَيْنَ كُنْتَ فَقُلْتُ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حَاجَةٍ فَقَالَتْ أَيْ بُنَيَّ وَمَا هِيَ فَقُلْتُ إِنَّهَا سِرٌّ قَالَتْ لَا تُحَدِّثْ بِسِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ يَا ثَابِتُ لَوْ كُنْتُ حَدَّثْتُ بِهِ أَحَدًا لَحَدَّثْتُكَ
tahqiq

তাহকীক: