আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ২০৯৬ টি
হাদীস নং: ১৩১৮৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کے ایسے ولیمے میں بھی شرکت کی ہے جس میں روٹی تھی اور نہ گوشت۔
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا سَلَّامٌ عَنْ عُمَرَ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ شَهِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً مَا فِيهَا خُبْزٌ وَلَا لَحْمٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৮৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمارے لئے مونچھیں کاٹنے، ناخن تراشنے اور زیر ناف بال صاف کرنے کی مدت چالیس دن مقرر فرمائی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا صَدَقَةُ صَاحِبُ الدَّقِيقِ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ وَقَّتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَصِّ الشَّارِبِ وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ وَحَلْقِ الْعَانَةِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৮৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے جب وہ جل کو کوئلہ بن جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کردیا جائے گا، اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں۔ حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب جنتی انہیں دیکھیں گے تو کہیں گے کہ یہ جہنمی ہیں۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ نَاسٌ النَّارَ حَتَّى إِذَا صَارُوا فَحْمًا أُدْخِلُوا الْجَنَّةَ فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مَنْ هَؤُلَاءِ فَيُقَالُ هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ سَمِعْتُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَبْصَرَهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ قَالُوا هَؤُلَاءِ الْجَهَنَّمِيُّونَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৮৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ اور خلفاء ثلاثہ کے ساتھ نماز پڑھی ہے، یہ حضرات نماز میں قرأت کا آغاز " الحمدللہ رب العالمین " سے کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ كَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الْقِرَاءَةَ بِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৮৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دو چتکبرے سینگ دار مینڈھے قربانی میں پیش کرتے تھے اور اللہ کا نام لے کر تکبیر کہتے تھے، میں نے دیکھا کہ نبی ﷺ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتے تھے اور ان کے پہلو پر اپنا پاؤں رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ وَيُكَبِّرُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُمَا يَذْبَحُهُمَا بِيَدِهِ وَاضِعًا قَدَمَهُ عَلَى صِفَاحِهِمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৮৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) اور حضرت زبیر بن عوام (رض) کو جوؤں کی وجہ سے ریشمی کپڑے پہننے کی اجازت مرحمت فرما دی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ رَخَّصَ أَوْ أَرْخَصَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ فِي لُبْسِ الْحَرِيرِ مِنْ حِكَّةٍ كَانَتْ بِهِمَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৮৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس قبیلہ رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے کچھ لوگ آئے اور یہ ظاہر کیا کہ وہ اسلام قبول کرچکے ہیں اور نبی ﷺ سے اپنی قوم پر تعاون کا مطالبہ کیا، نبی ﷺ نے ان کے ساتھ ستر انصاری صحابہ (رض) تعاون کے لئے بھیج دیئے، حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ ہم انہیں " قراء " کہا کرتے تھے، یہ لوگ دن کو لکڑیاں کاٹتے اور رات کو نماز میں گذار دیتے تھے، وہ لوگ ان تمام حضرات کو لے کر روانہ ہوگئے، راستے میں جب بیر معونہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے صحابہ کرام (رض) کے ساتھ دھوکہ کیا اور انہیں شہید کردیا، نبی ﷺ کو پتہ چلا تو آپ ﷺ نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں قنوت نازلہ پڑھی اور رعل، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے قبائل پر دعاء کرتے رہے۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ ان صحابہ (رض) کے یہ جملے کہ " ہماری قوم کو ہماری طرف سے یہ پیغام پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے مل چکے، وہ ہم سے راضی ہوگیا اور ہمیں بھی راضی کردیا " ایک عرصے تک قرآن کریم میں پڑھتے رہے، بعد میں ان کی تلاوت منسوخ ہوگئی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ إِمْلَاءً عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رِعْلًا وَعُصَيَّةَ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ أَسْلَمُوا وَاسْتَمَدُّوا عَلَى قَوْمِهِمْ فَأَمَدَّهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعِينَ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ كُنَّا نُسَمِّيهِمْ الْقُرَّاءَ فِي زَمَانِهِمْ كَانُوا يَحْتَطِبُونَ بِالنَّهَارِ وَيُصَلُّونَ بِاللَّيْلِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِبِئْرِ مَعُونَةَ غَدَرُوا بِهِمْ فَقَتَلُوهُمْ فَقَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى هَذِهِ الْأَحْيَاءِ عُصَيَّةَ وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ و حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّا قَرَأْنَا بِهِمْ قُرْآنًا بَلِّغُوا عَنَّا قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ فَرَضِيَ عَنَّا وَأَرْضَانَا ثُمَّ نُسِخَ أَوْ رُفِعَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৯০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! قیامت کب قائم ہوگی ؟ نبی ﷺ نے فرمایا تم نے قیامت کے لئے کیا تیاری کر رکھی ہے ؟ اس نے کہا میں نے کوئی بہت زیادہ اعمال، نماز، روزہ تو مہیا نہیں کر رکھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تم اسی کے ساتھ ہوگے جس سے تم محبت کرتے ہو۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ قَرِيبًا مِنْهُ أَتَاهُ شَيْخٌ أَوْ رَجُلٌ فَقَالَ مَتَى السَّاعَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا أَعْدَدْتَ لَهَا قَالَ الرَّجُلُ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا مَا أَعْدَدْتُ لَهَا مِنْ كَثِيرِ عَمَلٍ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ وَلَكِنِّي أَحَبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ قَالَ أَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৯১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جب نبی ﷺ نے میدان منیٰ میں سر منڈوانے ک ارادہ کیا تو پہلے سر کا داہنا حصہ آگے کیا اور فارغ ہو کر وہ بال مجھے دے کر فرمایا انس ! یہ ام سلیم کے پاس لے جاؤ، جب لوگوں نے دیکھا کہ نبی ﷺ نے خصوصیت کے ساتھ اپنے بال حضرت ام سلیم (رض) کو بھجوائے ہیں تو دوسرے حصے کے بال حاصل کرنے میں وہ ایک دوسرے سے مسابقت کرنے لگے، کسی کے حصے میں کچھ آگئے اور کسی کے حصے میں کچھ آگئے۔
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَهِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ بِمِنًى أَخَذَ شِقَّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنَ بِيَدِهِ فَلَمَّا فَرَغَ نَاوَلَنِي فَقَالَ يَا أَنَسُ انْطَلِقْ بِهَذَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ فَلَمَّا رَأَى النَّاسُ مَا خَصَّهَا بِهِ مِنْ ذَلِكَ تَنَافَسُوا فِي الشِّقِّ الْآخَرِ هَذَا يَأْخُذُ الشَّيْءَ وَهَذَا يَأْخُذُ الشَّيْءَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَحَدَّثْتُهُ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيَّ فَقَالَ لَأَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْهُ شَعَرَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ أَصْبَحَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ وَفِي بَطْنِهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৯২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نو سال تک نبی ﷺ کی خدمت کی، میں نے جس کام کو کرلیا ہو، نبی ﷺ نے کبھی مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے بہت برا کیا، یا غلط کیا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَدَمْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ سِنِينَ فَمَا قَالَ لِي قَطُّ لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ قَطُّ أَسَأْتَ وَلَا بِئْسَ مَا صَنَعْتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৯৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے کتنے حج کئے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ چار مرتبہ، ایک عمرہ تو حدیبیہ کے زمانے میں، دوسرا ذیقعدہ کے مہینے میں مدینہ سے، تیسرا عمرہ ذیقعدہ ہی کے مہینے میں جعرانہ سے جب آپ ﷺ نے غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تھا اور چوتھا عمرہ حج کے ساتھ کیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسًا كَمْ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اعْتَمَرَ أَرْبَعًا عُمْرَتَهُ الَّتِي صَدَّهُ الْمُشْرِكُونَ عَنْهَا فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَتَهُ أَيْضًا مِنْ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَتَهُ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ مِنْ الْجِعِرَّانَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَتَهُ مَعَ حَجَّتِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৯৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوطلحہ (رض) بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے ؟ اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ " تم نیکی کا اعلیٰ درجہ اس وقت تک حاصل نہیں کرسکتے جب تک کہ اپنی محبوب چیز نہ خرچ کردو " اور مجھے اپنے سارے مال میں " بیر حاء " سب سے زیادہ محبوب ہے، میں اسے اللہ کے نام پر صدقہ کرتا ہوں اور اللہ کے یہاں اس کی نیکی اور ثواب کی امید رکھتا ہوں، نبی ﷺ نے فرمایا واہ ! یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے، یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے، پھر انہوں نے وہ باغ لوگوں میں تقسیم کردیا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاذَا تَرَى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَإِنَّهُ لَيْسَ لِي مَالٌ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ أَرْضِي بَيْرُحَاءَ وَإِنِّي أَتَقَرَّبُ بِهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَخٍ بَخٍ بَيْرُحَاءُ خَيْرٌ رَابِحٌ فَقَسَمَهَا بَيْنَهُمْ حَدَائِقَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৯৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
ابولبید (رح) نے مازہ بن زیار (رض) سے بیان کیا کہ میں نے حجاج بن یوسف کے زمانے میں اپنے گھوڑے کو بھیجا اور سوچا کہ ہم بھی گھڑ دوڑ کی شرط میں حصہ لیتے ہیں، پھر ہم نے سوچا کہ پہلے حضرت انس (رض) سے جا کر پوچھ لیتے ہیں کہ کیا آپ لوگ بھی نبی ﷺ کے زمانے میں گھڑ دوڑ پر شرط لگایا کرتے تھے ؟ چناچہ ہم نے ان کے پاس آکر ان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا ہاں ! ایک مرتبہ انہوں نے اپنے ایک گھوڑے پر " جس کا نام سبحہ تھا " گھڑ دوڑ میں حصہ لیا تھا اور وہ سب سے آگے نکل گیا تھا، جس سے انہیں تعجب ہوا تھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ عَنْ أَبِي لَبِيدٍ قَالَ أُرْسِلَتْ الْخَيْلُ زَمَنَ الْحَجَّاجِ وَالْحَكَمُ بْنُ أَيُّوبَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَصْرَةِ قَالَ فَأَتَيْنَا الرِّهَانَ فَلَمَّا جَاءَتْ الْخَيْلُ قُلْنَا لَوْ مِلْنَا إِلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَسَأَلْنَاهُ أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَاهُ وَهُوَ فِي قَصْرِهِ فِي الزَّاوِيَةِ فَسَأَلْنَاهُ فَقُلْنَا يَا أَبَا حَمْزَةَ أَكُنْتُمْ تُرَاهِنُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرَاهِنُ قَالَ نَعَمْ وَاللَّهِ لَقَدْ رَاهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ سَبْحَةٌ فَسَبَقَ النَّاسَ فَانْتَشَى لِذَلِكَ وَأَعْجَبَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৯৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ ایک مرتبہ مسجد میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ دو ستونوں کے درمیان ایک رسی لٹک رہی ہے، پوچھا یہ کیسی رسی ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ زینب کی رسی ہے، نماز پڑھتے ہوئے جب انہیں سستی یا تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے تو وہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو باندھ لیتی ہیں، نبی ﷺ نے فرمایا اسے کھول دو ، پھر فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے تو نشاط کی کیفیت برقرار رہنے تک پڑھے اور جب سستی یا تھکاوٹ محسوس ہو تو رک جائے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي الْمَسْجِدِ حَبْلًا مَمْدُودًا بَيْنَ سَارِيَتَيْنِ فَقَالَ مَا هَذَا الْحَبْلُ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِحَمْنَةَ بِنْتِ جَحْشٍ تُصَلِّي فَإِذَا أَعْيَتْ تَعَلَّقَتْ بِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِتُصَلِّ مَا أَطَاقَتْ فَإِذَا أَعْيَتْ فَلْتَجْلِسْ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৯৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تہبند نصف پنڈلی تک ہونا چاہئے، جب نبی ﷺ نے دیکھا کہ مسلمانوں کو اس سے پریشانی ہو رہی ہے تو فرمایا ٹخنوں تک کرلو، اس سے نیچے ہونے میں کوئی خیر نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ كَأَنَّهُ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْإِزَارُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَقَالَ أَوْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ وَلَا خَيْرَ فِي أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৯৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ قحط سالی ہوئی، جمعہ کے دن نبی ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! مال تباہ ہو رہے ہیں اور بچے بھوکے ہیں، اللہ سے دعاء کر دیجئے کہ وہ ہمیں پانی سے سیراب کر دے، نبی ﷺ نے یہ سن کر اپنے ہاتھ بلند کئے اور نبی ﷺ نے طلب باراں کے حوالے سے دعاء فرمائی، جس وقت آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک بلند کئے تھے اس وقت ہمیں آسمان پر کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا، اس وقت پہاڑوں جیسے بادل آئے اور نبی ﷺ منبر سے نیچے اترنے بھی نہیں پائے تھے کہ ہم نے آپ ﷺ کی ڈاڑھی مبارک پر بارش کا پانی ٹپکتے ہوئے دیکھا۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ أَصَابَ النَّاسَ سَنَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكَ الْمَالُ وَجَاعَ الْعِيَالُ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَيْهِ وَمَا تُرَى فِي السَّمَاءِ قَزَعَةٌ فَثَارَ سَحَابٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ ثُمَّ لَمْ يَنْزِلْ عَنْ مِنْبَرِهِ حَتَّى رَأَيْنَا الْمَطَرَ يَتَحَادَرُ عَلَى لِحْيَتِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩১৯৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان تو بوڑھا ہوجاتا ہے لیکن دو چیزیں اس میں ہمیشہ رہتی ہیں، ایک حرص اور ایک امید۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ الْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ وَالْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩২০০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا بعض اوقات ایک شخص ساری زندگی یا ایک طویل عرصہ تک اپنے نیک اعمال پر گذار دیتا ہے کہ اگر اسی حال میں فوت ہوجائے تو جنت میں داخل ہوجائے لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوتی ہے اور وہ گناہوں میں مبتلاء ہوجاتا ہے، اسی طرح ایک آدمی ایک طویل عرصے تک ایسے گناہوں میں مبتلاء رہتا ہے کہ اگر اسی حال میں مرجائے تو جہنم میں داخل ہو، لیکن پھر اس میں تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ نیک اعمال میں مصروف ہوجاتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ عُمُرِهِ بِالْعَمَلِ الَّذِي لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ فَمَاتَ فَدَخَلَ النَّارَ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ الْبُرْهَةَ مِنْ عُمُرِهِ بِالْعَمَلِ الَّذِي لَوْ مَاتَ عَلَيْهِ دَخَلَ النَّارَ فَإِذَا كَانَ قَبْلَ مَوْتِهِ تَحَوَّلَ فَعَمِلَ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمَاتَ فَدَخَلَ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩২০১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بکثرت یہ دعاء مانگا کرتے تھے، کہ اے دلوں کے پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطاء فرما، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم آپ پر اور آپ کی تعلیمات پر ایمان لائے ہیں، کیا آپ کو ہمارے متعلق کسی چیز سے خطرہ ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا دل اللہ کی انگلیوں میں سے صرف دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ جیسے چاہتا ہے انہیں بدل دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مِهْرَانَ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ وَأَهْلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَخَافُ عَلَيْنَا وَقَدْ آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ قَالَ إِنَّ الْقُلُوبَ بِيَدِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُقَلِّبُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩২০২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے زمین پر اپنی انگلیاں رکھ کر فرمایا : یہ ابن آدم ہے پھر انہیں اٹھا کر تھوڑا سا پیچھے رکھا اور فرمایا یہ اس کی موت ہے، پھر اپنا ہاتھ آگے کر کے تین مرتبہ فرمایا کہ یہ اس کی امیدیں ہیں۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ فَذَكَرَ حَدِيثًا قَالَ وَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هَذَا ابْنُ آدَمَ وَهَذَا أَجَلُهُ وَثَمَّ أَمَلُهُ
তাহকীক: