আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ২০৯৬ টি

হাদীস নং: ১১৬৬৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ احد پہاڑ پر چڑھے، آپ ﷺ کے پیچھے پیچھے حضرت ابوبکر و عمر و عثمان (رض) بھی تھے، ایک دم پہاڑ ہلنے لگا نبی ﷺ نے فرمایا اے پہاڑ ! تھم جا کہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ الْجَبَلُ فَقَالَ اسْكُنْ عَلَيْكَ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৬৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ بکثرت یہ دعاء مانگا کرتے تھے، کہ اے دلوں کے پھیرنے والے، میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدمی عطاء فرما، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہم آپ پر اور آپ کی تعلیمات پر ایمان لائے ہیں، کیا آپ کو ہمارے متعلق کسی چیز سے خطرہ ہے ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ہاں ! کیونکہ دل اللہ کی انگلیوں میں سے صرف دو انگلیوں کے درمیان ہے، وہ جیسے چاہتا ہے انہیں بدل دیتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ آمَنَّا بِكَ وَبِمَا جِئْتَ بِهِ فَهَلْ تَخَافُ عَلَيْنَا قَالَ فَقَالَ نَعَمْ إِنَّ الْقُلُوبَ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُقَلِّبُهَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৬৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے دن حضرت ابوطلحہ (رض) نبی ﷺ کو ہنسانے کے لئے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ام سلیم کو دیکھیں کہ ان کے پاس خنجر ہے، نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ اے ام سلیم ! تم اس کا کیا کرو گی ؟ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مشرک میرے قریب آیا تو میں اس سے اس کا پیٹ پھاڑ دوں گی۔
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ يَوْمَ حُنَيْنٍ يُضْحِكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَمْ تَرَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا تَصْنَعِينَ بِهِ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ أَرَدْتُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْهُمْ طَعَنْتُهُ بِهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৬৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
بشیر بن یسار (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت انس (رض) سے عرض کیا کہ آپ کو دور نبوت کے حالات سے ہمارے حالات میں کیا تبدیلی محسوس ہو رہی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے یہ چیز عجیب لگتی ہے کہ تم لوگ صفیں سیدھی نہیں رکھتے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ قُلْنَا لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ مَا أَنْكَرْتَ مِنْ حَالِنَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنْكَرْتُ أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ الصُّفُوفَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৬৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص میری طرف جان بوجھ کر کسی جھوٹی بات کی نسبت کرے، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہئے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৬৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ جب نبی ﷺ کے ساتھ کسی سفر میں ہوتے تو کہتے تھے کہ زوال شمس ہوگیا یا نہیں، نبی ﷺ ظہر پڑھ کر کوچ فرماتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا مِسْحَاجٌ الضَّبِّيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ كُنَّا إِذَا كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ فِي سَفَرٍ فَقُلْنَا زَالَتْ الشَّمْسُ أَوْ لَمْ تَزُلْ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ ارْتَحَلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৬৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی ﷺ اس وقت غمگین بیٹھے تھے اور خون میں لت پٹ تھے، کچھ اہل مکہ نے آپ ﷺ کو مارا تھا، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے پوچھا کہ آپ کو کیا ہوا ؟ نبی ﷺ نے فرمایا ان لوگوں نے میرے ساتھ یہ سلوک کیا ہے، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ کیا آپ چاہیں گے کہ میں آپ کو ایک معجزہ دکھاؤں ؟ نبی ﷺ نے اثبات میں جواب دیا، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے وادی کے پیچھے ایک درخت کی طرف دیکھا اور کہا کہ اس درخت کو بلائیے، نبی ﷺ نے اسے آواز دی تو وہ چلتا ہوا آیا اور نبی ﷺ کے سامنے کھڑا ہوگیا، حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اب اسے واپس جانے کا حکم دیجئے، نبی ﷺ نے اسے حکم دیا تو وہ واپس چلا گیا، یہ دیکھ کر نبی ﷺ نے فرمایا میرے لئے یہی کافی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ جَالِسٌ حَزِينٌ قَدْ خُضِبَ بِالدِّمَاءِ ضَرَبَهُ بَعْضُ أَهْلِ مَكَّةَ قَالَ فَقَالَ لَهُ وَمَا لَكَ قَالَ فَقَالَ لَهُ فَعَلَ بِي هَؤُلَاءِ وَفَعَلُوا قَالَ فَقَالَ لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام أَتُحِبُّ أَنْ أُرِيَكَ آيَةً قَالَ نَعَمْ قَالَ فَنَظَرَ إِلَى شَجَرَةٍ مِنْ وَرَاءِ الْوَادِي فَقَالَ ادْعُ بِتِلْكَ الشَّجَرَةِ فَدَعَاهَا فَجَاءَتْ تَمْشِي حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ مُرْهَا فَلْتَرْجِعْ فَأَمَرَهَا فَرَجَعَتْ إِلَى مَكَانِهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسْبِي
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ یہ دعاء کیا کرتے تھے کہ اے اللہ ! میں لاچاری، سستی، بزدلی، بڑھاپے، بخل اور عذاب قبر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں اور زندگی اور موت کی آزمائش سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْهَرَمِ وَالْبُخْلِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ہمیں خبر دی کہ زید نے جھنڈا پکڑا لیکن شہید ہوگئے، پھر جعفر نے پکڑا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر عبداللہ بن رواحہ نے اسے پکڑا لیکن وہ بھی شہید ہوگئے، پھر خالد بن ولید نے کسی سالاری کے بغیر جھنڈا پکڑا اور اللہ نے ان کے ہاتھوں پر مسلمانوں کو فتح عطاء فرمائی اور مجھے اس بات کی خوشی نہیں ہے کہ وہ ہمارے پاس ہی رہتے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَخَذَ الرَّايَةَ زَيْدٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا جَعْفَرٌ فَأُصِيبَ ثُمَّ أَخَذَهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأُصِيبَ وَإِنَّ عَيْنَيْهِ لَتَذْرِفَانِ ثُمَّ أَخَذَهَا خَالِدٌ مِنْ غَيْرِ إِمْرَةٍ فَفَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَمَا يَسُرُّنِي أَنَّهُمْ عِنْدَنَا أَوْ قَالَ مَا يَسُرُّهُمْ أَنَّهُمْ عِنْدَنَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ اہل کتاب کے سلام کے جواب میں وعلیکم سے زیادہ کچھ نہ کہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ زَاذَوَيْهِ قَالَ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ نُهِينَا أَوْ قَالَ أُمِرْنَا أَنْ لَا نَزِيدَ أَهْلَ الْكِتَابِ عَلَى وَعَلَيْكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭৩
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی ساری نمازیں قریب قریب برابر ہوتی تھیں، اسی طرح حضرت صدیق اکبر (رض) کی نمازیں بھی، لیکن حضرت عمر (رض) نے فجر کی نماز طویل کرنا شروع فرمائی۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً وَصَلَاةُ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى مَدَّ عُمَرُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭৪
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
ابن سیرین (رح) کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کہ نبی ﷺ نے قنوت نازلہ پڑھی ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! رکوع کے بعد، دوبارہ یہی سوال ہوا کہ نماز فجر میں قنوت نازلہ پڑھی ہے ؟ تو فرمایا ہاں ! کچھ عرصے کے لئے رکوع کے بعد پڑھی ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ ثُمَّ سُئِلَ بَعْدَ ذَلِكَ مَرَّةً أُخْرَى هَلْ قَنَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ نَعَمْ بَعْدَ الرُّكُوعِ يَسِيرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭৫
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے بال نصف کان تک ہوتے تھے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭৬
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس بن مالک (رض) سے مروی ہے کسی شخص نے نبی ﷺ سے فجر کا وقت پوچھا تو نبی ﷺ نے حضرت بلال (رض) کو طلوع فجر کے وقت حکم دیا اور نماز کھڑی کردی، پھر اگلے دن خوب روشنی میں کر کے نماز پڑھائی اور فرمایا نماز فجر کا وقت پوچھنے والا کہاں ہے ؟ ان دو وقتوں کے درمیان نماز فجر کا وقت ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الصُّبْحِ قَالَ فَأَمَرَ بِلَالًا حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ ثُمَّ أَسْفَرَ مِنْ الْغَدِ حَتَّى أَسْفَرَ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلَاةِ الْغَدَاةِ مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ أَوْ قَالَ هَذَيْنِ وَقْتٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭৭
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے عیدالاضحی کے دن فرمایا کہ جس شخص نے نماز سے پہلے قربانی کرلی ہو، اسے دوبارہ قربانی کر لینی چاہئے، ایک آدمی یہ سن کر کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ دن ایسا ہے جس میں لوگوں کو عام طور پر گوشت کی خواہش ہوتی ہے پھر اس نے اپنے کسی پڑوسی کے اس معاملے کا تذکرہ کیا تو ایسا محسوس ہوا کہ نبی ﷺ اس کی تصدیق کر رہے ہیں، پھر اس نے کہا کہ میرے پاس ایک چھ ماہ کا بچہ ہے، جو مجھے دو بکریوں کے گوشت سے بھی زیادہ محبوب ہے، نبی ﷺ نے اسے اس ہی کی قربانی کرنے کی اجازت دے دی، اب مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کے لئے بھی ہے یا نہیں، پھر نبی ﷺ اپنے دو مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں ذبح فرمایا : لوگ " مال غنیمت " کے انتظار میں کھڑے تھے، سو انہوں نے اسے تقسیم کرلیا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّحْرِ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَلْيُعِدْ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ وَذَكَرَ هَنَةً مِنْ جِيرَانِهِ فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَّقَهُ قَالَ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ قَالَ فَرَخَّصَ لَهُ فَلَا أَدْرِي بَلَغَتْ رُخْصَتُهُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لَا قَالَ ثُمَّ انْكَفَأَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭৮
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دودھ نوش فرمایا : نبی ﷺ کے دائیں جانب ایک دیہاتی تھا اور بائیں جانب حضرت صدیق اکبر (رض) تھے، نبی ﷺ نے دودھ کا وہ برتن دیہاتی کو دے دیا اور فرمایا پہلے دائیں ہاتھ والے کو، پھر اس کے بعد والے کو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ شَرِبَ وَعَنْ يَمِينِهِ أَعْرَابِيٌّ وَعَنْ يَسَارِهِ أَبُو بَكْرٍ فَنَاوَلَهُ وَقَالَ الْأَيْمَنَ فَالْأَيْمَنَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৭৯
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
نوفل بن مسعود (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت انس (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے عرض کیا کہ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیے، جو آپ نے نبی ﷺ سے خود سنی ہو، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تین چیزیں ایسی ہیں کہ جس آدمی میں ہوں، وہ جہنم کی آگ پر حرام ہوگا اور جہنم کی آگ اس پر حرام ہوگی، اللہ پر ایمان، اللہ سے محبت اور آگ میں گر کر جل جانا کفر کی طرف لوٹ کر جانے سے زیادہ محبوب ہو۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ نَوْفَلِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حُرِّمَ عَلَى النَّارِ وَحُرِّمَتْ النَّارُ عَلَيْهِ إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَحُبُّ اللَّهِ وَأَنْ يُلْقَى فِي النَّارِ فَيُحْرَقَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَرْجِعَ فِي الْكُفْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৮০
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں بنو نجار کے کسی باغ میں تشریف لے گئے، وہاں کسی قبر سے آواز سنائی دی، نبی ﷺ نے اس کے متعلق دریافت فرمایا کہ اس قبر میں مردے کو کب دفن کیا گیا تھا لوگوں نے بتایا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! یہ شخص زمانہ جاہلیت میں دفن ہوا تھا، نبی ﷺ کو اس پر تعجب ہوا اور فرمایا اگر تم لوگ اپنے مردوں کو دفن کرنا چھوڑ نہ دیتے تو میں اللہ سے یہ دعاء کرتا کہ وہ تمہیں بھی عذاب قبر کی آواز سنا دے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ فَسَمِعَ صَوْتًا مِنْ قَبْرٍ فَقَالَ مَتَى مَاتَ صَاحِبُ هَذَا الْقَبْرِ قَالُوا مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ لَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৮১
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
بشیر بن یسار (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم نے حضرت انس (رض) سے عرض کیا کہ آپ کو دور نبوت کے حالات سے ہمارے حالات میں کیا تبدیلی محسوس ہو رہی ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے یہ چیز عجیب لگتی ہے کہ تم لوگ صفیں سیدھی نہیں رکھتے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عُبَيْدٍ الطَّائِيِّ حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ جَاءَ أَنَسٌ إِلَى الْمَدِينَةِ فَقُلْنَا لَهُ مَا أَنْكَرْتَ مِنَّا مِنْ عَهْدِ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا أَنْكَرْتُ مِنْكُمْ شَيْئًا غَيْرَ أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ صُفُوفَكُمْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১১৬৮২
حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
পরিচ্ছেদঃ حضرت انس بن مالک (رض) کی مرویات
حضرت انس (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا گھوڑوں کی پیشانیوں میں برکت رکھ دی گئی ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنِي أَبُو التَّيَّاحِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَرَكَةُ فِي نَوَاصِي الْخَيْلِ
tahqiq

তাহকীক: