আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৪ টি

হাদীস নং: ১৩৭৯৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے دور باسعادت میں جبکہ قرآن کریم کا نزول ہو رہا تھا ہم اس وقت بھی عزل کرتے تھے (آب حیات کا باہر خارج کرنا)
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ كُنَّا نَعْزِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقُرْآنُ يَنْزِلُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮০০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہم حج کی قربانی کے جانور کا گوشت نبی ﷺ کے دور باسعادت میں مدینہ منورہ لے آتے تھے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ كُنَّا نَتَزَوَّدُ لُحُومَ الْهَدْيِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَدِينَةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮০১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کئی سالوں کے ٹھیکے پر پھلوں کی بیع سے اور مشتری (خریدنے والا) کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ مَكِّيٍّ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ وَوَضَعَ الْجَوَائِحَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮০২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا میں جنت میں داخل ہوا تو ایک محل نظر آیا تو وہاں مجھے ایک آواز سنائی دی میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے فرمایا گیا کہ یہ عمر کا ہے میں اس میں داخل ہونا چاہا لیکن اے ابوحفص مجھے تمہاری غیرت کا خیال آگیا اس پر حضرت عمر رو پڑے اور کہنے لگے یا رسول اللہ کیا آپ پر غیرت کا اظہار کیا جائے گا۔
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو وَابْنِ الْمُنْكَدِرِ سَمِعَا جَابِرًا يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ فِيهَا قَصْرًا أَوْ دَارًا فَسَمِعْتُ فِيهَا صَوْتًا فَقُلْتُ لِمَنْ هَذَا فَقِيلَ لِعُمَرَ فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَهَا فَذَكَرْتُ غَيْرَتَكَ يَا أَبَا حَفْصٍ فَبَكَى عُمَرُ وَقَالَ مَرَّةً أُخْرَى فَأَخْبَرَ بِهَا عُمَرَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَعَلَيْكَ يُغَارُ قَالَ سُفْيَانُ سَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ وَعَمْرٍو سَمِعَا جَابِرًا حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ هَذِهِ الْأَحَادِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ إِلَى آخِرِ حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮০৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ کے پاس تشریف لائے تو وہ رو رہی تھیں تو نبی ﷺ نے ان سے رونے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا میں اس بات پر رو رہی ہوں کہ سب لوگ احرام کھول کر ہلال ہوچکے لیکن میں اب تک نہیں ہوسکی لوگوں نے طواف کرلیا لیکن میں اب تک نہ کرسکی اور حج کے ایام سر پر ہیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ یہ تو ایسی چیز ہے جو اللہ نے ساری بیٹیوں کے لئے لکھ دی ہیں اس لئے تم غسل کر کے حج کا احرام باندھ لو اور حج کرلو چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اور مجبوری سے فراغت کے بعد نبی ﷺ نے ان سے فرمایا کہ بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرلو اس طرح تم اپنے حج اور عمرہ کے احرام کی پابندیوں سے آزاد ہوجاؤ گی۔ وہ کہنے لگی کہ یا رسول اللہ میرے دل میں ہمیشہ اس بات کی خلش رہے گی کہ میں نے حج تک کوئی طواف نہیں کیا اس پر نبی ﷺ نے ان کے بھائی عبدالرحمن (رض) کہا کہ انہیں لے جاؤ اور تنعیم سے عمرہ کرواؤ۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ مَا لَكِ تَبْكِينَ قَالَتْ أَبْكِي أَنَّ النَّاسَ أَحَلُّوا وَلَمْ أَحْلِلْ وَطَافُوا بِالْبَيْتِ وَلَمْ أَطُفْ وَهَذَا الْحَجُّ قَدْ حَضَرَ قَالَ إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ وَحُجِّي قَالَتْ فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَلَمَّا طَهُرْتُ قَالَ طُوفِي بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَدْ أَحْلَلْتِ مِنْ حَجِّكِ وَمِنْ عُمْرَتِكِ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ عُمْرَتِي أَنِّي لَمْ أَكُنْ طُفْتُ حَتَّى حَجَجْتُ قَالَ فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنْ التَّنْعِيمِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮০৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے صدیق اکبر سے پوچھا کہ آپ نماز وتر کب پڑھتے ہیں انہوں نے عرض کیا نماز عشاء کے بعد رات کے پہلے پہر میں یہی سوال نبی ﷺ نے حضرت عمر سے پوچھا تو انہوں نے عرض کیا رات کے آخری پہر میں نبی ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر تم نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں اعتماد ہے اور عمر نے اس پہلو کو ترجیح دی جس میں قوت ہے۔
قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ مَتَى تُوتِرُ قَالَ أَوَّلَ اللَّيْلِ بَعْدَ الْعَتَمَةِ قَالَ فَأَنْتَ يَا عُمَرُ قَالَ آخِرَ اللَّيْلِ قَالَ أَمَّا أَنْتَ يَا أَبَا بَكْرٍ فَأَخَذْتَ بِالثِّقَةِ وَأَمَّا أَنْتَ يَا عُمَرُ فَأَخَذْتَ بِالْقُوَّةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮০৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ غیرحاضر شوہر والی عورت کے پاس مت جایا کرو کیونکہ شیطان انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے۔ ہم نے پوچھا کہ یا رسول اللہ کیا آپ کے جسم میں فرمایا ہاں اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی اور وہ تابع فرمان ہوگیا ہے۔
قَالَ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ الْحَكَمِ بْنِ مُوسَى حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا الْمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ قُلْنَا وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَمِنِّي وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮০৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت عبداللہ بن عمرو اور جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی ایسے غلام کو بیچے جس کے پاس مال ہو تو اس کا مال بائع (بچنے والا) کا ہوگا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) شرط لگا دے۔ ( اور جو شخص کھجور کی پیوند کاری کر کے اسے بیچے تو پھل اس کی ملکیت میں ہوگا الاّ یہ کہ مشتری (خریدنے والا) درخت کے پھل سمیت خریدنے کی شرط لگا دے۔
قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى قَالَ عَبْد اللَّهِ وَحَدَّثَنَاهُ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ عَنْ أَبِي وَهْبٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ قَالَ عَبْد اللَّهِ إِلَى هَاهُنَا وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي وَالْبَاقِي سَمَاعٌ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮০৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے جس شخص کے پاس زمین یا باغ ہو اور وہ اپناحصہ بیچنا چاہے تو وہ اپنے شریک کے سامنے پیش کش کئے بغیر کسی دوسرے کے سامنے اسے فروخت نہ کرے اگر وہ اس کو خرید لیں تو قیمت کے بدلے وہی اس کے زیادہ حق دار ہیں۔
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا قَوْمٍ كَانَتْ بَيْنَهُمْ رِبَاعَةٌ أَوْ دَارٌ فَأَرَادَ أَحَدُهُمْ أَنْ يَبِيعَ نَصِيبَهُ فَلْيَعْرِضْهُ عَلَى شُرَكَائِهِ فَإِنْ أَخَذُوهُ فَهُمْ أَحَقُّ بِهِ بِالثَّمَنِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮০৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے انسان کو شہر میں داخل ہو کر اپنے گھر جانے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ لَيْلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮০৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ میں حاضر ہوا نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ اگر بحرین سے مال آگیا تو میں تمہیں اتنا اور اتنا اور اتنا دوں گا لیکن بحرین کا مال غنیمت آنے سے پہلے ہی نبی ﷺ کا وصال ہوگیا نبی ﷺ کے وصال کے بعد جب بحرین سے مال آیا تو میں حضرت صدیق اکبر کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ نبی ﷺ نے مجھ سے فرمایا ہے تھا اگر بحرین سے مال آگیا تو میں تمہیں اتنا اتنا اور اتنادوں گا حضرت صدیق اکبرنے فرمایا تم لے لو چناچہ میں نے ان سے مال لے لیا پھر انہوں نے فرمایا کہ سال گذرنے سے پہلے تم پر اس کی کوئی زکوٰۃ نہیں ہے۔ میں نے انہیں گنا تو وہ پندرہ سو درہم تھے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي يَا جَابِرُ لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالٌ لَحَثَيْتُ لَكَ ثُمَّ حَثَيْتُ لَكَ قَالَ فَقُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُنْجِزَ لِي تِلْكَ الْعِدَةَ فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَحَدَّثْتُهُ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَنَحْنُ لَوْ قَدْ جَاءَنَا شَيْءٌ لَحَثَيْتُ لَكَ ثُمَّ حَثَيْتُ لَكَ ثُمَّ حَثَيْتُ لَكَ قَالَ فَأَتَاهُ مَالٌ فَحَثَى لِي حَثْيَةً ثُمَّ حَثْيَةً ثُمَّ قَالَ لَيْسَ عَلَيْكَ فِيهَا صَدَقَةٌ حَتَّى يَحُولَ الْحَوْلُ قَالَ فَوَزَنْتُهَا فَكَانَتْ أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی نماز کے بعد ہم سے خطاب کیا اور فارغ ہونے کے بعد منبر سے اتر کر خواتین کے پاس تشریف لائے اور انہیں وعظ و نصیحت فرمائی اس دوران آپ کے ساتھ حضرت بلال بھی تھے دوسرا کوئی نہ تھا نبی ﷺ نے انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا تو عورتیں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں بلال کے حوالے کرنے لگیں۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعِيدَيْنِ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ثُمَّ خَطَبَنَا ثُمَّ نَزَلَ فَمَشَى إِلَى النِّسَاءِ وَمَعَهُ بِلَالٌ لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ فَأَمَرَهُنَّ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَتْ الْمَرْأَةُ تُلْقِي تُومَتَهَا وَخَاتَمَهَا إِلَى بِلَالٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
ذیال بن حرملہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر (رض) سے بیعت رضوان کے شرکاء کی تعداد معلوم کی تو انہوں نے فرمایا کہ ہماری تعداد صرف چودہ سو افراد تھی۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنِ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَ الشَّجَرَةِ قَالَ كُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
اور فرمایا کہ نبی ﷺ اپنے ہاتھ اٹھایا کرتے تھے نماز میں ہر تکبیر کے ساتھ۔
قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي كُلِّ تَكْبِيرَةٍ مِنْ الصَّلَاةِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دو جانوروں کی ایک کے بدلے ادھار خریدو فروخت سے منع کیا ہے البتہ اگر نقد معاملہ ہو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد امام احمد سے عرض کیا میں نے ابوخیثمہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نصر بن باب نامی راوی کذاب ہیں اس پر انہوں نے استغفر اللہ کہا اور تعجب کرنے لگے کہ کذاب۔ محدثین کے انہیں مطعون کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے ابراہیم الصائغ سے حدیث روایت کی ہے اور ابراہیم الصائغ ان کے اہل شہر میں سے ہیں لہذا ان سے سماع کوئی تعجب کی چیز نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ بَابٍ عَنْ حَجَّاجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْحَيَوَانِ بِالْحَيَوَانِ نَسِيئَةً اثْنَيْنِ بِوَاحِدٍ وَلَا بَأْسَ بِهِ يَدًا بِيَدٍ حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قُلْتُ لِأَبِي سَمِعْتُ أَبَا خَيْثَمَةَ يَقُولُ نَصْرُ بْنُ بَابٍ كَذَّابٌ فَقَالَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كَذَّابٌ إِنَّمَا عَابُوا عَلَيْهِ أَنَّهُ حَدَّثَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ وَإِبْرَاهِيمُ الصَّائِغُ مِنْ أَهْلِ بَلَدِهِ فَلَا يُنْكَرُ أَنْ يَكُونَ سَمِعَ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ جب خانہ کعبہ کی تعمیر شروع ہوئی تو نبی ﷺ اور حضرت عباس پتھر اٹھا اٹھا کر لانے لگے حضرت عباس کہنے لگے اے بھتیجے کہ اپنا تہبند اتار کر کندھے پر رکھ لیں تاکہ پتھر سے کندھے زخمی نہ ہوجائیں تو نبی ﷺ نے ایسا کرنا چاہا تو بےہوش کر گرپڑے اور اس دن کے بعد نبی ﷺ کو کبھی کپڑوں سے خالی جسم نہیں دیکھا گیا۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ سَمِعْتُ جَابِرًا يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْقُلُ مَعَهُمْ حِجَارَةَ الْكَعْبَةِ وَعَلَيْهِ إِزَارٌ فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ عَمُّهُ يَا ابْنَ أَخِي لَوْ حَلَلْتَ إِزَارَكَ فَجَعَلْتَهُ عَلَى مَنْكِبَيْكَ دُونَ الْحِجَارَةِ قَالَ فَحَلَّهُ فَجَعَلَهُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ فَسَقَطَ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَمَا رُئِيَ بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ عُرْيَانًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ کسی سفر سے واپس آرہے تھے جب ہم نجار کے ایک باغ کے قریب پہنچے تو پتہ چلا کہ اس باغ میں ایک اونٹ ہے جو باغ میں داخل ہونے والے ہر شخص پر حملہ کردیتا ہے لوگوں نے یہ بات نبی ﷺ سے ذکر کی تو نبی ﷺ اس باغ میں تشریف لائے اور اس اونٹ کو بلایا وہ اپنی گردن جھکائے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگیا اور آپ کے سامنے آ کر بیٹھ گیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس کی لگام لاؤ وہ لگام اس کے منہ میں ڈال کر اونٹ اس کے مالک کے حوالے کردیا پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ آسمان و زمین کے درمیان جتنی چیزیں ہیں سوائے نافرمان جنات اور انسانوں کے سب جانتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مَرَّتَيْنِ حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ عَنِ الذَّيَّالِ بْنِ حَرْمَلَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ حَتَّى إِذَا دَفَعْنَا إِلَى حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ بَنِي النَّجَّارِ إِذَا فِيهِ جَمَلٌ لَا يَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلَّا شَدَّ عَلَيْهِ قَالَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ فَدَعَا الْبَعِيرَ فَجَاءَ وَاضِعًا مِشْفَرَهُ إِلَى الْأَرْضِ حَتَّى بَرَكَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَاتُوا خِطَامًا فَخَطَمَهُ وَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ قَالَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِق
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ کی حمد وثناء بیان کرنے کے بعد فرمایا سب سے سچی بات کتاب اللہ ہے سب سے افضل طریقہ محمد کا طریقہ ہے بدترین چیز نو ایجاد ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے پھر جوں جوں آپ قیامت کا تذکرہ فرمانے لگے آپ کی آواز بلند ہوتی جاتی رہی پھر فرمایا قیامت تم پر آگئی ہے مجھے اور قیامت کو اس طرح بھیجا گیا ہے یہ کہہ کر آپ نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کیا تم پر صبح کو قیامت آگئی ہے یا شام کو، جو شخص مال و دولت چھوڑ جائے وہ اس کے اہل خانہ کا ہے اور جو شخص قرض یا بچے چھوڑ دے وہ میرے ذمہ ہے۔
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ بِمَا هُوَ لَهُ أَهْلٌ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ أَصْدَقَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَإِنَّ أَفْضَلَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ ثُمَّ يَرْفَعُ صَوْتَهُ وَتَحْمَرُّ وَجْنَتَاهُ وَيَشْتَدُّ غَضَبُهُ إِذَا ذَكَرَ السَّاعَةَ كَأَنَّهُ مُنْذِرُ جَيْشٍ قَالَ ثُمَّ يَقُولُ أَتَتْكُمْ السَّاعَةُ بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا وَأَشَارَ بِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى صَبَّحَتْكُمْ السَّاعَةُ وَمَسَّتْكُمْ مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا فَإِلَيَّ وَعَلَيَّ وَالضَّيَاعُ يَعْنِي وَلَدَهُ الْمَسَاكِينَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں رسول اللہ کے ہم رکاب نجد کی طرف جہاد کے لئے گیا اور واپسی میں بھی ہم رکاب تھا واپسی پر ایک بڑی خاردار درختوں والی وادی میں دوپہر کا وقت ہوا تو رسول اللہ وہیں اتر گئے سب لوگ ادھرادھر درختوں کے سایہ میں چلے گئے حضور ایک کیکر کے درخت کے نیچے آرام فرمانے کے لئے اترے درخت سے تلوار لٹکا دی اور ہم سب سو گئے تھوڑی دیر سوئے تھے کہ بیدار ہوگئے کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ ہم کو بلا رہے ہیں اور آپ کے پاس ایک دیہاتی بیٹھا ہوا ہے حضور نے فرمایا سوتے میں اس شخص نے میری ہی تلوار مجھ پر کھینچی میں جاگ اٹھا دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ننگی تلوار ہے اس نے کہا اب تم کو میرے ہاتھ سے کون بچائے گا میں نے کہا اللہ بچائے گا خوف کے مارے تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ حضور نے اس سے بدلہ نہ لیا حالانکہ اس نے ایسا کیا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ قَالَ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ وَسَمِعْتُهُ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي سِنَانُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيُّ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَ أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً قِبَلَ نَجْدٍ فَلَمَّا قَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَفَلَ مَعَهُمْ فَأَدْرَكَتْهُمْ الْقَائِلَةُ يَوْمًا فِي وَادٍ كَثِيرِ الْعِضَاهِ فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَفَرَّقَ النَّاسُ فِي الْعِضَاهِ يَسْتَظِلُّونَ بِالشَّجَرِ وَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَظِلُّ تَحْتَ شَجَرَةٍ فَعَلَّقَ بِهَا سَيْفَهُ قَالَ جَابِرٌ فَنِمْنَا بِهَا نَوْمَةً ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُونَا فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا عِنْدَهُ أَعْرَابِيٌّ جَالِسٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذَا اخْتَرَطَ سَيْفَهُ وَأَنَا نَائِمٌ فَاسْتَيْقَظْتُ وَهُوَ فِي يَدِهِ صَلْتًا فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي فَقُلْتُ اللَّهُ فَقَالَ مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي فَقُلْتُ اللَّهُ فَشَامَ السَّيْفَ وَجَلَسَ فَلَمْ يُعَاقِبْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ فَعَلَ ذَلِكَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮১৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ جیش خبط کے ساتھ جس کے امیر حضرت ابوعبیدہ تھے جہاد میں شریک ہوئے راستے میں بھوک کی شدت نے ہمیں بہت تنگ کیا اسی اثناء میں سمندر نے ہمارے لئے اتنی بڑی مچھلی باہر پھینک دی کہ ہم نے اس سے پہلے اتنی بڑی مچھلی نہ دیکھی تھی اسے عنبر کہا جاتا تھا ہم اسے نصف ماہ تک کھاتے رہے حضرت ابوعبیدہ نے اس کی ایک ہڈی لے کر اسے گاڑا تو سوار بھی اس کے نیچے سے باآسانی سے گذر جاتا تھا۔ گذشتہ روایت حضرت جابر (رض) سے اس طرح بھی مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں ایک غزوہ میں زاد راہ کے طور پر کھجوروں کی ایک تھیلی عطا فرمائی اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں حضرت ابوعبیدہ پہلے تو ہمیں ایک ایک مٹھی کھجوریں دیتے رہے پھر ایک کھجور دینے لگے راوی نے پوچھا کہ آپ ایک کھجور کا کیا کرتے ہوں گے انہوں نے جواب دیا کہ ہم بچوں کی طرح اسے چباتے اور چوستے رہتے پھر اس پر پانی پی لیتے اور رات تک ہمارا یہی کھانا ہوتا تھا۔ پھر جب کھجوریں ختم ہوگئی تو ہم اپنی لاٹھیوں سے جھاڑ کر درختوں کے پتے گراتے انہیں پانی میں بھگوتے اور کھالیتے اس طرح ہم شدید بھوک میں مبتلا ہوگئے ایک دن ہم ساحل سمندر پر گئے ہوئے تھے سمندر نے ہمارے لئے ایک مری ہوئی مچھلی پھینکی پہلے تو حضرت ابوعبیدہ کہنے لگے کہ یہ مردار ہے پھر فرمایا کہ ہم غازی اور بھوکے ہیں اس لئے اسے کھاؤ ہم وہاں ایک مہینہ رہے ہم تین سو افراد تھے اور اسے کھا کر خوب صحت مند ہوگئے ہم دیکھتے تھے کہ ہم اس کی آنکھوں کے سوراخوں سے مٹکے سے روغن نکالتے تھے اور اس کا گوشت بیل کی طرح کاٹتے تھے۔ حضرت ابوعبیدہ اس کی ایک پسلی کھڑے کرتے اور اونٹ پر سوار آدمی بھی اس کے نیچے سے گذر جاتا تھا اور پانچ آدمیوں کا ایک گروہ اس کی آنکھوں کے سوراخ میں بیٹھ جاتا تھا ہم نے اسے خوب کھایا اور اس کا روغن جسم پر ملا یہاں تک کہ ہمارے جسم تندرست ہوگئے اور ہمارے رخسار بھر گئے اور مدینہ واپسی کے بعد ہم نے نبی ﷺ سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا یہ خدائی رزق تھا جو اللہ نے تمہیں عطا کیا تھا اگر تمہارے پاس اس کا کچھ حصہ ہو تو ہمیں بھی کھلاؤ ہمارے پاس اس کا کچھ حصہ تھا جو ہم نے نبی ﷺ کی خدمت میں بھیج دیا اور نبی ﷺ نے بھی اس میں سے تناول فرمایا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ غَزَوْنَا جَيْشَ الْخَبَطِ وَأَمِيرُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ حُوتًا لَمْ نَرَ مِثْلَهُ يُقَالُ لَهُ الْعَنْبَرُ فَأَكَلْنَا مِنْهُ نِصْفَ شَهْرٍ وَأَخَذَ أَبُو عُبَيْدَةَ عَظْمًا مِنْ عِظَامِهِ فَكَانَ الرَّاكِبُ يَمُرُّ تَحْتَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُخْبِرُ نَحْوًا مِنْ خَبَرِ عَمْرٍو هَذَا وَزَادَ فِيهِ قَالَ وَزَوَّدَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ فَكَانَ يَقْبِضُ لَنَا قَبْضَةً قَبْضَةً ثُمَّ تَمْرَةً تَمْرَةً فَنَمْضُغُهَا وَنَشْرَبُ عَلَيْهَا الْمَاءَ حَتَّى اللَّيْلِ ثُمَّ نَفِدَ مَا فِي الْجِرَابِ فَكُنَّا نَجْتَنِي الْخَبَطَ بِقِسِيِّنَا فَجُعْنَا جُوعًا شَدِيدًا فَأَلْقَى لَنَا الْبَحْرُ حُوتًا مَيِّتًا فَقَالَ أَبُو عُبَيْدَةَ غُزَاةٌ وَجِيَاعٌ فَكُلُوا فَأَكَلْنَا فَكَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ يَنْصِبُ الضِّلَعَ مِنْ أَضْلَاعِهِ فَيَمُرُّ الرَّاكِبُ عَلَى بَعِيرِهِ تَحْتَهُ وَيَجْلِسُ النَّفَرُ الْخَمْسَةُ فِي مَوْضِعِ عَيْنِهِ فَأَكَلْنَا مِنْهُ وَادَّهَنَّا حَتَّى صَلَحَتْ أَجْسَامُنَا وَحَسُنَتْ سَحْنَاتُنَا قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ جَابِرٌ فَذَكَرْنَاهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رِزْقٌ أَخْرَجَهُ اللَّهُ لَكُمْ فَإِنْ كَانَ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ فَأَطْعِمُونَاهُ قَالَ فَكَانَ مَعَنَا مِنْهُ شَيْءٌ فَأَرْسَلَ بِهِ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ فَأَكَلَ مِنْهُ
tahqiq

তাহকীক: