আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)

مسند امام احمد بن حنبل

حضرت جابر انصاری کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১১৬৪ টি

হাদীস নং: ১৩৮৭৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ حدیبیہ کے سال اپنے ساتھ ستر اونٹ لے کر گئے تھے اور ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے قربان کیا گیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ سَبْعِينَ بَدَنَةً قَالَ فَنَحَرَ الْبَدَنَةَ عَنْ سَبْعَةٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کے ساتھ ہم لوگ نکلے تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا اور کچھ نے نہ رکھا لیکن کسی نے دوسرے کو طعنہ نہیں دیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا الصَّائِمُ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ فَلَمْ يَكُنْ يَعِيبُ بَعْضُنَا عَلَى بَعْضٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا سعد بن معاذ کی موت پر رحمن کا عرش بھی ہل گیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اهْتَزَّ عَرْشُ اللَّهِ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں اہل جنت کھائیں پئیں گے لیکن پاخانہ پیشاب کریں گے اور نہ ہی ناک صاف کریں گے نہ تھوک پھینکیں گے ان کا کھانا ایک ڈکار سے ہضم ہوجائے گا اور ان کا پسینہ مشک کی مہک کی طرح ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَبُولُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَبْزُقُونَ طَعَامُهُمْ جُشَاءٌ وَرَشْحٌ كَرَشْحِ الْمِسْكِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر قحافہ کو نبی ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اس وقت ان کے سر کے بال ثغامہ بوٹی کی طرح سفید ہوچکے تھے نبی ﷺ نے فرمایا کہ انہیں ان کے خاندان کی کسی عورت کے پاس لے جاؤ اور ان کے بالوں کا رنگ بدل دو البتہ کالے رنگ سے اجتناب کرنا۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جِيءَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اذْهَبُوا بِهِ إِلَى بَعْضِ نِسَائِهِ فَلْيُغَيِّرْهُ بِشَيْءٍ وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ ہر مشتری (خریدنے والا) کا جائیداد اور باغ میں حق شفعہ ہے اور اپنے شریک کو بتائے بغیر اسے بیچناجائز نہیں ہے اگر وہ بیچتا ہے تو اس کا شریک اس کا زیادہ حق دار ہے۔ یہاں تک کہ وہ اسے اجازت دیدے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شِرْكٍ رَبْعَةٍ أَوْ حَائِطٍ لَا يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَبِيعَ حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ فَإِنْ بَاعَ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ حَتَّى يُؤْذِنَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب مؤذن اذان دیتا ہے تو شیطان اتنی دور بھاگ جاتا ہے جتنا فاصلہ روحہ تک ہے یہ مدینہ منورہ سے تیس میل دور جگہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ هَرَبَ الشَّيْطَانُ حَتَّى يَكُونَ بِالرَّوْحَاءِ وَهِيَ مِنْ الْمَدِينَةِ ثَلَاثُونَ مِيلًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ سلیک آئے اور بیٹھ گئے نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو اسے مختصر سی دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھنا چاہیے۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ سُلَيْكٌ الْغَطَفَانِيُّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ فَجَلَسَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ لِيَجْلِسْ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
ابونضرہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت جابر (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے وہ فرمانے لگے کہ عنقریب ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں اہل عراق کے پاس کوئی قفیذ اور درہم باہر سے نہیں آسکے گا ہم نے پوچھا کہ ایسا کیسے ہوگا انہوں نے فرمایا یہ عجم کی طرف سے ہوگا وہ لوگ ان چیزوں کو روک لیں گے پھر فرمایا کہ اہل شام پر بھی پھر ایسا وقت آئے گا کہ ان کے یہاں بھی کوئی دینار اور مد باہر سے نہیں آسکے گا ہم نے پوچھا کہ یہ کن کی طرف سے ہوگا فرمایا کہ رومیوں کی طرف سے ہوگا وہ لوگ چیزوں کو روک لیں گے پھر کچھ دیر وقفے کے بعد گویا ہوئے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے آخر میں ایک ایسا خلیفہ آئے گا جو لوگوں کو بھربھر مال دے گا اور انہیں شمار تک نہیں کرے گا۔ جریری کہتے ہیں کہ میں نے ابونضرہ اور ابوعلی سے پوچھا کیا آپ کی رائے میں وہ خلیفہ عمر بن عبدالعزیز ہیں انہوں نے جواب دیا نہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ هُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنِ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ يُوشِكُ أَهْلُ الْعِرَاقِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ قَفِيزٌ وَلَا دِرْهَمٌ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ ذَاكَ قَالَ مِنْ قِبَلِ الْعَجْمِ يُمْنَعُونَ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ يُوشِكُ أَهْلُ الشَّامِ أَنْ لَا يُجْبَى إِلَيْهِمْ دِينَارٌ وَلَا مُدٌّ قُلْنَا مِنْ أَيْنَ ذَاكَ مِنْ قِبَلِ الرُّومِ يُمْنَعُونَ ذَاكَ قَالَ ثُمَّ أَمْسَكَ هُنَيْهَةً ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي آخِرِ أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثُو الْمَالَ حَثْوًا لَا يَعُدُّهُ عَدًّا قَالَ الْجُرَيْرِيُ فَقُلْتُ لِأَبِي نَضْرَةَ وَأَبِي الْعَلَاءِ أَتَرَيَانِهِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فَقَالَا لَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اپنے مال کو اپنے پاس سنبھال کر رکھو کسی کو مت دو اور جو شخص زندگی بھر کے لئے کسی کو کوئی چیز دے دیتا ہے تو وہ اسی کی ہوجاتی ہے خواہ وہ زندہ ہو یا مرجائے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمْسِكُوا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ وَلَا تُعْمِرُوهَا فَإِنَّهُ مَنْ أُعْمِرَ شَيْئًا حَيَاتَهُ فَهُوَ لَهُ حَيَاتَهُ وَمَوْتَهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৮৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ پانچوں فرض نمازوں کی مثال اس نہر جیسی ہے جو تم میں سے کسی کے دروازے پر بہہ رہی ہو اور وہ اس میں پانچ مرتبہ روزانہ غسل کرتا ہوں۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ كَمَثَلِ نَهْرٍ جَارٍ غَمْرٍ عَلَى بَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے ہم یعنی صحابہ نے صرف حج کا احرام باندھا اور چار ذی الحجہ کو مکہ مکرمہ پہنچے نبی ﷺ نے اپنے صحابہ کو حکم دیا کہ اسے عمرہ کا احرام قرار دے کر حلال ہوجائیں اس پر لوگ آپس میں کہنے لگے کہ جب عرفات کا دن آنے میں پانچ دن رہ گئے تو ہمیں حلال ہونے کا حکم دے رہے ہیں تاکہ جب ہم منیٰ کی طرف روانہ ہوں گے تو ہماری شرمگاہوں سے ناپاک قطرات ٹپک رہے ہوں، نبی ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا کہ اگر میرے سامنے وہ بات پہلے ہی آجاتی جو بعد میں آئی تو میں اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہوجاتا تم حلال ہوجاؤ اور اسے عمرہ کا احرام بنالو وہ مزید کہتے ہیں کہ حضرت علی یمن سے آئے تو نبی ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے انہوں نے کہا جس نیت سے نبی ﷺ نے احرام باندھا ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ پھر اسی طرح حالت احرام میں ہی رہو۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا لَيْسَ مَعَهُ غَيْرُهُ خَالِصًا وَحْدَهُ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً فَبَلَغَهُ إِنَّا نَقُولُ لَمَّا لَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ فَيَرُوحَ إِلَى مِنًى نَاسٌ مِنَّا وَمَذَاكِيرُنَا تَقْطُرُ مَنِيًّا فَخَطَبَنَا فَقَالَ قَدْ بَلَغَنِي الَّذِي قُلْتُمْ وَإِنِّي لَأَتْقَاكُمْ وَأَبَرُّكُمْ وَلَوْلَا الْهَدْيُ لَحَلَلْتُ وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ حِلُّوا وَاجْعَلُوهَا عُمْرَةً قَالَ وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِنْ الْيَمَنِ قَالَ بِمَ أَهْلَلْتَ فَقَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَهْدِهِ وَامْكُثْ حَرَامًا كَمَا أَنْتَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کسی سفر میں تھے راستے میں دیکھا کہ لوگوں نے ایک آدمی کے گرد بھیڑ لگائی ہوئی ہے اور اس پر سایہ کیا ہوا ہے پوچھنے پر لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے تھا نبی ﷺ نے فرمایا سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَرَأَى زِحَامًا وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا هَذَا صَائِمٌ فَقَالَ لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے سدھارے ہوئے کتے کے علاوہ ہر کتے کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ إِلَّا الْكَلْبَ الْمُعَلَّمَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ میدان منیٰ کے تین دنوں کے علاوہ قربانی کا گوشت نہیں کھا سکتے تھے بعد میں نبی ﷺ نے ہمیں اس کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا کہ تم اسے کھا بھی سکتے ہو اور محفوظ بھی ہوسکتے ہو چناچہ ہم اسے کھانے اور ذخیرہ کرنے لگے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كُنَّا لَا نَأْكُلُ مِنْ لُحُومِ الْبُدْنِ إِلَّا ثَلَاثَ مِنًى فَرَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُوا وَتَزَوَّدُوا قَالَ فَأَكَلْنَا وَتَزَوَّدْنَا قُلْتُ لِعَطَاءٍ حَتَّى جِئْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ لَا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے کسی نے ہدی کے جانور پر سوار ہونے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم مجبور ہوجاؤ تو اس پر اچھے طریقے سے سوار ہوسکتے ہو تاآنکہ تمہیں کوئی دوسری سواری مل جائے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَسْأَلُ عَنْ رُكُوبِ الْهَدْيِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ارْكَبْهَا بِالْمَعْرُوفِ إِذَا أُلْجِئْتَ إِلَيْهَا حَتَّى تَجِدَ ظَهْرًا
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ نے صفا مروہ کے درمیان صرف پہلی مرتبہ میں ہی سعی کی تھی اس کے بعد نہیں کی تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا طَوَافَهُ الْأَوَّلَ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کی سعی اپنی سواری پر کی تاکہ لوگ نبی ﷺ کو دیکھ سکیں اور مسائل باآسانی معلوم کرسکیں کیونکہ اس وقت لوگوں نے آپ کو گھیر رکھا تھا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ فَإِنَّ النَّاسَ غَشُوهُ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کچی اور پکی کھجوریں، کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الرُّطَبِ وَالْبُسْرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ১৩৮৯৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے دورباسعادت میں سورج گرہن ہوا یہ وہی دن تھا جس دن نبی ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا اور لوگ آپس میں کہنے لگے کہ ابراہیم کی موت کی وجہ سے سورج کو بھی گرہن لگ گیا ادھر نبی ﷺ تیار ہوئے اور لوگوں کو چھ رکوع کے ساتھ چار سجدے کرائے چناچہ پہلی رکعت میں تکبیر کہہ کر طویل قرأت کی پھر اتنا ہی طویل رکوع کیا پھر سر اٹھاکر پہلے کچھ کم طویل قرأت کی پھر بقدر قیام رکوع کیا پھر رکوع سے سر اٹھاکر دوسری قرأت سے کچھ کم طویل قرأت کی پھر بقدر قیام رکوع کیا پھر سر اٹھا کر سجدے میں چلے گئے دوسجدے کئے اور پھر کھڑے ہو کر دوسری رکعت کے سجدے میں جانے سے قبل حسب مذکور تین مرتبہ رکوع کیا جس میں پہلا رکوع بعد والے کی نسبت زیادہ لمبا تھا البتہ ہر رکوع بقدر قیام ہوتا تھا پھر دوران نماز ہی آپ پیچھے ہٹنے لگے جس پر لوگوں کی صفیں بھی پیچھے ہٹنے لگیں کچھ دیر بعد نبی ﷺ آگے بڑھ کر اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور لوگوں کی صفیں بھی آگے بڑھ گئیں جب نماز مکمل ہوئی تو سورج گرہن ختم ہوچکا تھا اور سورج نکل آیا تھا۔ اس موقع پر نبی ﷺ نے فرمایا لوگو چاند اور سورج اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں جو کسی انسان کی موت سے نہیں گہن ہوتیں جب تم کوئی ایسی چیز دیکھا کرو تو اس وقت نماز پڑھتے رہا کرو جب تک گہن ختم نہ ہوجائے کیونکہ تم سے جس جس چیز کا وعدہ کیا گیا ہے، وہ سب چیزیں میں نے اپنی اس نماز کے دوران دیکھی ہیں چناچہ جہنم کو بھی لایا گیا ہے یہ وہی وقت تھا جب تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا کیونکہ اندیشہ تھا کہ کہیں اس کی لپٹ مجھے نہ لگ جائے حتی کہ میں نے عرض کیا پروردگار ابھی تو میں ان کے درمیان موجود ہوں پھر جہنم کا اتنا زیادہ قرب ؟ میں نے جہنم میں ایک لاٹھی والے کو بھی دیکھاجو جہنم میں اپنی لاٹھی گھسیٹ رہا تھا یہ اپنی لاٹھی کے ذریعے حجاج کرام کا مال چراتا تھا اگر کسی کو پتہ چل جاتا تو یہ کہہ دیتا کہ یہ سامان میری لاٹھی سے چپک کر آگیا ہے اور اگر کوئی غافل ہوتا تو یہ اس پر سامان اس طرح لے جاتا میں نے اس میں اس بلی والی عورت کو بھی دیکھا ہے جس نے اسے باندھ دیا تھا خود اسے کچھ کھلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ وہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا کر اپنا پیٹ پالتی حتی کہ اس حال میں وہ مرگئی اسی طرح میرے سامنے جنت کو بھی لایا گیا۔ یہ وہی وقت تھا جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے اپنی جگہ کھڑے ہوئے دیکھا تھا میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور ارادہ کیا کہ اس کے کچھ پھل توڑ لوں تاکہ تم بھی دیکھ سکو لیکن پھر مجھے ایسا کرنا مناسب نہ لگا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ ذَلِكَ الْيَوْمَ الَّذِي مَاتَ فِيهِ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام ابْنُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّاسُ إِنَّمَا كَسَفَتْ الشَّمْسُ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى بِالنَّاسِ سِتَّ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ كَبَّرَ ثُمَّ قَرَأَ فَأَطَالَ الْقِرَاءَةَ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَرَأَ دُونَ الْقِرَاءَةِ الثَّانِيَةِ ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِمَّا قَامَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَانْحَدَرَ لِلسُّجُودِ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ لَيْسَ فِيهَا رَكْعَةٌ إِلَّا الَّتِي قَبْلَهَا أَطْوَلُ مِنْ الَّتِي بَعْدَهَا إِلَّا أَنَّ رُكُوعَهُ نَحْوٌ مِنْ قِيَامِهِ ثُمَّ تَأَخَّرَ فِي صَلَاتِهِ وَتَأَخَّرَتْ الصُّفُوفُ مَعَهُ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقَامَ فِي مَقَامِهِ وَتَقَدَّمَتْ الصُّفُوفُ فَقَضَى الصَّلَاةَ وَقَدْ طَلَعَتْ الشَّمْسُ فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ بَشَرٍ فَإِذَا رَأَيْتُمْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَصَلُّوا حَتَّى تَنْجَلِيَ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ تُوعَدُونَهُ إِلَّا قَدْ رَأَيْتُهُ فِي صَلَاتِي هَذِهِ وَلَقَدْ جِيءَ بِالنَّارِ فَذَلِك حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ مَخَافَةَ أَنْ يُصِيبَنِي مِنْ لَفْحِهَا حَتَّى قُلْتُ أَيْ رَبِّ وَأَنَا فِيهِمْ وَرَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَ الْمِحْجَنِ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ كَانَ يَسْرِقُ الْحَاجَّ بِمِحْجَنِهِ فَإِنْ فُطِنَ بِهِ قَالَ إِنَّمَا تَعَلَّقَ بِمِحْجَنِي وَإِنْ غُفِلَ عَنْهُ ذَهَبَ بِهِ وَحَتَّى رَأَيْتُ فِيهَا صَاحِبَةَ الْهِرَّةِ الَّتِي رَبَطَتْهَا فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَتْرُكْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ جُوعًا وَجِيءَ بِالْجَنَّةِ فَذَلِكَ حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَقَدَّمْتُ حَتَّى قُمْتُ فِي مَقَامِي فَمَدَدْتُ يَدِي وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَنَاوَلَ مِنْ ثَمَرِهَا لِتَنْظُرُوا إِلَيْهِ ثُمَّ بَدَا لِي أَنْ لَا أَفْعَلَ
tahqiq

তাহকীক: