আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৬৪ টি
হাদীস নং: ১৩৯১৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
امام باقر فرماتے ہیں کہ ہم حضرت جابر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ بنوسلمہ میں تھے ہم نے ان سے نبی ﷺ کے حج کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسول نو برس مدینہ میں رہے حج نہیں کیا ہجرت کے بعد دسویں سال آپ نے لوگوں میں اعلان کروادیا کہ اللہ کے رسول حج کرنے والے ہیں تو مدینہ میں بہت لوگ آئے ہر ایک کی یہی خواہش تھی کہ اللہ کے رسول کی پیروی کریں اور تمام اعمال آپ کی مانند کریں۔ نبی ﷺ بیس ذی قعدہ کو نکلے تو ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں عمیس کے ہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی تو انہوں نے وہی سے کسی کو بھیج کر اللہ کے رسول سے دریافت کیا کہ کیا کروں فرمایا کہ نہا لو اور کپڑے کا لنگوٹ باندھ کر احرام باندھ لو خیر آپ قصوی اونٹنی پر سوار ہوئے جب آپ کی اونٹنی مقام بیضاء میں سیدھی ہوئی آپ نے کلمہ توحید پکارا اور یہ کہا لبیک اللھم لبیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور لوگوں نے بھی یہی تلبیہ کیا جو آپ نے کیا کچھ لوگوں نے اس میں ذی المعارج وغیرہ کا بھی اضافہ کیا اور نبی ﷺ اسے سنتے بھی رہے لیکن انہیں کچھ نہیں کہا میں نے تاحد نگاہ اور نبی ﷺ کے بائیں دائیں پیدل اور سوار دیکھے یہی حال پیچھے دائیں اور بائیں کا تھا نبی ﷺ ہمارے درمیان تھے ان پر قرآن نازل ہوتا تھا وہ اس کا مطلب جانتے تھے لہذا وہ جو بھی کرتے ہم بھی اس طرح کرتے تھے حضرت جابر (رض) نے فرمایا کہ ہماری نیت صرف حج کی تھی جب ہم بیت اللہ پہنچے تو آپ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں معمول کے مطابق چلے پھر مقام ابراہیم پر آئے اور اس کے پیچھے دو رکعتیں پڑھ کر فرمایا " واتخذو من مقام ابراہیم مصلی اور آپ نے ان دو رکعتوں میں " قل یا ایھا الکافرون " اور قل ھو اللہ احد پڑھی پھر بیت اللہ کے قریب واپس آئے اور حجر اسود کو بوسہ دیا اور دروازے سے صفا کی طرف نکلے جب آپ صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت پڑھی " ان الصفا والمروۃ من شعائر اللہ " ہم بھی اسی سے ابتداء کریں گے جسے اللہ نے پہلے ذکر فرمایا چناچہ آپ نے صفا سے ابتداء کی صفا پر چڑھے جب بیت اللہ پر نظر پڑی تو تکبیر کہہ کر فرمایا لا الہ اللہ وحدہ لاشریک۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔۔ پھر اس کے درمیان یہ دعا کی اور یہی کلمات تین بار دہرائے پھر وہ مروہ کی طرف چلے جب آپ کے پاؤں وادی کے نشیب میں اترنے لگے تو آپ نے نشیب میں رمل کیا (کندھے ہلا کر تیز چلے) جب اوپر چڑھنے لگے تو پھر معمول کی رفتار سے چلنے لگے اور مروہ پر بھی وہی کیا جو صفا پر کیا جب آپ نے مروہ پر ساتواں چکرلگالیا تو فرمایا اگر مجھے پہلے معلوم ہوتا جو بعد میں معلوم ہوا تو میں ہدی اپنے ساتھ نہ لاتا اور حج کو عمرہ میں بدل دیتا تو تم میں سے جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہوجائے اور اس حج کو عمرہ میں بدل لے تو سب لوگ حلال ہوگئے پھر سراقہ بن مالک بن جعشم کھڑے ہوئے اور عرض کی یہ حکم ہمیں اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تو اللہ کے رسول نے انگلیاں ایک دوسرے میں ڈال کر فرمایا عمرہ حج میں اس طرح داخل ہوگیا ہے پھر تین مرتبہ فرمایا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہی حکم ہے اور حضرت علی یمن سے نبی ﷺ کی قربانیاں لے کر پہنچے تو دیکھا کہ حضرت فاطمہ حلال ہو کر رنگین کپڑے پہنے ہوئے سرمہ لگائے ہوئے ہیں تو انہیں اس پر تعجب ہوا حضرت فاطمہ نے کہا میرے والد نے مجھے یہی حکم دیا ہے حضرت علی کوفہ میں فرمایا کرتے تھے اس کے بعد میں اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہوا فاطمہ کے اس عمل پر غصہ کی حالت میں اور اللہ کے رسول سے وہ بات پوچھنے کے لئے جو فاطمہ نے ان کے حوالہ سے ذکر کی کہ ایام حج میں حلال ہو کر رنگین کپڑے اور سرمہ لگائیں تو آپ نے فرمایا اس نے سچ کہا میں نے ہی اسے یہ حکم دیا تھا پھر فرمایا کہ اس نے سچ کہا ہے جب تم نے حج کی نیت کی تھی تو کیا کہا تھا حضرت علی (رض) فرماتے ہیں میں نے کہا اے اللہ میں بھی وہی احرام باندھتا ہوں جو آپ کے رسول نے احرام باندھا تھا آپ نے فرمایا کہ میرے ساتھ تو ہدی ہے تو تم بھی حلال مت ہونا اور حضرت علی یمن سے اور نبی ﷺ مدینہ سے جو اونٹ لائے تھے سب ملا کر سو ہوگئے پھر آپ نے تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کئے اور باقی علی کرم اللہ وجہہ کو دیدیئے جو انہوں نے نحر کیا اور ان کو آپ نے اپنی ہدی میں شریک کرلیا پھر آپ کے حکم کے مطابق ہر اونٹ سے گوشت کا ایک پارچہ لے کر ایک دیگ میں ڈال کر پکایا گیا پھر آپ اور حضرت علی نے اس گوشت میں سے کچھ کھایا اور اس کا شوربہ پیا پھر اللہ کے رسول نے فرمایا میں نے قربانی یہاں کی ہے اور منیٰ پورا ہی قربان گاہ ہے اور عرفات میں وقوف کر کے فرمایا میں نے یہاں وقوف کیا ہے اور پوراعرفات ہی وقوف کی جگہ ہے اور مزدلفہ میں وقوف کر کے فرمایا میں نے یہاں وقوف کیا ہے اور پورا مزدلفہ ہی وقوف کی جگہ ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ فِي بَنِي سَلِمَةَ فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَثَ بِالْمَدِينَةِ تِسْعَ سِنِينَ لَمْ يَحُجَّ ثُمَّ أُذِّنَ فِي النَّاسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجٌّ هَذَا الْعَامَ قَالَ فَنَزَلَ الْمَدِينَةَ بَشَرٌ كَثِيرٌ كُلُّهُمْ يَلْتَمِسُ أَنْ يَأْتَمَّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَفْعَلَ مِثْلَ مَا يَفْعَلُ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَشْرٍ بَقِينَ مِنْ ذِي الْقَعْدَةِ وَخَرَجْنَا مَعَهُ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ نُفِسَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ بِمُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَأَرْسَلَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ أَصْنَعُ قَالَ اغْتَسِلِي ثُمَّ اسْتَذْفِرِي بِثَوْبٍ ثُمَّ أَهِلِّي فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ عَلَى الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ بِالتَّوْحِيدِ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَلَبَّى النَّاسُ وَالنَّاسُ يَزِيدُونَ ذَا الْمَعَارِجِ وَنَحْوَهُ مِنْ الْكَلَامِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ فَلَمْ يَقُلْ لَهُمْ شَيْئًا فَنَظَرْتُ مَدَّ بَصَرِي وَبَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَاكِبٍ وَمَاشٍ وَمِنْ خَلْفِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ يَمِينِهِ مِثْلُ ذَلِكَ وَعَنْ شِمَالِهِ مِثْلُ ذَلِكَ قَالَ جَابِرٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا عَلَيْهِ يَنْزِلُ الْقُرْآنُ وَهُوَ يَعْرِفُ تَأْوِيلَهُ وَمَا عَمِلَ بِهِ مِنْ شَيْءٍ عَمِلْنَا بِهِ فَخَرَجْنَا لَا نَنْوِي إِلَّا الْحَجَّ حَتَّى أَتَيْنَا الْكَعْبَةَ فَاسْتَلَمَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَرَ الْأَسْوَدَ ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَةً وَمَشَى أَرْبَعَةً حَتَّى إِذَا فَرَغَ عَمَدَ إِلَى مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ فَصَلَّى خَلْفَهُ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَرَأَ وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى قَالَ أَبِي قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي جَعْفَرًا فَقَرَأَ فِيهَا بِالتَّوْحِيدِ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ثُمَّ اسْتَلَمَ الْحَجَرَ وَخَرَجَ إِلَى الصَّفَا ثُمَّ قَرَأَ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ فَرَقِيَ عَلَى الصَّفَا حَتَّى إِذَا نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ كَبَّرَ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَنْجَزَ وَعْدَهُ وَصَدَقَ عَبْدَهُ وَغَلَبَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ ثُمَّ دَعَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى هَذَا الْكَلَامِ ثُمَّ نَزَلَ حَتَّى إِذَا انْصَبَّتْ قَدَمَاهُ فِي الْوَادِي رَمَلَ حَتَّى إِذَا صَعِدَ مَشَى حَتَّى أَتَى الْمَرْوَةَ فَرَقِيَ عَلَيْهَا حَتَّى نَظَرَ إِلَى الْبَيْتِ فَقَالَ عَلَيْهَا كَمَا قَالَ عَلَى الصَّفَا فَلَمَّا كَانَ السَّابِعُ عِنْدَ الْمَرْوَةِ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَلَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً فَحَلَّ النَّاسُ كُلُّهُمْ فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ وَهُوَ فِي أَسْفَلِ الْمَرْوَةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِلْأَبَدِ فَشَبَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فَقَالَ لِلْأَبَدِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ دَخَلَتْ الْعُمْرَةُ فِي الْحَجِّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ فَقَدِمَ بِهَدْيٍ وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ مِنْ الْمَدِينَةِ هَدْيًا فَإِذَا فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَدْ حَلَّتْ وَلَبِسَتْ ثِيَابَهَا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ فَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَلَيْهَا فَقَالَتْ أَمَرَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ عَلِيٌّ بِالْكُوفَةِ قَالَ جَعْفَرٌ قَالَ أَبِي هَذَا الْحَرْفُ لَمْ يَذْكُرْهُ جَابِرٌ فَذَهَبْتُ مُحَرِّشًا أَسْتَفْتِي بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِي ذَكَرَتْ فَاطِمَةُ قُلْتُ إِنَّ فَاطِمَةَ لَبِسَتْ ثِيَابَهَا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ وَقَالَتْ أَمَرَنِي بِهِ أَبِي قَالَ صَدَقَتْ صَدَقَتْ صَدَقَتْ أَنَا أَمَرْتُهَا بِهِ قَالَ جَابِرٌ وَقَالَ لِعَلِيٍّ بِمَ أَهْلَلْتَ قَالَ قُلْتُ اللَّهُمَّ إِنِّي أُهِلُّ بِمَا أَهَلَّ بِهِ رَسُولُكَ قَالَ وَمَعِي الْهَدْيُ قَالَ فَلَا تَحِلَّ قَالَ فَكَانَتْ جَمَاعَةُ الْهَدْيِ الَّذِي أَتَى بِهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مِنْ الْيَمَنِ وَالَّذِي أَتَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً فَنَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثَلَاثَةً وَسِتِّينَ ثُمَّ أَعْطَى عَلِيًّا فَنَحَرَ مَا غَبَرَ وَأَشْرَكَهُ فِي هَدْيِهِ ثُمَّ أَمَرَ مِنْ كُلِّ بَدَنَةٍ بِبَضْعَةٍ فَجُعِلَتْ فِي قِدْرٍ فَأَكَلَا مِنْ لَحْمِهَا وَشَرِبَا مِنْ مَرَقِهَا ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَحَرْتُ هَاهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ وَوَقَفَ بِعَرَفَةَ فَقَالَ وَقَفْتُ هَاهُنَا وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ وَوَقَفَ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقَالَ قَدْ وَقَفْتُ هَاهُنَا وَالْمُزْدَلِفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯২০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت کعب بن عجرہ سے فرمایا اللہ تمہیں بیوقوفوں کی حکمرانی سے بچائے انہوں نے پوچھا کہ بیوقوفوں کی حکمرانی کیا ہے اس سے کیا مراد ہے نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ حکمران ہیں جو میرے بعد آئیں گے میرے طریقے کی پیروی نہ کریں گے اور میری سنت کو اختیار نہ کریں گے جو لوگ ان کے جھوٹ کی تصدیق کریں گے اور ان کے ظلم پر تعاون کریں گے ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں اور یہ لوگ حوض کوثر پر بھی میرے پاس نہ آسکیں گے لیکن جو لوگ ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کریں گے اور ان کے ظلم میں تعاون نہ کریں گے تو وہ لوگ مجھ سے ہوں گے اور میں ان سے ہوں گا اور عنقریب وہ میرے پاس حوض کوثر پر آئیں گے۔ اے کعب بن عجرہ روزہ ڈھال ہے صدقہ گناہوں کو مٹا دیتا ہے نماز قرب الٰہی کا ذریعہ ہے یا یہ فرمایا کہ دلیل ہے اے کعب بن عجرہ جنت میں کوئی ایسا وجود داخل نہیں ہو سکے گا جس کی پرورش حرام سے ہوئی ہو اور جہنم اس کی زیادہ حق دار ہوگی اے کعب بن عجرہ لوگ دو حصوں میں تقسیم ہوجائیں کچھ تو اپنے نفس کو خرید کر آزاد کردیں گے اور کچھ اسے خرید کر ہلاک کردیں گے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ أَعَاذَكَ اللَّهُ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ قَالَ وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ قَالَ أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي لَا يَقْتَدُونَ بِهَدْيِي وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَا يَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ وَسَيَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ الصَّوْمُ جُنَّةٌ وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ وَالصَّلَاةُ قُرْبَانٌ أَوْ قَالَ بُرْهَانٌ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ النَّارُ أَوْلَى بِهِ يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ النَّاسُ غَادِيَانِ فَمُبْتَاعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا وَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُوبِقُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯২১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اونٹوں کا جو مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا وہ اونٹ قیامت کے دن سب سے زیادہ تنومند ہو کر آئیں گے اور ان کے لئے نرم زمین بچھائی جائے گی جس پر وہ اپنے مالک کو اپنے پیروں اور کھروں سے روندیں گے اور گایوں کا جو مالک ان کا حق ادا نہیں کرتا وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ صحت مند ہو کر آئیں گے ان کے لئے نرم زمین بچھائی جائے گی وہ اسے سینگ ماریں گی اور اپنے پاؤں تلے روندیں گی اور بکریوں کا جو مالک ان کا حق ادا نہیں کرے گا وہ قیامت کے دن پہلے سے صحت مند نظر آئیں گی ان کے لئے نرم زمین بچھائی جائے گی اور وہ اسے سینگ ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی ان بکریوں میں کوئی بھی بےسینگ یا ٹوٹے ہوئے سینگ والی نہ ہوگی اور خزانے کا جو مالک اس کا حق ادا نہیں کرتا قیامت کے دن اس کا خزانہ گنجاسانپ بن کر آئے گا اور منہ کھول کر اس کا پیچھا کرے گا جب وہ اپنے مالک کے پاس پہنچے گا تو وہ اسے دیکھ کر بھاگے گا اس وقت پروردگار عالم اسے پکار کر کہیں گے اپنے اس خزانے کو پکڑ تو سہی جسے تو جمع کر کر کے رکھتا تھا میں تو تجھ سے بھی زیادہ اس سے مستغنی تھا جب وہ شخص دیکھے گا کہ اس سانپ سے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں ہے تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ میں دیدے گا وہ سانپ اس کے ہاتھ کو اس طرح چباجائے گا جیسے بیل چبا جاتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ ایک آدمی نے یہ سن کر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ اونٹوں کا حق کیا ہے آپ نے فرمایا پانی پر اس کا دودھ دوہنا اس کا ڈول کسی کو مانگنے پر دینا اس کا نر مانگنے پر کسی کو دینا اسے ہبہ کردینا اور جہاد فی سبیل اللہ کے موقع پر اس پر سوار ہونا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ قَطُّ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا وَلَا صَاحِبِ بَقَرٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِقَوَائِمِهَا وَلَا صَاحِبِ غَنَمٍ لَا يَفْعَلُ فِيهَا حَقَّهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلَا مُنْكَسِرٌ قَرْنُهَا وَلَا صَاحِبِ كَنْزٍ لَا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلَّا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاغِرًا فَاهُ فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ خُذْ كَنْزَكَ الَّذِي خَبَّأْتَهُ فَأَنَا عَنْهُ أَغْنَى مِنْكَ فَإِذَا رَأَى أَنَّهُ لَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ فَقَضَمَهَا قَضْمَ الْفَحْلِ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ وَسَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا حَقُّ الْإِبِلِ قَالَ حَلَبُهَا عَلَى الْمَاءِ وَإِعَارَةُ دَلْوِهَا وَإِعَارَةُ فَحْلِهَا وَمَنِيحَتُهَا وَحَمْلٌ عَلَيْهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِيهَا كُلِّهَا وَقَعَدَ لَهَا وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ فِيهِ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ هَذَا الْقَوْلَ ثُمَّ سَأَلْنَا جَابِرًا الْأَنْصَارِيَّ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ مِثْلَ قَوْلِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯২২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے وٹے سٹے کے نکاح سے منع فرمایا ہے جبکہ اس میں مہر مقرر نہ کیا گیا ہو (بلکہ تبادلے ہی کو مہر فرض کرلیا گیا ہو)
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯২৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میری ایک خالہ کو طلاق ہوگئی، انہوں نے اپنے درختوں کے پھل کاٹنے کے لئے نکلنا چاہا لیکن کسی آدمی نے انہیں سختی سے باہر نکلنے سے منع کردیا وہ نبی ﷺ کی خدمت میں آئیں نبی ﷺ نے انہیں اجازت دیتے ہوئے فرمایا تم جا کر اپنے درختوں کا پھل کاٹ سکتی ہو کیونکہ ہوسکتا ہے تم اسے صدقہ کرو یا کسی نیک کام میں استعمال کرو۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ طُلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ فَأَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯২৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے قبیلے کی ہر شاخ پر دیت کا حصہ ادا کرنا فرض قرار دیا ہے اور یہ بات بھی تحریر فرمادی کہ کسی شخص کے لئے کسی مسلمان آدمی کے غلام سے عقد موالات کرنا اس کی اجازت کے بغیر حلال نہیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح وَرَوْحٌ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى كُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُ ثُمَّ إِنَّهُ كَتَبَ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ أَنْ يُتَوَالَى مَوْلَى رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ قَالَ رَوْحٌ يُتَوَلَّى
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯২৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ اپنی ان باندیوں کو جو ہمارے بچوں کی مائیں ہوتی تھیں فروخت کردیا کرتے تھے اور نبی ﷺ اس وقت حیات تھے آپ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ إِنَّا كُنَّا نَبِيعُ سَرَارِيَّنَا وَأُمَّهَاتِ أَوْلَادِنَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا حَيٌّ لَا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯২৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے قبیلہ اسلم کے ایک یہودی مرد کو اور ایک عورت کو رجم فرمایا تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ رَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ وَرَجُلًا مِنْ الْيَهُودِ وَامْرَأَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯২৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کسی جانور کو باندھ کر مارنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنْ الدَّوَابِّ صَبْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯২৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر (رض) سے بجو کے متعلق دریافت کیا کیا میں اسے کھاسکتا ہوں انہوں نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا کہ کیا یہ شکار ہے ؟ انہوں نے فرمایا ہاں میں نے ان سے پوچھا کہ کیا یہ بات نبی ﷺ کے حوالے سے ہے انہوں نے فرمایا جی ہاں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي عَمَّارٍ أَخْبَرَهُ قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ عَنْ الضَّبُعِ قُلْتُ آكُلُهَا قَالَ نَعَمْ قُلْتُ أَصَيْدٌ هِيَ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ سَمِعْتَ ذَاكَ مِنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯২৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے غزوہ خیبر کے زمانے میں گھوڑوں اور جنگلی گدھوں کا گوشت کھایا تھا البتہ نبی ﷺ نے پالتو گدھوں سے منع فرمایا تھا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَكَلْنَا زَمَنَ خَيْبَرَ الْخَيْلَ وَحُمُرَ الْوَحْشِ وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحِمَارِ الْأَهْلِيِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৩০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ مجھ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں حالانکہ اس کا حقیقی علم اللہ کو ہی ہے البتہ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آج جو شخص زندہ ہے وہ سو سال نہیں گذرنے پائیں گے کہ وہ زندہ رہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَسْأَلُونِي عَنْ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ يَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৩১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ایک کپڑے میں اپناجسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کربیٹھے اور جب چت لیٹے تو ایک ٹانگ کو دوسری پر نہ رکھے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ وَأَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَمْشِ فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ وَلَا تَحْتَبِ فِي إِزَارٍ وَاحِدٍ وَلَا تَأْكُلْ بِشِمَالِكَ وَلَا تَشْتَمِلْ الصَّمَّاءَ وَلَا تَضَعْ إِحْدَى رِجْلَيْكَ عَلَى الْأُخْرَى إِذَا اسْتَلْقَيْتَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৩২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کی ایک مرتبہ نبی ﷺ کے سامنے روٹی اور گوشت پیش کیا گیا پھر نبی ﷺ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کر کے نماز ظہر ادا کی پھر باقی ماندہ کھانا منگوایا اور اسے تناول فرمایا اور پھر وضو کئے بغیر نماز کے لئے کھڑے ہوئے اسی طرح ایک مرتبہ میں حضرت عمر کے یہاں گیا تو ان کے دستر خوان پر ایک پیالہ رکھا ہوا تھا جس میں روٹی اور گوشت تھا اور ایک پیالہ وہاں رکھا گیا اس میں بھی روٹی اور گوشت تھا حضرت عمر نے اسے تناول فرمایا اور نیا وضو کئے بغیر ہی نماز کے لئے کھڑے ہوگئے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُبْزٌ وَلَحْمٌ ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ طَعَامِهِ فَأَكَلَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ ثُمَّ دَخَلْتُ مَعَ عُمَرَ فَوُضِعَتْ لَهُ هَاهُنَا جَفْنَةٌ وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ أَمَامَنَا جَفْنَةٌ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ وَهَاهُنَا جَفْنَةٌ فِيهَا خُبْزٌ وَلَحْمٌ فَأَكَلَ عُمَرُ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَتَوَضَّأْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৩৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا صفوں کی درستگی تمام نماز کا حصہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ تَمَامِ الصَّلَاةِ إِقَامَةَ الصَّفِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৩৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن ابوقحافہ کو نبی ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اس وقت ان کے سر کے بال ثغامہ بوٹی کی طرح سفید ہوچکے تھے نبی ﷺ نے فرمایا کہ ان کے بالوں کا رنگ بدل دو البتہ کالے رنگ سے اجتناب کرنا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ كَأَنَّ رَأْسَهُ ثَغَامَةٌ بَيْضَاءُ فَقَالَ غَيِّرُوهُ وَجَنِّبُوهُ السَّوَادَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৩৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دس سال مکہ مکرمہ میں رہے اور عکاظ، مجنہ اور موسم حج میں میدان منیٰ میں لوگوں کے پاس ان کے ٹھکانوں پر جا جا کر ملتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے اپنے یہاں کون ٹھکانہ دے گا کون میری مدد کرے گا میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں اور اسے جنت مل جائے بعض اوقات ایک آدمی یمن سے آتا یا مصر سے تو ان کی قوم کے لوگ اس کے پاس آتے اور اس سے کہتے کہ قریش کے اس نوجوان سے بچ کر رہنا کہیں یہ تمہیں گمراہ نہ کردے نبی ﷺ جب ان کے خیموں کے پاس سے گذرتے وہ انگلیوں سے انکی طرف اشارہ کرتے حتی کہ اللہ نے ہمیں نبی ﷺ کے لئے یثرب سے اٹھادیا اور ہم نے انہیں ٹھکانہ فراہم کیا اور ان کی تصدیق کی چناچہ ہم میں سے ایک آدمی نکلتا نبی ﷺ پر ایمان لاتا نبی ﷺ اسے قرآن پڑھاتے اور جب وہ واپس گھر پلٹ کر آتا تو اس کے اسلام کی برکت سے اس کے اہل خانہ بھی مسلمان ہوجاتے حتی کہ انصار کا کوئی گھر ایساباقی نہ بچا جس میں مسلمانوں کا ایک گروہ نہ ہو، یہ سب لوگ علانیہ اسلام کو ظاہر کرتے تھے۔ ایک دن سب لوگ مشورہ کے لئے اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک نبی ﷺ کو اس حال میں چھوڑے رکھیں گے کہ آپ کو مکہ کے پہاڑوں میں دھکے دیئے جاتے رہیں اور آپ خوف کے عالم میں رہیں چناچہ ہم میں سے ستر آدمی نبی ﷺ کی طرف روانہ ہوئے اور ایام حج میں نبی ﷺ کے پاس پہنچ گئے ہم نے آپس میں ایک گھاٹی ملاقات کے لئے طے کی اور ایک ایک دو دو کر کے نبی ﷺ کے پاس جمع ہوگئے یہاں تک کہ جب ہم پورے ہوگئے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ہم کس شرط پر آپ کی بیعت کریں نبی ﷺ نے فرمایا تم مجھ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے، تنگی اور آسانی اور ہر حال میں خرچ کرنے، امر بالمعروف نہی عن المنکر اور حق بات کہنے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے اور میری مدد کرنے اور اسی طرح میری حفاظت کرنے کی شر ط پر بیعت کرو جس طرح تم اپنی بیویوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہو اور تمہیں اس کے بدلے میں جنت ملے گی چناچہ ہم نے کھڑے ہو کر نبی ﷺ سے بیعت کرلی۔ حضرت اسعد بن زرارہ جو سب سے چھوٹے تھے نبی ﷺ کا دست مبارک پکڑ کر کہنے لگے کہ اے اہل یثرب ٹھہرو ہم لوگ اپنے اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے یہاں اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں یہ سمجھ لو کہ آج نبی ﷺ کو یہاں سے نکال کرلے جانا پورے عرب کی جدائیگی اختیار کرنا ہے اپنے بہترین افراد کو قتل کروانا اور تلواریں کاٹنا ہے اگر تم اس پر صبر کرسکو تو تمہارا اجر وثواب اللہ کے ذمے ہے۔ اور اگر تمہیں اپنے متعلق ذرا سی بھی بزدلی کا اندیشہ ہو تو اسے واضح کردو تاکہ وہ عند اللہ تمہارے لئے عذر شمار ہوجائے اس پر تمام انصار نے کہا اسعد پیچھے ہٹو بخدا ہم بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور کبھی ختم نہیں کریں گے چناچہ اسی طرح ہم نے نبی ﷺ سے بیعت کی اور نبی ﷺ نے جنت عطا فرمائے جانے کے وعدے اور شرائط پر ہم سے بیعت لے لی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ عَشْرَ سِنِينَ يَتْبَعُ النَّاسَ فِي مَنَازِلِهِمْ بعُكَاظٍ وَمَجَنَّةَ وَفِي الْمَوَاسِمِ بِمِنًى يَقُولُ مَنْ يُؤْوِينِي مَنْ يَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَةَ رَبِّي وَلَهُ الْجَنَّةُ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَخْرُجُ مِنْ الْيَمَنِ أَوْ مِنْ مُضَرَ كَذَا قَالَ فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ فَيَقُولُونَ احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنُكَ وَيَمْشِي بَيْنَ رِجَالِهِمْ وَهُمْ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ إِلَيْهِ مِنْ يَثْرِبَ فَآوَيْنَاهُ وَصَدَّقْنَاهُ فَيَخْرُجُ الرَّجُلُ مِنَّا فَيُؤْمِنُ بِهِ وَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ حَتَّى لَمْ يَبْقَ دَارٌ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ إِلَّا وَفِيهَا رَهْطٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ ثُمَّ ائْتَمَرُوا جَمِيعًا فَقُلْنَا حَتَّى مَتَى نَتْرُكُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ فَرَحَلَ إِلَيْهِ مِنَّا سَبْعُونَ رَجُلًا حَتَّى قَدِمُوا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدْنَاهُ شِعْبَ الْعَقَبَةِ فَاجْتَمَعْنَا عَلَيْهِ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ حَتَّى تَوَافَيْنَا فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ نُبَايِعُكَ قَالَ تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ وَالنَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنْ الْمُنْكَرِ وَأَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ لَا تَخَافُونَ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي فَتَمْنَعُونِي إِذَا قَدِمْتُ عَلَيْكُمْ مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمْ الْجَنَّةُ قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ وَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ مِنْ أَصْغَرِهِمْ فَقَالَ رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ فَإِنَّا لَمْ نَضْرِبْ أَكْبَادَ الْإِبِلِ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ وَأَنَّ تَعَضَّكُمْ السُّيُوفُ فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى ذَلِكَ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ وَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ جَبِينَةً فَبَيِّنُوا ذَلِكَ فَهُوَ عُذْرٌ لَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ قَالُوا أَمِطْ عَنَّا يَا أَسْعَدُ فَوَاللَّهِ لَا نَدَعُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ أَبَدًا وَلَا نَسْلُبُهَا أَبَدًا قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَبَايَعْنَاهُ فَأَخَذَ عَلَيْنَا وَشَرَطَ وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي الْعَطَّارَ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَالَ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَرْحَلُ ضَاحِيَةً مِنْ مُضَرَ وَمِنْ الْيَمَنِ وَقَالَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ وَقَالَ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً وَقَالَ فِي الْبَيْعَةِ لَا نَسْتَقِيلُهَا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَرْحَلُ مِنْ مُضَرَ وَمِنْ الْيَمَنِ وَقَالَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ وَقَالَ فِي كَلَامِ أَسْعَدَ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً وَقَالَ فِي الْبَيْعَةِ لَا نَسْتَقِيلُهَا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৩৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ کی ایک مرتبہ ایک گدھے پر نظر پڑی جس کے چہرے پر داغا گیا تھا اور اس کے نتھنوں میں دھواں بھرا گیا تھا نبی ﷺ نے فرمایا یہ کس نے کیا ہے چہرے پر کوئی داغ نہ دیا جائے اور نہ چہرے پر کوئی مارے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِمَارٍ قَدْ وُسِمَ فِي وَجْهِهِ يُدَخِّنُ مَنْخِرَاهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ فَعَلَ هَذَا لَا يَسِمَنَّ أَحَدٌ الْوَجْهَ لَا يَضْرِبَنَّ أَحَدٌ الْوَجْهَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৩৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کے پاس گوہ لائی گئی نبی ﷺ نے اسے کھانے سے انکار کردیا اور فرمایا مجھے معلوم نہیں ہوسکتا کہ یہ ان بستیوں اور زمانوں میں سے ہو جو مسخ کردی گئی تھیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أبَو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ وَقَالَ إِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنْ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৩৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ظلم کرنے سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہوگا اور بخل سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلی قوموں کو ہلاک کردیا تھا اور اسی بخل نے انہیں آپس میں خون ریزی اور محرمات کو حلال سمجھنے پر برانگیختہ کیا تھا
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَإِنَّ الشُّحَّ أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ حَمَلَهُمْ عَلَى أَنْ سَفَكُوا دِمَاءَهُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَهُمْ
তাহকীক: