আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৬৪ টি
হাদীস নং: ১৩৯৭৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا وہی جانور ذبح کیا کرو جو سال بھر کا ہوچکا ہو البتہ اگر مشکل ہو تو بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ بھی ذبح کرسکتے ہو۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ حَسَنٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَذْبَحُوا إِلَّا مُسِنَّةً إِلَّا أَنْ تَعْسُرَ عَلَيْكُمْ فَتَذْبَحُوا جَذَعَةً مِنْ الضَّأْنِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ سفر پر نکلے راستے میں بارش ہونے لگی تو نبی ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص تم میں سے خیمے میں نماز پڑھنا چاہے تو وہ وہیں نماز پڑھ لے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَمُطِرْنَا فَقَالَ لِيُصَلِّ مَنْ شَاءَ مِنْكُمْ فِي رَحْلِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ جائے تو وہ صرف ایک جوتی پہن کر نہ چلے جب تک دوسری کو نہ ٹھیک کرلے اور صرف ایک موزہ پہن کر بھی نہ چلے بائیں ہاتھ سے نہ کھائے ایک کپڑے میں اپناجسم نہ لپیٹے اور نہ ہی گوٹ مار کربیٹھے۔
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِهِ أَوْ إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ نَعْلِ أَحَدِكُمْ فَلَا يَمْشِي فِي نَعْلٍ وَاحِدَةٍ حَتَّى يُصْلِحَ شِسْعَهُ وَلَا يَمْشِي فِي خُفٍّ وَاحِدٍ وَلَا يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَلَا يَحْتَبِي بِالثَّوْبِ الْوَاحِدِ وَلَا يَلْتَحِفُ الصَّمَّاءَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت سعد کے متعلق فرمایا کہ یہ نیک آدمی تھا جس کی موت سے عرش الٰہی بھی ہلنے لگا اور اس کے لئے آسمان کے سارے دروازے کھول دیئے گئے پہلے ان کے اوپر سختی کی گئی تھی اللہ نے بعد میں اس کے لئے کشادگی فرما دی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيُّ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَهَذَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ شُدِّدَ عَلَيْهِ فَفَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ مَرَّةً فُتِّحَتْ وَقَالَ مَرَّةً ثُمَّ فَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُ وَقَالَ مَرَّةً قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَعْدٍ يَوْمَ مَاتَ وَهُوَ يُدْفَنُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ نماز ظہر پڑھتے تو میں اپنے ہاتھ میں سے ایک مٹھی کنکریاں اٹھاتا اور دوسرے ہاتھ میں رکھ لیتا اور جب وہ کچھ ٹھنڈی ہوجاتیں تو انہیں زمین پر رکھ کر ان پر سجدہ کرلیتا کیونکہ گرمی کی بڑی شدت ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ فَآخُذُ بِيَدِي قَبْضَةً مِنْ حَصًى فَأَجْعَلُهَا فِي يَدِي الْأُخْرَى حَتَّى تَبْرُدَ ثُمَّ أَسْجُدَ عَلَيْهَا مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ قَالَ عَبْد اللَّهِ وَكَانَ فِي كِتَابِ أَبِي عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فَضَرَبَ أَبِي عَلَيْهِ لِأَنَّهُ خَطَأٌ وَإِنَّمَا هُوَ سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ أَخْطَأَ ابْنُ بِشْرٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ نماز ظہر پڑھتے تو میں اپنے ہاتھ میں سے ایک مٹھی کنکریاں اٹھاتا اور دوسرے ہاتھ میں رکھ لیتا اور جب وہ کچھ ٹھنڈی ہوجاتیں تو انہیں زمین پر رکھ کر ان پر سجدہ کرلیتا کیونکہ گرمی کی بڑی شدت ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ فَآخُذُ قَبْضَةً مِنْ حَصًى فِي كَفِّي لِتَبْرُدَ حَتَّى أَسْجُدَ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ کا گزر ایک آدمی پر ہوا جو اپنی کمر اور پیٹ پر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا نبی ﷺ نے اس کے متعلق پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ روزے سے ہے نبی ﷺ نے اسے بلا کر روزہ توڑنے کا حکم دیا اور فرمایا کیا تمہارے لئے اتناہی کافی نہیں ہے کہ تم اللہ کے راستے میں نکلے ہوئے ہو رسول اللہ کے ساتھ ہو کہ پھر بھی روزہ رکھتے ہو۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ يُقَلِّبُ ظَهْرَهُ لِبَطْنٍ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا صَائِمٌ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَدَعَاهُ فَأَمَرَهُ أَنْ يُفْطِرَ فَقَالَ أَمَا يَكْفِيكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَصُومَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے مدینہ منورہ میں نبی ﷺ کے ساتھ قربانی کا خشک کیا ہوا گوشت کھایا تھا۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ أَكَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَدِيدَ بِالْمَدِينَةِ مِنْ قَدِيدِ الْأَضْحَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم غلہ خریدو تو اس وقت تک کسی دوسرے کو نہ بیچو جب تک اس پر قبضہ نہ کرلو۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ أَخْبَرَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ابْتَعْتُمْ طَعَامًا فَلَا تَبِيعُوهُ حَتَّى تَقْبِضُوهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سورت فجر میں دس دنوں سے مراد ذی الحجہ کے پہلے دس دن ہیں وتر سے مراد یوم عرفہ ہے اور شفع سے مراد دس ذی الحجہ ہے۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ عُقْبَةَ حَدَّثَنِي خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَشْرَ عَشْرُ الْأَضْحَى وَالْوَتْرَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالشَّفْعَ يَوْمُ النَّحْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৮৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوگا جسے ہر بندہ مومن پڑھ لے گا۔
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا جَابِرٌ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْ الدَّجَّالِ كَافِرٌ يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৯০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا میرے پاس ایک چتکبرے گھوڑے پر جس پر ریشمی کپڑا تھا رکھ کر دنیا کی کنجیاں لائی گئیں۔
حَدَّثَنَا زَيْدٌ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُوتِيتُ بِمَقَالِيدِ الدُّنْيَا عَلَى فَرَسٍ أَبْلَقَ عَلَيْهِ قَطِيفَةٌ مِنْ سُنْدُسٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৯১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی کنکریوں کو چھیڑنے سے اپنا ہاتھ روک کر رکھے یہ اس کے حق میں ایسی سو اونٹنیوں سے بہتر ہے جن میں سب کی آنکھوں کی پتلیاں سیاہ ہوں اگر تم میں سے کسی پر شیطان غالب آہی جائے تو صرف ایک مرتبہ کرلے۔
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ وَابْنِ أَبِي بُكَيْرٍ أَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَنْ يُمْسِكَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَنْ الْحَصَى خَيْرٌ لَهُ مِنْ مِائَةِ نَاقَةٍ كُلُّهَا سُودُ الْحَدَقَةِ فَإِنْ غَلَبَ أَحَدَكُمْ الشَّيْطَانُ فَلْيَمْسَحْ مَسْحَةً وَاحِدَةً
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৯২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابوبکر کاشانہ نبوت پر حاضر ہوئے اندر جانے کی اجازت چاہی چونکہ کافی سارے لوگ دروازے پر موجود تھے اس لئے اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد حضرت عمر نے بھی اجازت چاہی لیکن انہیں بھی اندر جانے کی اجازت نہ مل سکی تھوڑی دیر بعد دونوں حضرات کو اجازت مل گئی اور وہ گھر میں داخل ہوگئے اس وقت نبی ﷺ تشریف فرما تھے اردگرد ازواج مطہرات تھیں نبی ﷺ خاموش بیٹھے ہوئے تھے حضرت عمر نے سوچا کہ میں کوئی بات کروں شاید آپ کو ہنسی آجائے چناچہ وہ کہنے لگے کہ یا رسول اللہ اگر آپ بنت زید اپنی بیوی کو ابھی مجھ سے نفقہ کا سوال کرتے ہوئے دیکھیں تو میں اس کی گردن دبا دوں گا اس پر نبی ﷺ اتنا ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔ پھر نبی ﷺ نے فرمایا یہ خواتین جنہیں تم میرے پاس دیکھ رہے ہو یہ مجھ سے نفقہ ہی کا سوال کر رہی ہیں یہ سن کر حضرت صدیق اکبر اٹھ کر حضرت عائشہ کو مارنے کے لئے بڑھے اور حضرت عمر حفصہ کی طرف بڑھے اور دونوں کہنے لگے کہ تم نبی ﷺ سے اس چیز کا سوال کرتی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے نبی ﷺ نے ان دونوں کو روکا اور تمام ازواج مطہرات کہنے لگیں کہ واللہ آج کے بعد ہم نبی ﷺ سے کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کریں گے جو نبی ﷺ کے پاس نہ ہو۔ اس کے بعد اللہ نے آیت تخبیر نازل فرمائی نبی ﷺ نے سب سے پہلے حضرت عائشہ (رض) آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں میں نہیں چاہتا کہ تم اس میں جلد بازی سے کام لو بلکہ اپنے پہلے والدین سے مشورہ کرلو پھر مجھے جواب دینا انہوں نے پوچھا کہ وہ کیا بات ہے نبی ﷺ نے انہیں آیت تخبیر پڑھ کر سنائی جسے سن کر حضرت عائشہ کہنے لگیں کہ کیا آپ کے متعلق میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی میں تو اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں البتہ آپ سے درخواست ہے کہ میرا یہ جواب کسی دوسری زوجہ محترمہ سے ذکر نہ کیجیے گا نبی ﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے درشتی کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا بلکہ مجھے معلوم اور آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے اس لئے ازواج میں سے جس نے بھی مجھ سے تمہارے جواب کے متعلق پوچھا میں اسے ضرور بتاؤں گا۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو أَبُو عَامِرٍ قَالَ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ بِبَابِهِ جُلُوسٌ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عُمَرُ فَاسْتَأْذَنَ فَلَمْ يُؤْذَنْ لَهُ ثُمَّ أُذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ فَدَخَلَا وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَحَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَهُوَ سَاكِتٌ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَأُكَلِّمَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَعَلَّهُ يَضْحَكُ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ رَأَيْتَ بِنْتَ زَيْدٍ امْرَأَةَ عُمَرَ فَسَأَلَتْنِي النَّفَقَةَ آنِفًا فَوَجَأْتُ عُنُقَهَا فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَدَا نَوَاجِذُهُ قَالَ هُنَّ حَوْلِي كَمَا تَرَى يَسْأَلْنَنِي النَّفَقَةَ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى عَائِشَةَ لِيَضْرِبَهَا وَقَامَ عُمَرُ إِلَى حَفْصَةَ كِلَاهُمَا يَقُولَانِ تَسْأَلَانِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ فَنَهَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَ نِسَاؤُهُ وَاللَّهِ لَا نَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذَا الْمَجْلِسِ مَا لَيْسَ عِنْدَهُ قَالَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْخِيَارَ فَبَدَأَ بِعَائِشَةَ فَقَالَ إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَذْكُرَ لَكِ أَمْرًا مَا أُحِبُّ أَنْ تَعْجَلِي فِيهِ حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ قَالَتْ مَا هُوَ قَالَ فَتَلَا عَلَيْهَا يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ الْآيَةَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَفِيكَ أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ بَلْ أَخْتَارُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَأَسْأَلُكَ أَنْ لَا تَذْكُرَ لِامْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِكَ مَا اخْتَرْتُ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّفًا وَلَكِنْ بَعَثَنِي مُعَلِّمًا مُيَسِّرًا لَا تَسْأَلُنِي امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ عَمَّا اخْتَرْتِ إِلَّا أَخْبَرْتُهَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حَوْلَهُ نِسَاؤُهُ وَاجِمٌ وَقَالَ لَمْ يَبْعَثْنِي مُعَنِّتًا أَوْ مُفَتِّنًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৯৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ فلاں آدمی کا میرے باغ میں ایک پھل دار درخت ہے اس نے مجھے اتنی تکلیف پہنچائی ہے کہ اب اس کے ایک درخت کی وجہ سے میں بہت مشقت میں مبتلا ہوگیا ہوں نبی ﷺ نے اس آدمی کو بلا بھیجا اور فرمایا کہ فلاں آدمی کے باغ میں جو تمہارا درخت ہے وہ میرے ہاتھ فروخت کردو اس نے انکار کردیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ہبہ کردو اس نے پھر انکار کردیا نبی ﷺ نے فرمایا پھر جنت میں ایک درخت کے عوض ہی بیچ ڈالو اس نے پھر انکار کردیا نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے بڑا بخیل کوئی نہیں دیکھا سوائے اس شخص کے جو سلام میں بخل کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي عَذْقًا وَإِنَّهُ قَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عَذْقِهِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِعْنِي عَذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ قَالَ لَا قَالَ فَهَبْهُ لِي قَالَ لَا قَالَ فَبِعْنِيهِ بِعَذْقٍ فِي الْجَنَّةِ قَالَ لَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৯৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
سعید بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت جابر (رض) کے یہاں گئے وہ ایک کپڑے میں لپٹ کر نماز پڑھ رہے تھے حالانکہ دوسری چادر ان کے اتنے قریب پڑی ہوئی تھی کہ اگر وہ ہاتھ بڑھا کر اسے پکڑنا چاہتے تو ان کا ہاتھ باآسانی پہنچ جاتا جب انہوں نے سلام پھیرا تو ہم نے ان سے یہی مسئلہ پوچھا انہوں نے فرمایا کہ میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ تم جیسے احمق بھی دیکھ لیں اور جابر (رض) کے حوالے سے وہ رخصت لوگوں میں پھیلا دیں جو نبی ﷺ نے دے رکھی ہے پھر فرمایا کہ ایک مرتبہ میں نبی ﷺ کے ساتھ کسی سفر پر نکلا میں رات کے وقت نبی ﷺ کے پاس آیا تو آپ ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے میرے جسم پر بھی ایک ہی کپڑا تھا اس لئے میں بھی اسے جسم پر لپیٹ کر نبی ﷺ کے پہلو میں کھڑا ہوگیا نبی ﷺ نے فرمایا جابر (رض) یہ کیسالپٹنا ہے ؟ جب تم نماز پڑھنے لگو اور تمہارے اوپر ایک ہی کپڑا ہوا اور وہ کشادہ ہو تو اسے خوب اچھی طرح لپیٹ لو اور اگر تنگ ہو تو اس کا تہنبد بنا لو۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا بِهِ وَرِدَاؤُهُ قَرِيبٌ لَوْ تَنَاوَلَهُ بَلَغَهُ فَلَمَّا سَلَّمَ سَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ إِنَّمَا أَفْعَلُ هَذَا لِيَرَانِي الْحَمْقَى أَمْثَالُكُمْ فَيُفْشُوا عَلَى جَابِرٍ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ جَابِرٌ خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فَجِئْتُهُ لَيْلَةً وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَعَلَيَّ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَاشْتَمَلْتُ بِهِ ثُمَّ قُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ قَالَ يَا جَابِرُ مَا هَذَا الِاشْتِمَالُ إِذَا صَلَّيْتَ وَعَلَيْكَ ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَإِنْ كَانَ وَاسِعًا فَالْتَحِفْ بِهِ وَإِنْ كَانَ ضَيِّقًا فَاتَّزِرْ بِهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৯৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ کسی انصار کے گھر تشریف لے گئے اور جا کر سلام کیا اگر تمہارے پاس اس برتن میں رات کا بچا ہوا پانی موجود ہے تو ٹھیک ہے ورنہ ہم لوگ منہ لگا کر پی لیتے ہیں اس وقت وہ آدمی اپنے باغ کو پانی لگارہا تھا وہ نبی ﷺ سے کہنے لگا کہ میرے پاس رات کا بچا ہوا پانی ہے اور ان دونوں کو لے کر اپنے خیمے کی طرف چل پڑا وہاں پہنچ کر ایک پیالے میں پانی ڈالا اور اس پر بکری کا دودھ دوہا جسے نبی ﷺ نے نوش فرمالیا اور نبی ﷺ کے بعد آپ کے ساتھ آنے والے صاحب نے پی لیا۔
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَ عِنْدَكَ مَاءٌ بَاتَ فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ فِي شَنَّةٍ وَإِلَّا كَرَعْنَا قَالَ وَالرَّجُلُ يُحَوِّلُ الْمَاءَ فِي حَائِطٍ فَقَالَ الرَّجُلُ عِنْدِي مَاءٌ بَاتَ فَانْطَلَقَ بِهِمَا إِلَى الْعَرِيشِ فَسَكَبَ مَاءً فِي قَدَحٍ ثُمَّ حَلَبَ عَلَيْهِ مِنْ دَاجِنٍ فَشَرِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ شَرِبَ الرَّجُلُ الَّذِي جَاءَ مَعَهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৯৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
ابوسمیہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے درمیان جہنم میں ورد جس کے بارے میں قرآن میں آتا ہے کہ ہر شخص جہنم میں وارد ہوگا کے متعلق اختلاف رائے ہوگیا کچھ لوگ کہنے لگے کہ مسلمان جہنم میں داخل نہیں ہوں گے اور کچھ لوگ کہنے لگے کہ داخل تو سب ہوں گے البتہ اللہ تعالیٰ متقیوں کو جہنم سے نجات عطا فرمائے گا میں اس سلسلے میں حضرت جابر (رض) سے جا کر ملا اور ان سے عرض کیا کہ ہمارے درمیان اس مسئلے میں اختلاف ہوگیا بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ مسلمان جہنم میں داخل نہیں ہوں گے اور بعض کہنا ہے کہ سب ہی داخل ہوں گے اس پر انہوں نے اپنی انگلی سے اپنے کانوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ یہ کان بہرے ہوجائیں گے اگر میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو کہ ورد سے مراد دخول ہے اور کوئی نیک و بد ایسا نہیں رہے گا جو جہنم میں داخل نہ ہو البتہ مومن پر وہ اس طرح ٹھنڈک اور سلامتی کا ذریعہ بن جائے گی جیسے حضرت ابراہیم کے لئے ہوگئی تھی حتی کہ مومنین کی ٹھنڈک سے جہنم چیخنے لگی گے پھر اللہ متقیوں کو اس سے نجات عطا فرمادے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل پر چھوڑ دے گا۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا غَالِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ أَبُو صَالِحٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زِيَادٍ البُرْسَانِيِّ عَنْ أَبِي سُمَيَّةَ قَالَ اخْتَلَفْنَا هَاهُنَا فِي الْوُرُودِ فَقَالَ بَعْضُنَا لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ وَقَالَ بَعْضُنَا يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا فَلَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّا اخْتَلَفْنَا فِي ذَلِكَ الْوُرُودِ فَقَالَ بَعْضُنَا لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ وَقَالَ بَعْضُنَا يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا فَأَهْوَى بِإِصْبَعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ وَقَالَ صُمَّتَا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْوُرُودُ الدُّخُولُ لَا يَبْقَى بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ إِلَّا دَخَلَهَا فَتَكُونُ عَلَى الْمُؤْمِنِ بَرْدًا وَسَلَامًا كَمَا كَانَتْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ حَتَّى إِنَّ لِلنَّارِ أَوْ قَالَ لِجَهَنَّمَ ضَجِيجًا مِنْ بَرْدِهِمْ ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا وَيَذَرُ الظَّالِمِينَ فِيهَا جِثِيًّا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৯৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت حمزہ کو ایک کپڑے میں کفن دیا تھا اور اس پر دھاریاں بنی ہوئی تھیں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ وَأَبُو سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ كَفَّنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمْزَةَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ قَالَ جَابِرٌ ذَلِكَ الثَّوْبُ نَمِرَةٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৩৯৯৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر لوگوں کو پیاس نے ستایا نبی ﷺ کے پاس صرف ایک پیالہ تھا جس سے آپ وضو فرما رہے تھے لوگ گھبرائے ہوئے نبی ﷺ کے پاس آئے نبی ﷺ نے پوچھا کہ کیا ہوا لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ہمارے پاس پینے کے لئے پانی ہے اور نہ ہی وضو کے لئے سوائے اس پانی کے جو آپ کے سامنے ہے نبی ﷺ نے اس پیالہ میں اپنا دست مبارک رکھ دیا ان انگلیوں کے درمیان سے چشموں کی طرح ابلنے لگاہم سب نے اسے پیا اور وضو کیا راوی نے پوچھا کہ اس وقت آپ کتنے لوگ تھے انہوں نے جواب دیا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی ہوجاتا لیکن اس وقت ہم صرف پندرہ سو تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْحُصَيْنُ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ يَتَوَضَّأُ مِنْهَا إِذْ جَهَشَ النَّاسُ نَحْوَهُ فَقَالَ مَا شَأْنُكُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لَنَا مَاءٌ نَشْرَبُ مِنْهُ وَلَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا فَقُلْتُ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ كَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً
তাহকীক: