আলমুসনাদ - ইমাম আহমদ রহঃ (উর্দু)
مسند امام احمد بن حنبل
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔ - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১১৬৪ টি
হাদীস নং: ১৪১১৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ کسی غزوے میں شریک تھے ہمیں اس دوران ٹڈی دل ملے جنہیں ہم نے کھالیا۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَبْنَا جَرَادًا فَأَكَلْنَاهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১২০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کسی جانور کو باندھ کر ماراجائے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْتَلَ شَيْءٌ مِنْ الدَّوَابِّ صَبْرًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১২১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو قبر پر بیٹھنے سے منع کرتے ہوئے اسے پختہ کرنے اور اس پر عمارت تعمیر کرنے سے منع کرتے ہوئے خود سنا ہے۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَقْعُدَ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ أَوْ يُقَصَّصَ أَوْ يُبْنَى عَلَيْهِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১২২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے وٹے سٹے کے نکاح سے منع فرمایا ہے جبکہ اس میں مہر مقرر نہ کیا گیا بلکہ تبادلے ہی کو مہر فرض کرلیا گیا۔
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشِّغَارِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১২৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اس سال کے بعد کوئی مشرک ہماری مسجدوں میں داخل نہ ہو سوائے اہل کتاب اور ان کے خادموں کے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ عَنِ الْحَسَنِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ مَسْجِدَنَا هَذَا مُشْرِكٌ بَعْدَ عَامِنَا هَذَا غَيْرَ أَهْلِ الْكِتَابِ وَخَدَمِهِمْ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১২৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک قتال کرتا رہوں جب تک وہ الا الہ اللہ نہ پڑھ لیں جب وہ یہ کام کرلیں تو انہوں نے اپنی جان ومال کو مجھ سے محفوظ کر لیاسوائے اس کے کلمے کے حق کے اور ان کا حساب کتاب اللہ کے ذمے ہوگا۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنْ جَابِرٍ رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِذَا قَالُوهَا حَرُمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ وَعَلَى اللَّهِ حِسَابُهُمْ أَوْ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১২৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ حمام میں بغیر تہبند کے داخل نہ ہو جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہوں وہ اپنی بیوی کو حمام میں نہ جانے دے جو شخص اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ ایسے دسترخوان پر نہ بیٹھے جس پر شراب پی جائے اور جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ کسی ایسی عورت کے ساتھ خلوت میں نہ بیٹھے جس کے ساتھ اس کا محرم نہ ہو کیونکہ وہاں تیسرا شیطان ہوتا ہے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلْ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُدْخِلْ حَلِيلَتَهُ الْحَمَّامَ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَقْعُدْ عَلَى مَائِدَةٍ يُشْرَبُ عَلَيْهَا الْخَمْرُ وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَخْلُوَنَّ بِامْرَأَةٍ لَيْسَ مَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১২৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے کتے اور بلی کی قیمت استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ و عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ ثَمَنِ الْكَلْبِ وَنَهَى عَنْ ثَمَنِ السِّنَّوْرِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১২৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ دس سال مکہ مکرمہ میں رہے اور عکاظ، مجنہ اور موسم حج میں میدان منیٰ میں لوگوں کے پاس ان کے ٹھکانوں پر جاجاکر ملتے تھے اور فرماتے تھے کہ مجھے اپنے یہاں کون ٹھکانہ دے گا کون میری مدد کرے گا میں اپنے رب کا پیغام پہنچا سکوں اور اسے جنت مل جائے بعض اوقات ایک آدمی یمن سے آتا یا مصر سے تو ان کی قوم کے لوگ اس کے پاس آتے اور اس سے کہتے کہ قریش کے اس نوجوان سے بچ کر رہنا کہیں یہ تمہیں گمراہ نہ کردے نبی ﷺ جب ان کے خیموں کے پاس سے گذرتے وہ انگلیوں سے انکی طرف اشارہ کرتے حتی کہ اللہ نے ہمیں نبی ﷺ کے لئے یثرب سے اٹھادیا اور ہم نے انہیں ٹھکانہ فراہم کیا اور ان کی تصدیق کی چناچہ ہم میں سے ایک آدمی نکلتا نبی ﷺ پر ایمان لاتا نبی ﷺ اسے قرآن پڑھاتے اور جب وہ واپس گھر پلٹ کر آتا تو اس کے اسلام کی برکت سے اس کے اہل خانہ بھی مسلمان ہوجاتے حتی کہ انصار کا کوئی گھر ایسا باقی نہ بچا جس میں مسلمانوں کا ایک گروہ نہ ہو، یہ سب لوگ علانیہ اسلام کو ظاہر کرتے تھے۔ ایک دن سب لوگ مشورہ کے لئے اکٹھے ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم کب تک نبی ﷺ کو اس حال میں چھوڑے رکھیں گے کہ آپ کو مکہ کے پہاڑوں میں دھکے دیئے جاتے رہیں اور آپ خوف کے عالم میں رہیں چناچہ ہم میں سے ستر آدمی نبی ﷺ کی طرف روانہ ہوئے اور ایام حج میں نبی ﷺ کے پاس پہنچ گئے ہم نے آپس میں ایک گھاٹی ملاقات کے لئے طے کی اور ایک ایک دو دو کر کے نبی ﷺ کے پاس جمع ہوگئے یہاں تک کہ جب ہم پورے ہوگئے تو ہم نے عرض کی یا رسول اللہ ہم کس شرط پر آپ کی بیعت کریں نبی ﷺ نے فرمایا تم مجھ سے چستی اور سستی ہر حال میں بات سننے اور ماننے، تنگی اور آسانی اور ہر حال میں خرچ کرنے، امر بالمعروف نہی عن المنکر اور حق بات کہنے میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے اور میری مدد کرنے اور اسی طرح میری حفاظت کرنے کی شرط پر بیعت کرو جس طرح تم اپنی بیویوں اور بچوں کی حفاظت کرتے ہو اور تمہیں اس کے بدلے میں جنت ملے گی چناچہ ہم نے کھڑے ہو کر نبی ﷺ سے بیعت کرلی۔ حضرت اسعد بن زرارہ جو سب سے چھوٹے تھے نبی ﷺ کا دست مبارک پکڑ کر کہنے لگے کہ اے اہل یثرب ٹھہرو ہم لوگ اپنے اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے یہاں اس لئے آئے ہیں کہ ہمیں اس بات کا یقین ہوجائے کہ یہ اللہ کے رسول ہیں یہ سمجھ لو کہ آج نبی ﷺ کو یہاں سے نکال کرلے جانا پورے عرب کی جدائیگی اختیار کرنا ہے اپنے بہترین افراد کو قتل کروانا اور تلواریں کاٹنا ہے اگر تم اس پر صبر کرسکو تو تمہارا اجر وثواب اللہ کے ذمے ہے۔ اور اگر تمہیں اپنے متعلق ذرا سی بھی بزدلی کا اندیشہ ہو تو اسے واضح کردو تاکہ وہ عند اللہ تمہارے لئے عذر شمار ہوجائے اس پر تمام انصار نے کہا اسعد پیچھے ہٹو واللہ ہم بیعت کو کبھی نہیں چھوڑیں گے اور کبھی ختم نہیں کریں گے چناچہ اسی طرح ہم نے نبی ﷺ سے بیعت کی اور نبی ﷺ نے جنت عطا فرمائے جانے کے وعدے اور شرائط پر ہم سے بیعت لے لی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ أَنَّهُ حَدَّثَهُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَبِثَ عَشْرَ سِنِينَ يَتَّبِعُ الْحَاجَّ فِي مَنَازِلِهِمْ فِي الْمَوْسِمِ وَبِمَجَنَّةٍ وَبِعُكَاظٍ وَبِمَنَازِلِهِمْ بِمِنًى مَنْ يُؤْوِينِي مَنْ يَنْصُرُنِي حَتَّى أُبَلِّغَ رِسَالَاتِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ وَلَهُ الْجَنَّةُ فَلَا يَجِدُ أَحَدًا يَنْصُرُهُ وَيُؤْوِيهِ حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ يَرْحَلُ مِنْ مُضَرَ أَوْ مِنْ الْيَمَنِ أَوْ زَوْرِ صَمَدٍ فَيَأْتِيهِ قَوْمُهُ فَيَقُولُونَ احْذَرْ غُلَامَ قُرَيْشٍ لَا يَفْتِنُكَ وَيَمْشِي بَيْنَ رِحَالِهِمْ يَدْعُوهُمْ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُشِيرُونَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ حَتَّى بَعَثَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ مِنْ يَثْرِبَ فَيَأْتِيهِ الرَّجُلُ فَيُؤْمِنُ بِهِ فَيُقْرِئُهُ الْقُرْآنَ فَيَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُسْلِمُونَ بِإِسْلَامِهِ حَتَّى لَا يَبْقَى دَارٌ مِنْ دُورِ يَثْرِبَ إِلَّا فِيهَا رَهْطٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يُظْهِرُونَ الْإِسْلَامَ ثُمَّ بَعَثَنَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَأْتَمَرْنَا وَاجْتَمَعْنَا سَبْعُونَ رَجُلًا مِنَّا فَقُلْنَا حَتَّى مَتَى نَذَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْرَدُ فِي جِبَالِ مَكَّةَ وَيَخَافُ فَدَخَلْنَا حَتَّى قَدِمْنَا عَلَيْهِ فِي الْمَوْسِمِ فَوَاعَدْنَاهُ شِعْبَ الْعَقَبَةِ فَقَالَ عَمُّهُ الْعَبَّاسُ يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي لَا أَدْرِي مَا هَؤُلَاءِ الْقَوْمُ الَّذِينَ جَاءُوكَ إِنِّي ذُو مَعْرِفَةٍ بِأَهْلِ يَثْرِبَ فَاجْتَمَعْنَا عِنْدَهُ مِنْ رَجُلٍ وَرَجُلَيْنِ فَلَمَّا نَظَرَ الْعَبَّاسُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي وُجُوهِنَا قَالَ هَؤُلَاءِ قَوْمٌ لَا أَعْرِفُهُمْ هَؤُلَاءِ أَحْدَاثٌ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَامَ نُبَايِعُكَ قَالَ تُبَايِعُونِي عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي النَّشَاطِ وَالْكَسَلِ وَعَلَى النَّفَقَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَعَلَى الْأَمْرِ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيِ عَنْ الْمُنْكَرِ وَعَلَى أَنْ تَقُولُوا فِي اللَّهِ لَا تَأْخُذُكُمْ فِيهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ وَعَلَى أَنْ تَنْصُرُونِي إِذَا قَدِمْتُ يَثْرِبَ فَتَمْنَعُونِي مِمَّا تَمْنَعُونَ مِنْهُ أَنْفُسَكُمْ وَأَزْوَاجَكُمْ وَأَبْنَاءَكُمْ وَلَكُمْ الْجَنَّةُ فَقُمْنَا نُبَايِعُهُ فَأَخَذَ بِيَدِهِ أَسْعَدُ بْنُ زُرَارَةَ وَهُوَ أَصْغَرُ السَّبْعِينَ فَقَالَ رُوَيْدًا يَا أَهْلَ يَثْرِبَ إِنَّا لَمْ نَضْرِبْ إِلَيْهِ أَكْبَادَ الْمَطِيِّ إِلَّا وَنَحْنُ نَعْلَمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ إِنَّ إِخْرَاجَهُ الْيَوْمَ مُفَارَقَةُ الْعَرَبِ كَافَّةً وَقَتْلُ خِيَارِكُمْ وَأَنْ تَعَضَّكُمْ السُّيُوفُ فَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَصْبِرُونَ عَلَى السُّيُوفِ إِذَا مَسَّتْكُمْ وَعَلَى قَتْلِ خِيَارِكُمْ وَعَلَى مُفَارَقَةِ الْعَرَبِ كَافَّةً فَخُذُوهُ وَأَجْرُكُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِمَّا أَنْتُمْ قَوْمٌ تَخَافُونَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ خِيفَةً فَذَرُوهُ فَهُوَ أَعْذَرُ عِنْدَ اللَّهِ قَالُوا يَا أَسْعَدُ بْنَ زُرَارَةَ أَمِطْ عَنَّا يَدَكَ فَوَاللَّهِ لَا نَذَرُ هَذِهِ الْبَيْعَةَ وَلَا نَسْتَقِيلُهَا فَقُمْنَا إِلَيْهِ رَجُلًا رَجُلًا يَأْخُذُ عَلَيْنَا بِشُرْطَةِ الْعَبَّاسِ وَيُعْطِينَا عَلَى ذَلِكَ الْجَنَّةَ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১২৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر شیطان مجھے نماز کا کوئی کام بھلا دے تو مردوں کو سبحان اللہ کہنا چاہیے اور عورتوں کو ہلکی آوازیں میں تالی بجانی چاہیے۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَنْسَانِي الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي فَلْيُسَبِّحْ الرِّجَالُ وَلْيُصَفِّقْ النِّسَاءُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১২৯
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ سب سے ہلکی اور مکمل نماز نبی ﷺ کی ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَفَّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৩০
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے فتح مکہ کے دن شراب کو بہادیا اس کے مٹکوں کو توڑ دیا اور اس کی اور بتوں کی بیع سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَهْرَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَمْرَ وَكَسَرَ جِرَارَهُ وَنَهَى عَنْ بَيْعِهِ وَبَيْعِ الْأَصْنَامِ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৩১
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک پوری وادی ہو تو وہ دو اور دو ہو تو تین کی تمنا کرے گا اور ابن آدم کا پیٹ قبر کی مٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بھرسکتی۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ لَتَمَنَّى وَادِيَيْنِ وَلَوْ أَنَّ لَهُ وَادِيَيْنِ لَتَمَنَّى ثَالِثًا وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৩২
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ اپنی امتوں کے ایک آدمی کی بخشش صرف اس بات پر کردی کہ وہ خریدو فروخت میں، ادائیگی اور تقاضا کرنے میں بڑا نرم خو تھا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ بْنُ يُونُسَ عَنْ زَيْدِ بْنِ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَفَرَ اللَّهُ لِرَجُلٍ كَانَ مِنْ قَبْلِكُمْ سَهْلًا إِذَا بَاعَ سَهْلًا إِذَا اشْتَرَى سَهْلًا إِذَا قَضَى سَهْلًا إِذَا اقْتَضَى
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৩৩
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ رات کے وقت نہیں سوتے تھے جب تک سورت سجدہ اور سورت ملک پڑھ نہ لیتے۔
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ لَيْثٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَقْرَأَ الم تَنْزِيلُ السَّجْدَةَ وَتَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৩৪
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی ﷺ کے ساتھ مکہ مکرمہ میں آئے تو نبی ﷺ نے خانہ کعبہ کے سات چکر لگائے جن میں سے پہلے تین میں رمل کیا اور باقی چار معمول کی رفتار سے لگائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ أَخْبَرَهُ أَوْ حَدَّثَهُ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ سَمِعَهُ مِنْهُ قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ قَالَ فَطَافَ سَبْعًا وَرَمَلَ مِنْهَا ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৩৫
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے حجر اسود والے کونے سے طواف شروع کیا رمل کرتے ہوئے چلے آئے یہاں تک کہ دوبارہ حجر اسود پر آگئے اس پر تین چکروں میں رمل کیا اور باقی چار چکر معمول کی رفتار سے لگائے۔
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ جَعْفَرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَأَ بِالْحَجَرِ فَرَمَلَ حَتَّى عَادَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৩৬
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جنت کی کنجی نماز ہے اور نماز کی کنجی وضو ہے۔
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ عَنْ أَبِي يَحْيَى الْقَتَّاتِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِفْتَاحُ الْجَنَّةِ الصَّلَاةُ وَمِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ هَكَذَا وَقَعَ فِي الْأَصْلِ حَسَنٌ وَالصَّوَابُ حُسَيْنٌ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৩৭
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ہمیں یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم دیا جبکہ پہلے یہودی اس دن کا روزہ رکھتے تھے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَوْمِ عَاشُورَاءَ أَنْ نَصُومَهُ وَقَالَ هُوَ يَوْمٌ كَانَتْ الْيَهُودُ تَصُومُهُ
তাহকীক:
হাদীস নং: ১৪১৩৮
حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
পরিচ্ছেদঃ حضرت جابر انصاری کی مرویات۔
حضرت جابر (رض) سے مروی ہے کہ ام مالک جہزیہ ایک بالٹی میں گھی رکھ کر نبی ﷺ کی خدمت میں ہدیہ بیجھا کرتی تھی ایک دفعہ اس کے بچوں نے اس سے سالن مانگا اس وقت اس کے پاس کچھ نہ تھا وہ اٹھ کر اس بالٹی کے پاس گئی جس میں وہ نبی ﷺ کو گھی بھیجا کرتی تھی دیکھا تو اس میں گھی موجود تھا چناچہ وہ اسے کافی عرصے تک اپنے بچوں کے سالن کے طور پر استعمال کرتی رہی حتی کہ ایک دن اس نے اسے نچوڑ لیا اور نبی ﷺ کے پاس آ کر ساراواقعہ سنایا نبی ﷺ نے اس سے پوچھا کہ کیا تم نے اسے نچوڑ لیا اس نے کہا جی ہاں نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم اسے یونہی رہنے دیتیں تو اس میں ہمیشہ گھی رہتا۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أُمَّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةَ كَانَتْ تُهْدِي فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا بَنُوهَا يَسْأَلُونَهَا الْإِدَامَ وَلَيْسَ عِنْدَهَا شَيْءٌ فَعَمَدَتْ إِلَى عُكَّتِهَا الَّتِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَتْ فِيهَا سَمْنًا فَمَا زَالَ يَدُومُ لَهَا أُدْمُ بَنِيهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ وَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعَصَرْتِيهِ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ لَوْ تَرَكْتِيهِ مَا زَالَ ذَلِكَ لَكِ مُقِيمًا
তাহকীক: